اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6182
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک
دن جب کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور بہت2 بیان کیا تو عمرو نے فرمایا: اگر وہ اپنی بات میں میانہ روی اختیار
کرتا تو اُس کے لئے بہتر ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک میں سمجھتا
ہوں یا مجھے حکم ملا ہے کہ میں اختصار کے ساتھ کلام کروں کیونکہ مختصر بات کرنا ہی بہتر ہے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 5008 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: spoke at length, meaning he prolonged his speech to display eloquence and rhetoric, causing boredom to the listeners. As stated in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله : فأكثر القول: أي طال الكلام إظهارا للفصاحة والبلاغة حتى حصل للسامعين الملالة. كذا في «المرقاة».