حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے (مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی شخص اپنے باغ کے تازہ پھلوں کو خشک
پھلوں کے بدلے فروخت کرے (مثلاً) وہ پھل کھجور ہیں تو ان کو اس طرح بیچے کہ خشک کھجوروں کو
ناپ لے (یا تول لے) اور تازہ کھجوروں کا اندازہ (جن کے معاوضہ میں ان کو بیچتا ہے) درخت پر
کر لے (یہ ناجائز ہے) اسی طرح پھل اگر انگور ہوں تو خشک انگور کو تول لے اور ان کو تازہ انگور کو
(جو درخت پر ہوں ان کا اندازہ کر لے اور ان کے بدلے) بیچ دے (یہ صورت بھی ناجائز ہے)۔
یہی حکم دوسرے پھلوں کے تبادلہ کا ہے۔
اور مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگر کھیتی ہو تو اس کو بھی اسی طرح بیچنا کہ خشک
غلہ کو ناپ یا تول لے اور کھیتی میں جو اناج ہے اس کا اندازہ کر کے تبادلہً بیچ دے (یہ صورت بھی
ناجائز ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے)۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ (مثلاً) درختوں کے کھجور کو (نمودار ہونے سے
پہلے) معین مقدار خشک کھجور کے بدلہ اس شرط سے بیچے کہ اگر (درخت کے پھل) زیادہ ہوئے تو وہ
میرے ہیں اور اگر وہ کم نکلیں تو نقصان میرے ہی ذمہ ہوگا (اس قسم کی بیع چونکہ جوئے سے مماثلت
رکھتی ہے اور تبادلہ میں چیزوں کی کمی یا بیشی کا احتمال ہے اس لئے جائز نہیں ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2185 (unverified) 93% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1542b (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
selling the fruits of his garden
(1) The statement: "selling the fruits of his garden" refers to Muzabana, which is selling fruits on trees for harvested dates estimated by guesswork. This is mentioned in Al-Hidayah. Ibn Battal said: Scholars unanimously agreed that selling dates still on palm trees for harvested dates is invalid because it is Muzabana, which is prohibited. As for selling fresh and dry dates together when harvested and measurable, the majority of scholars do not permit selling any of them for their kind, whether equal or unequal. Abu Yusuf and Muhammad held this view, while Abu Hanifah permitted selling fresh wheat for dry wheat or fresh dates for dry dates in equal measure but not in unequal measure. Ibn Al-Mundhir said he believed Abu Thawr agreed with this.
Note 1
قوله
(۱)قوله : أن يبيع ثمر حائطه إلخ : أي بيع المزابنة، وهو بيع الثمر على النخيل بتمر مجذوذ مثل كيله خرصا. قاله في «الهداية»، وقال في عمدة القاري»: قال ابن بطال: أجمع العلماء على أنه لا يجوز بيع التمر في رؤوس النخل بالتمر؛ لأنه مزابنة، وقد نهي عنه، وأما رطب ذلك مع يابسه؛ إذ كان مقطوعا وأمكن فيه المماثلة، فجمهور العلماء لا يجيزون بيع شيء من ذلك بجنسه، لا متماثلا ولا متفاضلا ، وبه قال أبو يوسف ومحمد ما، وقال أبو حنيفة : يجوز بيع الحنطة الرطبة باليابسة، والتمر بالرطب مثلا بمثل، ولا يجيزه متفاضلا . قال ابن المنذر وأظن أن أبا ثور وافقه.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ (ان تینوں قسم کی تجارت) سے منع فرمایا ہے محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص
اپنی کھڑی کھیتی کی فصل کو ایک سو فرق (ایک قسم کا پیمانہ) گیہوں کے بدلے بیچ دے۔ اور مزابنہ یہ ہے
کہ کوئی شخص کھجور کو جو درخت پر ہوں ایک سو فرق (پیمانہ) کھجور کے بدلے بیچ دے اور مخابرہ یہ ہے کہ
کوئی شخص اپنی زمین کو پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصہ کے معاوضہ میں بٹائی پر کاشت کے لئے
دیدے (یہ تینوں قسم کی بیع چونکہ قیاس اور اندازہ پر ہیں اور ان میں جوئے سے مماثلت ہو جاتی ہے
اس لئے منع ہیں)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور جماعت (یعنی اصحاب صحاح) نے سوائے نسائی کے عبداللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر سے یہ معاہدہ فرمایا کہ کھیتی یا پھلوں کی پیداوار
میں سے نصف مقدار بٹائی میں لی جائے گی (یعنی نصف حصہ مالک کا ہوگا اور نصف حصہ پیدا کرنے
والے کا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1536 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Mukhabara
(1) The statement: "Mukhabara" – This type of sharecropping is invalid according to Abu Hanifah, making the hadith evidence against it. However, his two companions validated it, and this is the fatwa given due to people’s need for it and based on the narration that the Prophet (ﷺ) contracted with the people of Khaybar for half the produce. This is taken from Al-Maraqi and Al-Hidayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله : والمخابرة ولا تصح هذه المزارعة عند أبي حنيفة ، فيكون الحديث دليلا له، وصحت عند صاحبيه وبه يفتى لاحتياج الناس إليها، ولما روي أن النبي عامل أهل خيبر على نصف ما يخرج من ثمر أو زرع، أخذته من المرقاة» و«الهداية».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ،
مزابنہ، مخابرہ، معاومہ اور ثنیا سے منع فرمایا ہے اور عرایا کی اجازت دی ہے (اس کی روایت مسلم نے
کی ہے)
امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے
کہ عرایا میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ کھجور کا ایک درخت یا دو درخت کسی (غریب) شخص
کو بطور ہبہ کے (پھلوں کے استعمال کیلئے) دے دیے جائیں پھر وہ شخص مالک کو (ضرورۃً) اندازہ
لگا کر کچھ کھجوروں کے بدلہ بیچ دے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرایا کے بارے
میں خرید و فروخت کی اجازت روایت کی ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ عریہ ہبہ ہے اہ۔
اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی موطا میں کہا ہے کہ مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
ہے کہ عریہ یہ ہے کہ کسی شخص کا کھجور کا باغ ہو اور وہ کسی (غریب اور مستحق) شخص کو ایک درخت یا دو
درخت عاریتہً دیدے کہ وہ اس کے کھجور استعمال کر لے پھر مالک باغ پر یہ بات گراں گزر رہی
ہے کہ وہ باغ میں آتا جاتا رہتا ہے اور اس سے مالک کو تکلیف ہوتی ہے (یا آنے والے کو بھی بار بار
آنے جانے سے تکلیف ہوتی ہے) تو وہ مالک باغ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ عریہ کی بجائے وہ
اس کو کھجور کی فصل کے ختم پر ایک معین مقدار کھجور دے دے ایسی صورت جائز ہے اس لئے کہ یہ بیع
نہیں ہے بلکہ مالک بطور ہبہ درخت کے جو کھجور دینا چاہتا تھا اس کے معاوضہ میں کھجور کی ایک معین
مقدار دے رہا ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے ثنیا سے (جس کی تفصیل ابھی اوپر گزر چکی ہے) منع فرمایا ہے البتہ ثنیا میں پھلوں کی
مقدار معین کر دی جائے (اور ان کو فروخت سے مستثنیٰ کر دیا جائے تو) جائز ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ
نے (اندازہ سے آئندہ) کئی برس تک کے لئے (درختوں یا کھیتی کو) بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1536a (unverified) 70% confidence · Validation similarity: 0.500
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
Mu’awama
(1) The statement: "Mu’awama" – Al-Nawawi said: "The prohibition on selling Mu’awama (selling for years) means selling the produce of a tree for two, three, or more years. It is called Mu’awama or selling years and is invalid by consensus, as transmitted by Ibn Al-Mundhir and others, due to these hadiths and because it involves gharar (uncertainty), selling nonexistent or undeliverable goods not owned by the seller."
Note 2
Thunya (exception)
(2) The statement: "Thunya (exception)" – Thunya means stipulating an exception. Scholars said: Excluding trees from a sale is permissible, but excluding some fruits is debated. If the excluded amount is known (e.g., pounds) or a shared portion (e.g., half or a quarter), there are two opinions in our school. If unknown, the sale is invalid. In Al-Hidayah, the author preferred prohibition, while Al-Durr Al-Mukhtar permitted it, as did Al-Tahawi, supported by explicit hadiths. Muhammad also chose this in his Muwatta.
Note 3
He permitted ‘Araya
(3) The statement: "He permitted ‘Araya" – Scholars differed in interpreting permitted ‘Araya. The Shafi’i school and majority validated all forms, while Abu Hanifah and his followers restricted it to gifting, where a man gifts another the fruits of his palm without handing them over, then retracts the gift. He is permitted to withhold the gift and give dried dates equivalent to the gifted fresh dates based on estimation. This interpretation adheres to the general prohibition of Muzabana and selling fresh dates for dried dates. Ibn Nujaym (may Allah have mercy on him) in Al-Bahr Al-Ra’iq said: "Our scholars diverged from the apparent meaning in three ways, including using the term 'sale' for 'gift.'"
In Abu Hurairah’s hadith in Bukhari: "The Prophet (ﷺ) permitted ‘Araya sales below five Wasq." Some scholars used this to limit ‘Araya to this amount, prohibiting more. For Hanafis, the number in the hadith is incidental. Detailed discussions on this are found in Sharh Ma’ani Al-Athar, Al-Ta’liq Al-Mumajjad, and Al-‘Urf Al-Shadhi.
Al-‘Alamgiriyyah states: "The permitted ‘Araya refers to gifting, not selling. It means gifting someone dates from one’s garden, then finding it burdensome to let him enter daily (e.g., if the owner’s family lives there). To avoid breaking his promise, he gives dried dates equivalent to the gifted fresh dates based on estimation. This is valid for us."
Note 1
قوله
(۱)قوله: والمعاومة: وقال النووي: وأما النهي عن بيع المعلومة وهو بيع السنين، فمعناه أن يبيع ثمر الشجرة عامين أو ثلاثة أو أكثر، فيسمى بيع المعلومة وبيع السنين، وهو باطل بالإجماع، نقل الإجماع فيه ابن المنذر وغيره لهذه الأحاديث، ولأنه بيع غرر؛ لأنه بيع معدوم ومجهول غير مقدور على تسليمه وغير مملوك للعاقد.
Note 2
قوله
(٢) قوله: عن الثنيا : الثنيا: الاستثناء. قال العلماء: وإن استثناء الأشجار من الأشجار المبيعة جائز، وأما استثناء بعض الثمار، فإما أن يستثنى الأرطال المعلومة أو المجهولة، فإن كانت معلومة أو استثناء الجزء الشائع مثل النصف أو الربع ففيه لنا روايتان، وإن كانت مجهولة فالبيع غير جائز، وأما في استثناء الأرطال المعلومة فاختار صاحب الهداية» عدم الجواز، والدر المختار الجواز، واختاره الطحاوي؛ فإنه يؤيده الحديث الصريح، وقد اختاره محمد في موطئه. كذا في «العرف الشذي».
