Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 11

Chapter on The Description of Prayer

58 narrations · In source reading order

Hadith 1053

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: A man entered the mosque and prayed while the Messenger of Allah, peace be upon him, was in a corner of the mosque. The man came and greeted him, but the Prophet said, "Go back and pray, for you have not prayed." The man returned and prayed, then came back and greeted him again. The Prophet said, "And upon you be peace. Go back and pray, for you have not prayed." On the third occasion, the man said, "Teach me." 1 The Prophet said, "When you stand for prayer, perform ablution properly, then face the Qiblah, say Takbir, and recite what is easy for you from the Quran. Then bow until you are at ease in your bowing, then rise until you are standing straight. Then prostrate until you are at ease in your prostration, then sit up until you are at ease in your sitting, then prostrate again until you are at ease in your prostration. Then rise and do the same in your entire prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٣ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي، وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَصَلَّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلُّ، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلَّ ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلَّمْنِي2، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرُ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكِ كُلَّهَا». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَزَادَ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ، وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1184
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں آکر نماز پڑھی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے (وہ شخص نماز سے فارغ ہو کر) خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس جاؤ، نماز پڑھو کہ تم نے ٹھیک نماز نہیں پڑھی (حسب الحکم) اس شخص نے واپس جا کر (پہلے کی طرح) نماز پڑھی اور خدمت گرامی میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) وعلیک فرما کر ارشاد فرمایا پھر واپس جاؤ اور نماز پڑھو (کیونکہ) تم نے ٹھیک نماز نہیں پڑھی اس شخص نے تیسری مرتبہ عرض کیا کہ حضور ہی مجھے بتلائیں! (میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم نماز کا ارادہ کرو تو (پورے ارکان اور مستحبات کی رعایت کے ساتھ) وضوء کرو، پھر قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اللہ اکبر کہو اور جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس میں سے بہ سہولت جو پڑھ سکتے ہو پڑھ لو، اس کے بعد رکوع کرو، جب رکوع نہایت اطمینان کے ساتھ کر چکو تو سر اٹھاؤ، جب اطمینان سے بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ میں جاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کو بھی ادا کر چکو تو سر اٹھاؤ اور اطمینان سے سیدھے بیٹھ جاؤ، بعد ازاں دوسرا سجدہ کرو اور اس سجدہ کو بھی اطمینان سے ادا کرو، پھر (دوسرے) سجدہ سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اسی طرح پوری نماز میں کیا کرو ۔(اس کی روایت بخاری نے کی ہے) اور ترمذی، نسائی اور ابوداؤد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ پس جب تم نے یہ کر لیا تو تمہاری نماز پوری ہوگئی اور اگر تم نے اس میں کسی چیز کی کمی کی تو اپنی نماز ناقص کرلی۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah Almighty says:

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6251 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 303 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

And they were not commanded except...

(1) The statement: "And they were not commanded except..." indicates that prayer is also an act of worship, and worship requires complete sincerity to Allah. Sincerity cannot be achieved without intention, so it is necessary to have the intention for prayer. This is mentioned in Ta'liq I'la as-Sunan.

Note 2

Teach me

(2) The statement: "Teach me" – In the original text of the author: "Inform me."

Note 1

This footnote could not be resolved in the source.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: وما أمروا إلا إلخ : أن الصلاة عبادة أيضًا، والعبادة إخلاص العمل بكليته الله تعالى، والإخلاص لا يحصل إلا بالنية، فوجب اشتراطها لها. قاله في تعليق إعلاء السنن».

Note 2

قوله

( ۲) قوله: فعلمني وفي أصل المؤلف: «فأعلمني».

Note 1

ف(1): ترمذی کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدیل ارکان واجب ہے اور تعدیل ارکان یہ ہے کہ نماز کے جملہ ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کیا جائے اور ان کے ادا کرنے میں جلدی نہ کی جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع کو پورے اطمینان کے ساتھ ادا کریں، رکوع سے اٹھنے کے بعد قومہ میں بھی اطمینان سے کھڑے رہیں، اسی طرح سجدہ کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی جلدی نہ کریں بلکہ اطمینان سے بیٹھیں الغرض اسی طرح پوری نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور اگر اس طرح تعدیل ارکان کے بغیر نماز ادا کی جائے تو نماز ناقص ہو جاتی ہے اور اس کا اعادہ لازم آجاتا ہے۔ اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کی مذمت ہے جیسا کہ آج کل بعض نمازی کیا کرتے ہیں، گویا جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر سر سے ایک بوجھ اتارتے ہیں۔(شرح وقایہ، ترجمہ ترمذی۔) ف(2): بخاری کی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”اِقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس میں سے جو بہ سہولت پڑھ سکتے ہو پڑھ لو) حدیث کے ان الفاظ سے نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بخاری کی اسی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا‘‘ (دوسرا سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ پھر دوسرے سجدے سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا سجدہ اور قیام کے درمیان جلسہ استراحت نہیں ہے، اگر یہاں جلسہ استراحت ہوتا تو اس کا ذکر فرمایا جاتا اور یہی مذہب حنفی ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 1054

