ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سفر میں دو رکعتیں فرض کئے (اور سفر کے یہ دو رکعت ہمیشہ کے لئے دو رکعت ہی رہے)
جیسا کہ حضر میں (پہلے دو رکعت فرض کئے اور پھر دو بڑھا کر) چار رکعت فرض کر دئے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
37/2040-2041۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منٰی میں سفر کی نماز کی طرح (چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر
کر کے) دو رکعت پڑھے ہیں، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی منٰی میں مسافر کی نماز کی
طرح قصر کر کے دو رکعت ہی پڑھتے رہے، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی منٰی میں مسافر کی
طرح قصر کر کے دو رکعت ہی پڑھتے رہے، اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ بھی منٰی میں (6)
سال یا 8 سال تک مسافر کی طرح قصر کر کے دو رکعت ہی پڑھتے رہے (اور جب حضرت عثمان (جیسا
کہ مرقات میں امام احمد رحمہ اللہ کے حوالے سے مذکور ہے۔ 12) مکہ معظمہ میں نکاح کر لئے تو آپ
منٰی میں قصر نہیں کرتے تھے بلکہ چار رکعت پڑھا کرتے تھے)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں سفر میں حضور
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہا۔ آپ (چار رکعت والی فرض نمازوں کو قصر کر کے دو رکعت ادا
فرماتے) اور اس پر زیادتی نہیں فرمائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دیدی، اور میں
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی رہا ہوں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اپنی
وفات تک سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو) دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھے، اور میں حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی رہا ہوں تو حضرت عمر بھی سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو) دو رکعت
سے زیادہ نہیں پڑھے۔ پھر میں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، آپ بھی اپنے
انتقال کے وقت تک (چار رکعت والی فرض نماز کو سفر میں) دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھے۔
اس کے بعد حضرت ابن عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورہ احزاب پ 21 ع 3،
آیت نمبر:21 میں) ”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“، مسلمانو! رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لئے پیروی کا بہترین نمونہ موجود ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 689a (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1102 (unverified) 90% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1223 (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar.
(1) "This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar."
Note 1
قوله
(۱) قوله: حتى قبضه الله : فيستفاد منه المواظبة على القصر ووجوبه. كذا في «جامع الآثار».
Note 1
ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار رکعت والی فرض نمازوں کو ہمیشہ قصر ہی کرتے تھے۔ اور پورے
چار رکعت نہیں پڑھتے تھے، اس کی وجہ یہی تھی کہ سفر میں یہ حضرات پورے چار رکعت پڑھنے کو جائز نہیں
سمجھتے تھے، اگر پورے چار رکعت کا پڑھنا عزیمت ہوتا اور قصر کرنا رخصت ہوتا تو یہ حضرات کرام قصر پر
مداومت نہیں فرماتے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کرنا واجب ہے اور اگر کوئی قصر نہ کرے تو
گنہگار ہوگا (جامع الآثار، اعلاء السنن۔)
سعید بن شفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ لوگ ابن عباس
رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نماز کس طرح پڑھا کرتے
تھے تو حضرت ابن عباس جواب دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے اہل وعیال سے
رخصت ہوکر بستی سے باہر ہوتے تو چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ سفر سے
واپس ہوکر پھر اہل وعیال کے پاس تشریف لا لیتے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے
کہا (ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا) جس وقت آپ گھر
سے نکلے پھر واپس ہونے تک (ہر چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کر کے) دو رکعت ہی پڑھتے تھے (میں کبھی
نہیں دیکھا کہ آپ فرض چار رکعت پڑھتے ہوں)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبان مبارک سے میں سنا ہوں کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نماز (ابتداء
سے) دو رکعت ہی ہے۔ جیسے عید اضحیٰ کی نماز بھی ابتداء ہی سے دو رکعتیں ہیں۔ ایسا ہی عید الفطر کی نماز
بھی ابتداء ہی سے دو رکعت ہیں، اور اسی طرح نماز جمعہ کے بھی (ابتداء ہی سے) دو رکعت ہیں۔ یہ
چاروں نمازیں اسی طرح دو دو رکعت مقرر کئے گئے ہیں، اور یہ پوری نمازیں ہیں اور اتنی ہی فرض کی
گئی ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ پہلے کچھ رکعات زیادہ تھے، پھر کم کر کے دو رکعت کر دئے گئے۔ (اس سے
معلوم ہوا کہ سفر میں چار رکعت والی فرض بھی دو رکعت ہی مقرر کئے گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ چار رکعت