Note 3
قوله
(۳) قوله: ورخص في العرايا اختلفوا في تفسير العرية المرخص بها على أقوال جميع الصور صحيحة عند الشافعي والجمهور، ومنع أبو حنيفة ومن تبعه صور البيع كلها، وقصر العرية على الهبة، وهي أن يعري الرجل رجلا ثمر نخل من نخيله ولا يُسلّمه، ثم يظهر له ارتجاع تلك الهبة، فرخص له أن يحبس ذلك ويعطيه بقدر ما وهب له من الرطب بخرصه تمرا، وحمله على ذلك أخذا لعموم النهي عن المزابنة، وعن بيع التمر بالتمر. قال ابن نجيم (رحمه الله) في البحر الرائق: أصحابنا خرجوا عن الظاهر بثلاثة أوجه، منها: إطلاق البيع على الهبة إلخ، ووقع في حديث أبي هريرة (رضي الله عنه) عند البخاري : أن النبي ﷺ رخص في بيع العرايا فيها دون خمسة أوسق أو خمسة أوسق، فاعتبر من قال بجواز العرايا بمفهوم العدد، ومنعوا ما زاد عليه، وأما عند أصحابنا الحنفية.
فذكر العدد في الحديث واقع اتفاقا، والكلام في هاتين المسألتين طويل الذيل من شاء الاطلاع عليه فليراجع إلى «شرح معاني الآثار» و«التعليق الممجد والعرف الشذي فإنها نفيسة في بابها. وقال في «العالمكيرية»: العرية التي فيها الرخصة هي العطية دون البيع، وتفسير العرية أن يهب الرجل تمرة نخلة من بستانه لرجل، ثم يشق على المعري دخول المعرى له في بستانه كل يوم؛ لكون أهله في البستان، ولا يرضى من نفسه خلف الوعد والرجوع في الهبة، فيعطيه مكان ذلك تمرا مجذوذا به بالخرص؛ ليندفع ضرره عن نفسه، ولا يكون مخالفًا للوعد، وهي جائزة عندنا. كذا في «المبسوط».
Note 1
(معاومہ یہ ہے کہ درختوں کے پھلوں کو نمودار ہونے سے پہلے ایک سال، دو سال یا تین
سال یا زیادہ مدت کے لئے فروخت کر دیا جائے۔ کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ میوہ پیدا ہی نہ ہو یا
پیدا ہو تو خراب ہو جائے اور لینے والے کا نقصان ہو۔ اور ثنیا یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بیچ دیا
جائے اور پھلوں کی ایک غیر معین مقدار مستثنیٰ کر لی جائے جیسے یوں کہے کہ میں اس میں سے تھوڑے
پھل لے لوں گا اور عرایا وہ درخت ہیں جن کو عاریتاً مالک ایک معین مدت کے لئے غرباء کو پھل
کھانے کے لئے دیدے۔)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
ہے کہ کوئی شخص تأبیر (تأبیر یہ ہے کہ نر کھجور کے درخت کا پھول مادہ کھجور کے درخت پر ڈالا جاتا ہے
تاکہ پھل زیادہ پیدا ہوں) کے بعد کھجور کا باغ بیچ دے تو (موجودہ فصل کے) پھل بیچنے والے کے
ہوں گے اور اگر خریدار پھل کے بارے میں شرط کر لے (تو پھل خریدار کے ہوں گے) اس کی
روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے (پھلوں کی پختگی کے بعد خرید و فروخت مناسب
ہے۔)
اور بخاری کی ایک روایت میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے
(اور کاروبار خوشگواری سے طے پا جاتے تھے) پھر جب لوگوں کی کثرت ہوگئی اور ان میں انتشار
پیدا ہونے لگا اور معاملات پیچیدہ ہونے لگے تو خریدار یوں کہنے لگا پھلوں کو تو اب کیڑا لگ گیا ہے،
ان میں خرابی پیدا ہوگئی ہے ان میں بعض پھل خشک ہوگئے ہیں الغرض اس قسم کے مصائب کے سبب
سے احتجاج کرنے لگے چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس قسم کے نزاعات کثرت سے پیش
ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ایسی صورت ہو رہی ہے تو فروخت میں جلدی مت
کرو بلکہ پھلوں کی پختگی کے بعد پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرو۔ آپ کا یہ ارشاد بطور مشورہ کے تھا
تا کہ نزاع نہ بڑھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2193 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1543a (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2204 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Its fruits belong to the seller unless the buyer stipulates otherwise
(1) The statement: "Its fruits belong to the seller unless the buyer stipulates otherwise" – There is no disagreement on the prohibition of selling fruits before they appear or after appearance but before ripening if left on the tree. Selling before ripening with the condition of picking (for immediate use) is permitted, as is selling after ripening. For us, ripening means safety from damage, while for Al-Shafi’i, it is when sweetness appears. The disagreement concerns selling before ripening without picking conditions. Al-Shafi’i, Malik, and Ahmad prohibited it, while we permit it if the fruit is unusable (inedible or unfit for animal feed)—though scholars differ. The correct view is permissibility because it will eventually be useful. If usable (even as animal feed), the sale is valid by consensus if picking is stipulated or left open. Our evidence is this hadith, where the Prophet (ﷺ) assigned the fruits to the seller unless the buyer claimed them, implying permissibility of selling unripe fruits if claimed separately.
Opponents cannot argue with prohibition hadiths, as they themselves permit selling before ripening with picking conditions, contradicting those hadiths. Our scholars interpret prohibition hadiths as discouragement or referring to sales where fruits are left to ripen (invalid by consensus) or sales conditioned on leaving fruits unharvested. Alternatively, the Prophet’s prohibition was advice due to frequent disputes, as in Bukhari’s narration where he said: "Do not sell until fruits ripen," as counsel.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فثمرها للبائع إلا أن يشترط المبتاع لا خلاف في عدم جواز بيع الثمار قبل أن تظهر، ولا في عدم جوازه بعد الظهور قبل بدو الصلاح بشرط الترك، ولا في جوازه قبل بدو الصلاح بشرط القطع فيما ينتفع به، ولا في الجواز بعد بدو الصلاح، لكن بدو الصلاح عندنا أن تُؤمن العاهة والفساد، وعند الشافعي هو ظهور النضج وبدو الحلاوة، إنما الخلاف في البيع قبل بدو الصلاح مطلقا من غير اشتراط قطع ولا تبقية، فعند الشافعي ومالك وأحمد الله لا يجوز، وعندنا إن كان بحال لا ينتفع به في الأكل ولا في علف الدواب، فيه خلاف بين المشايخ، قيل: لا يجوز، ونسبه قاضي خان العامة مشايخنا، والصحيح أنه يجوز؛ لأنه مال منتفع به في ثاني الحال إن لم يكن منتفعا به في الحال، وإن كان بحيث ينتفع به ولو علفا للدواب، فالبيع جائز باتفاق أهل المذهب، إذا باع بشرط القطع أو مطلقا، وحجتنا فيه هذا الحديث .وجه التمسك به أنه ﷺ جعل فيه تمر النخل لبايعها إلا أن يشترط المبتاع، فيكون له باشتراط إياها، ويكون ذلك مبتاعًا لها، وفي هذا إباحة بيع الثمار قبل أن يبدوا صلاحها؛ لأن كل ما لا يدخل في بيع غيره إلا بالاشتراط، وهو الذي يكون مبيعًا وحده، وما لا يدخل في بيع غيره عن غير اشتراط هو الذي لا يجوز أن يكون مبيعا وحده، ولا يصلح لأصحاب الشافعي الاستدلال بأحاديث النهي، فإنهم تركوا ظاهرها في إجازة البيع قبل بدو الصلاح بشرط القطع، ولم يفهم ذلك منها مع أن لها معارضات أخر.
وحديث التأبير لا معارض له، فتعين العمل به، وعامة مشايخنا يحملون أحاديث النهي على التنزيه، وترك الأولى أو على معنى إرادة عدم الظهور من قوله قبل أن يبدو صلاحها، فإنه باطل بالاتفاق، أو على معنى البيع بشرط الترك، وهو الظاهر من البيع قبل بدو الصلاح أو على أن النهي الذي كان من رسول الله ﷺ عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها لم يكن منه على تحريم ذلك، ولكنه كان على المشورة عليهم بذلك؛ لكثرة ما كانوا يختصمون إليه فيه، بدليل ما في صحيح البخاري عن زيد بن ثابت قال : كان الناس في عهد رسول الله يبتاعون الثمار، فإذا خذ الناس وحضر تقاضيهم قال المبتاع : إنه أصاب الثمر الدمان، أصابه مراض، أصابه قشام، يحتجون بها، فقال رسول الله لما كثرت الخصومات عنه: لا تبايعوا حتى يبدو صلاح الثمر كالمشورة. «رد المحتار» و «التعليق الممجد» و«عمدة القاري» و «تنسيق النظام» ملتقط منها.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ کے مبارک زمانہ میں ایک شخص جو پھلوں کی تجارت کیا کرتا تھا (اس کو خسارہ ہوا جس کی وجہ
سے) وہ مقروض ہو گیا رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) ارشاد فرمایا (بطور امداد)
تم اس پر خیرات کرو صحابہ کرام نے (حسب استطاعت خیرات دی اس کے باوجود اس کا قرض ادا
نہ ہو سکا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض دہندگان سے ارشاد فرمایا (فی الحال) تم کو جو بھی ملا ہو
لے لو اس لئے کہ اس کے پاس (ادا کرنے کے لئے) کچھ اور نہیں ہے (ہاں اگر وہ آئندہ خوشحال
ہو جائے تو تم کو بقیہ قرض وصول کرنے کا حق ہے)۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1556a (unverified) 94% confidence · Validation similarity: 0.764
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Give him charity
(1) The statement: "Give him charity" – Al-Nawawi said: Scholars disagreed on whether the seller or buyer bears the loss if fruits are sold after ripening, handed over, then destroyed before harvest by natural causes. Al-Shafi’i (in his preferred view), Abu Hanifah, and others held the buyer bears the loss, though waiving it is recommended. Al-Shafi’i (in an old view) and others said the seller bears it, and compensation is obligatory.
Proponents of compensation cited the Prophet’s (ﷺ) order to waive losses and his saying: "It is unlawful to take your brother’s property unjustly." Opponents argued that if compensation were obligatory, the debtor in this hadith would not have needed charity. They interpreted the order to waive losses as recommendation or applied it only to pre-ripening sales.
Al-Tahawi said: The hadiths cited by opponents are authentic, but we interpret them differently. "Losses" refer to public calamities affecting taxable lands where tax reductions benefit Muslims. For sales, no compensation is owed. The hadith where the Prophet (ﷺ) said: "If you sell fruits to your brother and they are destroyed, you cannot take anything—why take your brother’s wealth unjustly?" refers to undelivered goods still in the seller’s possession. Once delivered, losses are the buyer’s responsibility, like any other sale.
