العربية
Typed, pending editorial approval
١٠٥٣ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي، وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَصَلَّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلُّ، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلَّ ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلَّمْنِي2، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرُ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكِ كُلَّهَا». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَزَادَ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ، وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ».
Qur’an-related source paragraphs
Allah Almighty says:
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6251 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 303 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "And they were not commanded except..." indicates that prayer is also an act of worship, and worship requires complete sincerity to Allah. Sincerity cannot be achieved without intention, so it is necessary to have the intention for prayer. This is mentioned in Ta'liq I'la as-Sunan.
Note 2
(2) The statement: "Teach me" – In the original text of the author: "Inform me."
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: وما أمروا إلا إلخ : أن الصلاة عبادة أيضًا، والعبادة إخلاص العمل بكليته الله تعالى، والإخلاص لا يحصل إلا بالنية، فوجب اشتراطها لها. قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 2
( ۲) قوله: فعلمني وفي أصل المؤلف: «فأعلمني».
Note 1
ف(1): ترمذی کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدیل ارکان واجب ہے اور تعدیل ارکان یہ ہے کہ نماز کے جملہ ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کیا جائے اور ان کے ادا کرنے میں جلدی نہ کی جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع کو پورے اطمینان کے ساتھ ادا کریں، رکوع سے اٹھنے کے بعد قومہ میں بھی اطمینان سے کھڑے رہیں، اسی طرح سجدہ کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی جلدی نہ کریں بلکہ اطمینان سے بیٹھیں الغرض اسی طرح پوری نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور اگر اس طرح تعدیل ارکان کے بغیر نماز ادا کی جائے تو نماز ناقص ہو جاتی ہے اور اس کا اعادہ لازم آجاتا ہے۔ اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کی مذمت ہے جیسا کہ آج کل بعض نمازی کیا کرتے ہیں، گویا جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر سر سے ایک بوجھ اتارتے ہیں۔(شرح وقایہ، ترجمہ ترمذی۔) ف(2): بخاری کی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”اِقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس میں سے جو بہ سہولت پڑھ سکتے ہو پڑھ لو) حدیث کے ان الفاظ سے نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بخاری کی اسی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا‘‘ (دوسرا سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ پھر دوسرے سجدے سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا سجدہ اور قیام کے درمیان جلسہ استراحت نہیں ہے، اگر یہاں جلسہ استراحت ہوتا تو اس کا ذکر فرمایا جاتا اور یہی مذہب حنفی ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