تھے بعد میں دو رکعت کر دئے گئے۔ اس لئے سفر میں چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھنا چاہئے۔
اگر چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا)
(اس حدیث کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن حبان نے اس کی روایت اپنی صحیح
میں کی ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ہم طرح طرح کی
گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ (اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہم پر ہوا) کہ ہماری ہدایت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے (آپ کی تعلیم ایسی مکمل تعلیم تھی کہ ہم تمام گمراہیوں سے ایسے ہی نجات
پائے، جیسے آفتاب نکلنے سے تمام اندھیروں سے نجات مل جاتی ہے) منجملہ آپ کی تعلیمات کے
ایک تعلیم یہ بھی تھی کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ حکم دیا کہ سفر میں (چار رکعت والی فرض
نماز کو) دو رکعت ہی پڑھا کریں (اس پر اور رکعتیں زیادہ نہ کریں) اگر کوئی رکعتیں زیادہ کرے گا تو وہ اللہ
تعالیٰ کے حکم کا خلاف کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا)۔
(اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سفر میں (دو رکعت پڑھنا چاہئے اگر) چار رکعت پڑھے تو وہ ایسا (ہی
گنہگار ہوگا اور خدا و رسول کے حکم کا خلاف کرنے والا) ہوگا جیسے حضر میں بجائے چار رکعت کے دو
رکعت پڑھے (کہ وہ گنہگار ہوگا اور خدا رسول کے احکام کا خلاف کرنے والا بھی ہوگا)۔
(اس حدیث کی روایت دارقطنی نے اپنی سنن میں کی ہے۔)
مورق عجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے دریافت کیا گیا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنا چاہئے تو حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا (4
رکعت والی نماز کو) دو رکعت ہی پڑھنا چاہئے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ سفر میں دو
رکعت ہی پڑھا کرتے تھے) جو شخص (باوجود یہ کہ اس کو معلوم ہوا ہو کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ہمیشہ سفر میں دو رکعت ہی پڑھا کرتے تھے۔ کبھی چار رکعت نہیں پڑھے ہیں، یہ سن کر)
پھر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلاف کرے گا تو وہ کافر ہوگا۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
مورق عجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ صفوان بن محرز نے ابن
عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنا چاہئے تو حضرت ابن عمر نے ارشاد
فرمایا (کہ نماز جتنی زیادہ پڑھی جائے، بہتر ہے) اگر میں کہوں (کہ سفر میں چار رکعت نہیں پڑھنا
چاہئے، صرف دو رکعت پڑھا کریں) (یہ سن کر تم کو یقین نہ آئے گا اور تم کہو گے کہ چار رکعت نماز
پڑھنے سے روک رہے ہیں، اس لئے) مجھے خوف ہو رہا ہے کہ تم مجھ پر جھوٹ کا الزام لگاؤ گے۔ (ایسا
نہیں ہے میں یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں دو رکعت
پڑھتے ہوئے دیکھا اور حضرت سے سنا بھی ہوں کہ سفر میں دو رکعت ہی پڑھنا چاہئے) پھر جو شخص حضرت کے
قول و فعل کا قصداً خلاف کرے تو وہ کافر ہوگا۔ (اس کی روایت امام طحاوی اور بیہقی نے کی ہے۔)
ہمام بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق
رضی اللہ عنہ ایک دفعہ مکہ معظمہ آئے اور (چار رکعت والی فرض نماز کو) دو رکعت پڑھائے (جب سلام
پھیر چکے تو) فرمایا: اے اہل مکہ! آپ لوگ اپنی نماز پوری کر لیں، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ (اسی لئے
رد المحتار میں لکھا ہے کہ جب امام مسافر ہو، اور مقتدی سب کے سب مقیم ہوں یا تھوڑے، ان
میں سے مسافر ہوں تو امام کو چاہئے کہ سلام پھیر کر کہہ دے کہ تم اپنی نماز پوری کرلو، ہم مسافر ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔12)
علی بن ربیعہ والبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ہم کم از کم کتنی مسافت پر قصر کریں؟ آپ نے فرمایا:
کیا تم مقام سویداء کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: دیکھا تو نہیں، ہاں سنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تین
متوسط راتوں کی مسافت پر ہے (جس کے تین منزل ہوتے ہیں، ہر منزل 8 کوس تو تین منزل کے 24 کوس
یعنی 48 میل ہوئے) پس جب ہم (48 میل یا اس سے زیادہ) کی مسافت کے ارادے سے نکلتے ہیں تو ہم
(چار رکعت والی فرض) نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھتے ہیں۔ اس حدیث میں قصر کے لئے جیسے تین منزل کا
Our scholars determined the distance to be three days based on the Hadith in the Sahihayn: ‘A woman should not travel for three days except with a mahram.’ Another Hadith states: ‘A resident may wipe over his socks for a day and a night, and a traveler for three days and nights.’ This is also supported by this Hadith. This is mentioned in Al-Ta’liq al-Mumjad. In Al-Mirqat, Ibn al-Humam said: ‘This indicates shortening prayers for a distance less than three days, based on the Hadith of Ibn Abbas: “O people of Makkah, do not shorten prayers for less than four barid (approximately 48 miles) from Makkah to ‘Asfan.
