Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales · Chapter 8

Chapter: Sales

9 narrations · In source reading order

Hadith 3001a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3947
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاصل کے ”باب الشفعة“ میں روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کوئی زمین خریدے جس میں کھجور کے درخت ہوں تو ایسی صورت میں لگے ہوئے پھل بیچنے والے کے ہوں گے سوائے اس صورت میں کہ خریدار شرط لگا دے (کہ درختوں کے ساتھ پھل بھی اسی کے ہوں گے یہ شرط اس لئے درست ہے کہ اس میں نفس معاملہ کی نفی نہیں ہوتی۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

The fruits belong to the seller unless the buyer stipulates otherwise

(1) "The fruits belong to the seller unless the buyer stipulates otherwise"—This applies regardless of whether the trees have been pollinated or not. Al-Shafi’i held that before pollination, the fruits belong to the buyer, and after pollination, to the seller. Abu Hanifah, however, maintained that the fruits always belong to the seller unless the buyer explicitly claims them, based on this hadith. The hadith in the Six Books stating, "Whoever sells a pollinated palm tree, its fruits belong to the seller unless the buyer stipulates otherwise," does not contradict this, as the implied condition is not binding in our school. Some argued that Muhammad’s narration is gharib (rare), but a jurist’s reliance on a hadith validates it. The Hanafi position is supported by analogy (qiyas) with crops, as mentioned in Al-Hidayah: "The fruit is attached for harvesting, not for retention." Al-‘Ayni attempted to reconcile the two hadiths by interpreting "pollination" as a metaphor for the fruit’s visibility, meaning the buyer owns the fruit before it becomes apparent (i.e., in the year of sale) and the seller afterward. Thus, the hadith aligns with Abu Hanifah’s view.

Note 1

قوله، فالثمرة للبائع

(۱)قوله، فالثمرة للبائع : إلا أن يشترط المبتاع من غير فصل بين المؤبر وغير المؤبر ، وقال الشافعي: إن الثمرة قبل التأبير للمشتري وبعده للبائع، فعمل بالمفهوم والمنفطوق، وقال أبو حنيفة: إن الثمرة للبائع في الحالين إلا إذا صرح المشتري بأنها لي اتباعا لهذا الحديث الذي استدل به الإمام محمد على أنه لا فرق بين كون الثمر مؤبرا أولا، وأما حديث الكتب الستة: من باع نخلا مؤبرا فالثمرة للبائع إلا أن يشترط المتباع، فلا يعارضه؛ لأن مفهوم الصفة غير معتبر عندنا، وما قيل من أن حديث محمد غريب، ففيه أن المجتهد إذا استدل بحديث كان تصحيحا له، كما في «التحرير» وغيره. نعم، يرد ما في «الفتح» أن حمل المطلق على المفيد هنا واجب؛ لأنه في حادثة واحدة في حكم واحد، ثم أجاب عنه بأنهم قاسوا الثمر على الزرع، كما قال في الهداية» أنه متصل للقطع لا للبقاء، وهو قياس صحيحوهم يقدمون القياس على المفهوم إذا تعارضا. واعترض في «البحر» قوله: إن حمل المطلق على المقيد واجب إلخ بأنه ضعيف؛ لما في «النهاية» من أن الأصحأنه لا يجوز لا في حادثة، ولا في حادثتين حتى جوز أبو حنيفة التيمم بجميع أجزاء الأرض بحديث: جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا، ولم يحمل هذا المطلق على المقيد، وهو حديث: التراب طهورا. قاله في رد المحتار»، وقال في العرف الشذي وتصدى العيني إلى المعارضة، أقول: إن معارضه الخاص بالعام لا يقبله الذوق السليم والصحيح في الجواب من جانب أبي حنيفة لله ما ذكر الطيبي وأبو عمر في التمهيد بأن التأبير كناية عن ظهور الثمرة، فمفهومه أن يكون الثمرة قبل الظهور للمشتري أي في عام البيع وبعد هذا العام، فلا يذهب الوهم إلى نزاع وهكذا مذهب أبي حنيفة ، فصار الحديث لطيفًا على مذهبنا أيضًا، انتهى. وقال في التعليق الممجد»: وعندنا قيد التأبير اتفاقي والحكم غير مختلف.

