Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues · Chapter 7

Chapter on Miracles

72 narrations · In source reading order

Hadith 5698

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7380
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر جھوٹ باندھے ایسی بات جو میں نے نہیں کہا تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔اور واقعہ یہ ہوا(137) کہ آپ نے ایک شخص کو روانہ فرمایا تھا وہ آپ پر جھوٹ باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو وہ مردہ پایا گیا اس کا پیٹ پھٹ گیا اور زمین اس کو قبول نہیں کی۔(بیہقی دلائل النبوۃ)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Dala’il an-Nubuwwah]

Commentary and footnotes (3)

Note 1

This was because

(1) His statement “This was because”: meaning the reason for this Hadith’s narration. His statement “who lied about him”: meaning about the Prophet (ﷺ), and it was revealed to him by the light of prophethood or through news that reached him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : وذلك: أي وسبب ورود هذا الحديث. وقوله: فكذب عليه ، أي على النبي ، وانكشف له بنور النبوة أو بلغه خبره. كذا في «المرقاة».

Note 1

(137)قوله: وذلك۔ یعنی اس حدیث شریف کا سبب یہ ہوا۔ وقوله: فكذب عليه۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ جھوٹ باندھا اور نور نبوت سے آپ پر یہ بات ظاہر ہوگئی یا اس کی اطلاع آپ تک پہنچ گئی۔(مرقات)۔

Hadith 5699

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7381
حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے سورج ڈوب چکا تھا(138) پھر آپ ایک آواز سنے تو فرمایا یہود کو ان کی قبروں میں سزا دی جا رہی ہے۔(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1375 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2869 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

when the sun had set

(1) His statement “when the sun had set”: meaning it had gone down and set. His statement “heard a sound”: it is possible he heard the sound of the angels of punishment, or the sound of the punished Jews, or the sound of the punishment itself. His statement “Jews”: meaning this is the sound of a group of Jews. His statement “punished in their graves”: this affirms the punishment of the grave and is a miracle in revealing their state. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: وقد وجبت الشمس: أي سقطت وغربت. وقوله: فسمع صوتا يحتمل أنه سمع صوت ملائكة العذاب أو صوت يهود المعذبين أو صوت وقع العذاب. وقوله: فقال يهود أي هذا يهود، أي صوته يعني صوت جماعة من اليهود. وقوله: «تعذب في قبورها فيه إثبات عذاب القبر ومعجزة من حيث كشف أحوالهم. كذا في «المرقاة».

Note 1

(138)قوله: قد وجبت الشمس۔ یعنی سورج ڈوب چکا تھا۔قوله: فسمع صوتا۔ ہوسکتا ہے آپ نے عذاب کے فرشتوں کی آواز سنی ہو یا یہودیوں کی آواز جن کو سزا دی جا رہی تھی یا خود عذاب کے واقع ہونے کی آواز۔ وقوله: فقال يهود۔ یعنی یہود کی آواز اس سے مراد یہودیوں کی جماعت کی آواز ہے۔ وقوله: تعذب في قبورها اس میں عذاب قبر کا اثبات ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ پر ان کے احوال منکشف ہوگئے۔(مرقات)۔

Hadith 5700

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7382
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ عسفان(139) تک پہنچے اور آپ چند راتیں وہاں قیام فرمایے کچھ لوگوں نے کہا ہم یہاں کسی کام میں نہیں ہیں اور ہمارے بال بچے اکیلے ہیں اور ہم ان پر مطمئن نہیں ہیں پس یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مدینہ منورہ میں کوئی گھاٹی اور کوئی راستہ نہیں ہے مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو تمہارے وہاں پہنچنے تک اس کی حفاظت کررہے ہیں پھر آپ نے فرمایا چلو تو ہم چلنے لگے اور مدینہ تک پہنچ گئے پس قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے ابھی اپنے کجاوے کھولے نہیں تھے یہاں تک ہم پر بنی عبداللہ بن غطفان نے حملہ کردیا حالانکہ ان کو اس سے پہلے حملہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1809 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Unnumbered commentary

for any purpose

His statement “for any purpose”: meaning for any task or matter of war. His statement “left behind”: meaning women without men, as a tribe is called khaluf when only women remain, and this is a circumstantial clause.

we are not secure about them

His statement “we are not secure about them”: meaning about our families, a second predicate. The masculine pronoun may be used for predominance or to liken them to men in resilience and bravery.

path

His statement “path”: a way in the mountain. His statement “passage”: a path between mountains.

guarding it

His statement “guarding it”: the pronoun refers to Madinah, meaning its paths and passages. I say: it likely refers to all of them.

we had not set down our loads

His statement “we had not set down our loads”: meaning our belongings from the backs of our camels upon entering Madinah, when the Banu Abdullah ibn Ghatafan, with a fathah on the kha and a sukun on the ta, raided us, meaning the people of Madinah. The meaning is that Madinah was protected during their absence, as the Prophet (ﷺ) informed them miraculously, and nothing prevented the raid except the angels’ guarding. This is the meaning of “nothing had provoked them before this.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

Usfan

(1) His statement “Usfan”: with a dammah on the first letter, as in Al-Qamus: Usfan, like Uthman, is a place two stages from Makkah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: عسفان: بضم أوله. ففي القاموس»: عسفان كعثمان موضع على مرحلتين من مكة. وقوله: «في شيء» أي شغل وعمل أو في شيء من أمر الحرب. وقوله: «الخلوف بالضم نساء بلا رجال، يقال: حي خلوف، إذا لم يبق فيهم إلا النساء، والجملة حال. وقوله: «ما نأمن عليهم أي على عيالنا، خبر بعد خبر. ولعل تذكير الضمير للتغليب أو تنزيلا منزلة الرجال في الجلادة والشجاعة وقوله: «شعب» بكسر المعجمة طريق في الجبل. ولا نقب أي طريق بين الجبلين. وقوله: يحرسانها والضمير في يحرسانها» راجع إلى المدينة، والمراد شعبها ونقبها قلت: الأظهر أن يراد بهما جميعها. وقوله: «ما وضعنا رحالنا أي متاعنا عن ظهور جمالنا حين دخلنا لمدينة حتى أغار علينا أي معشر المدينة بنو عبد الله بن غطفان بفتح المعجمة فالمهملة، والمعنى أن المدينة حال غيبتهم عنها كانت محروسة، كما أخبر النبي الله إعجازا، ولم يكن مانعا من الإغارة والتهييج عليها إلا حراسة الملائكة. وهذا معنى قوله : وما يهيجهم إلخ». التقطته من «المرقاة».