Note 1
قوله
(۱)قوله: تصدقوا عليه إلخ : وقال النووي: اختلف العلماء في الثمرة إذا بيعت بعد بدو الصلاح، وسمها البائع إلىالمشتري بالتخلية بينه وبينها، ثم تلفت قبل أوان الجذاذ بآفة سماوية هل تكون من ضمان البائع أو المشتري؟ فقال الشافعي في أصح قوليه، وأبو حنيفة والليث بن سعد وآخرون هي من ضمان المشتري، ولا يجب وضع الجائحة، لكن يستحب وقال الشافعي في القديم وطائفة هي من ضمان البائع، ويجب وضع الجائحة، واحتج القائلون بوضعها بقوله : أمر بوضع الجوائح، وبقوله : فلا يحل لك أن تأخذ شيئًا، بم تأخذ مال أخيك بغير حق؟، واحتج القائلون بأن لا يجب وضعها بقوله في هذه الرواية في ثمار ابتاعها، فكثر دينه فأمر النبي بالصدقة عليه، ودفعه إلى غرمائه، فلو كانت توضع لم يفتقر إلى ذلك، وحملوا الأمر بوضع الجوائح على الاستحباب، أو فيها بيع قبل بدو الصلاح، انتهى.
وقال الطحاوي: إن ما في هذه الأحاديث المروية عن رسول الله الله التي ذكرها أهل المقالة الثانية، فمقبول صحيح على ما جاء، ولسنا ندفع من ذلك شيئًا لصحة مخرجه، ولكنا نخالف التأويل الذي تأولوها عليه، ونقول: إن معنى الجوائح المذكورة فيها هي الجوائح التي يصاب الناس بها، ويحتاجهم في الأرضين الخراجية التي خراجها للمسلمين، فيوضع ذلك الخراج عنهم واجب لازم؛ لأن في ذلكصلاحا للمسلمين وقوية لهم في عمارة أرضيهم فأما في الأشياء المبيعات فلا، فهذا تأويل حديث جابر الله الذي فيه أن النبي أمر بوضع الجوائح.
وأما حديث جابر الثاني الذي فيه أن رسول الله ﷺ قال: إن بعت من أخيك ثمرا فأصابته جائحة، فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئًا، بم تأخذ مال أخيك بغير حق، فمعناه غير هذا المعنى، وذلك أنه ذكر فيه البيع ولم يذكر فيه القبض، فذلك عندنا على البياعات التي تصاب في أيدي بائعها قبل قبض المشتري لها، فلا يحل للباعة أخذ أثمانها؛ لأنهم يأخذونها بغير حق، فأما ما قبضه المشترون وصار في أيديهم، فذلك كسائر البياعات التي يقبضها المشرون لها، فيحدث بها الآفات في أيديهم، فكما كان غير الثمار يذهب من أموال المشترين لها، لا من أموال باعتها، فكذلك الثمار.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں کہ جو کوئی غلہ خریدے وہ اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ (اس کو قبضہ میں لے کر) پورا پورا نہ
تول لے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں اس طرح ہے کہ (اس غلہ کو)
تولنے تک (اس کو نہ بیچے)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
مسلم اور بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے (کہ خریدے ہوئے غلے کو اس
وقت تک نہ بیچے) یہاں تک کہ اس کو اپنے قبضہ میں لے لے۔
اور نسائی نے اپنی سنن کبریٰ میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم ہرگز کسی چیز کو نہ بیچو یہاں تک کہ تم اس کو اپنے قبضہ میں نہ کر لو
اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1525 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
must not sell it until he has taken full possession
(1) The statement: "must not sell it until he has taken full possession" – Since texts are generally reasoned, the apparent reason for this prohibition is the risk of loss before delivery, involving gharar (uncertainty) or contract dissolution. This applies to movable goods, not immovable property, leading Abu Hanifah and his students to restrict the prohibition to movables, permitting sales of immovables before possession.
Muhammad prohibited all such sales. Malik limited it to food, Ahmad extended it to all measurable goods, Al-Shafi’i to all sellable items, and Abu Hanifah to all movables, based on "full possession," which applies only to movables. Ibn Abbas’s analogy is not binding in juristic matters without textual basis.
In Al-‘Urf Al-Shadhi: The Hijazis prohibited selling food before possession, defining "food" as riba items. Abu Hanifah’s students prohibited disposals before possession except for immovables. Muhammad prohibited all such disposals. For Abu Hanifah, possession of food is achieved by mere relinquishment (enabling the buyer to take it), not necessarily physical handling. Al-Shafi’i required physical transfer.
The hadith uses three phrases: "until he has taken full possession," "until he measures it," and "until he takes possession." Shafi’is argued the core meaning is physical transfer, while Hanafis said all phrases denote possession metaphorically.
Note 2
until he measures it
(2) The statement: "until he measures it" – This refers to credit sales (salam), not spot transactions. It means buying food on credit and reselling it before taking possession, which is invalid as it resembles exchanging gold for gold with delay (riba) and selling undelivered goods.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فلا يبيعه حتى يستوفيه ولما كان الأصل في النصوص كونها معلولة، والظاهر في تعليل النهي احتمال التلف قبل التسليم، فيكون فيه غرر انفساخ العقد، وهذه العلة إنما توجد في المنقول المحول لا في العقار، خص الشيخان هذا النهي بخصوص العلة بالمنقولات، وأجاز البيع في العقار. قلت: لعل هذا بناءً على أن دلالة النص قد تفوق عبارة النص عند وضوح المقصود، ومن ثم قال أبو زيد الديوسي في أسراره»: إنه لو اصطلح قوم في كلمة أف على كونها للتمدح والتحسين لم يحرم التأفيف في حق الوالدين عندهم، وهكذا له نظائر كثيرة في النصوص والمحاورات وحققناه مختصرا في حصول الحواشي على أصول الشاشي»، وذهب محمد إلى المنع الكلي مطلقا في المنقول وغيره،واختاره الطحاوي معللا بامتناع ربح ما لم يضمن والدخول في الضمان عنده بالقبض. قاله المولوي محمد حسن السنبلي، وقال في تنسيق النظام ثم اعلم أن مالكا قصر الحكم على مورد النص، وهو الطعام، وأحمد عداه إلى كل موزون ومكيل، والشافعي عداه إلى كل شيء مبيح، وأبا حنيفة عداده إلى كل منقول، ويصح في العقار، وتمسكه بقوله حتى يستوفيه، فإن الاستيفاء إنما يتعلق بالمنقول، وإن القبض والاستيفاء إنما يشترط مخافة الهلاك قبل القبض وهو نادر، بل غير متصور في العقار، وقياس ابن عباس ليس حجة علينا في الأمور الاجتهادية من غير سماع وقوله : واحسب كل شيء مثله يشير إلى أن المفهوم غير معتبر عنده؛ إذ لو كان المفهوم معتبرا لم يقل: واحسب كل شيء مثله، بل نفى الحرمة عن غير الطعام.
وقال في العرف الشذي»: قال الحجازيون: لا يجوز بيع الطعام قبل القبض، والطعام عندهم الأشياء الربوية وقال الشيخان: لا يجوز التصرف قبل القبض في المبيع إلا العقار وقال محمد: لا يجوز التصرف في مبيع ما قبل القبض، وأما القبض في الطعام عند أبي حنيفة ، فيكون بمحض التخلية، وأما تعريف التخلية فمتعذر، ومحصله ما ذكره المصنف : أن يرفع البائع ملكه عن المبيع بحيث يتمكن المشتري من القبض، ولا يجب القبض بالبراجم، وأما ما في الأجناس للناطقي من أن يقول : قد خليت فغير ضروري، وقال الشافعي: إن القبض بالنقل، وأما الحديث ففيه ذكر الطعام، فنقح فيه الشيخان المناط، وقرر المناط أن يكون الشيء منقولا، وقصر الحجازيون الحكم على الطعام وقال محمد وابن عباس: إن قيد الطعام اتفاقي، والحكم حكم كل مبيع، وأما ألفاظ الأحاديث فثلاثة حتى يستوفيه حتى ينقله حتى يقبضه، فزعم الشافعية أن الأصل حتى ينقله، والآخران يحملان عليه، وقال الأحناف: إن الكل صور القبض أو كناية عن القبض.
Note 2
قوله
(۲)قوله: حتى يكتانه ليس هذا من باب الطعام الحاضر، ولكنه من باب السلف ومعنى الحديث أن يشتري من إنسان طعاما بدينار إلى أجل، ثم يبيعه منه أو من غيره قبل أن يقبضه بدينارين مثلا، فلا يجوز؛ لأنه في التقدير بيع ذهب بذهب والطعام غائب، فكأنه باعه ديناره الذي اشترى به الطعام بدينارين فهو ربا، ولأنه بيع غائب بناجز، فلا يصح. هذا حاصل ما في بذل المجهود». وقال السندهي في هامش النسائي حتى يكتاله» كناية عن القبض؛ إذ القبض عادة يكون بالكيل.
Note 1
ف: واضح ہو کہ قبضہ کے بغیر کسی چیز کی خرید و فروخت سے ممانعت کا جو حکم ہے وہ منقولہ اشیاء سے متعلق ہے
(جو چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہیں) مثلاً غلہ وغیرہ البتہ غیر منقولہ اشیاء جیسے مکان یا زمین کی خرید و
فروخت میں قبضہ شرط نہیں جیسا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اس ممانعت کو صرف غلے سے
متعلق قرار دیتے ہیں اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ منقولہ چیز کو قبضہ میں لئے بغیر خرید و فروخت سے اس کے تلف ہو جانے
یا اس میں کمی بیشی کا اندیشہ رہتا ہے اور یہ علت غیر منقولہ اشیاء میں پائی نہیں جاتی۔ یہ ”تنسیق النظام“ سے ماخوذ ہے۔
(1) The statement: "prohibited selling al-kali’ bi al-kali’" – This refers to selling debt for debt, explained as when a man buys on credit and, at maturity, lacks payment, so he "sells" the debt to the creditor for a new deferred price without actual exchange. The prohibition is due to selling unpossessed goods or exchanging undelivered debts. Another example: Zaid owes Amr a garment, and Bakr owes Amr ten dirhams. Zaid tells Bakr: "I sell you my garment owed by Amr for your ten dirhams owed by Amr." This is invalid.
Note 1
قوله
(۱) قوله: نهى عن بيع الكالي بالكالي: المراد بيع النسيئة بالنسيئة، وفسروه بأن يشتري الرجل شيئا إلى أجل، فإذا جاء الأجل لم يجد ما يقضي به فيقول: بعنيه إلى أجل آخر، فيبيعه منه بلا تقابض، وأصله النهي عن بيع ما لم يقبض؛ لأنه لم يدخل في ضمانه، والغنم إنما هو بالغُرم، وقيل : صورته أن يكون لزيد على عمرو ثوب موصوف ولبكر على عمرو عشرة دراهم، فقال زيد لبكر بعت منك ثوبي الذي على عمرو بدراهمك العشرة التي على عمرو، فقال بكر: قبلت فهذا البيع لم يجز لهذا المعنى. قاله في اللمعات»: وقال في رحمة الأمة»: واتفقوا على أنه لا يجوز بيع الكالي بالكالي، وهو الدين بالدين.