Hadith 3002a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3948
اور مسلم نے ”کتاب البیوع“ میں اور بخاری نے ”کتاب اشرب“ میں مرفوعاً روایت کی ہے کہ جو شخص کوئی غلام خریدے اور اس غلام کے پاس کچھ مال بھی ہو تو وہ مال (غلام کے) بیچنے والے کا ہی ہوگا سوائے اس صورت میں کہ خریدار شرط لگائے۔ (کہ غلام کے ساتھ اس کا مال بھی میرا ہوگا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2379 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1543a (unverified) 87% confidence · Validation similarity: 0.605

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

A slave who possesses wealth

(1) Bukhari in The Book of Drinking—As cited in Ashi’at al-Lama’at. (2) "A slave who possesses wealth"—The Malikis used this to argue that slaves can own property. Ahmad and Al-Shafi’i (in an earlier opinion) held that a slave owns property if the master permits it. Abu Hanifah and Al-Shafi’i (later) maintained that slaves cannot own property; the possessive pronoun here denotes restricted use (tamlik). (3) "The wealth belongs to the seller unless the buyer stipulates otherwise"—This is agreed upon, as mentioned in Rahmat al-Ummah.

Note 1

قوله

(۱)قوله : والبخاري: في كتاب الشرب. كذا في «أشعة اللمعات».

Note 2

قوله

(۲) قوله: وله مال استدل به المالكية على أن العبد يملك، وقال أحمد والشافعي في القديم: يملك إذا ملكه سيده مالا، وقال أبو حنيفة والشافعي في الجديد لا يملك أصلا، واللام للاختصاص والانتفاع. كذا في شرح المسند». قاله في التعليق الممجد».

Note 3

قوله

(۳) قوله : فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع : أي بالاتفاق. كذا في «رحمة الأمة».

Hadith 3003a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3949Noor 3950
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اونٹ پر سفر کر رہا تھا حضور ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا بات ہے کہ اور لوگوں میں تم سب سے پیچھے پیچھے چل رہے ہو میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھک گیا ہے (جس کی وجہ سے میں پیچھے ہو گیا ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ (اونٹ کے قریب تشریف لائے) اس کی دم پکڑا اور اس کو جھٹکایا (پھر تو یہ اونٹ ایسا تیز چلنے لگا کہ) میں لوگوں میں سب سے آگے ہو گیا (اور اونٹ کی تیزی کا یہ حال تھا کہ) اس کا سر (اور اونٹوں سے آگے جا رہا تھا) جس سے مجھے حیرت ہو رہی تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ قریب ہوئے تو حضور ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جابر تمہارا اونٹ اب کیسا ہے؟ وہ مجھے بیچ دو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ تو آپ ہی کا ہے! آپ نے فرمایا (ٹھیک ہے) ایسا نہ کرو بلکہ اس کو مجھے (قیمتاً) بیچ دو، میں نے (دوبارہ) عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو آپ ہی کا مال ہے۔ حضور ﷺ نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا نہیں! اس کو مجھے (قیمتاً) بیچ دو! میں اس کو ایک اوقیہ چاندی کے معاوضہ میں خرید لیا اور تم مدینہ پہنچنے تک اس پر سواری کر سکتے ہو اور جب مدینہ منورہ پہنچ جاؤ تو اس اونٹ کو لے کر ہمارے پاس آ جاؤ چنانچہ جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو اس اونٹ کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! انتم (جابر کو اونٹ کی قیمت میں) ایک اوقیہ چاندی تول کر دے دو اور ایک قیراط مزید چاندی دیدو میں نے (دل میں) کہا یہ ایک قیراط چاندی ایسی نعمت ہے جو قیمت کے علاوہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے زائد عطا فرمائی ہے لہذا (میں نے عہد کر لیا کہ یہ زائد چاندی عمر بھر میرے پاس ہی تبرکاً رہے گی اور) جدا نہ ہوگی۔ چنانچہ وہ میرے پاس ہی رہی یہاں تک کہ یوم حرہ میں جب کہ شامی فوجیں آئیں تو لوٹ مار میں (اور چیزوں کے ساتھ) یہ ⟦?⟧ بھی ہم سے چھین لی گئی۔ (جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا)۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔ اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا) میں نے تمہارے اونٹ کو اتنی چاندی کے معاوضہ میں لے لیا اور (چونکہ تمہارے پاس اور کوئی سواری نہیں ہے اس لئے) عاریتاً تم کو اجازت دیتا ہوں کہ مدینہ منورہ تک تم اس پر سوار ہو کر پہنچو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 4637 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2872 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2872

