اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 704
عباد بن زیاد رضی اللہ عنہ سے، جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک لڑکے ہیں
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک کی لڑائی میں حاجت کو تشریف لے گئے۔ عباد بن
زیاد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پانی لے کر گیا وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد فراغت آئے تو میں آپ کے لئے پانی ڈالتا گیا، انہوں نے کہا کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ دھویا پھر آپ ہاتھوں کو نکالنے لگے تو جبہ کے آستینوں کے تنگ
ہونے کی وجہ سے نکال نہ سکے، وہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبہ کے نیچے سے
ہاتھوں کو نکالا اور دونوں ہاتھوں کو دھولیا اور اپنے سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر مسح کئے۔ پھر رسول
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تشریف لائے جبکہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز میں امامت
کر رہے تھے اور ایک رکعت نماز پڑھا چکے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے
ساتھ مقتدی بن کر نماز اداء فرمائی، اس کے بعد جو رکعت آپ کی رہ گئی تھی اس کو تنہا اداء فرمایا (تو بغیر
انتظار کے نماز شروع کرنے کی بناء پر) لوگ گھبرائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم
نے اچھا کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطأ میں کی ہے اور اسی طرح اس کی روایت بخاری نے بھی
کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4421 (unverified) 60% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 519 (unverified) 45% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 363 (unverified) 40% confidence
- Candidate: Muwatta Malik 71 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 519
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) In the original text of the author, it says: "من" (meaning "from").
Note 1
(۱) وفي أصل المؤلف: «من».