Note 1

(139)قوله: عُسفان۔ عین۔ کو پیش ہے، قاموس میں ہے کہ عسفان عثمان کے وزن پر ہے، مکہ مکرمہ سے دو مرحلہ کے فاصلہ پر ایک مقام ہے۔ وقوله: في شي۔ یعنی کسی مصروفیت یا عمل یا جنگ سے متعلق کسی کام میں نہیں ہیں۔ وقوله: لخلوف۔ خاء کو پیش ہے خلوف سے مراد عورتیں جہاں مرد نہ ہو۔ حی خلوف اس وقت کہا جاتا ہے (حاشیہ پچھلے صفحے سے) جب کہ اس قبیلہ میں سوائے عورتوں کے کوئی مرد نہ ہوں۔ وقوله: مانامن عليهم۔ یعنی ہمارے بال بچوں پر یہ خبر کے بعد خبر ہے اور مذکر کی ضمیر لانا تغلیبا ہے یا بہادری وہمت میں مردوں کے درجہ میں قرار دیکر لایا گیا ہے۔ وقوله: شعب۔ ش کو زیر (کسرہ) ہے پہاڑ کے پیچھے کا راستہ ولانقب دو پہاڑوں کے درمیان کا راستہ۔ وقوله: يحرسانها۔ ”ها“ ضمیر کا مرجع مدینہ ہے اس سے مراد مدینہ طیبہ کے راستوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور میں کہتا ہوں ان دونوں سے مراد پورا مدینہ منورہ ہے۔ وقوله: ماوضعنا رحالنا ہم اپنے اونٹوں سے اپنا سامان اتارے بھی نہیں تھے جس وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تا آنکہ ہم پر یعنی اہلیان مدینہ منورہ پر عبداللہ بن غطفان نے حملہ کردیا ”غطفان“، غین کو زبر (فتحہ) ہے فاء کے بعد طاء ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل مدینہ کی وہاں سے غیاب کی حالت میں بھی اس کی حفاظت کی جارہی تھی جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معجزہ اس کی خبر دی ورنہ وہاں حملہ کرنے سے فرشتوں کے حفاظت کرنے کے سوا کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ وقوله: مايهيجهم کا یہی مطلب ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔

Hadith 5701

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7383
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر قحط سالی آگئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے اس دوران ایک دیہاتی صاحب اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ مال ہلاک ہوگیا اور بال بچے بھوکے ہوگئے(140) آپ ہمارے لئے اللہ سے دعا فرمائیں تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور ہم آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے پس قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ابھی آپ ان ہاتھوں کو نیچے نہیں چھوڑے تھے کہ پہاڑوں کے مانند بادل امنڈ آئے پھر آپ منبر سے اترے نہیں تھے یہاں تک کہ میں دیکھا بارش کے قطرے آپ کی ریش مبارک پر ٹپک رہے تھے، پھر ہم پر بارش ہوتی رہی اس دن اور دوسرے دن اور اس کے بعد کے دن تا آنکہ دوسرے جمعہ تک ہوتی رہی تو وہ دیہاتی(141) یا کوئی دوسرے صاحب اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکانات گر گئے اور مال ڈوب گیا(142) آپ ہمارے لئے دعا فرمائیں تو آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کے اور فرمائے اے اللہ! ہمارے اطراف برسا اور ہم پر مت برسا پھر آپ بادل کے کسی کنارے کی طرف اشارہ نہیں کرتے مگر وہ چھٹ جاتا تھا۔ اور مدینہ تالاب کی طرح ہو گیا(143) اور وادی قناۃ ایک مہینہ تک بہتی رہی اور کوئی شخص کسی بھی کنارے سے(144) نہیں آیا مگر اس نے بارش کی خبر دی اور ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ...... الخ اے اللہ ہمارے اطراف برسا اور ہم پر مت برسا، اے اللہ ٹیلوں(145) پہاڑوں پر اور وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کے مقامات پر برسا پس وہ رک گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے نکلے۔(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 933 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 897a (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (13)

Note 1

our wealth has perished

(1) His statement “our wealth has perished”: meaning livestock, as it was most of their wealth, perishing either by deterioration or death. His statement “trace of clouds”: meaning a piece of cloud. His statement “he had not lowered them”: meaning his hand, with the pronoun singular considering the generic sense. His statement “clouds rose”: meaning the clouds appeared fully. His statement “dripping”: meaning the rain was falling. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Then that Bedouin, or another