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I have taken it for an uqiyyah

(1) "I have taken it for an uqiyyah"—Ahmad used this to validate selling an animal while retaining its use for transport, provided the distance is short. Malik permitted this for short journeys, as in Jabir’s case. Abu Hanifah, Al-Shafi’i, and others prohibited it, citing the hadith against conditional sales (bay‘ wa shart). They reconciled this by arguing that Jabir’s case was exceptional, or that the condition was added post-sale, not embedded in the contract. Alternatively, it was not a true sale but a means for the Prophet (ﷺ) to benefit Jabir, as evidenced by his later refusal to take the camel without compensation.

Note 1

قوله

(۱)قوله : أخذته بوقية أركبه وفي رواية لهما، قال: فبعته فاستثنيت حملانه إلى أهلي، أي شرطت أن أحمله رحلي ومتاعي إلى أهلي، فرضي بهذا الشرط، احتج أحمد بهذا على جواز بيع دابة واستثنائه ظهرها لنفسه مدة مع لزوم الشروط، وقال مالك: يجوز ذلك إذا كانت المسافة قريبة، وكذلك كان في قصة جابر ، وقال أبو حنيفة والشافعي حمد و آخرون: لا يجوز ذلك، سواء بعدت المسافة أو قربت واحتجوا بالحديث السابق في النهي عن بيع الثنيا، وبالحديث في النهي عن بيع وشرط، وأجابوا عن حديث مسلم والبخاري أنه خاص بجابر له ولا يجوز لغيره، أو أنه كان الاستثناء بعد وجود البيع ولم يكن الشرط في صلب العقد، فوعده . ويؤيده ما وقع في حديث النسائي: أخذته بوقية أركبه، وفي رواية أخرى له قد أخذته بكذا وكذا، وقد أعرتك ظهره إلى المدينة، أو أنه لم يجر بينهما حقيقة بيع؛ إذ لا قبض، ولا تسليم، وإنما أراد أن ينفعه بشيء، فاتخذ بيعه الجمل ذريعة إلى ذلك بدليل قوله ﷺ عند إعطاء الوقية: ما كنت لأخذ جملك فخذ جملك «المرقاة» و«اللمعات» ملتقط منهما.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بیع میں کوئی شرط شامل نہیں تھی، حضور ﷺ نے حضرت جابر کو بیع کے طے پا جانے کے بعد اونٹ سے استفادہ کی اجازت عاریتاً دی ہے جو شرائط بیع میں نہیں ہے۔ اس لئے یہ معاملہ مشروط بیع کی تعریف میں نہیں آتا۔

Hadith 3004a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3951
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) آئیں اور کہنے لگیں اے ام المؤمنین بی بی عائشہ میں اس شرط پر مکاتب ہوئی کہ میں اپنے مالک کو 9 اوقیہ ادا کردوں اس طرح کہ ہر سال ایک اوقیہ دیا کروں گی (ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں اس طرح نو اوقیہ کے 360 درہم ہوئے) پس آپ اس معاملہ میں میری مدد کیجئے اور بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کتابت کے بارے میں (تفصیلات) طے نہیں کئے تھے (کتابت یہ ہے کہ غلام یا باندی اپنی آزادی کے تعلق سے اپنے مالک سے کچھ معاوضہ طے کر لے، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی مدد کی درخواست پر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تم اپنے مالک کے پاس جاؤ اور اگر وہ اس بات کو پسند کریں کہ میں ان کو یکمشت کتابت کا معاوضہ دیدوں تو وہ تمہیں آزاد کریں اور حق ولاء مجھے حاصل ہوگا (حق ولاء یہ ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد ہونے کے بعد انتقال کر جائے اور اس کا حقیقی وارث نہ ہو تو اس کا مال اس کے آزاد کرنے والے مالک کو ملتا ہے) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالک کے پاس گئیں اور ان سے یہ صورت بیان کیں تو انہوں نے اس بات کے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا تو چاہے تو یکمشت رقم دے کر آزادی حاصل کر لے لیکن حق ولاء ہمیں ہی حاصل رہے گا (یہ سن کر) ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کو رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمایا تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ان لوگوں کے انکار سے تم اس (نیک) کام سے نہ رکو بلکہ بریرہ کو خرید لو اور پھر (بغیر کسی شرط کے) آزاد کر دو اور حق ولاء تو اسی کا ہے جو آزاد کرتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ صحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اور (خطبہ ارشاد (فرمایا)) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے (یاد رکھو) ہر ایسی شرط جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ کہ وہ ایسی شرطیں بھی کر لیں اللہ کا فیصلہ ہی برحق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی شرط مستحکم ہے اور حق ولاء اسی کو حاصل رہتا ہے جو (غلام یا لونڈی کو) آزاد کر دے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم میں اس کے قریب قریب روایت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2168 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1504a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Do not let this stop you