Note 1
ف: ادھار کو ادھار کے بدلے بیچنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید پر عمرو کا ایک کپڑا ادھار ہے اور بکر کے عمرو پر دس
درہم ہیں تو زید بکر کو یوں کہے کہ میں نے اپنا کپڑا تیرے ہاتھ ان دس درہم کے بدلے بیچ دیا جو عمرو پر تیرے ہیں اور
بکر یوں کہے کہ میں نے قبول کیا۔ یہ بیع اس لئے ناجائز ہے کہ یہاں ایسی چیز کی خرید و فروخت ہو رہی ہے جس پر قبضہ
نہیں ہے۔ جیسا کہ لمعات میں مذکور ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم
میں سے کوئی شخص غلہ لانے والے قافلہ سے آگے جا کر نہ ملے (یعنی شہر میں غلہ آنے سے پہلے ہی
اس کو راستہ میں ارزاں (سستا قیمت میں) لینے کی خاطر جا کر نہ خریدے) اور تم میں سے کوئی شخص
اپنے بھائی کی بولی پر اپنی بولی نہ لگائے (یعنی دو شخصوں کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ طے
ہونے پر تیسرا شخص اس بیع کے مقابلہ میں اس سے کم داموں پر یا اس مال میں عیب نکال کر اپنا مال
فروخت نہ کرے) رسول اللہ ﷺ نے خرید و فروخت میں نجش سے منع فرمایا ہے (نجش یہ ہے
کہ دو شخصوں کے درمیان خرید و فروخت کی گفتگو ہو رہی ہے اور تیسرا شخص اگر اس کی تعریف کرے
تاکہ خریدار کو اس کی جانب رغبت زیادہ ہو یا خریدار اس کی قیمت بڑھا دے اور خود اس کو وہ چیز
خریدنا منظور نہیں جیسا کہ ہراج میں دلال کیا کرتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی
فرمایا ہے کہ کوئی شہری آدمی دیہاتی آدمی کا مال فروخت نہ کرے (یعنی کوئی دیہاتی غلہ لائے تاکہ
موجودہ نرخ پر فروخت کرے لیکن شہری اس سے یہ کہے کہ تو غلہ میرے سپرد کر دے میں اس کو زیادہ
قیمت پر فروخت کر دوں اس قسم کی بیع میں دو قسم کے نقصان ہیں ایک تو مالک کا دوسرے اہل شہر کا کہ
اگر بازار میں مال آ جاتا تو روزمرہ کے نرخ پر چیزیں مل جاتیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2150 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1515a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (11)
Note 1
Do not intercept caravans
(1) The statement: "Do not intercept caravans" – This is disliked if it harms locals or manipulates prices. If no harm, it is permissible. There are two scenarios: (a) buyers intercept food caravans during scarcity to resell at higher prices, or (b) they buy at below-market prices without the sellers’ knowledge.
Note 2
do not outbid each other
(2) The statement: "do not outbid each other" – This means offering a higher price after a sale is agreed upon, disliked if done to undermine the initial buyer. Before agreement, it is permissible as competitive bidding.
Note 3
do not engage in Najash
(3) The statement: "do not engage in Najash" – Najash is fake bidding to inflate prices or praising goods falsely to attract buyers. It is prohibited if the item has reached its fair value; otherwise, it is permissible.
Note 4
do not sell on behalf of a townsman to a Bedouin
(4) The statement: "do not sell on behalf of a townsman to a Bedouin" – This prohibits urban intermediaries from exploiting rural sellers by buying their goods cheaply to resell at higher prices, depriving them of fair market access.
Note 5
The ruling on Musarrah
(5) The statement: "The ruling on Musarrah" – The majority (Shafi’i, Malik, Ahmad) grant the buyer the option to return a misrepresented Musarrah (animal whose milk was withheld before sale) and require compensation. Abu Hanifah and some Kufans reject this, considering the hadith abrogated or context-specific.
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا تلقوا الركبان لبيع أي يكره تلقي الجلب للضرر والغرر، أي إذا كان يضر بأهل البلد أو يلبس السعر، أما إذا انتفيا فلا يكره. قاله في الدر المختار»، وقال في فتح القدير: وللتلقي صورتان، إحداهما : أن يتلقاهم المشترون للطعام منهم في سنة حاجة ليبيعوه من أهل البلد بزيادة. وثانيتهما : أن يشتري منهم بأرخص من سعر البلد، وهم لا يعلمون بالسعر. ولا خلاف عند الشافعية أنه إذا خرج إليهم لذلك أنه يعصي أما لو لم يقصد ذلك، بل اتفق أن خرج فرآهم فاشترى، ففي معصيته قولان: أظهرهما عندهم يعصي، والوجه لا يعصي إذا لم يلبس، وعندنا محل النهي إذا كان يضر بأهل البلد أو لبس، أما إذا لم يضر ولم يلبس فلا بأس.
Note 2
قوله
(۲) قوله : ولا يبيع بعضكم على بيع بعض : أي يكره السوم على سوم غيره، ولو ذميًا أو مستأمنا، وذكر الأخ في الحديث ليس قيدا، بل لزيادة التنفير، وهذا بعد الاتفاق على مبلغ الثمن، وإلا لا يكره؛ لأنه بيع من يزيد. كذا في «الدر المختار».
Note 3
قوله
(۳)قوله: ولا تناجشوا : أي كره النجش أن يزيد ولا يريد الشراء أو يمدحه بما ليس فيه ليروجه، ويجري في النكاح وغيره، ثم النهي محمول على ما إذا كانت السلعة بلغت قيمتها، أما إذا لم تبلغ لا يكره لانتفاء الخداع. كذا في «الدر المختار».
Note 4
قوله
(٤) قوله: ولا يبع حاضر لباد: أي لبدوي، كما إذا جاء البدوي بطعام إلى بلد ليبيعه بسعر يومه ويرجع فيتوكل البلدي عنه ليبيعه بالسعر الغالي على التدريج، وهو حرام عند الشافعي بالله ومكروه عند أبي حنيفة الله، وإنما نهي عنه؛ لأن فيه سد باب المرافق على ذوي البياعات. قاله في المرقاة». وقال في الدر المختار: كره بيع الحاضر للباديوهذا في حالة قحط وعوز، وإلا لا لانعدام الضرر. قيل: الحاضر المالك والبادي المشتري، والأصح كما في «المجتبى» أنهما السمسار والبائع لموافقته آخر الحديث دعوا الناس يرزق بعضهم بعضًا، ولذا عدى باللام لا بـ«من»، انتهى. وقال في العمدة القاري»: فإن قلت: يعارض هذا ما رواه سعيد بن منصور من طريق ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: إنما نهى رسول الله ﷺ أن يبيع حاضر لباد؛ لأنه أراد أن يصيب المسلمون غرتهم، فأما اليوم فلا بأس، فقال عطاء: لا يصلحاليوم. قلت: أجاب بعضهم بأن الجمع بين الروايتين أن يحمل قول عطاء هذا على كراهة التنزيه. قلت: الأوجه أن يحمل ترخيصه فيما إذا كان بلا أجر، ومنعه فيما إذا كان بأجر، وقال بعضهم : أخذ بقول مجاهد أبو حنيفة، وتمسكوا بعموم قوله : «الدين النصيحة»، وزعموا أنه ناسخ لحديث النهي.
Note 5
قوله
(٥)قوله: ما روى عن رسول الله الله من الحكم في المصراة إلخ: اعلم أن ثبوت الخيار في المصراة ورد صاع من تمر أو طعام هو مذهب الشافعي، ومالك وأحمد وأبي يوسف مع خلاف في مذهب أحمد أنه يجب على الفور أو بعد ثلاثة أيام، وأما مذهب أبي حنيفة وطائفة من الكوفيين ومالك في رواية أخرى أنه إنما يثبت بالشرط لا بدونه، ولا يجب رد صاع؛ لأنه يخالف القياس الصحيح من كل وجه؛ لأن الشيء إنما يضمن بالمثل أو بالقيمة أو بالثمن، والثمر ليس بقيمة اللبن قطعًا، ولا ثمنه، فلا مماثلة بينهما صورة ولا معنى، فأبو حنيفة غير منفرد بترك العمل بحديث المصراة، بل مذهب الكوفيين وابن أبي ليلى ومالك الله في رواية مثل مذهب أبي حنيفة، ولذلك قالوا: ليس للمشتري ردها بالعيب، ولكنه يرجع إلى البائع بنقصان العيب، وممن قال ذلك محمد بن الحسن وذهبوا إلى أن ما روى عن رسول الله في المصراة منسوخ.
وفي المقام تفصيل موضع بسطه هو عقود الجواهر المنيفة، ولأن حديث المصراة خبر واحد لا يفيد إلا الظن، وهو مخالف لقياس الأصول المقطوع به فلا يلزم العمل به. وكتب مولانا محمد يحيى المرحوم من تقرير شیخه قوله: باب من اشترى شاة مصراة إلخ الروايات المذكورة فيه مخصوصة عندنا بمواردها في ذلك لمخالفتها النصوص الآخر والقواعد الكلية وكلمة من ليس نصا في العموم الجنسي أو النوعي، فكثيرا ما يستعمل في الشخصية، فقد ثبت في موضعه أن الموصول كثيرًا ما يستعمل للعبد، وإن كان استعماله للعموم أيضًا، واستعمال ألفاظ الشرط في الموصولات شائع، والشافعي له إن كان مقرا بأنها مخالف الكليات إلا أنه ذهب إلى أن العموم ما الله فيها نوعي، فلا يختص بما ورد فيه، بل يعدى الحكم في مثله من الجزئيات الواردة بعده ، ونحن لما قلنا بشخصيتها قصرناها على تلك الجزئيات الواقعة في وقته فقط، اللمعات) و عقود الجواهر المنيفة» وبذل المجهود ملتقط منها. وقال في رحمة الأمة»: التصرية في الإبل والبقر والغنم تدليسًا للبيع على المشتري حرام بالاتفاق، واختلفوا هل يثبت الخيار ؟ قال الثلاثة : نعم، وقال أبو حنيفة : لا.