(1) "Our scholars determined the distance to be three days based on the Hadith in the Sahihayn: ‘A woman should not travel for three days except with a mahram.’ Another Hadith states: ‘A resident may wipe over his socks for a day and a night, and a traveler for three days and nights.’ This is also supported by this Hadith. This is mentioned in Al-Ta’liq al-Mumjad.
In Al-Mirqat, Ibn al-Humam said: ‘This indicates shortening prayers for a distance less than three days, based on the Hadith of Ibn Abbas: “O people of Makkah, do not shorten prayers for less than four barid (approximately 48 miles) from Makkah to ‘Asfan.” This suggests shortening prayers for four barid, which can be covered in less than three days.’
However, this Hadith is weakened due to the weakness of its narrator, Abd al-Wahhab ibn Mujahid, leaving no evidence for shortening prayers for shorter distances."
Note 1
قوله
(۱) قوله: هي ثلاث ليال: ذهب أصحابنا إلى التقدير بثلاثة أيام؛ أخذا من حديث الصحيحين: لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي رحم محرم، ومن حديث: يمسح المقيم يوما وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها، ومن هذا الحديث. كذا في التعليق الممجد». وقال في «المرقاة»: قال ابن الهمام: ويدل على القصر لمسافة أقل من ثلاثة أيام حديث ابن عباس عنه ﷺ قال: يا أهل مكة لا تقصروا في أدنى أربعة برد من مكة إلى عسفان ؛ فإنه يفيد القصر في أربعة برد، وهي تقطع في أقل من ثلاثة أيام. وأجيب: يُضعف الحديث بضعف رواية عبد الوهاب بن مجاهد، فبقي قصر الأقل بلا دليل.
Note 1
اندازہ بتلایا گیا ہے۔ ایسا ہی اور موقعوں پر بھی مسافر کے لئے تین کے عدد کا لحاظ کیا گیا ہے۔ مثلاً عورت تین
منزل کا سفر کرنا چاہے تو اس کو محرم ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ ایسا ہی مسافر کو تین دن رات تک موزوں پر مسح
کرنے کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کے لئے اور موقعوں پر بھی تین دن کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لئے
سفر میں قصر کے لئے بھی تین منزل کا اعتبار کیا گیا) (تعلیق ممجد میں ایسا ہی مذکور ہے۔12)
(اس حدیث کی روایت امام محمد رحمہ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں کی ہے اور آثار السنن میں
لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) "This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar."
Note 1
(۱) قوله: حتى قبضه الله : فيستفاد منه المواظبة على القصر ووجوبه. كذا في «جامع الآثار».
Note 1
ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار رکعت والی فرض نمازوں کو ہمیشہ قصر ہی کرتے تھے۔ اور پورے چار رکعت نہیں پڑھتے تھے، اس کی وجہ یہی تھی کہ سفر میں یہ حضرات پورے چار رکعت پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اگر پورے چار رکعت کا پڑھنا عزیمت ہوتا اور قصر کرنا رخصت ہوتا تو یہ حضرات کرام قصر پر مداومت نہیں فرماتے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کرنا واجب ہے اور اگر کوئی قصر نہ کرے تو گنہگار ہوگا (جامع الآثار، اعلاء السنن۔)