اردو
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کو زنا پر مجبور
کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے حد کو رفع فرما دیا40 البتہ اس آدمی پر جس نے
اس کا ارتکاب کیا حد جاری فرمائی۔
راوی نے اس خاتون کے لئے مہر مقرر کئے جانے کا ذکر نہیں کیا41 (ترمذی)
امام محمد کتاب الآثار میں حضرت ابراہیم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ لوگوں
میں سے آزاد ہو یا غلام اگر کسی عورت کو غصب کر لے یعنی زنا کرے تو اس پر حد ہے اور مہر نہیں ہے۔
اور انہوں نے کہا جب مہر واجب ہوتا ہے تو حد جاری نہیں کی جاتی اور جب حد لگائی جاتی ہے تو مہر
باطل ہو جاتا ہے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں جب عورت کو مجبور کیا جائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
اور جو اس کو مجبور کیا ہے اس پر حد جاری ہوگی۔ اور جب حد واجب ہوگی تو مہر باطل ہو جائے گا۔ ایک
جماع میں حد اور مہر دونوں واجب نہیں ہوتے۔ اور اگر کسی شبہ کی بناء حد جاری نہ ہو تو اس پر مہر واجب
ہوتا ہے امام ابوحنیفہؒ، ابراہیم نخعیؒ اور ہمارے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔
امام ترمذی اور امام ابوداؤد کی روایت میں وائل بن حجر سے مروی ہے کہ ایک
خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک آدمی ملا اور اس
پر چھا گیا اور اس سے اپنی حاجت کو پوری کر لیا عورت نے چیخ ماری تو وہ مرد چلا گیا۔ مہاجرین کی
ایک جماعت گزری تو اس عورت نے کہا کہ وہ آدمی میرے ساتھ ایسا عمل کیا۔ وہ اس آدمی کو پکڑ کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تو چل
جا اللہ نے بخش دیا۔ اور جو آدمی زنا کیا تھا اس کے متعلق فرمایا تم اس کو رجم کردو۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اہل مدینہ ایسی توبہ کرتے تو ان سے تو قبول کرلی جاتی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1453 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: He averted the punishment from her, etc.: In Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar: No punishment for adultery by coercion, as the Imam later held, though initially saying a man is punished, as coercion requires an erection, indicating consent, unlike a woman, who is not punished by consensus. This is absolute, including non-authoritative coercion, per the preferred view, varying by context and time. (2) The statement: It was not mentioned that he assigned her a dowry: In Al-Arf al-Shadhi: Punishment and dowry do not combine.
Note 1
(١) قوله: فدرأ عنها الحد إلخ: وقال في (الدر المختار) و(رد المحتار): ولا حد بالزنا بإكراه، هذا ما رجع إليه الإمام،وكان أولا يقول: إن الرجل يحد؛ لأنه لا يتصور إلا بانتشار الآلة، وهو آية الطواعية بخلاف المرأة فلا تحد إجماعًا،وأطلق فشمل الإكراه من غير سلطان على قولهما المفتى به من تحققه من غيره، وهو اختلاف عصر وزمان.
Note 2
(٢) قوله: ولم يذكر أنه جعل لها مهرا: وقال في (العرف الشذي): فإن الحد والمهر لا يجتمعان.