(2) His statement “Then that Bedouin, or another”: Al-Hafiz al-Asqalani said: In one narration, “Then a man entered the following Friday,” suggesting it was someone else. In another, “Until that Bedouin came the next Friday,” indicating it was the same person. Perhaps Anas mentioned it after forgetting or forgot after mentioning it. I say: It is possible he was uncertain whether the second person was the first, sometimes assuming it was him and stating it definitively, sometimes assuming it was another and using indefinite terms, and sometimes expressing doubt, as both possibilities were equal to him. The doubt is his, not another’s. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

the wealth has drowned

(3) His statement “the wealth has drowned”: with a kasrah on the ra, meaning it became submerged. His statement “O Allah, around us”: meaning let it rain around us—lam with fathah—where it benefits us. He reinforced it with “and not upon us,” meaning not where it harms us. Al-Asqalani said: “and not upon us” explains “around us.” An-Nawawi said: It is recommended to pray for rain to stop from homes and facilities when it becomes excessive and harmful, but no prayer or gathering in the desert is prescribed for this. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

like an opening in the sky

(4) His statement “like an opening in the sky”: an opening is a gap in the clouds; an implied term is omitted, meaning the sky of Madinah became like a gap in the clouds, free of them. His statement “the valley of Qanat”: some commentaries state Qanat is the name of a land with farms near Uhud, one of Madinah’s famous valleys. In this narration, Qanat has a dammah as a substitute or clarification. (As stated in Al-Lama’at) And in Al-Mirqat: Muhammad ibn al-Hasan al-Makhzumi mentioned in Akhbar al-Madinah that Tubba‘ al-Yamani named it Wadi Qanat when he came to Yathrib before Islam. It is said to be the valley near Hamzah’s grave, coming from Taif.

Note 5

from any direction

(5) His statement “from any direction”: meaning from any side of Madinah, and they reported abundant rain. (As stated in Al-Mirqat)

Note 6

upon the hills

(6) His statement “upon the hills”: plural of hill, meaning elevated land. His statement “the mountains”: small mountains, singular being a small mountain. His statement “valley bottoms”: meaning areas free of buildings. His statement “places where trees grow”: meaning fruit-producing places. His statement “the clouds cleared”: meaning they dispersed and stopped raining, with feminine form due to the plural of cloud, as in Allah’s words: O sky, cease [Hud: 44]. (As stated in Al-Lama’at and Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : هلك المال : أي المواشي؛ لأنها أكثر أموالهم، وهلاكها إما بتغيرها أو بمواتها. وقوله: «قزعة» بفتح القاف والزاي أي قطعة من السحاب. وقوله: «ما وضعها أي يده وأفرد الضمير باعتبار إرادة الجنس. وقوله: «حتى ثار السحاب» أي سطع وظهر جنس السحاب ظهورا كاملا. وقوله: «يتحادر» أي يتساقط المطر. التقطته من المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : وقام ذلك الأعرابي أو غيره : قال الحافظ العسقلاني: وفي رواية: ثم دخل رجل في الجمعة المقبلة. وهذا ظاهر أنه غير الأول. وفي رواية: حتى جاء ذلك الأعرابي في الجمعة الأخرى. وهذا يقتضي الجمع بكونه واحدا، فلعل أنسا ذكره بعد أن نسيه أو نسيه بعد أن ذكره. قلت: ويحتمل أنه تردد في كون القائم الثاني هو الأوللكن غلب على ظنه تارة أنه هو فعبر عنه بالجزم، وتارة أنه غيره فعبر عنه بالتنكير، وتارة أتى بصيغة الشك؛ لاستواء الأمرين عنده، فالشك منه لا من غيره، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: غرق المال: بكسر الراء، أي صار غريقا. وقوله: «اللهم حوالينا» أي امطر حوالينا - بفتح اللام - أي في موضع المنافع الحاصله لنا. ثم أكده بقوله: ولا علينا أي لا تمطر في موضع المضرة الواقعة علينا. وقال العسقلاني: قوله: «ولا علينا بيان للمرقد بقوله: حوالينا». وقال النووي: فيه استحباب طلب انقطعاع المطر عن المنازل والمرافق إذا كثر وتضرروا به، ولكن لا يشرع له صلاة ولا اجتماع في الصحراء. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: مثل الجوبة : الجوبة بفتح الجيم وسكون الواو وبالموحدة الفرجة في السحاب، وهنا حذف مضاف، أي صار جوا المدينة مثل الفرحة في السحاب، أي خاليا عن السحاب. وقوله: «سال الوادي قناة في بعض الحواشي: أن قناة علم أرض ذات مزارع بناحية أحد، وأوديتها أحد أودية المدينة المشهورة. وفي هذه الرواية: قناة بالضم على البدل أو البيان. قاله في اللمعات». وقال في المرقاة: وذكر محمد بن الحسن المخزومي في أخبار المدينة: أن أول من سماه وادي قناة تبع اليماني لما قدم يثرب قبل الإسلام. قيل: إنه الوادي الذي عنده قبر حمزة ، وهو يأتي من الطائف.

Note 5

قوله

(٥) قوله: من ناحية أي من جوانب المدينة إلا حدث أي أخبر بالجود بفتح الجيم وسكون الواو، أي المطر الكثير. كذا في «المرقاة».

Note 6

قوله

(٦) قوله: على الأكام: جمع الأكمة»، وهي التل والرابية وما ارتفع من الأرض. وقوله: «والظراب» هي الجبال الصغار، واحدها ظرب على وزن كيف. وقوله : وبطون الأودية أي الخالية عن الأبنية. وقوله: «ومنابت الشجر» أي المنتج للثمر. وقوله: «فأقلعت أي انكشفت وكفت عن المطر، والتأنيث؛ لأنه جمع سحابة، ومنه قوله تعالى: يَسَمَاءُ أَقْلِعِي ) (هود: ٤٤ ) . التقطته من «اللمعات» و«المرقاة».

