اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 528
محمد بن یحییٰ بن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید
اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا با وضوء ہوں یا نہ ہوں، ہر دو
حالت میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنا، اس عمل کو انہوں نے کس سے اختیار کیا ہے؟ عبیداللہ رضی اللہ
عنہ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہما نے حدیث
بیان کی اور اسماء رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن حنظلہ ابن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے جن کو ملائکہ نے غسل دیا
تھا حدیث بیان کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لئے وضوء کا حکم دیا گیا تھا خواہ وضوء سے
ہوں یا بے وضوء ہوں، اور جب ہر نماز کے لئے وضوء کرنا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق
گزرا تو آپ کو ہر نماز کے لئے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور آپ سے اس طرح کی پابندی وضوء
کے بارے میں دور کر دی گئی مگر یہ کہ بے وضوء ہونے کی صورت میں تو (وضوء ضروری ہے) عبیداللہ
رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خیال تھا کہ (وضوء اور بے وضوء
ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنے کی) ان میں قوت موجود ہے، اس بناء پر وہ مرتے دم تک
اس پر عمل کرتے رہے۔
((اس کی روایت امام احمد بن حنبل نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 389 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 389
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا خواہ وضوء ہو یا نہ ہو عزیمت ہے، اور ایک ہی وضوء سے کئی نمازوں کا ادا کرنا رخصت ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وضوء اور بے وضوء، ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا عزیمت پر عمل تھا۔