اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7185
حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ”نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“، یعنی، ہم ہی آخری ہیں اور
ہم ہی قیامت کے دن پہلے رہیں گے (30)، اور میں ایک بات کہتا ہوں فخر سے نہیں ابراہیم خلیل اللہ
ہیں اور موسیٰ صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں اور قیامت کے دن ”لواء الحمد“ حمد کا جھنڈا
میرے ہاتھ میں ہوگا، اور اللہ نے مجھ سے میری امت کے بارے میں وعدہ کیا اور تین چیزوں سے ان
کو محفوظ کیا کہ ان پر عام قحط نہیں ڈالے گا اور کوئی دشمن ان کو جڑ پیڑ سے ختم نہیں کرے گا اور اللہ ان کو
گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5762 (unverified) 80% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 54 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 5762
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “We are the last,” meaning in coming to this world. His statement: “and the first,” meaning in entering Paradise and other virtues. His statement: “Musa is the Chosen of Allah,” meaning selected for His speech. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: نحن الآخرون يعني في المجيء إلى الدنيا. وقوله: ونحن السابقون أي في دخول الجنة وغير ذلك من الفضائل. وقوله: «وموسى صفي الله أي مختاره لكلامه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(30) قولہ: ”نَحْنُ الْآخِرُونَ“ یعنی ہم دنیا میں آخری آنے والے ہیں۔ وقولہ: ”وَنَحْنُ السَّابِقُونَ“، یعنی جنت میں داخل ہونے اور اس کے سوا بھی دوسرے فضائل میں پہلے رہنے والے ہیں۔ وقولہ صفی اللہ۔ اللہ نے اپنے کلام کے لئے ان کو منتخب کیا ہے۔ (مرقات)۔