Note 1

(140)قوله: هلك المال. اس سے مراد مویشی ہیں کیونکہ ان کا اکثر مال مویشی تھا ہلاک ہونے کا مطلب ان کی حالت بدل گئی یا خود مویشی مرگئے۔ وقوله: قزعة. قاف اور زاء دونوں کو زبر (فتحہ) یعنی ابر کا ٹکڑا۔ وقوله: ماوضعها. یعنی ہاتھوں کے نیچے نہیں چھوڑے تھے۔ ہا ضمیر جنس ید کا اعتبار کرکے مفرد لائی گئی ہے۔ وقوله: حتى ثار السحاب. یعنی بادل پھیل گیا اور مکمل طور پر نمودار ہوگیا۔ وقوله: يتحادر یعنی بارش کے قطرے ٹپکنے لگے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (141)قوله: وقام ذالك الاعرابي اوغيره. حافظ عسقلانی نے فرمایا ایک روایت میں ہے ثم دخل رجل في الجمعة المقبلة اس سے ظاہر ہے کہ یہ اعرابی دوسرے ہیں اور ایک روایت میں ہے حتى جاء ذلك الاعرابي في الجمعة الاخرى اس میں دونوں کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے بھول ہوگئی تھی پھر یاد آگیا ہو۔ یاد رکھنے کے بعد اس کو بھول گئے ہوں۔ میں کہتا ہوں اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کو دوسرے جمعہ میں آنے والے اعرابی کے بارے میں تردد ہوگیا ہے کہ یہ پہلے صاحب ہیں کبھی غالب گمان ہوا کہ پہلے ہی ہیں تو اس کو قطعی طور پر بیان کیا اور کبھی ان کا غالب گمان یہ ہوا کہ وہ دوسرے صاحب ہیں، تو دخل رجل سے بطور نکرہ بیان کیا اور کبھی وہ تردد وشک کی صورت میں رہا دونوں جانب برابر تھے تو صیغہ شک کے ساتھ بیان کیا، اور یہ شک خود ان کا ہی ہے کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ والله تعالىٰ اعلم۔ (مرقات)۔ (142)قوله: غرق المال. راء کو زیر (کسرہ) یعنی مال ڈوب گیا۔ وقوله: اللهم حوالينا. اے اللہ ہمارے اطراف برسا حوالينا لام کو زبر (فتحہ) ہے یعنی ہمارے فائدے کے (حاشیہ پچھلے صفحہ پر) مقامات میں برسا پھر اس کی تاکید میں فرمایا یعنی ایسے مقامات میں مت برسا جس سے ہم پر ضرر ہوگا، علامہ عسقلانی نے فرمایا: لا علينا حوالينا کا بیان مراد ہے، امام نووی نے فرمایا جب بارش گھروں میں اور آبادیوں میں زیادہ ہو جائے اور ضرر کا اندیشہ ہو جائے تو اس بارش کے رک جانے کے لئے دعا کرنا بھی مستحب ہے مگر اس کے لئے نہ نماز ہے اور نہ جنگل میں نکل کر دعا کرنا ہے۔(مرقات)۔ (143) مثل الجوبة. جوبہ جیم کو زبر اور واو کو جزم اور اس کے بعد باء ہے۔ بادل کے درمیان کا کھلا حصہ اور یہاں مضاف محذوف ہے یعنی صار جو المدينة مثل الفرجة فى السحاب یعنی مدینہ منورہ کی فضا بادل کے درمیان کے خالی حصہ کی طرح ہوگئی، یعنی وہ بادل سے خالی ہوگیا۔ وقوله: سال الوادى قناة. بعض حواشی میں ہے کہ قناۃ احد پہاڑ کے کنارے ایک قطعہ زمین کا نام ہے، اس میں کھیت وغیرہ ہیں اور اس کی وادیاں مدینہ منورہ کی مشہور وادیوں میں سے ہے اور اس روایت میں قناۃ حالت رفعی میں ہے یہ ترکیب میں بدل یا بیان ہے۔(لمعات)۔ اور صاحب مرقات نے کہا کہ محمد بن حسن مخزومی نے اخبار مدینہ میں ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے اس کا نام وادی قناۃ تُبّع یمانی نے رکھا جس وقت وہ قبل اسلام مدینہ منورہ آیا تھا کہا گیا ہے کہ اسی وادی میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر شریف ہے اور یہ طائف سے آتی ہے۔ (144) قوله: من ناحية. یعنی مدینہ کے کناروں سے الا حدث یعنی خبر دیا۔ بالجود جیم کو زبر (فتحہ) اور واو کو جزم ہے، یعنی بہت بارش۔(مرقات)۔ (145) قوله: على الآكام، ”آکام“ اکمۃ کی جمع ہے، ٹیلہ اور زمین کا بلند حصہ۔ وقوله: والظراب یعنی چھوٹے پہاڑ اس کا واحد ظرب کتف کے وزن پر ہے۔ وقوله: وبطون الاودية. یعنی مکانات سے خالی مقامات۔ وقوله: منابت الشجر یعنی پھل دار درخت کے مقامات۔ وقوله: فاقلعت یعنی چھٹ گیا اور بارش رک گئی اور مونث کا صیغہ لایا گیا کیونکہ یہ سحابۃ کی جمع ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَيٰسَمَاءُ أَقْلِعِي“۔(11۔ سورۃ ہود، آیت نمبر:44)۔(ماخوذ از مرقات)۔

Hadith 5702

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7384
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ نے فرمایا اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا میں اس کی قدرت نہیں رکھتا(146) تو آپ نے فرمایا کہ تو اس کی قدرت نہ رکھے اور اس کو اس سے تکبر کے سوا کے کوئی چیز نہیں روکی۔راوی نے فرمایا پھر وہ اس کو اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2021 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

May you not be able

(1) His statement “May you not be able”: a supplication against him because he lied in his excuse. His statement “Nothing prevented him but pride”: meaning not inability. At-Tibi said: This is the narrator’s statement, explaining why the Prophet (ﷺ), the mercy to the worlds, invoked against him, saying: He was not prevented from eating with his right hand by inability but by pride. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا استطعت: دعاء عليه؛ لأنه كذب في اعتذاره. وقوله: «ما منعه إلا لكبر أي لا العجز. قال الطيبي: هو قول الراوي، ورد استئناف البيان موجب دعاء النبي ﷺ كان قائلا، قال: لم دعا عليه بلا استطعت، وهو رحمة للعالمين، فأجيب بأن ما منعه من الأكل بالأكل باليمين العجز، بل منعه الكبر. كذا في «المرقاة».