Volume 1

English

Narrated by Rifa'ah ibn Rafi', may Allah be pleased with him: A man came and prayed in the mosque, then greeted the Prophet, peace be upon him. The Prophet said, "Repeat your prayer, for you have not prayed." The man said, "Teach me, O Messenger of Allah, how to pray." The Prophet said, "When you face the Qiblah, say Takbir, then recite Umm al-Quran (Surah Al-Fatihah) and whatever Allah wills you to recite. When you bow, place your palms on your knees and make your bowing firm, straighten your back. When you rise, straighten your spine and raise your head until your bones return to their joints. When you prostrate, make your prostration firm. When you rise, sit on your left thigh. Do this in every Rak'ah and prostration until you are at ease." This is the wording in Al-Masabih. Abu Dawud reported it with slight variation, and Al-Tirmidhi and Al-Nasa’i reported its meaning.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٤ - وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ اللهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ : أَعِدْ صَلَاتَكَ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلُّ»، فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُوْلَ اللهِ، كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرُ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَقْرَأَ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَمَكَّنْ رُكُوْعَكَ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكَّنْ لِلسُّجُودِ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ». هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ». وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مَعَ تَغْبِيْرِ يَسِيرٍ، وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1185
رفاعۃ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے مسجد میں آکر نماز پڑھی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی نماز لوٹاؤ، کیونکہ تم نے (ٹھیک) نماز نہیں پڑھی، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھا دیجئے کہ کس طرح نماز پڑھوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم (نماز کے لئے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف متوجہ ہوکر اللہ اکبر کہو، پھر سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ کے لئے قرآن میں سے جو چاہو پڑھو اور جب تم رکوع کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ کو ہموار رکھ کر اپنے رکوع کو اطمینان کے ساتھ اچھی طرح کرو (کمر اور سرین برابر رہیں) اور قومہ کے لئے جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ تو اطمینان کے ساتھ اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاؤ کہ تمام جسم کی ہڈیاں اپنی اپنی جوڑوں پر قائم ہو جائیں اور جب تم سجدہ کرو تو اطمینان کے ساتھ اچھی طرح سجدہ کیا کرو اور جب تم سجدہ سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح ہر رکعت کے رکوع، سجدہ، قومہ اور جلسہ کو اطمینان کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ (یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور ابوداؤد نے اس کی روایت کسی قدر تغیر کے ساتھ کی ہے اور ترمذی اور نسائی نے اس کی روایت بالمعنی کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 859 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1055

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, led us in the Dhuhr prayer. A man at the back of the rows performed the prayer incorrectly. When the Prophet finished, he called him and said, "O so-and-so, do you not fear Allah? Do you not see how you pray? You think that what you do is hidden from me, but by Allah, I see what is behind me just as I see what is in front of me."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُول اللهِ ﷺ الظَّهْرَ، وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوْفِ رَجُلٌ، فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يَا فُلَانُ، أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي ؟ إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُوْنَ، وَاللهِ، إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1186
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ظہر کی نماز پڑھائی اور آخری صف میں ایک شخص تھا جو (تعدیل ارکان کے ساتھ) نماز ادا نہیں کر رہا تھا، جب وہ شخص سلام پھیر اتو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی، اے فلاں شخص! کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ہو؟ کیا تم کو کچھ خبر بھی ہے کہ تم کیسی نماز پڑھ رہے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو تم جو کچھ کرتے وہ مجھ سے چھپا رہتا ہے، خدا کی قسم میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے دیکھا کرتا ہوں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 811 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 811

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1056

Volume 1

English

Narrated by Aisha, may Allah be pleased with her: "The Messenger of Allah, peace be upon him, would begin the prayer with the Takbir and recite Alhamdulillahi Rabbil-'Alamin (Surah Al-Fatihah). When he bowed, he would neither raise his head too high nor lower it too much, but kept it balanced. When he raised his head from bowing, he would not prostrate until he stood straight. When he raised his head from prostration, he would not prostrate again until he sat upright. He would say the Tashahhud after every two Rak'ahs. He would lay his left foot flat and raise his right foot. He forbade sitting like the devil and spreading one's arms like a beast. He would conclude the prayer with the Taslim."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٦ وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِـالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبُهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبْعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1187
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتداء بتکبیر تحریمہ سے اور قرآت کی ابتداء ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ سے فرماتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر مبارک کو نہ اونچا کرتے نہ نیچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی حالت میں اس طرح رکھتے کہ گردن اور پیٹھ برابر رہتی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پوری طرح اطمینان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدہ میں نہیں جاتے تھے اور اسی طرح جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اچھی طرح بیٹھے بغیر دوسرا سجدہ نہیں فرماتے اور ہر دو رکعت کے بعد (قعدہ فرماتے) اور اس میں التحیات پڑھتے اور قعدے میں بائیں پیر کے پنجہ کو زمین پر بچھاتے اور سیدھے پیر کے پنجہ کو کھڑا رکھتے اور عقبۂ شیطان سے منع فرماتے تھے (عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے کہ عقبۂ شیطان یہ ہے کہ پیروں کے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 498 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

پنجوں کو اس طرح کھڑا کیا جائے جیسے سجدہ میں کھڑا کرتے ہیں اور پھر دونوں سرین کو ایڑیوں پر ٹکا کر ان پر بیٹھ جائے، نماز میں اس طرح بیٹھنا مکروہ ہے۔ یہ علامہ طیبی اور کرخی کا قول ہے جس کو ابن الہمام نے فتح القدیر میں ذکر کیا ہے اور اشعۃ اللمعات نے بھی اس کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ لفظ عقبہ کو اسی معنی سے زیادہ مناسبت ہے، اس وجہ سے کہ عقب ایڑی کو کہتے ہیں، اور نہایہ میں بھی یہی مذکور ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ مرد سجدہ میں اپنی دونوں باہیں (نیچے) اور کہنی کی درمیانی ہڈی) درندوں کی طرح زمین پر بچھائے (یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کو چاہئے کہ سجدہ میں اپنی باہیں بچھایا کریں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو سلام پھیر کر ختم فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Hadith 1057

