اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 709
ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد اور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم کے درمیان موزوں پر مسح کے متعلق اختلاف ہو گیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے
فرمایا کہ میں موزوں پر مسح کرتا ہوں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں (موزوں پر) مسح نہیں کرتا
ہوں، سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے ثالث تمہارے
والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹھہراتا ہوں ابو عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے
پاس پہنچے اور ہم نے ان کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ
تمہارے چچا تم سے بڑھ کر عالم ہیں جب تم اپنے موزوں کو وضوء کر کے پہن لیں اور اس کے بعد تمہارا
وضوء ٹوٹ جانے پر تم نے وضوء کر لیا اور موزوں پر مسح کیا تو تمہارے لئے (مقیم ہونے کی حالت
میں) مسح کرنا دوسرے دن کے اس وقت تک کے لئے کافی ہوگا (جس وقت سے کہ تم نے پہلے حدث کے
بعد) مسح کرنا شروع کیا تھا خواہ وہ رات کا ہو یا دن کا۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی مدت مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہیں، اس مدت کی ابتداء موزوں کے پہننے کے وقت سے نہیں ہوگی بلکہ موزوں کے پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوا ہے اس وقت سے ہوگی، مثلاً ایک شخص نے صبح صادق کے وقت وضوء کر کے موزے پہن لئے اور سورج نکلنے کے بعد اس کو حدث لاحق ہوا اور وضوء ٹوٹ گیا اور اس نے زوال کے بعد وضوء کر کے پیروں پر مسح کیا تو مسح کی مدت سورج نکلنے کے وقت سے شروع ہوگی صبح صادق سے نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو پہلا حدث سورج نکلنے کے بعد لاحق ہوا ہے اور اس مثال کے لحاظ سے اگر وہ مقیم ہے تو دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد تک پیروں پر مسح کر سکتا ہے اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور تین رات تک مسح کرے گا۔ (عمدۃ الرعایۃ)۔