Note 1

(146)قوله: لا استطعت. یہ اس کے خلاف دعا ہے کیونکہ اس نے اپنے بیان عذر میں جھوٹ بولا تھا۔ وقوله: ما منعه الا الكبر یعنی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی بناء پر تھا۔علامہ طیبی نے فرمایا راوی کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کرنے کا سبب بیان کیا ہے کسی کے سوال کا جواب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین ہے اس کے خلاف ” لا استطعت “ سے کیوں دعا کی تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اس کو سیدھے ہاتھ سے کھانے سے روکنے والی چیز صرف اس کا تکبر تھا۔(مرقات)۔

Hadith 5703

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7385
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ ایک مرتبہ گھبرا گئے(147) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے جو سست رفتار تھا اور اڑیل چلتا تھا جب آپ واپس آئے تو فرمایا ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو سمندر پایا پس وہ اس کے بعد کبھی اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تھا اور ایک روایت میں ہے اس دن کے بعد کبھی وہ پیچھے نہیں ہوا۔(متفق علیہ(148))۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2867 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2307a (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

were alarmed

(1) His statement “were alarmed”: meaning they feared an enemy’s attack once. His statement “moved haltingly”: meaning it walked with short steps, as mentioned by the commentator. His statement “your horse to be a sea”: meaning swift, called a sea because its running was inexhaustible, like the sea’s water. At-Tibi said: It is the second object of “we found.” The horse was likened to a sea in the vastness of its stride and speed. His statement “never outrun”: meaning it could not be matched or surpassed in running. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

[Agreed Upon]

(2) His statement “[Agreed Upon]”: as understood from Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فزعوا بكسر الزاء، أي خافوا من متائثي العدو مرة. وقوله: يقطف بكسر الطاء، أي يمشي مشيا ضيقا ذکره شارح. وقوله: فرسكم هذا بحرا أي جلدا. سمي بحرا؛ لأن جريه لا ينفد، كما لا ينفد ماء البحر. وقال الطيبي: هو المفعول الثاني لـ وجدنا». وشبه الفرس بالبحر في سعة خطوه وسرعة جريه. وقوله: «لا يجارى بفتحالراء، أي لا يقاوم في الجري، ولا يسبق. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: متفق عليه كذا يفهم من المرقاة».

Note 1

(147)قوله: فزعوا: زاء کو کسرہ (زیر) ہے دشمن کے آنے کی خبر سے ایک مرتبہ خوف زدہ ہو گئے۔ وقوله: يقطف طاء کو زیر (کسرہ) ہے یعنی ایک شارح نے بیان کیا کہ وہ مشکل سے قدم اٹھاتا تھا اڑیل تھا۔ وقوله: فرسكم هذا بحر. (یعنی گھوڑا) طاقتور ہے۔اس کا نام بحر رکھا گیا اس لئے کہ اس کی دوڑ ختم ہونے والی نہیں ہے جیسے سمندر کا پانی ختم نہیں ہوتا۔علامہ طیبی نے فرمایا: بحراً، وجدنا کا مفعول دوم ہے، اور اس گھوڑے کو اس کے لمبے لمبے قدم ڈالنے اور اس کی تیز رفتاری میں بحر (سمندر) سے تشبیہ دی گئی۔ وقوله: لا يجارى راء کو زبر (فتحہ) ہے اس کی رفتار میں نہ اس سے مقابلہ کیا جا سکتا تھا اور نہ وہ کسی سے پیچھے رہتا تھا۔(ماخوذ از:مرقات)۔ (148)قوله: متفق عليه. مرقات سے ایسا سمجھ میں آتا ہے۔(مرقات)۔

Hadith 5704

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7386
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوا اور میں ایک اونٹ پر تھا(149) جو تھک گیا تھا اور وہ چلنے کو نہیں تھا تو میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ میں نے کہا وہ تھک گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے آئے اور اس کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا فرمائی پس وہ مسلسل اونٹوں کے سامنے چلنے لگا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم اپنے اونٹ کو کیسے دیکھ رہے ہو تو میں عرض کیا خیریت سے ہے! اس کو آپ کی برکت مل گئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم اس کو میرے ہاتھ ایک اوقیہ میں بیچتے ہو تو میں اس کو بیچ دیا اس شرط پر کہ مجھے اس کی پشت پر سواری کا مدینہ منورہ تک حق رہے گا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں اونٹ کو لیکر صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے اس کی قیمت دی اور اونٹ بھی واپس دے دیا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2967 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 715a (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.476

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

a camel

(1) His statement “a camel”: meaning a camel used for drawing water, as in An-Nihayah. His statement “rebuked it”: meaning by striking or shouting. His statement “leading them”: a substitute or clarification for “ahead of the camels,” a circumstantial phrase for “it kept” or “moving.” At-Tibi confirmed this. His statement “a wuqiyyah”: meaning forty dirhams, as clarified by the commentator. His statement “I came to him in the morning with the camel”: meaning I brought it to him in the morning. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ناضح : أي راكب على بعير يستقي عليه، كما في النهاية». وقوله: «فزجره» أي بالضرب أو الصوت. وقوله: قدامها» بدل أو بيان لقوله: بين يدي الإبل وهو ظرف لقوله: فما زال»، ويجوز أن يكون ظرفا لقوله: «يسير» وهو خبر «ما زال» واسمه عائد إلى ناضح». كذا حققه الطيبي. وقوله: «بوقية» أي بأربعين در هما، صرح به شارح. وقوله: غدوت عليه بالبعير أي أتيته به غدوة. كذا في «المرقاة».