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: "When the Messenger of Allah, peace be upon him, stood for prayer, he would say Takbir upon standing, then say Takbir when bowing. When raising his back from bowing, he would say, 'Sami' Allahu liman hamidah' (Allah hears those who praise Him), and while standing, he would say, 'Rabbana lakal-hamd' (Our Lord, to You is all praise). He would say Takbir when descending for prostration, when raising his head from prostration, and when standing after two Rak'ahs. He would do this throughout his prayer until he completed it."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَقُوْمُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِيْنَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُوْلُ وَهُوَ قَائِمُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِيْنَ يَقُوْمُ مِنَ الثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1188
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر نماز شروع فرماتے، پھر رکوع کو جاتے تو ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے، پھر جب رکوع سے کھڑے ہوتے تو ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ فرماتے اور جب بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے تو ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ فرماتے پھر سجدے کے لئے جاتے ہوئے ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے اور جب سر کو سجدہ سے اٹھاتے تو ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے، پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے، اسی طرح نماز میں کہا کرتے تھے اور جب دو رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوتے تو اس وقت بھی ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرماتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 789 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 799 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 392b (unverified) 84% confidence

Mishkat (candidate) 799

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1058

Volume 1

English

Narrated by Ata ibn As-Sa'ib: Salim al-Barrad, whom I trusted more than myself, narrated that Abu Mas'ud al-Badri said, "Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?" He then led us in four Rak'ahs, saying Takbir every time he lowered and raised his head, and said, "This is how I saw the Messenger of Allah, peace be upon him, pray."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٨ - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ الْبَرَّادُ - قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقَ مِنْ نَفْسِي - قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ (رضي الله عنه): أَلَا أُصَلَّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يُكَبِّرُ فِيهِنَّ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ صَلَّى رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1189
عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم براد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے، عطاء کہتے ہیں کہ سالم میرے پاس مجھ سے زیادہ ثقہ ہیں سالم نے کہا ہے کہ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کی تعلیم کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح نماز پڑھتے تھے وہ بتلائے دیتا ہوں، پھر آپ نے ہم کو چار رکعت نماز پڑھائی جس میں ہر رکن میں جانے کے لئے جھکتے وقت اور رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے (بجز رکوع سے اٹھتے وقت کہ اس میں ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تھے) اور فرمایا کہ اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح معانی الآثار“ میں ”باب الخفض في الصلوة هل فيه تكبير“ کے تحت ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کر کے لکھا ہے کہ ایک جماعت کا عمل رہا ہے کہ وہ نماز میں خفض یعنی رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے جھکتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے ہیں، اور بنو امیہ کا بھی یہی عمل تھا لیکن متعدد متواتر احادیث جن کو امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی باب میں بیان فرمایا ہے، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کسی رکن میں جانے کے لئے جھکتے وقت ایسے ہی اللہ اکبر کہتے جیسے اس رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا اور ائمہ مذہب امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ امام طحاوی کی مذکورہ بالا حدیث اور ذیل کی بخاری کی دونوں حدیثیں اس کا بیّن ثبوت ہیں۔

Hadith 1059

Volume 1

English

Narrated by Sa'id ibn al-Harith ibn al-Mu'alla: Abu Sa'id al-Khudri led us in prayer and pronounced the Takbir aloud when raising his head from prostration, when prostrating, and when rising after two Rak'ahs. He said, "This is how I saw the Prophet, peace be upon him, pray."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥٩ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: صَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِيْنَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِيْنَ سَجَدَ، وَحِينَ رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1190
سعید بن الحارث بن المعلی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری تعلیم کے لئے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے پہلے سجدے سے سر اٹھاتے وقت اور (دوسرے) سجدہ میں جاتے وقت بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ہے اور پہلی دو رکعتوں کے بعد قعدہ اُولیٰ سے اٹھتے وقت بھی بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور (نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح عمل فرماتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 796 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں صرف پہلے سجدہ سے اٹھتے وقت اور دوسرے سجدہ میں جاتے وقت اور قعدہ اولی سے اٹھتے وقت تکبیروں کے بلند آواز سے کہنے کا ذکر ہے اور دیگر ارکان میں جاتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر نہیں ہے اس لئے کہ اس وقت یہی تین مذکورہ موقعوں میں تکبیر کہنے پر بحث ہو رہی تھی، لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر تکبیرات نہ کہی گئی ہوں، چنانچہ اسماعیل کی روایت میں باقی اور تکبیرات کا ذکر موجود ہے۔ (اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 1060

Volume 1

English

Narrated by Ikrimah: "I prayed behind someone in Makkah who said twenty-two Takbirs. I said to Ibn Abbas, 'He is foolish.' Ibn Abbas replied, 'May your mother lose you! It is the Sunnah of Abu al-Qasim (the Prophet).'" [Narrated by Al-Bukhari)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٠ - وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1191
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے مکہ معظمہ میں ایک بوڑھے آدمی (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے پوری نماز میں جہر کے ساتھ بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا (اس میں تکبیر تحریمہ اور قعدہ اولی سے اٹھنے وقت کی تکبیر بھی شامل ہے) میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ صاحب احمق معلوم ہوتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا عکرمہ تم سے تعجب ہے (تم کو معلوم نہیں کہ) یہ تو حضور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 788 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1061

