English
Narrated by Hammad from Ibrahim Al-Nakh'i, he said: I asked him about Ghusl on Friday, after cupping, and on the two Eid days. He replied: "If you perform Ghusl, it is good, but if you leave it, there is no harm." I said: "Did not the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever goes to the Friday prayer should perform Ghusl'?" He replied: "Yes, but it is not an obligatory matter. It is like His saying: 'And when you contract a sale, call witnesses, and whoever witnesses, it is good; but if someone does not, there is no harm.' And it is like His saying: 'And when the prayer is concluded, disperse through the earth' (Al-Jumu'ah: 10). Whoever disperses, there is no harm, and whoever sits, there is no harm."
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٧٤ - وَعَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْحِجَامَةِ وَالْغُسْلِ فِي الْعِيدَيْنِ. قَالَ: إِنِ اغْتَسَلْتَ فَحَسَنٌ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ. فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُوْلُ اللهِ : مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَة فَلْيَغْتَسِلْ»؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَ الْأُمُوْرِ الْوَاجِبَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ فَمَنْ أَشْهَدَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ تَرَكَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ. وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ} (الجمعة: ١٠) فَمَنِ انْتَشَرَ فَلَا بَأْسَ، وَمَنْ جَلَسَ فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ فِي الْمُوَطَّأ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 759
حماد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، وہ ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں حماد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روز جمعہ کے غسل اور پچھنا لگانے
کے بعد غسل اور عیدین کے غسل کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے جواب دیا کہ اگر غسل کر لو تو بہتر
ہے اور اگر غسل نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو جمعہ کو جائے تو وہ غسل کرے، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں
؟ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے) لیکن یہ غسل ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو
واجب ہیں بلکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”وَأَشْهِدُوا اِذَا تَبَايَعْتُمْ“ یعنی جب تم خرید و فروخت کرتے
ہو تو گواہ رکھ لیا کرو) کی طرح ہے تو جس نے گواہ رکھا اس نے اچھا کیا اور جس نے گواہ رکھنا ترک کیا
تو اس پر گواہ رکھنا واجب نہیں اور یہ (یعنی غسل جمعہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ”فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ
فَانْتَشِرُوا فِى الْأَرْضِ“ یعنی جب نماز جمعہ ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ) کی طرح ہے تو جو نماز
جمعہ کے ختم پر باہر نکل جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں اور جو بیٹھ جائے تو مضائقہ نہیں۔ (اس کی روایت
امام محمد نے مؤطا میں کی ہے۔)