Note 1
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے
فرمایا ہے کہ عیسیٰ بن ابان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ مصراۃ کے بارے میں جو حکم ہے اور جو مختلف
حدیثوں میں مروی ہے اس زمانہ سے متعلق ہے جب کہ خرید و فروخت میں دھوکہ ثابت ہو جانے کی
صورت میں بطور تاوان کے غلہ دیا جاتا تھا (چونکہ اس قسم کی بیع بالاتفاق حرام قرار دی گئی ہے اس
لئے اب مصراۃ (یعنی تاوان میں غلہ دینے کا رواج منسوخ ہونے سے یہ) حکم باقی نہیں رہا۔
ف: واضح ہو کہ مصراۃ یہ ہے کہ دودھ دینے والے جانور کو فروخت کرتے وقت ایک یا دو دن کا دودھ ان کی
تھنوں میں باقی رکھ کر فروخت کیا جاتا تھا تاکہ ان کی قیمت زیادہ آئے اور ایسی بیع کی صورت میں لینے والے کو بیع کے
فسخ کرنے کا اختیار بھی رہتا تھا۔ چونکہ ایسی بیع بالاتفاق حرام قرار دی گئی ہے لہذا ایسی صورت میں مصراۃ کا حکم اور خیار
بھی باقی نہیں۔ یہی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے جیسا کہ ”رحمة الامة“ میں مذکور ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم (غلہ کے)
کاروان کو (شہر میں آنے سے پہلے آگے جا کر) ملا لیتے اور وہیں ان سے غلہ خرید لیتے تھے تو رسول
اللہ ﷺ نے ہم کو ایسی خرید و فروخت سے روک دیا یہاں تک کہ وہ قافلے غلہ کے بازار تک نہ
پہنچ جائیں۔ اس کی روایت مسلم اور طحاوی نے کی ہے۔
اور مسلم کی ایک اور روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی شہری آدمی دیہاتی آدمی کا مال فروخت نہ کرے۔
لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو تاکہ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعہ رزق دلوائے (یعنی دیہاتی
لوگوں کو چھوڑ دو، ان سے تعرض نہ کرو، وہ باہر سے غلہ لائیں اور بازار کے نرخ پر فروخت کریں
تاکہ شہر میں کافی غلہ رہے اور لوگ ارزانی (سامان کے سستا ہونے) سے فائدہ اٹھائیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1522a (unverified) 95% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1517a (unverified) 78% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
We used to intercept caravans
(1) The statement: "We used to intercept caravans" – Al-Shafi’i considered this sinful, giving sellers the option to rescind. Abu Hanifah and his students permitted it if no harm was done to locals, citing this hadith. Al-Tahawi reconciled conflicting hadiths by distinguishing harmful interception (prohibited) from harmless (permitted).
Note 2
Let people benefit
(2) The statement: "Let people benefit" – Al-Tahawi explained the prohibition aimed to prevent urban buyers from exploiting rural sellers’ ignorance of market prices, ensuring fair trade.
Note 1
قوله
(۱) قوله: كنا نتلقى الركبان إلخ قال الشافعي من تلقاها فقد أساء، وصاحب السلعة بالخيار. وقال أبو حنيفة وأصحابه: إذا كان التلقي في أرض لا يضر بأهلها فلا بأس به، وإن كان يضرهم فهو مكروه، واحتجوا بهذ الحديث. وقال الطحاوي: فيه إباحة التلقي، وفي أحاديث غيره النهي عنه وأولى بنا أن نجعل ذلك على غير التضاد، فيكون ما نهى عنه من التلقي لما في ذلك من الضرر على غير المتلقين المقيمين في السوق، وما أبيح من التلقي هو ما لا ضرر فيه عليهم. وقال الطحاوي أيضًا والحجة في إجازة الشراء مع التلقي المنهي عنه حديث أبي هريرة : «لا تلقو الجلب، فمن تلقاه فهو بالخيار إذا أتى السوق فيه جعل الخيار مع النهي، وهو دال على الصحة؛ إذ لا يكون الخيار إلا فيها؛ إذ لو كان فاسدًا لأخبر بائعه ومشتريه على فسخه. كذا في «عمدة القاري».
Note 2
قوله
(۲) قوله: دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض : قال الطحاوي: فنظرنا في العلة التي لها نهى الحاضر أن يبيع للبادي ما هي؟ فإذا جابر يقول : قال رسول الله ﷺ: «لا يبيع حاضر لباد، دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض، فعلمنا بذلك أن رسول الله ﷺ إنما نهى الحاضر أن يبيع للبادي؛ لأن الحاضر يعلم أسعار الأسواق فيستقصي على الحاضرين، فلا يكون لهم في ذلك ربح، وإذا باعهم الأعرابي على غرته وجهله بأسعار الأسواق ربح عليه الحاضرون، فأمر النبي ﷺ أن يخلى بين الحاضرين وبين الأعراب في البيوع ومنع الحاضرين أن يدخلوا عليهم في ذلك، فإذا كان ما وصفنا كذلك، وثبت إباحة التلقي الذي لا ضرر فيه بما وصفنا من الآثار التي ذكرنا، صار شراء المتلقي منهم شراء حاضر من باد، فهو داخل في قول النبي : دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض، وبطل أن يكون في ذلك خيار للبائع؛ لأنه لو كان له فيه خيار، إذا لما كان للمشتري في ذلك ربح، ولا أمر النبي له حاضرا أن يعترض عليه، ولا أن يتولى البيع للبادي منه؛ لأنه يكون بالخيار في فسخ ذلك البيع، أو يرد له ثمنه إلى الأثمان التي تكون في بياعات أهل الحضر بعضهم من بعض.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنا مال (کسی دوسرے کو) نہ بیچے (یعنی طرفین میں
خرید و فروخت کا معاملہ طے پا جانے کے بعد کسی تیسرے شخص کو اپنا مال نہ بیچے) اور (شادی کا
معاملہ آپس میں طے ہو جانے کے بعد) کوئی (تیسرا) شخص اس جگہ اپنا پیام نہ بھیجے ہاں اگر اس کو
اس بات کی اجازت دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (ورنہ اس میں مسلمان کی حق تلفی ہوتی
ہے)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1412b (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
قوله
(۱)قوله: لا يبيع الرجل على بيع أخيه وقال النووي: أجمع العلماء على منع البيع على بيع أخيه، والشرى على شراه والسوم على سومه، فلو خالف وعقد فهو عاص وينعقد البيع، هذا مذهب الشافعي وأبي حنيفة وآخرين.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے
کہ ایک مسلمان اپنے بھائی مسلمان کے مقابلہ میں کسی چیز کے دام نہ لگائے (جب کہ دونوں میں
معاملت ہوچکی ہے) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1515 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.688
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فریقین کے درمیان جب معاملت
طے پاجائے تو کوئی تیسرا شخص زائد قیمت دے کر طے شدہ معاملہ کو فسخ کرنے کی کوشش نہ کرے اس لئے کہ اس میں
ایک مسلمان بھائی کی حق تلفی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص مداخلت کرکے زائد قیمت پر معاملہ طے کرلے تو بیع
تو منعقد ہوجائے گی لیکن ایسا شخص گنہگار ہوگا۔ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو طرح کے بیع سے منع فرمایا ہے۔ بیع میں ملامست 1 ملامست یہ ہے
کہ کپڑے کو لینے والا شخص رات یا دن میں (کھول کر دیکھے بغیر) ہاتھ لگادے اور اس کے سوا (مزید
تحقیق کے لئے) الٹ پلٹ نہ کرے اور منابذت سے منع فرمایا ہے (یہ دونوں قسم کی بیع زمانہ
جاہلیت میں رائج تھیں)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
prohibited Mulamasah and Munabadhah
(1) The statement: "prohibited Mulamasah and Munabadhah" – Mulamasah is binding a sale by mere touch (e.g., in darkness or without unfolding the garment), invalid due to uncertainty. Munabadhah is throwing garments to conclude a sale without inspection, a pre-Islamic practice.
Note 1
قوله
(۱) قوله: نهى عن الملامسة والمنابذة أما الملامسة فإن يلمس كل منهما ثوب صاحبه بغير تأمل، فيلزم اللامس البيع من غير خيار له عند الرؤية، وهذا بأن يكون مثلا في ظلمة أو يكون مطويا مرئيا، متفقان على أنه إذا لمسه فقد باعه، وفساده لتعليق التمليك على أنه متى لمسه وجب البيع، وسقط خيار المجلس والمنابذة: أن ينبذ كل واحد منهما ثوبه إلى الآخر، ولم ينظر كل واحد منهما إلى ثوب صاحبه على جعل النبذ بيعًا، وهذه كانت بيوعا يتعارفونها في الجاهلية. كذا في فتح القدير».
Note 1
(1): منابذت یہ ہے کہ بیچنے والا کپڑے کو اٹھا کر خریدار کی طرف پھینک دے اور خریدار اس کو (کھول کر)
دیکھے بھالے بغیر اٹھا کر بیچنے والے کی طرف پھینک دے خواہ (فسخ بیع پر فریقین) راضی ہوں یا نہ ہوں (یہ دونوں بیع
اس لئے ممنوع ہیں کہ ان میں دھوکہ ہے اور یہ شرط بھی فاسد ہے کہ عیب نکلنے پر کسی کو فسخ بیع کا اختیار نہ ہوگا) اور دو قسم
کے لباس (جن سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے) ان میں سے ایک اشتمال صمّاء ہے اور اس کا (ایک) طریقہ یہ
ہے کہ کپڑے کو (سر سے پیر تک جسم پر اس طرح لپیٹ لیں کہ ہاتھ پاؤں اور چہرہ نظر نہ آئے) کہ کپڑے کو کسی ایک
کاندھے پر اس طرح ڈالا جائے (کہ وہ دو معلوم ہوں جیسا کہ آستین میں لپیٹ لگا کر کرتے ہیں) اور دوسرا کاندھا بغیر
کپڑے کے رہ جائے اور دوسرا لباس (کا طریقہ جس سے حضور ﷺ نے فرمایا ہے وہ) یہ ہے کہ کپڑے کو جسم پر اس
طرح لپیٹ کر بیٹھے کہ شرم گاہ کھلی رہ جائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے
بیع الحصاۃ اور بیع الغرر سے منع فرمایا ہے (یہ دونوں قسم کی بیع زمانہ جاہلیت میں رائج تھیں، بیع الحصاۃ
یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیرے مال پر کنکری پھینکوں تو بیع پختہ ہو جائے
گی یا بیچنے والا خریدار سے یوں کہے کہ جس چیز پر تیری کنکری پڑے وہ تیرے ہاتھ بیع ہے یا تیری
کنکری جتنی دور زمین پر جائے وہ تیرے ہاتھ فروخت ہے اور بیع غرر یہ ہے کہ چیز نہ تو قبضہ میں ہو
اور نہ اس پر قدرت حاصل ہو اور اس کو فروخت کر دیا جائے جیسے دریا کی مچھلیاں اور ہوا میں اڑنے
والے پرندے یا بھاگا ہوا غلام وغیرہ)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابوداؤد کی ایک اور روایت میں امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بیع المضطر اور بیع الغرر سے منع فرمایا ہے (بیع الغرر کی تعریف
حدیث نمبر119/3789 میں گزر چکی ہے اور بیع مضطر یہ ہے کہ کوئی شخص) جبر اور تنگ کر کے کسی
کی چیز خریدے یا ضرورت مند مجبور ہو کر کوئی چیز بیچنا چاہے اور خریدار سستے داموں خرید لے
۔(ایسی صورت میں بیچنے والے کی مدد کرنی چاہئے نہ کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1513 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Hasah sales
(1) The statement: "Hasah sales" – This refers to throwing a pebble onto goods, with whichever item it lands on becoming the sale, without inspection.
Note 2
exploiting the distressed
(2) The statement: "exploiting the distressed" – This includes coercive sales or exploiting someone’s desperation to buy/sell at unfair prices. Scholars debated whether such sales are invalid or merely discouraged.
Note 1
قوله
(۱) قوله: بيع الحصاة أي إلقاء الحجر هو أن يلقى حصاة وثمة أثواب، فأي ثوب وقع عليه كان المبيع بلا تأمل ورؤية، ولا خيار بعد ذلك، ولا بد أن يسبق تراوضهما على الثمن. كذا في فتح القدير».