Note 1

اور حضرت شیخ نے لمعات میں فرمایا کہ ان کا یہ کہنا کہ میں نے اس کو اس شرط پر فروخت کیا کہ مجھے مدینہ منورہ تک سواری کا حق رہے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کسی شرط کے ساتھ جس میں بائع کا فائدہ ہے بیچنا جائز معلوم ہوتا ہے حالانکہ فقہاء کرام نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ یہ شرط عقد کے تقاضے کے خلاف ہے اس میں عاقدین میں سے ایک کے لئے منفعت ہے کیونکہ مدینہ منورہ تک سواری اگر اس کے مقابل میں کوئی ثمن ہے تو وہ بیع میں اجارہ ہوگا اور اگر اس کے مقابل میں کوئی چیز ثمن نہ ہے تو وہ بیع میں اعارہ ہوگا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاملہ میں دو معاملے کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز شرط کے ساتھ بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے جب یہ عقد جائز نہیں ہوا تو بیع فاسد ہوجائے گی، فقہاء نے فرمایا یہ بات اس حدیث میں منسوخ ہے اور یہی بات ٹھیک ہے۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ یہ شرط اصل عقد میں نہیں تھی بلکہ بیع ہونے کے بعد انہوں نے اس کی خواہش کی ہو اگرچہ بظاہر عبارت اس کے منافی ہے۔

Note 2

(149)قولہ: ناضح۔ یعنی میں ایک ایسے اونٹ پر سوار تھا جس پر پانی لایا جاتا تھا۔ (نہایہ)۔ وقولہ: فزجرہ۔ اس کو ضرب اور آواز سے ڈانٹا۔ وقولہ: قدامها ”بين ايدى الابل“ سے بدل ہے یا اس کا بیان ہے۔ وقولہ: بوقية. یعنی ایک شارح کی تصریح کے مطابق چالیس درہم ہیں۔ وقولہ: غدوت عليه بالبعير. یعنی میں دوسرے دن صبح میں اس کو لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (مرقات)۔

Hadith 5705

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7387
حضرت یعلی بن مرۃ ثقفی سے روایت ہے فرمایا: تین چیزوں کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا ہوں۔ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس سے پانی سینچا جاتا تھا جب اونٹ آپ کو دیکھا تو زور سے آواز کیا(150)اور اپنی گردن بچھا دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا اے اس اونٹ کا مالک کہاں ہے تو وہ مالک آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا تم اس کو میرے ہاتھ بیچ دو اس نے کہا بلکہ ہم آپ کے لئے اس کو ہبہ کرتے ہیں اور یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے تو حضور نے فرمایا جب تُو نے ان کا یہ حال ذکر کیا ہے تو اس اونٹ نے کام زیادہ لینے اور چارہ کم دینے کی شکایت کیا ہے تم اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔ پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ایک منزل پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمائے تو ایک درخت زمین کو چیرتے ہوئے آیا یہاں تک کہ آپ پر سایہ کیا(151) پھر اپنی جگہ واپس چلا گیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: یہ درخت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لئے اپنے رب سے اجازت مانگا تو رب نے اس کو اجازت دے دی۔ راوی نے کہا پھر ہم چلے اور ایک چشمہ کے پاس سے گزرے تو ایک عورت اپنے ایک بچہ کو لیکر آئی اور اس کو دیوانگی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نتھنا پکڑا پھر فرمایا نکل جا! میں محمد رسول اللہ ہوں پھر ہم چلے، اور جب ہم واپس ہوئے تو اس چشمہ کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس سے بچے سے متعلق پوچھا تو وہ بولی قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے آپ کے بعد اس سے کوئی شبہ کی چیز نہیں دیکھی۔ (شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (5)

Note 1

being used for irrigation

(1) His statement “being used for irrigation”: in the passive form, meaning the camel was used to draw water from the ground. His statement “bellowed”: meaning it made a sound or cried out, or repeated a sound in its throat. His statement “its neck”: the front or inner part of the camel’s neck. (As stated in Al-Lama’at and Al-Mirqat)

Note 2

until it shaded him

(2) His statement “until it shaded him”: meaning it came and shaded him. His statement “passed by a water source”: meaning a place with water and its people, or a tribe, as per the commentator. His statement “possessed”: meaning insanity. His statement “trouble”: meaning anything objectionable. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يسنى : بلفظ المجهول، أي يستقي سنت الناقة الأرض تسنو إذا سقتها، والسانية ناقة يستقي عليها. وقوله: جرجر» أي صوت وصاح. وقيل: أي ردد الصوت في الحلق، والجران بكسر الجيم وخفة الراء مقدم عنق البعير. وقيل: باطن عنقه التقطته من اللمعات» و «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: حتى غشيته: أي أتته وأظلته. وقوله: فمررنا بماء أي بموضع ماء فيه جمع من أهله. وقال شارح: أي بقبيلة. وقوله: «جنة» بكسر الجيم، أي جنون. وقوله: «ريبا» بفتح الراء وسكون الياء، أي شيئًا نكرهه. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(150)قولہ: يسنى۔ فعل مجہول ہے یعنی پانی سینچا جاتا ہے۔ سنت الناقة الارض تسنوا۔ اس وقت بولتے ہیں جب اس پر پانی سینچا جاتا ہے، اور سانية اس اونٹ کو کہتے ہیں جس پر کھیت کو پانی سینچا جاتا ہے۔ وقولہ: جرجر۔ یعنی آواز کیا اور چیخا اور کہا گیا ہے کہ حلق میں آواز رونے کو بھی کہتے ہیں اور جران جیم کو زیر (کسرہ) اور راء کو بغیر تشدید کے ساتھ ہے، اونٹ کی گردن کا سامنے کا حصہ اور اس کی گردن کے باطنی حصہ کو بھی کہا گیا ہے۔ (ماخوذ از لمعات و مرقات)۔ (151)حتى غشيته۔ یعنی بادل آپ کے پاس آیا اور آپ پر سایہ کیا۔ وقولہ: فمررنا بماء۔ یعنی پانی کا ایسا مقام جس میں لوگ رہتے ہیں اور ایک شارح نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے۔ قولہ: جنة۔ جیم کو زیر (کسرہ) ہے دیوانگی۔ وقولہ: رَيْبًا۔ راء کو فتحہ اور یاء کو جزم یعنی ایسی کوئی چیز جس کو ہم ناپسند کرتے ہوں۔ (ماخوذ از: مرقات)۔