(1) "Do not let this stop you"—This implies the permissibility of selling a slave with a manumission condition, as the owners had stipulated retaining wala’, which presupposes freeing the slave. The Prophet (ﷺ) approved the sale but invalidated the condition, ruling that wala’ belongs to the liberator. The Hanafis deemed such sales void due to the prohibition of combining sales with conditions (bay‘ wa shart). Al-Shafi’i (in his later view) validated the sale but nullified the condition. The hadith also shows that a mukatab (slave under contract) can be sold if they consent or default, though Abu Hanifah and Al-Shafi’i disagreed, arguing that Barirah had defaulted.

Note 2

Buy and free her

(2) "Buy and free her"—This indicates that a mukatab can be sold before completing payment, as Malik and Ahmad held. Abu Hanifah and Al-Shafi’i restricted this to cases of default.

Note 3

Wala’ belongs to the liberator

(3) "Wala’ belongs to the liberator"—Most scholars held that if a freed slave dies without heirs, their wealth goes to the treasury. Abu Hanifah argued that wala’ could also be established through oath (hilf).

Note 1

قوله

(۱)قوله : لا يمنعك ذلك منها وفحوى الحديث يدلُّ على جواز بيع الرقبة بشرط العتق؛ لأنه يدلُّ على أنهم شرطوا الولاء لأنفسهم، وشرط الولاء لا يتصور إلا بشرط العتق، وأن الرسول أذن لعائشة في إجابتهم بالشرط، ولو كان العقد فاسدا لم يأذن فيه ولم يقرر العقد، وإليه ذهب النخعي والشافعي وابن أبي ليلى وأبو ثور وذهب أصحاب أبي حنيفة إلى فساده، والقائلون بصحة العقد اختلفوا في الشرط، فمنهم من صححه، وبه قال الشافعي في الجديد لأنه أذن فيه، ومنهم من الغاه كابن أبي ليلى وأبي ثور، ويدل أيضا على صحة البيع بشرط الولاء وفساد الشرط أنه قررا قرر العقد وأنفذه وحكم ببطلان الشرط. وقال: «إنما الولاء لمن أعتق»، وبه قال الشافعي في القديم، والأكثرون على فساد هذا البيع لأن البيع يبطل، إذا اشترط فيه ما ليس منه لما سبق من أن النبي له نهى عن بيع وشرط، وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم أجمعين، ولأن الذي في حديث الطحاوي مما كان من أهل بريرة من اشتراط الولاء ليس في بيع ولكن في أداء عائشة لها إليهم الكتابة عن بريرة وهم تولوا عقد تلك الكتابة ولم يكن تقدم ذلك الأداء من عائشة ر ملك فذكرت ذلك عائشة له للنبي ﷺ فقال: لا يمنعك ذلك منها أي لا ترجعين لهذا المعنى عما كنت نويت في عتاقها من الثواب اشتريها فاعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان ذكر ذلك الشراء ههنا ابتداء من النبي ﷺ ليس مما كان قبل ذلك بين عائشة (رضي الله عنها) وبين أهل بريرة في شيء. ثم كان قام النبي ﷺ فخطب فقال ما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز وجل كل شرط ليس في كتاب الله عز وجل فهو باطل وإن كان كان مائة شرط إنكار منه على عائشة في طلبها ولاء من تولى غيرها كتابتها بحق ملكه عليها ثم نبهها وعلمها بقوله فإنما الولاء لمن أعتق أي إن المكاتب إذا أعتق بإداء الكتابة فمكاتبه هو الذي أعتقه فولاءه له وليس في هذا الحديث دليل على اشتراط الولاء في البيع كيف حكمه هل يجب به فساد البيع أم لا محصله إن الاشتراط منأهل بريرة لم يكن في البيع بل في أداء عائشة الكتابة إليهم فكان ذكر الشراء ههنا ابتداء من رسول الله له ولم يكن قبل بين عائشة وأهل بريرة. أخذته من المرقات» و «شرح معاني الآثار».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ابتاعي ظاهره يدل على جواز بيع المكاتب إذا رضي بذلك ولو لم يعجز نفسه وهو قول الأوزاعي والليث ومالك وابن جرير وابن المنذر ومنعه أبو حنيفة والشافعي في أصح القولين وبعض المالكية وأجابوا عن قصة بريرة بأنها عجزت نفسها واستعانتها بعائشة له يدل على ذلك قاله في التعليق الممجد وقال في المرقات ظاهره جواز بيع رقبة المكاتب وبه قال مالك وأحمد وجوابه أن بريرة بيعت برضاها وذلك فسخ الكتابة ذكره ابن الملك أو أنها عجزت نفسها عن أداء الكتابة فوقع العقد على الرقبة دون المكاتب ويؤيده قولها فأعينيني واختلف أضا في جوازه مع نجو الكتابة فجوزه مالك ومنعه أبو حنيفة والشافعي ويؤيدهما قوله ولم تكن قضت من كتابتها شيئا.

