اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3925
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو طرح کے بیع سے منع فرمایا ہے۔ بیع میں ملامست 1 ملامست یہ ہے
کہ کپڑے کو لینے والا شخص رات یا دن میں (کھول کر دیکھے بغیر) ہاتھ لگادے اور اس کے سوا (مزید
تحقیق کے لئے) الٹ پلٹ نہ کرے اور منابذت سے منع فرمایا ہے (یہ دونوں قسم کی بیع زمانہ
جاہلیت میں رائج تھیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1512a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2147 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.611
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "prohibited Mulamasah and Munabadhah" – Mulamasah is binding a sale by mere touch (e.g., in darkness or without unfolding the garment), invalid due to uncertainty. Munabadhah is throwing garments to conclude a sale without inspection, a pre-Islamic practice.
Note 1
(۱) قوله: نهى عن الملامسة والمنابذة أما الملامسة فإن يلمس كل منهما ثوب صاحبه بغير تأمل، فيلزم اللامس البيع من غير خيار له عند الرؤية، وهذا بأن يكون مثلا في ظلمة أو يكون مطويا مرئيا، متفقان على أنه إذا لمسه فقد باعه، وفساده لتعليق التمليك على أنه متى لمسه وجب البيع، وسقط خيار المجلس والمنابذة: أن ينبذ كل واحد منهما ثوبه إلى الآخر، ولم ينظر كل واحد منهما إلى ثوب صاحبه على جعل النبذ بيعًا، وهذه كانت بيوعا يتعارفونها في الجاهلية. كذا في فتح القدير».
Note 1
(1): منابذت یہ ہے کہ بیچنے والا کپڑے کو اٹھا کر خریدار کی طرف پھینک دے اور خریدار اس کو (کھول کر) دیکھے بھالے بغیر اٹھا کر بیچنے والے کی طرف پھینک دے خواہ (فسخ بیع پر فریقین) راضی ہوں یا نہ ہوں (یہ دونوں بیع اس لئے ممنوع ہیں کہ ان میں دھوکہ ہے اور یہ شرط بھی فاسد ہے کہ عیب نکلنے پر کسی کو فسخ بیع کا اختیار نہ ہوگا) اور دو قسم کے لباس (جن سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے) ان میں سے ایک اشتمال صمّاء ہے اور اس کا (ایک) طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کو (سر سے پیر تک جسم پر اس طرح لپیٹ لیں کہ ہاتھ پاؤں اور چہرہ نظر نہ آئے) کہ کپڑے کو کسی ایک کاندھے پر اس طرح ڈالا جائے (کہ وہ دو معلوم ہوں جیسا کہ آستین میں لپیٹ لگا کر کرتے ہیں) اور دوسرا کاندھا بغیر کپڑے کے رہ جائے اور دوسرا لباس (کا طریقہ جس سے حضور ﷺ نے فرمایا ہے وہ) یہ ہے کہ کپڑے کو جسم پر اس طرح لپیٹ کر بیٹھے کہ شرم گاہ کھلی رہ جائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