Volume 1

English

Narrated by Abd al-Jabbar ibn Wa'il, from his father: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands upon starting the prayer until his thumbs were parallel to his earlobes." [Narrated by Al-Nasa’i] A similar narration is narrated by Abu Dawud. Al-Hakim in Al-Mustadrak, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi in his Sunan reported a similar narration from Anas, may Allah be pleased with him. Al-Hakim said, "Its chain is authentic according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, and I know of no flaw in it." In a narration by Abu Dawud, Al-Nasa’i, At-Tabarani, Al-Daraqutni, and Muslim from Wa'il ibn Hujr: "I saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his ears when starting the prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦١ - وَعَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادُ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَلِأَبِي دَاوُدَ مِثْلُهُ عَنْهُ . وَرَوَى الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَالدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِ عَنْ أَنَسٍ الله نَحْوهُ. وَقَالَ الْحَاكِمُ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِي وَالطَّبَرَانِي وَالدَّارَ قُطْنِي وَمُسْلِمٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ : قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ حِيْنَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1192Noor 1193Noor 1194
عبدالجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ ہاتھوں کے انگوٹھے دونوں کانوں کی لو کیوں کے مقابل ہو جاتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد کی روایت بھی انہیں سے اسی طرح ہے)۔ اور حاکم نے مستدرک میں اور دارقطنی نے اور بیہقی نے سنن میں انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کے اسناد بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں اس لئے صحیح ہیں اور حاکم نے یہ بھی کہا ہے کہ میں نے اس میں کوئی علت نہیں پائی۔ اور ابوداؤد کی ایک روایت ہے نسائی، طبرانی، دارقطنی اور مسلم میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز شروع فرماتے وقت اپنے ہاتھوں کو دونوں کانوں کے مقابل اٹھاتے دیکھا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 401 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 882 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 724 (unverified) 86% confidence · Validation similarity: 0.545

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1062

Volume 1

English

Narrated by Bashir ibn Nahik: Abu Hurairah said, "If I were in front of the Prophet, peace be upon him, I would see his armpits." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٢ - وَعَنْ بَشِيْرِ بْنِ نَهِيْكٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ ﷺ لَرَأَيْتُ إِبْطَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1195
بشیر بن نہیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں (تکبیر تحریمہ کے وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتا تو آپ کے دونوں بغلوں کو دیکھ سکتا تھا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے۔)(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 898 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1063

Volume 1

English

Narrated by Wa'il ibn Hujr: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his shoulders when starting the prayer, with his thumbs parallel to his ears, and then say Takbir." [Narrated by Abu Dawud] In another narration by Abu Dawud: "He raised his thumbs to his earlobes."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٣ - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ (رضي الله عنه): أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ ﷺ حِيْنَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ، وَحَاذَى إِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: يَرْفَعُ إِبْهَا مَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1196Noor 1197
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے سامنے اس طرح اٹھائے کہ دونوں انگوٹھوں کو دونوں کانوں کے مقابل کیا اور اس کے بعد آپ نے اللہ اکبر فرمایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تکبیر تحریمہ کہنے کے قبل) اپنے دونوں انگوٹھوں کو دونوں کانوں کی لوکیوں تک اٹھاتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 724 (unverified) 72% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر تحریمہ کہنے کے قبل اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کی لوکیوں کے مقابل رکھا جائے پھر اس کے بعد اللہ اکبر کہے اور حنفی مذہب یہی ہے۔ (اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 1064

Volume 1

English

Narrated by Abu Humaid as-Sa'idi, may Allah be pleased with him: "When the Messenger of Allah, peace be upon him, stood for prayer, he would face the Qiblah, raise his hands, and say, 'Allahu Akbar.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٤ - وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1198
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو رو بہ قبلہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے پھر اللہ اکبر فرماتے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 803 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا حکم مردوں سے متعلق ہے اس کے برخلاف عورتیں نماز کی نیت کر کے اللہ اکبر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھے تک اٹھاویں، لیکن ہاتھ دوپٹے سے باہر نہ نکالیں۔ (طحاوی۔)

Hadith 1065

Volume 1

English

Narrated by Al-Bara' ibn Azib, may Allah be pleased with him: "The Prophet, peace be upon him, would raise his hands during prayer until his thumbs were parallel to his ears." [Narrated by Ahmad, Ishaq ibn Rahwayh, Al-Daraqutni in his Sunan, and Ibn Abi Shaybah] Al-Daraqutni added: "He did not repeat it." At-Tahawi, Al-Bukhari, and Muslim reported similar narrations.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٥ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُوْنَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَالدَّارَقُطْنِيُّ فِي سُنَنَهِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَزَادَ الدَّارَقُطْنِي فِيْهِ: «ثُمَّ لَمْ يُعِدُ، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمُ نحوه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1199
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اس قدر بلند فرماتے کہ دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے مقابل ہو جاتے تھے۔ (اس کی روایت امام احمد اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے اور دار قطنی نے اپنی سنن میں اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے اور دار قطنی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں) پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (اور طحاوی، بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 809 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 809