Note 3

قوله

(۳)قوله: الولاء لمن أعتق قال مالك والأوزاعي والثوري والشافعي وأحمد وداود وجماهير العلماء: إذا لم يكن لأحد من هؤلاء المذكورين وارث فماله لبيت المال، وقال ربيعة والليث وأبو حنيفة وأصحابه: من أسلم على يديه رجل فولاؤه له، وقال إسحاق بن راهويه يثبت للملتقط الولاء على اللقيط، وقال أبو حنيفة: يثبت الولاء بالحلف ويتوارثان به دليل الجمهور حديث: إنما الولاء لمن أعتق قاله النووي، وقال في المرقاة: واللام فيه للعهد لا للجنس، فاندفع ما قال الشافعي وغيره من بطلان ولاء الموالاة وغيره بإرادة اللام للجنس.

Hadith 3005a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3952
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء کی فروخت یا اس کے ہبہ کرنے (یعنی یہ حق دوسروں کو (دینے) سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2535 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1506a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Prohibited selling or gifting wala’

(1) "Prohibited selling or gifting wala’"—This is the majority view, as stated in Al-Muwatta’ and Al-Maraqi.

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهى رسول الله ﷺ إلخ : قال محمد: وبهذا نأخذ، لا يجوز بيع الولاء ولا هبته، وهو قول أبي حنيفة والعامة من فقهائنا. كذا في موطأه، وقال في المرقاة»: وعليه جمهور العلماء من السلف والخلف.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے حق ولاء کی بیع یا ہبہ کی حرمت معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولاء کی بیع یا ہبہ صحیح نہیں ہے اور نہ ولاء کی منتقلی صحیح ہے۔ اور ولاء کی حیثیت ایک ناتے اور رشتے کی طرح ہے۔ لہذا کوئی معاملہ ایسی شرط سے نہ کیا جائے جو شرعاً ناجائز ہو ورنہ معاملہ کالعدم ہو جائے گا۔

Hadith 3006a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3953
مخلّد بن خفاف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا اور اس کی کمائی کو اپنے خرچ میں لاتا رہا پھر میں اس غلام کے ایک عیب سے واقف ہوا اور اس معاملہ کی یکسوئی کیلئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے فیصلہ فرمایا کہ میں غلام کو واپس کر دوں اور اس کی کمائی بھی لوٹا دوں (اطمینان مزید کی خاطر) میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور ان کو اس پورے واقعہ سے مطلع کیا آپ نے فرمایا (تم تھوڑا توقف کرو) میں آج شام حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس جاؤں گا اور ان کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے آگاہ کروں گا جس کو میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے اور اسی قسم کے مقدمہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ نفع تاوان کے مقابلہ میں ہے (یعنی اگر غلام مر جاتا یا اس میں اور کوئی عیب پیدا ہو جاتا تو بیچنے والے پر اس کا اثر نہ پڑتا اسی طرح جو نفع غلام سے ملا ہے وہ بھی بیچنے والے کو واپس نہ ملنا چاہیے) چنانچہ حضرت عروہ شام کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس گئے (اور حضور ﷺ کے اس فیصلہ سے ان کو مطلع فرمایا تو) انہوں نے میرے حق میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ (عیب کی وجہ سے غلام کو تو واپس کر دوں البتہ) غلام کی کمائی کا نفع میں خود لے لوں۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Profit follows liability

