English
Narrated by Ata ibn As-Sa'ib: Salim al-Barrad, whom I trusted more than myself, narrated that Abu Mas'ud al-Badri said, "Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?" He then led us in four Rak'ahs, saying Takbir every time he lowered and raised his head, and said, "This is how I saw the Messenger of Allah, peace be upon him, pray."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٠٥٨ - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ الْبَرَّادُ - قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقَ مِنْ نَفْسِي - قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ (رضي الله عنه): أَلَا أُصَلَّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يُكَبِّرُ فِيهِنَّ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ صَلَّى رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1189
عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم براد
رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے، عطاء کہتے ہیں کہ سالم میرے پاس مجھ سے زیادہ ثقہ ہیں سالم
نے کہا ہے کہ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کی تعلیم کے لئے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جس طرح نماز پڑھتے تھے وہ بتلائے دیتا ہوں، پھر آپ نے ہم کو چار رکعت نماز پڑھائی
جس میں ہر رکن میں جانے کے لئے جھکتے وقت اور رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے (بجز رکوع
سے اٹھتے وقت کہ اس میں ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تھے) اور فرمایا کہ اسی طرح میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح معانی الآثار“ میں ”باب الخفض في الصلوة هل فيه تكبير“ کے تحت ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کر کے لکھا ہے کہ ایک جماعت کا عمل رہا ہے کہ وہ نماز میں خفض یعنی رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے جھکتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے ہیں، اور بنو امیہ کا بھی یہی عمل تھا لیکن متعدد متواتر احادیث جن کو امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی باب میں بیان فرمایا ہے، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کسی رکن میں جانے کے لئے جھکتے وقت ایسے ہی اللہ اکبر کہتے جیسے اس رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا اور ائمہ مذہب امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ امام طحاوی کی مذکورہ بالا حدیث اور ذیل کی بخاری کی دونوں حدیثیں اس کا بیّن ثبوت ہیں۔