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1066

Volume 1

English

Narrated by Abdul Aziz ibn Hakim: "I saw Ibn Umar raise his hands to the level of his ears only during the first Takbir of the prayer, and he did not raise them at any other time."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٦ - وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةِ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ. قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ : كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَوَةَ . قَالَ صَاحِبُ الْكَنْزِ الْمَدْفُوْنِ (النساء (۷۷) وَالْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ : فِيْهِ الاسْتِدْلَالُ عَلَى تَرْكِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الانْتِقَالَاتِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1200
عبدالعزیز بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع میں پہلی تکبیر کے وقت (جس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں) اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں کانوں کے مقابل اٹھایا کرتے اور تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں پھر ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

Allah Almighty says: "Restrain your hands and establish prayer." (Quran 4:77) The author of Al-Kanz al-Madfun and Al-Fulk al-Mashhun said: "This indicates that raising the hands is not done during transitions in prayer."

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اللہ عزّ وجلّ کا ارشاد ہے: ”كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ“ (سورۃ نساء،پ:5، ع:11،آیت نمبر:77) یعنی تم اپنے ہاتھوں کو روکو اور نماز کے پابند ہوجاؤ۔ صاحب ”الكنز المدفون والفلك المشحون“ نے کہا ہے کہ اس قول باری تعالیٰ میں اس بات کی دلیل ہے کہ شروع نماز کی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں تکبیرات انتقالات کے وقت رفع یدین (یعنی کانوں تک ہاتھ اٹھانے کو) ترک کیا جائے۔ (تاکہ ”كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ“ کے حکم کی تکمیل ہو۔)12

Hadith 1067

Volume 1

English

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not inform you about the prayer of the Messenger of Allah, peace be upon him?" He then stood and raised his hands only once at the beginning and did not raise them again. In another narration: "He did not raise them afterward." [Narrated by Al-Nasa’i] The scholar Al-Hashim al-Madani said in Kashf ar-Rayn regarding the issue of raising hands: "The chain of Al-Nasa’i meets the conditions of Al-Bukhari and Muslim."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٧ - وَعَنْ عَبْدِ الله (رضي الله عنه) قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ. وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. وَقَالَ الْعَلَّامَةُ الْهَاشِمُ الْمَدَنِيُّ فِي كَشْفِ الرَّيْنِ عَنْ مَسْأَلَةِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ : إِنَّ إِسْنَادَ النَّسَائِي عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1201Noor 1202
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (نماز پڑھ کر) تم لوگوں کو بتلائے دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھنا کیسا تھا یہ کہہ کر آپ (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو صرف ایک ہی دفعہ (تکبیر تحریمہ کے لئے) اٹھایا پھر آپ نے (پوری نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں فرمایا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے (تکبیر تحریمہ کے سوا) رفع یدین نہیں کیا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1058 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور علامہ ہاشم مدنی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين“ میں لکھا ہے کہ نسائی کی مذکورہ حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اس لئے نسائی کی یہ حدیث بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح صحیح ہے۔

Hadith 1068

Volume 1

English

Narrated by Alqamah: "Abdullah ibn Mas'ud said to us, 'Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?' He then prayed and did not raise his hands except once, during the opening Takbir."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٨ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه): أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ؟ فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةٌ مَعَ تَكْبِيرِ الافْتِتَاحِ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1203
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کی جیسی نماز نہ پڑھا دوں؟ (علقمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ کہہ کر نماز پڑھائی تو ایک ہی دفعہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے۔ (پھر پوری نماز میں انہوں نے رفع یدین نہیں کیا۔) (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 257 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 748 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1058 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1069

Volume 1

English

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?" He then prayed and did not raise his hands except during the first Takbir. [Narrated by Al-Tirmidhi] Al-Tirmidhi said: "The hadith of Ibn Mas'ud is a Hasan hadith, and this is the opinion of many scholars among the companions of the Prophet, peace be upon him, and the Tabi'in. It is also the view of Sufyan and the scholars of Kufa."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦٩ - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه): أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيْثُ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) حَدِيْثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُوْلُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيَّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1204
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ لوگوں سے) فرمایا (آؤ) میں تم لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھوں (یعنی تمہیں عملی طور پر دکھا دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کے بارے میں کیا کرتے تھے) پھر آپ نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ (صرف تکبیر تحریمہ کے وقت) ہاتھ اٹھایا، اس کے بعد (پوری نماز میں پھر رفع یدین نہیں کیا۔) (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس باب میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور ترمذی نے یہ بھی کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن ہے، کئی صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین رفع یدین نہ کرنے کے قائل ہیں، نیز سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ (اور یہی حنفی مذہب ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 257 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1070

Volume 1

English

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, from the Prophet, peace be upon him: "He would raise his hands during the first Takbir and would not raise them again."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۰ - وَعَنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيَّ ﷺ: أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكَبِيرَةٍ، ثُمَّ لَا يَعُودُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1205
علقمہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (شروع نماز میں) تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا کرتے تھے پھر باقی نماز میں رفع یدین کا اعادہ نہیں فرماتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1071