(1) "Profit follows liability"—Scholars differed on this. Al-Shafi’i held that all usufruct (e.g., crops, offspring) remains with the buyer if the sale is rescinded. The Hanafis restricted this to separable gains (e.g., harvested crops), not generated profits (e.g., offspring).

Note 1

قوله

(۱) قوله : فقضى لي أن أخذ الخراج إلخ : اختلف أهل العلم في هذا، فقال الشافعي: ما حدث في ملك المشتري من غلة ونتاج ماشية وولد أمة، فكل ذلك سواء لا يرد منه شيء، ويرد المبيع إذا لم يكن ناقصا عما أخذه، وقال الأحناف: حديث الخراج بالضمان محمول على الزيادة المنفصلة غير المتولدة فإذن لا يعارض حديث الباب حديث المصراة، كما قال الطحاوي في المعارضة، بذل المجهود و العرف الشذي ملتقط منهما. وقال في المرقاة»: والمراد بالخراج . يحصل من غلة العين المبتاعة عبدا كان أو أمة أو ملكا، وذلك أن يشتريه فيستغله زمانًا، ثم يعثر عنه على عيب قديم لم يطلعه البائع عليه أو لم يعرفه، فله رد العين المعيبة وأخذ الثمن، ويكون للمشتري ما استغله؛ لأن المبيع لو تلف في يده لكان من ضمانه، ولم يكن له على البائع شيء. في شرح السنة: قال الشافعي : فيما يحدث في يد المشتري من نتاج الدابة وولد الأمة ولبن الماشية وصوفها وثمر الشجرة: إن الكل يبقى للمشتري، وله رد الأصل بالعيب، وذهب أصحاب أبي حنيفة أن حدوث الولد والثمرة في يد المشتري يمنع رد الأصل بالعيب، بل يرجع بالأرش.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خریدار خریدے ہوئے مال میں جیسے نفع کا مالک ہوتا ہے ویسے ہی نقصان کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے جیسے مذکورہ حدیث میں غلام کے بارے میں یہ ممکن ہے کہ خریدی کے بعد غلام بھاگ جاتا یا فوت ہو جاتا تو خریدار ہی اس نقصان کا ذمہ دار ہوتا۔ لہذا نفع کی صورت میں جو اس غلام سے حاصل ہو خریدار ہی مالک ہوگا۔

Hadith 3007a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3954
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خریدار اور بیچنے والا دونوں میں (اپنے معاملہ میں) اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ چیز جوں کی توں موجود ہو اور فریقین میں سے کسی ایک کے پاس دوسرے کے مقابلہ میں گواہی دینے والا بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں دونوں یعنی بائع اور مشتری قسم کھائیں کہ (وہ حق پر ہے) اور اس کے بعد معاملہ کو رد یعنی فسخ کر دیں (خریدار اپنی رقم لے لے اور بیچنے والا اپنی چیز لے لے)۔ اس حدیث کی روایت دارمی اور طبرانی نے کی ہے اور ابن احمد نے زیادات المسند میں اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2806 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 2591 (unverified) 20% confidence

Mishkat (candidate) 2806

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

If the buyer and seller dispute

(1) "If the buyer and seller dispute"—Al-Shafi’i ruled that the seller’s oath is prioritized, and the buyer may accept or reject it. The Hanafis required mutual oaths if the goods still exist, followed by rescission. If one party has evidence, it prevails.

