العربية
Typed, pending editorial approval
١٠١٤ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدتُهُ يُصَلِّي، وَعَلَيَّ ثَوْبُ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ: مَا هَذَا الاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟ قُلْتُ: كَانَ ثَوْبًا. قَالَ: «فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوَيْكَ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 361 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشتمال صماء سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا ایک کپڑے کو اپنے پورے جسم پر اس طرح لپیٹے کہ کپڑا کسی طرف سے نہ اٹھ سکے اور دونوں ہاتھ پھر اس کپڑے میں بے شکاف ٹھوس پتھر کی طرح کسے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو اس کپڑے کے نچلے حصے سے ہی باہر کیا جا سکتا ہو، اور جب ہاتھوں کو کسی ضرورت سے باہر نکالا جائے تو بے ستری کا اندیشہ رہتا ہو، اسی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال کے اس طریقے سے منع فرمایا ہے۔ (عمدۃ القاری، مجمع البحار۔)12