Note 2
قوله
(۲)قوله: بيع المضطر : قال في النهاية»: هذا يكون من وجهين، أحدهما: أن يضطر إلى العقد من طريق الإكراه عليه، وهذا بيع فاسد لا ينعقد. والثاني: أن يضطر إلى البيع لدين ركبه أو مؤونة ترهقه فيبيع ما في يديه بالوكس لا ضرورة، وهذا سبيله في حق الدين والمروءة أن لا يبايع على هذا الوجه، ولكن يعار ويقرض إلى الميسر أو يشتري إلى الميسرة أو يشتري السلعة بقيمتها، فإن عقد البيع مع الضرورة على هذا الوجه صح مع كراهة أهل العلم له، ومعنى البيع ههنا الشراء أو المبايعة أو قبول البيع. قال ابن الملك : والمراد بالمكره المكره بالباطل، وأما المكره بحق فلا، كمن أكره عليه القاضي بوفاء دين ونحوه ببيع شيء من ماله. قاله في المرقاة». وقال في الدر المختار»: وفي «النتف»: بيع المضطر وشراءه فاسد، قال الشامي : هو أن يضطر الرجل إلى طعام أو شراب أو غيرها، ولا يبيعه البائع إلا بأكثر من ثمنها بكثير، وكذلك في الشراء منه. كذا في المنح»، وفيه لف نشر غير مرتب؛ لأن قوله : وكذا في الشراء منه» مثال لبيع المضطر، أي بأن اضطر إلى بيع شيء ما له ولم يرض المشتري إلا بشرائه بدون ثمن المثل بغبن فاحش.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے
حاملہ جانور کے حمل کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور
پر کی ہے، ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ اس کی توضیح یہ ہے کہ ایک شخص حاملہ اونٹنی کو اس شرط پر خریدتا تھا کہ
جب اس کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوگا تو اس وقت اس اونٹنی کی قیمت ادا کی جائے گی (یہ زمانہ
جاہلیت کی ایک بیع تھی، یہ بیع اس لئے منع ہے کہ اس میں مدت مجہول ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ
پیٹ کا بچہ نر ہوگا یا مادہ اس لئے یہ دھوکہ کی تجارت ہوگی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2143 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1514a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Habl Al-Habalah
(1) The statement: "Habl Al-Habalah" – This refers to selling the unborn offspring of an animal, either as a deferred delivery (invalid due to uncertainty) or a credit sale with vague terms, both prohibited.
Note 1
قوله
(۱) قوله : نهى رسول الله ﷺ عن بيع حبل الحبلة وقد فسره الراوي بأنه كان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية كان الرجل يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة، ثم تنتج التي في بطنها معناه تأجيل الثمن إلى أن يحبل ما في بطن الناقة، واختاره الشافعي الله بناءً على أن ابن عمر الله الراوي فسره بذلك، وقال أبو عبيدة: معناه إذا ولدت ما في بطنه ما ولد أفقد باعه ذلك الولد الذي هو بيع ولد نتاج الدابة فهو بيع معدوم، والأول تأجيل إلى مدة مجهولة، والبيع فاسد على كلا المعنيين. ثم اعلم أن قوله وكان بيعا يتبايعه إلى آخره، هكذا وقع في الموطأ» تفسيرا متصلا بالحديث، وقال الإسماعيلي: هو مدرج يعني أن التفسير من كلام نافع، وقال الخطيب: تفسير حبل الحبلة ليس من كلام عبد الله بن عمر ، إنما هو من كلام نافع، أدرج في الحديث. هذا حاصل ما في «المرقاة» و«عمدة القاري».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2284 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
stud services
(1) The statement: "stud services" – This means renting a male animal for breeding. Scholars prohibited it due to gharar (uncertainty) and inability to guarantee results. Gifting or lending the animal is recommended.
Note 1
قوله
(۱) قوله: عسب الفحل : قال الشافعي وأبو حنيفة وأبو ثور وآخرون: استئجاره لذلك باطل وحرام، ولا يستحق فيه عوض، ولو أنزاه المستأجر لا يلزمه المسمى من أجرة، ولا أجرة مثل، ولا شيء من الأموال. قالوا: لأنه غررومجهول وغير مقدور على تسليمه. قاله النووي. وفي الهداية»: لا يجوز أخذ أجرة عسب التيس، وهو أن يوجر فحلا لينزو على إناث؛ لقوله : إن من السحت عسب التيس، والمراد أخذ الأجرة، وفي هامشه عن «الكفاية» فإنه أخذ المال بمقابلة ماء مهين لا قيمة له، والعقد عليه باطل؛ لأنه يلتزم ما لا يقدر على الوفاء به، وهو الإحبال فإن ذلك ليس في وسعه، وهو يبتني على نشاط الفحل أيضًا. قال الشوكاني : أحاديث الباب تدل على أن بيع ماء الفحل وإجارته حرام؛ لأنه غير متقوم، ولا معلوم، ولا مقدور على تسليمه، وإليه ذهب الجمهور، انتهى. وقال في «اللمعات»: وأما الإعارة فمندوب إليها.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
اونٹ کو اونٹنی پر (گابھ کرنے کے لئے) چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے اور زمین اور پانی
کو بٹائی پر دینے سے بھی منع فرمایا ہے (اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی زمین اور زمین سے
قریبی پانی کسی کو دے دے اور دوسرے شخص سے یہ کہے کہ بیج اور کھیتی کرنا تیرے ذمہ ہوگا اور
پیداوار میں میرا بھی حصہ ہوگا۔ اس قسم کا معاملہ ناجائز ہوگا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1565c (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
selling water
(1) The statement: "selling water" – This refers to monopolizing excess water beyond personal needs. Scholars obligated sharing excess water for drinking and livestock but debated compensation for irrigation.
Note 1
قوله
(۱)قوله: عن بيع الماء والأرض لتحرث أي لتزرع بأن يعطي الرجل أرضه، والماء لتلك الأرض أحدا ليكون منه الأرض والماء، ومن الآخر البذر والحراثة؛ ليأخذ رب الأرض بعض الخارج من الحبوب، وهي المخابرة، وقد تقدمت كذا في «المرقاة».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ کلاب کے ایک شخص نے نر کو مادہ پر
(گابھ کرنے کے لئے) چھوڑنے کی اجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے (اجرت لینے
سے) منع فرمایا۔ اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نر اونٹوں کو مادہ پر چھوڑنے کے لئے
عاریۃً دیتے ہیں پھر وہ لوگ (جانور واپس کرتے وقت بطور انعام) کچھ دیدیتے ہیں تو رسول
اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دیدی (انعام لینے کے جواز کی صورت یہ ہے کہ یہ عادت نہ بن جائے
ورنہ مشروط کے حکم میں ہوگی)۔ (جیسا کہ کوکب دری میں مذکور ہے)۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1274 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
permitted accepting gifts
(1) The statement: "permitted accepting gifts" – This is allowed if not prearranged as a fee. If it becomes customary, it is treated as a stipulated wage.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فرخص له في الكرامة: وهذا جائز ما لم يكن معروفًا، وإذا صار معروفا عند قوم، فالمعروف كالمشروط. كذا في الكوكب الدري».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1565a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
excess water
(1) The statement: "excess water" – Scholars differed on obligating sharing excess water from private wells or streams. The majority required sharing for drinking and livestock but permitted charging for irrigation.
Note 1
قوله
(۱) قوله: بيع فضل الماء اختلفوا فيما يفضل عن حاجة الإنسان وبهائمه وزرعه من الماء في نهر أو بئر، فقال مالك: إن كان البئر أو النهر في البرية فمالكها أحق بمقدار حاجة منها، ويجب عليه بذل ما فضل عن ذلك، وإن كانت في حائطه فلا يلزمه بذل الفاضل، إلا أن يكون جاره زرع على بئر فانهدمت أو عين فغارت، فإنه يجب عليه بذل الفاضل له إلى أن يصلح جاره بئر نفسه أو عينه، فإن تهاون بإصلاحها لم يلزمه أن يبذل له بعد البذل شيئًا، وهل يستحق عوضه؟ فيه روايتان، وقال أبو حنيفة وأصحاب الشافعي: يلزمه بذله لشرب الناس والدواب من غير عوض، ولا يلزمه للمزارع وله أخذ العوض، والمستحب تركه، وعن أحمد له روايتان أظهرهما أنه يلزمه بذله من غير عوض للماشية والسقيا معا، له أن ولا يحل له البيع. قاله في رحمة الأمة». وقال محمد الله في مؤطئه»: وبهذا نأخذ، أيهما رجل كانت له بئر فليس ! يمنع ذلك، انتهى. وقال في التعليق الممجد: وقوله: فله أن يمنع ذلك أي لصاحب الماء أن يمنع من ذلك سواء أضر به أو لم يضر؛ لأنه حق خاص، ولا ضرورة في ذلك، ولو أبيح ذلك لانقطعت منعة الشرب، وهذا بخلاف مياه البحار والأنهار الكبار، والأدوية الغير المملوكة لأحد، فإن للناس فيها حق الشرب وسقي الدواب والأشجار وغير ذلك لحديث: الناس شركاء في ثلاثة الماء والكلأ والنار، أخرجه ابن ماجه والطبراني، وأما إذا كان الماء محرزا في الأواني، وصار مملوكا له بالإحراز، ففيه حق المنع والمسألة بتفاريعها مبسوطة في «الهداية» وشروحها.
Note 1
ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں لکھا ہے کہ جس کا کوئی کنواں ہو تو وہ اپنے کنویں کا پانی انسانوں اور
مویشیوں کے لئے نہ روکے البتہ کسی دوسرے شخص کی زراعت یا نخلستان کی سیرابی پر اس پانی کی اجرت لے سکتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے
ارشاد فرمایا ہے کہ (کوئی شخص اپنے کنویں کا) زائد پانی نہ بیچے اس خیال سے کہ اس کے ذریعہ پیدا
ہونے والی گھاس فروخت کر سکے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ غلہ
کے ایک ڈھیر کے قریب سے گزرتے ہوئے اس میں اپنا دست مبارک داخل فرمایا تو اس میں آپ
کی انگشت مبارک کو کچھ تری محسوس ہوئی تو آپ نے غلہ کے مالک سے ارشاد فرمایا یہ تری کیسے
ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اس پر مینہ (بارش) برس گیا تھا تو آپ نے فرمایا تو پھر تر
غلہ کو تونے اوپر کیوں نہیں رکھا تا کہ لوگ اس کو دیکھ لیتے (اور دھوکہ نہ کھاتے یاد رکھو) جو شخص فریب
یا دھوکہ دے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 102 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Whoever deceives is not of me
(1) The statement: "Whoever deceives is not of me" – This hadith strongly condemns fraud, which is unanimously prohibited.
Note 1
قوله
(۱)قوله: من غش فليس مني : أحاديث الباب تدل على تحريم الغش، وهو مجمع على ذلك، قوله: «فليس مني»، وفي بعض الروايات: فليس منا»، وفيه زجر بليغ. كذا في نيل الأوطار وسبل السلام».
