اردو
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے قمیص میں خون دیکھا
تو آپ نے خون کی جگہ تھوک کر اس کو مل دیا۔
اور عمر رضی اللہ عنہ اور میمون بن مہران سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”کیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے
جس میں اس کو حیض آیا ہو“ کے باب میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام
المؤمنین نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کو ایک کپڑے کے سوا دوسرا کپڑا نہ تھا، اس لئے حیض کے ایام میں
وہی کپڑا جسم پر رہتا تھا اور جب حیض کا کچھ خون اس میں لگ جاتا تھا تو وہ خون کے دھبہ پر تھوک دیا
کرتی تھیں اور اس کو ناخن سے مل لیتی تھیں اور ایک روایت میں (فَمَصَعَتْهُ) کی بجائے (فَقَصَعَتْهُ)
ہے جس کے معنی بھی ملنے کے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 312 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The term "فمصعته" refers to "مصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or wiping, and "القصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or scrubbing. This is mentioned in the explanation of "النقاية".
Note 1
(۱) قوله : فمصعته إلخ والمصع بمهملتين: الإذهاب والقصع بمهملتين: الدلك. كذا في شرح «النقاية».