Note 1

قوله

(۱)قوله: إذا اختلف المتبايعان أي إذا اختلف البائع والمشتري في قدر الثمن أو في شرط الخيار أو غيرها من الشرائط، فمذهب الشافعي أن يحلف البائع أنه ما باعه بكذا بل باعه بكذا، ثم المشتري مخير إن شاء رضي بما حلف عليه البائع أو إن شاء حلف أنه ما اشتراه إلا بكذا، فإذا تحالفا فإن رضي أحدهما بقول الآخر فذاك، وإن لم يرضيا فسخ القاضي العقد بينهما، سواء كان المبيع باقيا أو لا، وعندنا إن كان الاختلاف في الثمن، وكان المبيع باقيا يتحالفان لما جاء في هذا الحديث؛ لأن كلا منهما مدع ومنكر، وهذا إن لم يكن لأحدهما بينة بعد أن يقال لكل واحد: إن ترضى بقول صاحبك وإلا فسخنا البيع، فإن لم يتراضيا استحلف الحاكم كل واحد منهما على دعوى الآخر، فإن كان لأحدهما بينة فذاك، وإن أقام كل منهما بينة كانت البيئة المثبتة للزيادة أولى، ولو كان الاختلاف في الثمن والمبيع جميعا فبينة البائع أولى في الثمن، وبيئة المشتري أولى في المبيع نظرا إلى زيادة الإثبات. ولا تحالف عندنا في الأجل وشرط الخيار وقبض بعض الثمن. قاله في اللمعات». محصله : أنه قال الشافعي: القول قول البائع وإلا فتحالفا وترادًا، وقال أبو حنيفة: إن العبرة للتحالف والتراد عند كون المبيع قائما. كذا في العرف الشذي». وقال في الكوكب الدري ظاهر حديث الترمذي مخالف لما ذهب إليه الإمام من أنهما يتحالفان عند اختلافهما ويترادان، وقال الشافعي: القول قول البائع في قدر الثمن إذا اختلفا فيه ويحلف، فإذا حلف خير المشتري في أخذه بذلك الثمن الذي ادعاه أو فسخه والجواب أن ابن مسعود لم يذكر في حديث الترمذي الحديث بتمامه، وفي لفظ الحديث : أنهما يتحالفان ويترادان، إلا أن ابن مسعود لم يذكره العدم الافتقار إليه، ووجه ذلك أنه كان باع عبدًا من أحد فاختلفا في الثمن، فحلف عبد الله بن مسعود وبين الرواية، فقال المشتري: إني لا أشتريه، فسكت عن ذكر سائره، ولو أصر المشتري على الشراء بذلك الثمن الذي ادعاه عبد الله لوصلت النوبة إلى الحاكم وبينة ابن مسعود، وهذا هو المذهب عندنا إن المشتري لو رضي بقول البائع لأدى ذلك الثمن، ولو رد البيع رده، أما إذا أصر على أخذه بغير الثمن الذي يدعيه البائع تحالفا وترادًا، وذلك لأن كلا منهما منكر، فالمشتري ينكر زيادة الثمن والمدعي للزيادة ينكر استحقاق المشتري بذلك الثمن.

Hadith 3008a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3955Noor 3956
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص کسی مسلمان (بھائی) کی بیع کو (جس سے وہ ناخوشی کی وجہ سے فسخ کرنا چاہتا ہے) واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔ اس کی روایت ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور شرح السنہ میں اس کی روایت مصابیح کے الفاظ سے شرح شامی سے روایت کی گئی ہے اور یہ روایت مرسلاً ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3460 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2199 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ کوئی معاملہ خیار شرط کے ساتھ طے کیا جائے اور شرط کی مدت گزر جائے اس کے باوجود ایک فریق کسی وجہ سے بیع سے ناخوش ہے اور فسخ بیع چاہتا ہے اگرچہ کہ فسخ بیع سے فریق ثانی کا نقصان ہوتا ہے پھر بھی وہ اپنے مسلمان بھائی کی خاطر اس پر راضی ہو جائے اور بیع فسخ کر دے تو بہتر ہے اس لئے کہ اس میں ثواب ہے اور اپنے بھائی پر احسان ہے اور حدیث میں اس کی ترغیب ہے۔

Hadith 3009a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3957
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ تم سے پہلے (یعنی حضرت داود علیہ السلام) کی امت میں ایک شخص نے دوسرے سے ایک زمین خریدی (خریدی کے بعد) اس زمین میں خریدنے والے نے ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا خریدار نے بیچنے والے سے جا کر کہا تمہارا سونا تم لے لو میں نے تو صرف زمین خریدی تھی اور سونا نہیں خریدا بیچنے والے نے کہا میں نے تم کو زمین اور زمین میں جو کچھ تھا فروخت کر دیا (لہذا یہ سونا بھی تمہارا ہی ہے)۔ یہ دونوں فیصلے کے لئے ایک صاحب کو حکم بنائے (اور وہ ایک روایت کے لحاظ سے حضرت داود علیہ السلام ہیں) حکم نے ان دونوں سے پوچھا تمہاری کوئی اولاد ہے ایک نے کہا میرے ہاں ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میرے ہاں لڑکی ہے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کر دو اور اس سونے کو ان پر خرچ کر دو اور کچھ خیرات بھی کر دو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3472 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1721 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.887