Note 1
ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دھوکہ دینے والا مجھ سے نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دھوکہ دینا
حرام ہے اس لئے کہ کئی احادیث شریف میں فلیس منی کے الفاظ وارد ہیں جن سے امت کو ایسے کاموں سے بچانا
اور تنبیہ کرنا مقصود ہے۔ جیسا کہ نیل الاوطار اور سبل السلام میں مذکور ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (رضی اللہ عنہم) سے
روایت کرتے ہیں: ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع العربان سے منع فرمایا ہے۔ اس
کی روایت امام مالک، ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3502 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2192 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
‘Urban sales
(1) The statement: "‘Urban sales" – This is a deposit paid to reserve an item, forfeited if the buyer backs out. Scholars debated its validity, with Malik and Al-Shafi’i prohibiting it due to gharar, while Ahmad permitted it.
Note 1
قوله
(۱) قوله: بيع العريان تفسيره أن يشتتري الرجل العبد والوليدة أو يتكاري الدابة، ثم يقول للذي اشترى منه أو تكارى منه أعطيك دينارا أو درهما أو أكثر من ذلك أو أقل على أني إن أخذت السلعة أو ركبت، فالذي أعطيتك هو من ثمن السلعة أو من كراء الدابة، وإن تركت ابتياع السلعة أو كراء الدابة، فما أعطيتك لك بغير شيء، وقال الخطابي: قد اختلف الناس في جواز هذا البيع، فأبطله مالك والشافعي جملة للخبر، ولما فيه من الشرط الفاسد والغرر، ويدخل ذلك في أكل المال بالباطل، وأبطله أصحاب الرأي أيضًا، وقد روي عن ابن عمر الله أنه أجاز هذا البيع، وروي ذلك أيضًا عن عمر ، ومال أحمد بن حنبل إلى القول بإجازته. قاله في بذل المجهود، وقال في «رحمة الأمة»: ويحرم بيع العربون، وهو أن يشتري السلعلة ويدفع إليه درهما ليكون من الثمن إن رضي السلعة وإلا فهو هبة، وقال أحمد: لا بأس بذلك.
Note 1
ف: بیع عربان کی تفصیل یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو کسی مال کی خریداری کے لئے بطور بیعانہ کچھ رقم پیشگی
دے اور کہے کہ اگر بیع کا معاملہ تمہارے اور میرے درمیان طے ہوگیا تو یہ پیشگی رقم قیمت میں وضع ہوجائے گی اور اگر
کسی وجہ سے بیع نہ ہوسکی تو یہ پیشگی رقم میں واپس نہ لے سکوں گا تیری ہوجائے گی۔ رقم کی یہ ضبطی چونکہ صریح ظلم اور
ناجائز ہے اس لئے خلاف شرع ہے۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جو میرے پاس نہ ہو۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے
۔
اور ترمذی، ابوداود اور نسائی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: حکیم بن
حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور مجھ سے ایسی
چیز خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی ہے تو میں اس کے لئے بازار سے خریدتا ہوں
تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چیز تیرے پاس نہ ہو اس کو مت فروخت کر۔
اور ابوداود اور ترمذی نے عروہ بن الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
وہ فرماتے ہیں کہ ان کو نبی کریم ﷺ نے ایک دینار عطا فرمایا: جس سے قربانی کے لئے ایک بکرا یا
بکری خرید لائیں انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار
کے بدلہ بیچ دیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر
ہوئے (حضور ﷺ بے حد خوش ہو کر) ان کے لئے ان کے کاروبار میں برکت کی دعا، فرمائی تو
(اس کے بعد حضور ﷺ کی دعا کی وجہ سے ان کے کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ) وہ اگر مٹی بھی
خریدتے تو اس میں ان کو خاصا نفع ہوتا۔
اور ابوداود اور ترمذی نے اس حدیث کو تقریباً انہی الفاظ سے حکیم بن حزام
سے بھی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1232 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
selling what I did not possess
(1) The statement: "selling what I did not possess" – This includes selling runaway slaves, birds in flight, or fish in water. Scholars extended it to reselling goods before taking possession or selling others’ property without authorization.
Note 1
قوله
(۱)قوله: نهاني رسول الله له أن أبيع ما ليس عندي: كعبد آبق ولم يدر محله وطير في الهواء، وسمك في الماء، وفي معنى ما ليس عنده في الفساد بيع المبيع قبل القبض، وفي معناه بيع مال غيره بغير إذنه؛ لأنه لا يدري هل يجيز مالكه أم لا، وبه قال الشافعي ، قال جماعة : يكون العقد موقوفا عى إجازة المالك، وهو قول مالك وأصحاب أبي حنيفة وأحمد . قاله في «المرقاة». وقال السندهي والجمهور على جواز بيع مال الغير موقوفا، وهو مقتضى حديث البارقي وغيره، ومنعه الشافعي الظاهر هذا الحديث قال الخطابي يريد العين دون بيع الصفة، يعني أن المراد بيع العين دون الدين كما في السلم، فإن مداره على الصفة، وهذا جائز فيما ليس عند الإنسان بالإجماع.
Note 2
قوله
(۲) قوله: فابتاع له من السوق: هذا يحتمل أمرين، أحدهما: أن يشتري له من أحد متاعا، فيكون دلالا، وهذا يصح. والثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه، ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه، وهذا باطل؛ لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع. كذا في «المرقاة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ایک معاملہ میں دو قسم کی بیع طے کرنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت امام مالک،
ترمذی، ابوداود اور نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
two transactions in one sale
(1) The statement: "two transactions in one sale" – This includes: (a) offering two prices (e.g., 10 cash or 20 credit) without specifying which applies, or (b) conditional sales (e.g., "Buy this for 10 if you sell me your item"). Both are invalid due to uncertainty. Selling multiple items in one contract (e.g., a house and a slave for one price) is permitted.
Note 1
قوله
(۱) قوله: بيعتين في بيعة قال المظهر : وكذا في شرح السنة فسروا البيعتين في بيعة على وجهين، أحدهما: أن يقول: بعتك هذا الثوب بعشرة نقدا أو بعشرين نسيئة إلى شهر، فهو فاسد عند أكثر أهل العلم؛ لأنه لا يدري أيهما جعل الثمن. وثانيهما: أن يقول: بعتك هذا العبد بعشرة دنانير على أن تبيعني جاريتك بكذا، فهذا أيضًا فاسد؛ لأنه بيع وشرط، ولأنه يؤدي إلى جهالة الثمن؛ لأن الوفاء ببيع الجارية لا يجب، وقد جعله من الثمن، وليس له قيمة فهو شرط لا يلزم، وإذا لم يلزم ذلك بطل بعض الثمن، فيصير ما بقي من المبيع في مقابلة الثاني مجهولا، أما إذا جمع بين شيئين في صفقة واحدة بأن باع دارًا وعبدا بثمن واحد فهو جائز، وليس من باب البيعتين، إنما هي صفقة واحدة جمعت شيئين. هذا حاصل ما في المرقاة» و«المسوى»، وهذا التفسير الثاني ذكره الترمذي عن الشافعي، وهو المختار، وهو تفسير أبي حنيفة الله في كتاب الآثار»، أخذته من العرف الشذي».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں دو قسم کی بیع ایک معاملہ میں طے کرنے کا جواز شاذ ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً
زید ایک گھوڑا سو روپیہ کے عوض بکر کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کرے کہ تو اپنی بھینس پچاس روپیہ کے بدلے فروخت
کر دے، دوسری صورت یہ ہے کہ گھوڑا دس روپیہ نقد میں اور بیس روپیہ ادھار میں فروخت کرتا ہوں۔ یہ دونوں
صورتیں اس لئے ناجائز ہیں کہ پہلی صورت میں فروخت کے ساتھ ساتھ شرط بھی ہے جس سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے۔
اور دوسری صورت میں نقد کی قیمت اور ہے اور ادھار کی قیمت اور، اس لئے یہ صورت بھی ناجائز ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (رضی اللہ عنہم) سے
روایت کرتے ہیں۔ ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک معاملہ میں دو قسم کی بیع سے منع
فرمایا ہے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسی بیع جائز نہیں جو شرط کے
ساتھ ہو اور ایسی بیع بھی جائز نہیں جس میں دو شرطیں ہوں اور ایسا نفع بھی جائز نہیں جس میں (معاملہ
دار) نقصان کا ذمہ دار نہ ہو، اور (حضورﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا) جو چیز تیرے قبضہ میں نہ ہو اس کو مت
بیچ۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، اور نسائی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 1
a loan and a sale
(1) The statement: "a loan and a sale" – This refers to lending money and selling an item at an inflated price, exploiting the debtor.
Note 2
two conditions in one sale
(2) The statement: "two conditions in one sale" – This invalidates sales with extraneous stipulations (e.g., "Buy my slave if you free him").
Note 3
profiting from what you do not guarantee
(3) The statement: "profiting from what you do not guarantee" – This means benefiting from goods before taking possession (and thus liability for loss).
Note 1
قوله
(۱)قوله : لا يحل سلف وبيع: قال في «الهداية»: وكذلك يفسد لو باع عبدًا على أن يستخدمه البائع شهرًا أو دارًا على أن يسكنها أو على أن يقرضه المشتري درهما أو على أن يهدي له هدية؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وفيه منفعة لأحد المتعاقدين، ولأنه نهى عن بيع وسلف، ولأنه لو كان الخدمة والسكنى يقابلها شيء من الثمن يكون إجارة في بيع، ولو كان لا يقابلهما يكون إعارة في بيع، وقد نهى النبي عليه عن صفقتين في صفقة.
Note 2
قوله
(۲) قوله : سلف والمراد بالسلف القرض أي لا يحل أن يقرضه قرضًا، ويبيع منه شيئًا بأكثر من قيمته؛ لأن كل قرض جر نفعا فهو حرام. كذا في اللمعات».
Note 3
قوله
(۳) قوله: ولا شرطان في بيع : قال في «الهداية»: ومن باع عبدًا على أن يعتقه المشتري أو يدبره أو يكاتبه أو أمة على أن يستولدها، فالبيع فاسد؛ لأن هذا بيع وشرط، وقد نهى النبي الله عن بيع وشرط، انتهى. وقال في «اللمعات»: والتقييد بشرطين وقع اتفاقا وعادة، وبالشرط الواحد أيضًا لا يجوز؛ لأنه قد ورد النهي عن بيع وشرط.