Volume 1

English

Narrated by Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him: "The Messenger of Allah, peace be upon him, came out to us and said, 'Why do I see you raising your hands like the tails of restless horses? Be calm in prayer.'" [Narrated by Muslim] In the Musnad of our Imam Abu Hanifah, it is narrated from Sufyan ibn Uyaynah: "Abu Hanifah and Al-Awza'i met in the house of Al-Khannatin in Makkah. Al-Awza'i said to Abu Hanifah, 'Why do you not raise your hands during prayer when bowing and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Because nothing authentic has been established from the Messenger of Allah, peace be upon him, regarding it.' Al-Awza'i said, 'How can it not be authentic when Az-Zuhri narrated to me from Salim, from his father, that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to raise his hands when starting the prayer, when bowing, and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Hammad narrated to us from Ibrahim, from Alqamah and Al-Aswad, from Ibn Mas'ud, that the Messenger of Allah, peace be upon him, did not raise his hands except at the beginning of the prayer and did not repeat it.' Al-Awza'i said, 'I narrate to you from Az-Zuhri, from Salim, from his father, and you say Hammad narrated to you from Ibrahim?' Abu Hanifah replied, 'Hammad was more knowledgeable than Az-Zuhri, Ibrahim was more knowledgeable than Salim, and Alqamah was not inferior to Ibn Umar in knowledge, even though Ibn Umar had the privilege of companionship. Al-Aswad also had great merit, and Abdullah (Ibn Mas'ud) is Abdullah.' Al-Awza'i remained silent."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۱ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِيْنَ أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي مُسْنَدِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حَنِيفَةَ وَالْأَوْزَاعِيُّ فِي دَارِ الْخَنَّاطِيْنَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِأَبِي حَنِيفَةَ: مَا بَالُكُمْ لَا تَرْفَعُوْنَ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ؟ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لِأَجْلِ أَنَّهُ لَمْ يَصِحٌ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِيهِ شَيْءٌ. قَالَ: كَيْفَ لَا يَصِحُ، وَقَدْ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ: أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَعِنْدَ الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ. فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَا يَعُودُ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : أُحَدِّثُكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ، وَتَقُوْلُ: حَدَّثَنِي حَمَّادٌ عَنِ ابْرَاهِيمَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ: كَانَ حَمَّادُ أَفْقَهَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ أَفْقَهَ مِنْ سَالِمٍ، وَعَلْقَمَةُ لَيْسَ بِدُوْنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْفِقْهِ، وَإِنْ كَانَتْ لِابْنِ عُمَرَ صُحْبَةٌ، وَلَهُ فَضْلُ صُحْبَةٍ، فَالْأَسْوَدُ لَهُ فَضْلُ كَثِيرُ، وَعَبْدُ اللهِ هُوَ عَبْدُ اللهِ، فَسَكَتَ الْأَوْزَاعِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1206Noor 1207
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک بار) ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ (درمیان نماز میں) رفع یدین کر کے اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی طرح (بار بار) ہلاتے رہتے ہو، (ایسا مت کرو) اور نماز میں سکون اور اطمینان سے رہا کرو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سفیان کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ کی گیہوں کی منڈی میں امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی رحمہما اللہ اکٹھے ہوئے، اس وقت امام اوزاعی نے امام ابوحنیفہ سے کہا کہ آپ لوگ نماز میں رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کس وجہ سے رفع یدین نہیں کرتے؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم اس وجہ سے رفع یدین نہیں کرتے کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح روایت ثابت نہیں ہوئی ہے، امام اوزاعی نے فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے، حالانکہ زہری نے مجھ سے حدیث بیان کی اور زہری، سالم سے روایت کرتے ہیں اور سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو (تکبیر تحریمہ کے لئے) دونوں ہاتھوں کو اٹھایا کرتے تھے اور رکوع کو جاتے وقت رفع یدین کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے (امام اوزاعی کے جواب میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حدیث بیان کی ہے ہم سے حماد نے اور حماد بیان کرتے ہے ابراہیم سے اور ابراہیم روایت کرتے ہیں علقمہ اور اسود سے اور یہ دونوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز میں تو (تکبیر تحریمہ کے لئے) ہاتھ اٹھاتے تھے (پھر باقی نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں فرماتے تھے، امام اوزاعی نے کہا کہ میں آپ کو حدیث سنا رہا ہوں زہری سے اور زہری روایت کرتے ہیں سالم سے اور سالم روایت کرتے ہیں اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور آپ کہتے ہیں کہ حدیث بیان کی مجھ سے حماد نے اور وہ روایت کرتے ہیں ابراہیم سے امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ حماد زہری سے زیادہ فقیہ ہیں اور ابراہیم سالم سے زیادہ فقیہ ہیں اور علقمہ فقہ میں ابن عمر سے کم نہ تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 430a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