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Take your gold

(1) "Take your gold"—The ruling on incidental inclusions in sales depends on two principles: Whatever is customarily understood as part of the sold property (e.g., buildings) is included without explicit mention. Attached fixtures (e.g., embedded stones) are included, but buried items (e.g., treasure) are not unless specified. If the buyer claims an item was part of the structure and the seller denies it, the seller’s oath is prioritized, as the burden is on the buyer to prove inclusion.

Note 1

قوله

(۱) قوله: خذ ذهبك مني إلخ الأصل أن مسائل ما يدخل في البيع تبعا، وما لا يدخل مبنية على قاعدتين، إحداهما: ما أفاده بقوله: كل ما كان في الدار من البناء يعني كل ما هو متناول اسم المبيع عرفا يدخل بلا ذكر ، وذكر الثانية بقوله: أو متصلا به تبعا لها دخل في بيعها، يعني أن كل ما كان متصلا بالمبيع اتصال قرار، وهو ما وضع، لا لأن يفصله البشر دخل تبعا، وما لا فلا، وما لم يكن من القسمين، فإن من حقوقه ومرافقه دخل بذكرها وإلا لا، فيدخل الحجارة المخلوقة والمثبتة في الأرض والدار لا المدفونة، يدل عليه قولهم: لو اشترى أرضا بحقوقها، وانهدم حائط منها، فإذا فيه رصاص أو ساج أو خشب من جملة البناء كالذي يكون تحت الحائط يدخل، وإن شيئًا مودعا فيه فهو للبائع، وإن قال البائع ليس لي فحكمه حكم اللقطة، فقولهم: «شيئًا مودعا» يدخل فيه الأحجار المدفونة، ويقع كثيرا في بلادنا أنه يشتري الأرض أو الدار، فيرى المشتري فيها بعد حفرها أحجار المرمر والكدان والبلاط، والحكم فيه إن كان مبنيا فللمشتري وإن موضوعا لا على وجه البناء فللبائع، وهي كثيرة الوقوع، فاغتنم ذلك. بقي لو ادعى البائع أنها كانت مدفونة فلم تدخل والمشتري أنها مبنية، فقد يقال: يتحالفان؛ لأنه يرجع إلى الاختلاف في قدر المبيع، وقد يقال: يصدق البائع؛ لأن اختلافهما في تابع لم يرد عليه العقد، والتحالف على خلاف القياس فيما ورد عليه العقد، فلا يقاس عليه غيره، والبائع ينكر خروجه عن ملكه، والأصل بقاء ملكه، فتأمل. كذا في «الدر المختار» و «رد المحتار».

Note 1

ف۔ واضح ہو کہ مکان یا زمین کی خرید و فروخت میں یہ مسئلہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکان کی فروخت میں ہر وہ چیز داخل ہے جو عرف عام میں مکانیت کے لوازم میں شامل جیسے دیوار، چھت، فرش وغیرہ اس لئے یہ تمام چیزیں مکان کے ساتھ متصور ہوں گی اسی طرح زمین کی فروخت کا بھی معاملہ ہے کہ اس میں ہر وہ چیز داخل ہوگی جو نظر آتی ہو اور عرف عام میں زمین کہلاتی ہے جیسے پتھر مٹی، ٹیلے وغیرہ۔ اب اگر مکان یا زمین کی فروخت کے بعد ان میں کوئی دفینہ نکل آئے یا زمین میں کوئی کان نکل آئے یا ایسی چیز ہو جو زمین کی جنس سے نہ ہو تو وہ بیچنے والے کی ملک ہوگی۔ اور اگر بائع دفینہ یا کان وغیرہ کو اپنی ملک نہ سمجھ کر لینے سے انکار کر دے تو ایسی چیز کا حکم لقطہ کا ہوگا اور وہ لقطہ کے شرائط کے تحت اصل مالک کی ملک ہوگی۔ (درمختار اور رد المحتار)۔