Hadith 5706

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7388
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے کہا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بیٹے کو جنون لاحق ہو گیا ہے اور وہ ہماری صبح اور ہماری شام اسے متاثر کرتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعاء فرمائی تو وہ ایک قے کیا(152) اور اس کے پیٹ سے کتے کے کالے بچے کے مانند ایک چیز دوڑتی ہوئی نکل گئی۔ (دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Darimi 17 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5926 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5926

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

vomited

(1) His statement “vomited”: with a tha and emphasized ‘ayn, meaning he vomited. His statement “a vomit”: meaning a single instance of vomiting, as in An-Nihayah: vomiting is the act, and a vomit is one instance. His statement “puppy”: meaning a dog’s offspring. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فتع بالمثلثة والعين المشددة، أي قاء. وقوله: «ثعة» أي قيئة واحدة، ففي النهاية»: الثع: القيء، والثعة: المرة الواحدة. وقوله: «الجرو» أي ولد الكلب. كذا في «المرقاة».

Note 1

(152) قولہ فثع۔ اس میں ثاء اور ع ہے، عین کو تشدید ہے، اس کے معنی ہیں وہ نے قے کیا۔ وقولہ: ثعة۔ یعنی ایک قے کیا، کتاب نہایہ میں ہے ثع کے معنی قے ہے اور ثعة کے معنی ایک مرتبہ قے کرنا۔ وقولہ: الجرو۔ یعنی کتے کا بچہ۔ (مرقات)۔

Hadith 5707

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7389
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس آیا اور ان میں سے ایک بکری پکڑ لیا تو چرواہے نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس کو اس سے چھین لیا۔ راوی نے کہا کہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا(153) اور سرین کے بل بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں کے درمیان اپنی دم کو دبا لیا اور بولا جو اللہ نے مجھے دیا تھا میں نے اس کو لیا تھا تُو نے اس کو مجھ سے چھین لیا تو اس شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں آج کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے، تو بھیڑیئے نے کہا اس سے بھی تعجب خیز وہ ذات ہے جو دو پتھریلی زمین کے درمیان کھجور کے درختوں میں ہے، وہ تمہیں اس چیز کی خبر دیتے ہیں جو گزر گئی اور اس کی جو تمہارے بعد ہونے والی ہے، راوی نے کہا: وہ آدمی یہودی تھا پس وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس (واقعہ) کو سنایا اور اسلام لے آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی پھر فرمایا یہ قیامت کے قریب کی نشانیاں ہیں، قریب ہے کہ ایک شخص گھر سے نکلے گا اور وہ نہیں واپس ہوگا یہاں تک کہ اس کے نعلین اور تسمے اس کو بولیں گے جو کچھ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا ہے۔ (شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

hill

(1) His statement “hill”: with an emphasized lam, meaning an elevated place. His statement “sat on its haunches”: meaning it sat with its hips down and forelegs raised. His statement “tucked its tail”: meaning it placed its tail between its legs or hindquarters. His statement “You took”: with a fathah on the mim, as a statement of complaint. In a correct narration, it uses the second person as a rhetorical question of disapproval, meaning you intended. His statement “I have never seen”: meaning I saw nothing like. His statement “a wolf speak”: the predicate of an omitted subject, as if saying, “What is this?” and answering, “A wolf speaking.” His statement “in the palm groves”: meaning Madinah’s palm trees between the two lava fields, lands with black stones between two of Madinah’s mountains. His statement “a sign”: meaning signs. His statement “go out”: meaning from his house. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: تل: بتشديد اللام، أي مكان مرتفع. وقوله: فأقعى أي جلس مقعيا بأن قعد على وركيه ونصب يديه. وقوله: «واستثفر» بالمثلثة فالفاء، أي أدخل ذنبه بين رجليه. وقيل: بين ألييه. وقوله: قد عمدت» بفتح الميم على صيغة المتكلم أخبارا على سبيل الشكاية. وفي نسخة صحيحة بصيغة الخطاب على أنه استفهام على سيل الإنكار، والمعنى قصدت. وقوله: «إن رأيت أي ما رأيت. وقوله: «ذئب يتكلم» خبر مبتدأ محذوف كأنه قيل: أي شيء هو، فقال: ذيب يتكلم. وقوله: «في النخلات بالفتحات، أي نخيل المدينة الواقعة بين الحرتين بفتح الحاء وتشديد الراء تثنية حرة، وهي أرض ذات حجارة سود بين جبلين من جبال المدينة. وقوله: «إنها أمارات أي علامات. وقوله: إن يخرج أي من بيته. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(153) قولہ تل۔ لام کو تشدید ہے، یعنی اونچی جگہ۔ وقولہ: فاقعى یعنی دونوں ہاتھ کھڑے کر اپنے سرینوں پر بیٹھ گیا۔ وقولہ: واستثفر۔ ثاء اور فاء ہے یعنی اپنی دم دونوں پاؤں کے بیچ ہوا، اور ایک قول میں دونوں سرینوں کے بیچ میں داخل کر دیا۔ وقولہ: قد عمدت میم کو زیر (نصر) متکلم کا صیغہ ہے۔ اس میں بطور شکایت خبر دینا ہے اور ایک صحیح نسخہ میں ہے، خطاب کا صیغہ ہے یہ استفہام انکاری ہے اس کا معنی ہے تو نے ارادہ کیا۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: ان رأيت یہ ما رأيت کے معنی میں ہے۔ وقوله: ذئب يتكلم۔ یہ محذوف کی خبر ہے گویا ایک سوال ہوا کہ وہ کونسی چیز ہے تو جواب میں کہا گیا کہ وہ بھیڑیا ہے جو بول رہا ہے۔ وقوله: فى النَّخَلات تینوں پر زبر (فتحہ) ہے، مدینہ کے کھجور کے باغات جو حرتین میں واقع ہیں، حرتین راء کو تشدید ہے حرتین، حرّة کا مثنیٰ ہے۔ مدینہ منورہ کے پہاڑوں میں ہے، دو پہاڑوں کے درمیان کالے کالے پتھروں کی زمین ہے۔ وقوله: انها امارات اس کے معنی علامات ہیں۔ وقوله: ان يخرج یعنی اپنے گھر سے نکلے گا۔ (ماخوذ از مرقات)۔