ف(1): جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی روایت مسلم نے کی ہے اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“ (نماز میں سکون اور اطمینان سے رہا کرو)۔ اس ارشاد گرامی سے یہ مقصود ہے کہ درمیان نماز میں ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے نماز کے سکون و اطمینان میں خلل ہوتا ہو اس لئے ہر وہ عمل جس سے نماز کے سکون میں خلل ہوتا ہو ممنوع ہوگا اور ظاہر ہے کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز کے سکون اور اطمینان میں خلل واقع ہوتا ہے، اس وجہ سے اس حدیث میں درمیان نماز میں رفع یدین سے منع کیا گیا ہے۔ ف(2): اسی مذکور الصدر حدیث میں ارشاد ہوا ہے: ”مَا لِى أَرَاكُمْ رَافِعِى أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“۔ (کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ (درمیان نماز میں رفع یدین کر کے) اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح بار بار ہلاتے رہتے ہو، (ایسا مت کرو) اور نماز میں سکون و اطمینان سے رہا کرو)۔ حدیث کے ان الفاظ سے درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس وہ حضرات جن کے پاس درمیان نماز میں رفع یدین جائز ہے انہوں نے ”مَا لِى أَرَاكُمْ رَافِعِى أَيْدِيكُمْ ......الخ“ سے قعدہ میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنا مراد لیا ہے جس پر بعض لوگوں کا عمل تھا، حالانکہ جس حدیث میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا وہ دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ”مَا لِهَؤُلَاءِ يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ“۔ (ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہلا ہلا کر اشارہ کرتے ہیں، ان کو چاہئے کہ ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھیں پھر سیدھے اور بائیں جانب اپنے بھائی کو سلام کریں) یہی وہ حدیث ہے جس سے قعدہ میں بوقت سلام ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کے تقابل سے حسب ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں: صدر کی پہلی حدیث کے یہ الفاظ ہیں ”مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ۔۔“ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ درمیان نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے کیوں کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اس حدیث کے ان ہر دو جملوں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوتی ہے کہ رفع یدین کی ممانعت کا تعلق درمیان نماز سے ہے نہ کہ آخر نماز سے اگر ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ کے حکم کو نماز کے آخری حصہ سلام کے وقت سے متعلق کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو ”اسْكُنُوا“ کا حکم بے محل ہوجائے گا کیوں کہ سلام سے تو نماز ہی ختم ہوجاتی ہے اور نماز ختم ہوجانے کے بعد سکون و اطمینان سے رہنے کا کیا موقع ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ صدر کی حدیث جس میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ مذکور ہے اس حدیث کو درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ہی سے متعلق کیا جائے، اس کے برخلاف دوسری حدیث میں ”رَافِعِي أَيْدِيكُمْ“ کے بجائے ”يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ“ کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے ہیں اور اسی طرح اس دوسری حدیث کے آخر میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ “ کی بجائے ”إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ......الخ“ کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھ کر سلام کیا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حدیثیں اپنے اپنے الفاظ اور معانی کے لحاظ سے بالکل جدا ہیں۔ صدر کی پہلی حدیث کا تعلق بالکلیہ درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق بوقت سلام قعدہ میں ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ کرنے کی ممانعت سے ہے۔ دونوں حدیثوں کے اس تقابل سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر دو حدیثیں اپنے اپنے موقع کے لحاظ سے علیحدہ ہیں اور دونوں کا جدا جدا حکم ہے اور اس طرح ایک حدیث کے حکم کو دوسرے حدیث کے حکم سے متعلق کرنا قیاس مع الفارق ہے جو کسی حیثیت سے درست نہیں۔ (مرقات۔)12

Note 2

اگرچہ ابن عمر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف صحبت حاصل ہے اور ان کے لئے صحابی ہونے کی فضیلت ہے، اب رہے اسود تو ان کے بھی بہت سے فضائل ہیں اور عبداللہ بن مسعود تو عبداللہ بن مسعود ہی ہیں ان کا کیا کہنا یہ سن کر امام اوزاعی نے سکوت اختیار فرمایا۔ (اس کی روایت سفیان بن عیینہ نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مسند میں کی ہے۔)

Hadith 1072

Volume 1

English

Narrated by Mujahid: "I prayed behind Ibn Umar, and he did not raise his hands except during the first Takbir of the prayer." [Narrated by At-Tahawi] At-Tahawi said: "Ibn Umar saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands, but he later stopped doing so. This indicates that he must have known that the practice had been abrogated, and the evidence for that became clear to him." The scholar Al-Ayni said: "The evidence used by the opponents regarding raising the hands is interpreted as being from the early days of Islam, which was later abrogated. The proof for this is that Abdullah ibn Az-Zubayr saw a man raising his hands during prayer when bowing and rising, and he said to him, 'Do not do this, for the Messenger of Allah, peace be upon him, did it and then abandoned it.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۲ - وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأَوْلَى مِنَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ: فَهَذَا ابْنُ عُمَرَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَرْفَعُ، ثُمَّ قَدْ تَرَكَ هُوَ الرَّفْعَ بَعْدَ النَّبِيِّ ، فَلَا يَكُوْنُ ذَلِكَ إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدَهُ نَسْخُ مَا قَدْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ فَعَلَهُ، وَقَامَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ. وَقَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: وَالَّذِي يَحْتَجُ بِهِ الْخَصْمُ مِنَ الرَّفْعِ مَحْمُوْلُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَأَى رَجُلًا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِهِ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَفْعَلْ؛ فَإِنَّ هَذَا شَيْءٌ فَعَلَهُ رَسُوْلُ اللهِ ، ثُمَّ تَرَكَهَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1208Noor 1209
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ابن عمر تکبیر اولیٰ یعنی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے) اور طحاوی نے کہا ہے کہ یہی ابن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع میں جاتے وقت
Commentary and footnotes (2)

Note 1

ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا پھر خود انہوں نے رفع یدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کردیا۔ پس ابن عمر کا رفع یدین کو ترک کرنا اس وجہ سے ہے کہ جس رفع یدین کو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا اس کا منسوخ ہونا ان کے پاس ثابت ہے اور رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ان کے پاس قائم ہوچکی ہے، (ورنہ وہ رفع یدین کو درمیان نماز میں کبھی ترک نہ کرتے۔) اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ جس رفع یدین کے متعلق رفع یدین کے قائلین دلیل لاتے ہیں وہ اس بات پر محمول ہے کہ رفع یدین پر عمل ابتدائی اسلام میں ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا اور رفع یدین منسوخ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ

