Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification

Hadith 673

Chapter on the Sunnah Bath

In this book

Current reading

Purification

Chapter on the Sunnah Bath

Zujajat al-Masabih 673Volume 1

English

Narrated by 'Ikrimah: Some people from Iraq came and said, "O Ibn Abbas, do you think that Ghusl on the day of Friday is obligatory?" He replied: "No, but it is purer and better for those who perform it. And for those who do not perform it, it is not obligatory." He continued, "Let me tell you how Ghusl began: The people were exhausted, wearing woolen garments, working on their backs, and the mosque was narrow, almost with a roof. One hot day, the Messenger of Allah (ﷺ) came out, and the people sweated in their woolen garments, causing an unpleasant odor among them. When the Messenger of Allah (ﷺ) noticed this, he said: 'O people, when this day comes, perform Ghusl and use the best of your oils and perfumes.' Ibn Abbas added: 'Then Allah brought goodness, and they stopped wearing wool, ceased working, expanded their mosque, and the unpleasant odors that disturbed one another disappeared.'

العربية

Typed, pending editorial approval
٦٧٣ - وَعَنْ عِكْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاؤُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا؟ قَالَ: لَا ، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرُ لِمَنِ اغْتَسَلَ. وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ. وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدَأَ الْغُسْلُ: كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ، يَلْبَسُوْنَ الصُّوْفَ وَيَعْمَلُوْنَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُهُ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ، إِنَّمَا هُوَ عَرِيشُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي يَوْمٍ حَارَّ، وَعَرَقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوْفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ، أَذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا. فَلَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ تِلْكَ الرِّيَاحَ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوْا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُهُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيْبِهِ». قَالَ ابْنِ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللهُ بِالْخَيْرِ، وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوْفِ، وَكُفُوا الْعَمَلَ، وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ، وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 758
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عراق کے چند لوگ آئے اور ان لوگوں نے کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما کیا آپ جمعہ کے دن کے غسل کو واجب سمجھتے ہیں؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ بڑی پاکی کی بات ہے اور غسل کرنے والے کے حق میں بہتر ہے اور جس نے اس دن غسل نہیں کیا تو اس پر واجب بھی نہیں اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ (جمعہ کے دن) غسل کی ابتدا کس طرح ہوئی، لوگ محنت مزدوری کیا کرتے تھے اور کمبل پہنتے تھے اور اپنے پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے اور ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت ان کے قریب تھا (یعنی زیادہ بلند نہ تھا) گویا کہ وہ چھپر تھا (مثل منڈوے کے) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور گرمی کا موسم تھا لوگوں کو کمبل کے لباس میں پسینہ آیا جس سے بو پھیلی اور ایک کو دوسرے کے پسینہ کی بو سے تکلیف پہنچی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کی بو موجود پائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب جمعہ کا دن آئے تو غسل کر لیا کرو اور چاہئے کہ تم میں سے ہر ایک بہتر سے بہتر تیل اور خوشبو جو اسے میسر ہو لگا کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے مال سرفراز فرمایا اور لوگ کمبل کے لباس کے سوا دوسرے کپڑے پہننے لگے اور محنت کے کام سے بچ گئے اور ان کی مسجد وسیع کر دی گئی اور پسینہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو جو اذیت پہنچتی تھی وہ جاتی رہی۔ (اس کی روایت ابوداود اور طحاوی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 353 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.