Note 4
قوله
(٤) قوله : ولا ربح ما لم يضمن : معناه أن الربح في كل شيء إنما يحل أن لو كان الخسران عليه، فإن لم يكن الخسران عليه كالبيع قبل القبض إذا تلف، فإن ضمانه على البائع، ولا يحل للمشتري أن يسترد منافعه التي انتفع بها البائع قبل القبض؛ لأن المبيع لم يدخل بالقبض في ضمان المشتري، فلا يحل له ربح المبيع قبل القبض. قاله في «المرقاة». وقال السيوطي في زهر الربى ذلك بأن يشتري عبدا فيستغله زمانًا، ثم يعثر منه على عيب كان فيه عند البائع، فله رد العين المبيعة وأخذ الثمن، ويكون للمشتري ما استغله؛ لأن المبيع لو تلف في يده لكان في ضمانه، ولم يكن له على البائع شيء، وكذا قال بعض علمائنا في شرح الترمذي.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ایسی بیع جائز نہیں جو ادھار بھی ہو اور اس کے ساتھ شرط بھی ہو اس کی
صورت یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص کسی کو اپنا مکان بیچ دے اور یہ شرط کرے کہ وہ بیچ کے بعد اس میں ایک مہینہ رہے گا۔ یا
مثلاً کسی کو کوئی چیز فروخت کرے اور قرض دے کر اس کی قیمت زیادہ لے۔ اھ
ف: اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ بغیر نقصان کی ذمہ داری کے صرف نفع حاصل کر لینا جائز نہیں۔ اس
کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ نفع نقصان کی ضمانت پر ہوتا ہے کہ وہی شخص نفع اٹھانے کا مستحق ہے جو نقصان کا بھی ضامن ہو۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں مقام نقیع میں
اونٹوں کو دینار کے بدلہ فروخت کرتا تھا اور دینار کی جگہ درہم لے لیا کرتا اور کبھی درہم کے عوض بیچتا
اور درہم کے بجائے دینار لے لیا کرتا۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا
تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تم درہم اور دینار کو اسی دن کے نرخ پر
لے لیا کرتے ہو اور تم دونوں یعنی بائع اور مشتری وہاں موجود ہوں اور (فروخت شدہ) چیز بھی
تمہارے سامنے ہو (اس لئے کہ سونے اور چاندی کے سکے کے تبادلہ میں معاملہ دست بدست طے
ہونا ضروری ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3354 (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1242 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
taking dirhams instead of dinars
(1) The statement: "taking dirhams instead of dinars" – This permits exchanging the sale’s price for another currency at the market rate if settled immediately. Scholars debated whether the exchange rate must match the transaction day’s rate or if delay is permitted.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فأخذ مكانها الدراهم إلخ : ذلك قال في الدر المختار: وجاز التصرف في الثمن قبل قبضه،سواء تعين بالتعين كمكيل أو لا كنقود، فلو باع إبلا بدراهم أو بكر بر جاز أخذ بدلهما شيئًا آخر، وقال في الكوكب الدري، لا بأس بالقيمة أي لا يضر المعاوضة إذا كان المبدل مساويا للمبدل منه قيمة، والعبرة في القيمة وقت الأخذ لا وقت العقد، انتهى. وقال في هامشه: ظاهر كلام الشيخ أن التساوي بين المبدل والمبدل منه باعتبار القيمة شرط لصحة التبادل، وهو بظاهر ألفاظ الحديث؛ إذ لفظ الترمذي: لا بأس بالقيمة ولفظ أبي داود: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ونحو ذلك لفظ النسائي، لكن كلام عامة الشراح مخالف لكلام الشيخ، ففي البذل»: قال الخطابي اشترط أن لا يفترقا وبينهما شيء؛ لأن اقتضاء الدراهم من الدنانير صرف، وعقد الصرف لا يصح إلا بالتقابض، وقد اختلف الناس في اقتضاء الدراهم من الدنانير فذهب أكثر أهل العلم إلى جوازه، ومنع من ذلك أبو سلمة وأبو شيرمة، وكان ابن أبي ليلى يكره ذلك إلا بسعر يومه، ولا يعتبر غيره السعر، ولم يبالوا كان ذلك بأغلى أو أرخص من سعر اليوم.
قلت: ما قال الخطابي: «لا يعتبر غيره السعر يخالفه ما قال الشوكاني؛ إذ حكى عن أحمد التقييد بسعر اليوم وعن أبي حنيفة والشافعي حمله عدمه، وفي هامش أبي داود عن فتح الودود أن التقييد بسعر اليوم على طريق الاستحباب، والظاهر عندي - كما يخطر في البال، إن كان صوابا فمن الله، وإن كان خطأ فمني ومن الشيطان - أن محمل الحديث عند الشراح غير ما حمله عليه الشيخ، فإن محمله عندهم هو عقد الصرف كما صرحوا به في كلامهم وفي عقد الصرف لا بد من التقابض في المجلس، لكن لا يشترط التساوي لاختلاف الجنس، وحينئذ فلا بد من القول بأن التقييد استحباب، وعلى هذا، ففي حديث ابن عمر في بيعتان الأولى: بيع الإبل بعشرة دراهم، والثانية: بيعة الدراهم بالدنانير، ومحمل الحديث عند الشيخ الاستبدال من ثمن المبيع، فإنهم صرحوا بأن النقود لو استوت مالية ورواجا يخير المشتري بين أن يؤدي أيهما شاء.
قال ابن عابدين بعد البحث في ذلك: ومنه يعلم حكم ما تعورف في زماننا من الشراء القروش، فإن القرش في الأصل قطعة مضروبة من الفضة تقوم بأربعين قطعة من القطع المصرية، ثم إن أنواع العملة المضروبة تقوم بالقروش، فمنها ما يساوي عشرة قروش، ومنها أقل، ومنها أكثر فغذا اشترى بمائة قرش، فالعادة أنه يدفع ما أراد إما من القرش أو مما يسايها من بقية أنواع العملة من ريال أو ذهب، ولا يفهم أحد أن الشراء وقع بنفس القطعة المسماة قرشا، بل هي أو ما يساويها من أنواع العملة المتساوية في الرواج المختلفة في المالية. فمؤدى الحديث على هذا استبدال نقد الثمن بنقد آخر إذا كانا متساويين في المالية والرواج، وإلى هذا المحمل أشار القاري؛ إذ حكى عن ابن الهمام أنه قال: الدراهم والدنانير لا تتعين حتى لو أراد درهما، ثم حبسه وأعطى درهما آخر جاز إذا كانا متحدي المالية. فهذا وإن كان في متحدي الجنس، لكن ذكره هذا الكلام تحت حديث الباب إشارة إلى ما اختاره الشيخ من الاستبدال فيمختلفي الجنس بشرط تسوية المالية والرواج، فتأمل، انتهى. وفي المرقاة»: يشترط قبض ما يستبدل في المجلس، ولو استبدل عن الدين شيئًا مؤجلا لا يجوز؛ لأنه بيع كالئ بكالئ ، وقد نهى عنه.
عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے (جو قبیلہ بنو ربیعہ کے ایک فرد تھے
اور غزوہ حنین کے بعد اسلام لائے) روایت ہے کہ انہوں نے ایک تحریر نکالی (جو ایک بیع نامہ کی
صورت میں تھی جس کا متن یہ تھا) یہ وہ بیع نامہ ہے جو عداء بن خالد اور حضورﷺ سیدنا محمد رسول
اللہﷺ کے درمیان طے پایا کہ عداء بن خالد نے رسول اللہﷺ سے ایک غلام یا باندی خریدی
جس میں نہ تو کوئی بیماری ہے نہ کوئی برائی اور عیب ہے اور یہ معاملہ ایسا ہے جیسے ایک مسلمان
دوسرے مسلمان سے کرتا ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1216 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
قوله
(۱)قوله: هذا ما اشترى إلخ المراد به كتابة المحاضر والسجلات ومثلها، ويسمى كاتبها شروطيا وأساليب كتابتها مذكورة في الهندية (عالمگيرية) وللطحاوي في هذا كتاب أركان شروطها ظاهر حديث الباب أنه كان بائعا وظاهر حديث البخاري أن النبي كان مشتريا والعداء بائعا والأوفق بالمراد والألفاظ عندي أنه كان بائعا فإن الكتابة تكون من البائع. قاله في العرف الشذي».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (ایک صحابی کا)
ٹاٹ یا کمبل اور پیالہ بیچنا چاہا (جبکہ ان صحابی نے حضورﷺ سے کچھ خیرات مانگی، تو حضورﷺ نے
فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو بیچ کر تم اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہو! تو
انہوں نے یہ دو چیزیں پیش کیں) پھر حضورﷺ نے کمبل اور پیالہ (کو دکھا کر صحابہ کرام سے)
دریافت کیا ان کو کون خریدتا ہے، ایک صحابی نے فرمایا میں ان کو ایک درہم میں خریدتا ہوں اس پر نبی
کریمﷺ نے دریافت فرمایا ایک درہم سے زائد پر کون خریدنا چاہتا ہے؟ تو ایک صحابی نے دو
درہم پیش کئے تو رسول اللہﷺ ان دونوں چیزوں کو ان کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس کی روایت
ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1218 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1641 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2192 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
قوله
(۱)قوله: من يزيد على درهم : قال في «الهداية»: ولا بأس ببيع من يزيد، وقد صح أن النبي ﷺ باع قدحا وحلسا ببيع من يزيد.
Note 1
ف: واضح ہو کہ بیع کی مذکورہ صورت کو ”بیع من یزید“ یعنی نیلام یا ہراج کہتے ہیں۔ یہ صورت اس وجہ سے
جائز ہے کہ فریقین نے معاملہ کو پہلی بولی پر طے نہیں کیا ہے اسی لئے قیمت کے اضافہ کا جواز ہے ہدایہ۔
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی عیب دار چیز کو بیچے اور اس کے عیب کو خریدار
پر ظاہر نہ کرے تو ایسا شخص ہمیشہ غضب الٰہی کا شکار رہتا ہے یا فرشتے (اس پر) ہمیشہ لعنت بھیجتے رہتے
ہیں۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "selling the fruits of his garden" refers to Muzabana, which is selling fruits on trees for harvested dates estimated by guesswork. This is mentioned in Al-Hidayah. Ibn Battal said: Scholars unanimously agreed that selling dates still on palm trees for harvested dates is invalid because it is Muzabana, which is prohibited. As for selling fresh and dry dates together when harvested and measurable, the majority of scholars do not permit selling any of them for their kind, whether equal or unequal. Abu Yusuf and Muhammad held this view, while Abu Hanifah permitted selling fresh wheat for dry wheat or fresh dates for dry dates in equal measure but not in unequal measure. Ibn Al-Mundhir said he believed Abu Thawr agreed with this.
Note 1
(۱)قوله : أن يبيع ثمر حائطه إلخ : أي بيع المزابنة، وهو بيع الثمر على النخيل بتمر مجذوذ مثل كيله خرصا. قاله في «الهداية»، وقال في عمدة القاري»: قال ابن بطال: أجمع العلماء على أنه لا يجوز بيع التمر في رؤوس النخل بالتمر؛ لأنه مزابنة، وقد نهي عنه، وأما رطب ذلك مع يابسه؛ إذ كان مقطوعا وأمكن فيه المماثلة، فجمهور العلماء لا يجيزون بيع شيء من ذلك بجنسه، لا متماثلا ولا متفاضلا ، وبه قال أبو يوسف ومحمد ما، وقال أبو حنيفة : يجوز بيع الحنطة الرطبة باليابسة، والتمر بالرطب مثلا بمثل، ولا يجيزه متفاضلا . قال ابن المنذر وأظن أن أبا ثور وافقه.