اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 758
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عراق کے چند لوگ آئے اور
ان لوگوں نے کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما کیا آپ جمعہ کے دن کے غسل کو واجب سمجھتے ہیں؟ تو
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ بڑی پاکی کی بات ہے اور غسل کرنے والے کے حق میں
بہتر ہے اور جس نے اس دن غسل نہیں کیا تو اس پر واجب بھی نہیں اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ (جمعہ کے
دن) غسل کی ابتدا کس طرح ہوئی، لوگ محنت مزدوری کیا کرتے تھے اور کمبل پہنتے تھے اور اپنے
پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے اور ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت ان کے قریب تھا (یعنی زیادہ بلند نہ تھا)
گویا کہ وہ چھپر تھا (مثل منڈوے کے) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف
لائے اور گرمی کا موسم تھا لوگوں کو کمبل کے لباس میں پسینہ آیا جس سے بو پھیلی اور ایک کو دوسرے کے
پسینہ کی بو سے تکلیف پہنچی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کی بو موجود پائے تو حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب جمعہ کا دن آئے تو غسل کر لیا کرو اور چاہئے کہ تم میں
سے ہر ایک بہتر سے بہتر تیل اور خوشبو جو اسے میسر ہو لگا کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
پھر اللہ تعالیٰ نے مال سرفراز فرمایا اور لوگ کمبل کے لباس کے سوا دوسرے کپڑے پہننے لگے اور محنت
کے کام سے بچ گئے اور ان کی مسجد وسیع کر دی گئی اور پسینہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو جو اذیت پہنچتی تھی
وہ جاتی رہی۔ (اس کی روایت ابوداود اور طحاوی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 353 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.