Hadith 5708

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7390
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زین کسا ہوا اور لگام دیا ہوا، براق لایا گیا تو وہ آپ کے پاس شوخی کرنے لگا(154) تو حضرت جبریل نے اس سے کہا: کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے پاس آپ جیسے عزت والے اس سے پہلے کوئی تجھ پر سواری نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ پسینہ پسینہ ہو گیا۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3131 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

resisted

(1) His statement “resisted”: meaning Al-Buraq resisted him and prevented riding. It is said a matter resists if it is difficult. The meaning is that riding it was difficult due to its resistance. His statement “sweated profusely”: meaning it poured sweat, as a specification, due to shame, as its movement was from joy, though it was mistaken for resistance. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فاستصعب : أي استعصى البراق عليه ولم يمكنه من الركوب، ويقال: استصعب عليه الأمر، أي صعب. فالمعنى صعب عليه ركوبه باستعصائه. وقوله: فارفض بتشديد الضاد المعجمة، أي أنصب البراق، «عرقا» تمييزا، والمعنى: سال منه العرق حياء؛ لكون اهتزازه صدر عنه فرحا، وظن أنه وقع استعصاء. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(154)قوله: فاستصعب عليه۔ یعنی براق شوخی کرنے لگا سواری مشکل ہوگئی، استصعب الامر عليه (مشکل ہوگیا) یعنی اس کے شوخی کرنے سے اس پر سواری کرنا مشکل ہوگیا۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: فارفض. ضاد کو تشدید ہے، براق پانی پانی ہوگیا۔ عرقا ترکیب میں تمیز ہے، مطلب یہ ہے کہ شرمندگی کے مارے اس سے پسینہ بہنے لگا اس کے مچلنے کی وجہ خوشی کے مارے پسینہ جاری ہوا، اور خیال ہوا کہ اس پر سواری کرنا مشکل ہے۔ (ماخوذ از: مرقات)۔

Hadith 5709

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7391
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم بیت المقدس پہنچے تو حضرت جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا(155) تو اس سے پتھر میں سوراخ ڈال دیا پھر اس سے براق کو باندھ دیا۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3132 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Jibril pointed with his finger

(1) His statement “Jibril pointed with his finger”: meaning he gestured with it, and “pierced the stone with it”: meaning Jibril, or the Prophet (ﷺ), tied Al-Buraq to the stone. At-Tibi said: If you ask how this reconciles with Anas’s Hadith, “I tied it to the ring where the Prophets tied it,” I say: Perhaps the ring refers to the place where the ring was, which had closed, so Jibril pierced it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: قال جبرئيل بإصبعه : أي أشار بها، فخرق أي جبرئيل بها» أي بتلك الإشارة «الحجر فشد» أي جبرئيل، أو النبي ﷺ «به» أي بالحجر البراق» قال الطيبي: فإن قلت: كيف الجمع بين هذا وبين قوله: في حديث أنس: فربطته بالحلقة التي كان يربط بها الأبياء؟ قلت: لعل المراد من الحلقة الموضع الذي كان فيه الحلقة، وقد انسد فخرقه جبرئيل . كذا في «المرقاة».

Note 1

(155) قوله: قال جبرئيل باصبعه. یعنی انہوں نے انگلی سے اشارہ کیا اور خرق کا فاعل حضرت جبریل ہیں، ہا ضمیر کا مرجع اشارہ ہے اور شد کا فاعل جبریل ہیں یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ به: یعنی اس پتھر سے براق کو باندھا۔ علامہ طیبی کہتے ہیں اگر تو یہ سوال کرے کہ اس کے درمیان اور حضرت انس کی حدیث کے درمیان کہ میں اس حلقہ سے باندھا جس سے انبیاء علیہم السلام باندھتے تھے دونوں میں کیسے تطبیق ہوگی؟ تو میں جواب دیتا ہوں کہ حلقہ سے مراد وہ جگہ ہو جس میں حلقہ تھا اور وہ بند ہو گیا تھا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اس میں سوراخ ڈالا۔ (مرقات)۔