English
Narrated by Ka'b al-Ahbar: "If the one who passes in front of a praying person knew what sin he incurs, it would be better for him to be swallowed by the earth than to pass in front of him." In another narration: "It would be easier for him."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٠٤٢ - وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكُ.
اردو
کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نمازی کے سامنے
سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر نمازی کے سامنے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو گزرنے
والے کو اپنا زمین میں دھنسا دیا جانا اس گزرنے سے بہتر معلوم ہوتا۔
اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر (اس گزرنے سے زمین میں دھنس جانا
آسان ہوتا۔ (امام مالک۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 371 (unverified) 40% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 789 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 789
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا ”سُبْحَانَ اللّٰه“ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے اور قاضی عیاض نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)