Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1014

Chapter on Covering

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Covering

Zujajat al-Masabih 1014Volume 1

English

It is narrated from Sa'id ibn Al-Harith that he said: "We asked Jabir ibn Abdullah about praying in a single garment. He said: 'I went out with the Prophet (peace be upon him) on one of his journeys, and one night I went to attend to some matter. I found him praying, and I was wearing a single garment, so I wrapped myself in it and prayed beside him. When he finished, he said: 'What is this wrapping, O Jabir?' I told him about my need. When I finished, he said: 'If the garment is wide, then wrap yourself in it, and if it is narrow, then tie it around your waist.'" [Narrated by Al-Bukhari] In another narration by Muslim: "If it is wide, then cross its ends, and if it is narrow, then tie it tightly around your waist."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠١٤ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدتُهُ يُصَلِّي، وَعَلَيَّ ثَوْبُ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ: مَا هَذَا الاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟ قُلْتُ: كَانَ ثَوْبًا. قَالَ: «فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوَيْكَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1137Noor 1138
سعید بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک رات میں اپنے کسی کام کیلئے خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اس وقت مجھ پر ایک ہی کپڑا تھا میں اس کو اپنے بدن پر اشتمال اصماء کے طور پر لپیٹ لیا تھا (اشتمال صماء کی تعریف ذیل کے فائدہ میں درج ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نماز پڑھتا رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ اے جابر (رضی اللہ عنہ) اس وقت رات میں آنے کا کیا سبب ہے تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی حاجت ظاہر کی، جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی حاجت کے اظہار سے فراغت پایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر (رضی اللہ عنہ) یہ بھی کوئی اشتمال ہے جس میں میں تم کو دیکھ رہا ہوں، میں نے عرض کیا ایک ہی کپڑا ہونے سے میں نے اسی طرح اشتمال کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کپڑا بڑا ہو تو اشتمال کرنا چاہئے یعنی کپڑے کا بایاں کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے نکال کر سیدھے مونڈھے پر اور سیدھا کنارہ سیدھے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر بائیں مونڈھے پر ڈال دیں اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو تہ بند باندھ لیا جائے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں میں اشتمال کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہے تو تہ بند کی طرح اس کو اپنی کمر پر باندھ لو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 361 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اشتمال صماء سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا ایک کپڑے کو اپنے پورے جسم پر اس طرح لپیٹے کہ کپڑا کسی طرف سے نہ اٹھ سکے اور دونوں ہاتھ پھر اس کپڑے میں بے شکاف ٹھوس پتھر کی طرح کسے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو اس کپڑے کے نچلے حصے سے ہی باہر کیا جا سکتا ہو، اور جب ہاتھوں کو کسی ضرورت سے باہر نکالا جائے تو بے ستری کا اندیشہ رہتا ہو، اسی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال کے اس طریقے سے منع فرمایا ہے۔ (عمدۃ القاری، مجمع البحار۔)12