Note 2

رفع یدین کر رہا ہے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کر رہا ہے تو اس سے عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین مت کیا کر، یہ ایسی چیز ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کیا کرتے تھے اور پھر اس کو ترک فرما دیئے ہیں۔

Hadith 1073

Volume 1

English

Narrated by Ibrahim, from Al-Aswad: "I saw Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, raise his hands during the first Takbir and not raise them again." [Narrated by At-Tahawi and Al-Bayhaqi] At-Tahawi said: "This is an authentic hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۳ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكَبِيرَةٍ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1210
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اسود نے کہا کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے تھے اور پھر (پوری نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی اور بیہقی نے کی ہے اور طحاوی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)

Hadith 1074

Volume 1

English

Narrated by Asim ibn Kulaib al-Jarmi, from his father—who was among the companions of Ali, may Allah be pleased with him: "Ali ibn Abi Talib, may Allah honor his face, used to raise his hands during the first Takbir with which he began the prayer, and he did not raise them again during the rest of the prayer." [Narrated by Muhammad, At-Tahawi, and Ibn Abi Shaybah] The scholar Al-Ayni said: "Its chain is authentic according to the conditions of Muslim. It is not permissible for Ali to have seen the Prophet, peace be upon him, do something and then abandon it unless the raising of hands outside the opening Takbir had been abrogated."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٧٤ - وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ (رضي الله عنه): أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأَوْلَى الَّتِي يَفْتَتِحُ بِهَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ وَالطَّحَاوِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَقَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، ثُمَّ قَالَ: وَلَا يَجُوْزُ لِعَلِيٍّ (رضي الله عنه) أَنْ يَرَى ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ يَتْرُكُ هُوَ ذَلِكَ، إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ نَسْخُ الرَّفْعِ فِي غَيْرِ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1211
عاصم بن کلیب الجرمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ سے ہیں، روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ صرف پہلی تکبیر میں جس سے نماز شروع کی جاتی ہے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے پھر اس کے بعد باقی نماز کے کسی حصہ میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد اور طحاوی اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور مسلم کی شرط کے موافق ہے)۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور علامہ عینی نے یہ بھی کہا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین کا منسوخ ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت ہو چکا تھا جب ہی تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھنے کے باوجود پھر بھی تکبیر تحریمہ کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین ترک فرمایا اگر رفع یدین کا منسوخ ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت نہ ہوتا تو آپ خود اپنی طرف سے رفع یدین ہرگز ترک نہ کرتے۔

Hadith 1075

Volume 1

English

Narrated by Alqamah, from Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "I prayed with the Messenger of Allah, peace be upon him, Abu Bakr, and Umar, and they did not raise their hands except at the beginning of the prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٧٥ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ عَدِيٌّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1212
علقمہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور پھر حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی نماز پڑھی ہے۔ یہ تینوں حضرات رفع یدین شروع نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی کیا کرتے تھے اور باقی پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔ (اس کی روایت دارقطنی اور ابن عدی نے کی ہے۔)

Hadith 1076

Volume 1

English

Narrated by Ibrahim: "Abdullah (Ibn Mas'ud) did not raise his hands during any part of the prayer except at the beginning."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٧٦ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي الافْتِتَاحِ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1213
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی ہاتھ اٹھاتے تھے پھر اس کے بعد نماز کے کسی حصہ میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1077

Volume 1

English

Narrated by Ibrahim: "Do not raise your hands during any part of the prayer after the first Takbir."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۷ - وَعَنْهُ قَالَ: لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّكَبِيرَةِ الْأَوْلَى رَوَاهُ مُحَمَّدُ فِي الْمُوْطَأ» وَالْآثَارِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1214
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کے کسی حصہ میں رفع یدین مت کیا کرو۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا اور الآثار میں کی ہے۔)

Hadith 1078

Volume 1

English

Narrated by Husayn ibn Abdur-Rahman: "Amr ibn Murrah and I entered upon Ibrahim an-Nakha'i. Amr said: 'Alqamah ibn Wa'il al-Hadrami narrated to me from his father that he prayed with the Messenger of Allah, peace be upon him, and saw him raise his hands when saying Takbir, when bowing, and when rising from bowing.' Ibrahim said: 'I do not know; perhaps he only saw the Prophet, peace be upon him, pray on that day and remembered this, while Ibn Mas'ud and his companions did not. I have not heard this from any of them. They only raised their hands at the beginning of the prayer when saying Takbir.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۸ - وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِي، قَالَ عَمْرُو: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِيْهِ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ ، فَرَآهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَدْرِي لَعَلَّهُ لَمْ يَرَ النَّبِيَّ ﷺ يُصَلِّي إِلَّا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَحَفِظَ هَذَا مِنْهُ، وَلَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأَصْحَابَهُ، مَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ، إِنَّمَا كَانُوا يَرْفَعُوْنَ أَيْدِيَهُمْ فِي بَدْءِ الصَّلَاةِ حِينَ يُكَبِّرُوْنَ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1215
حصین بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ (ایک دفعہ) ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، عمرو نے بیان کیا کہ مجھ سے علقمہ بن وائل حضرمی رضی اللہ عنہما نے اپنے والد کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے کہ ان کے والد وائل حضرمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین فرمایا اور اسی طرح رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین فرمایا (یہ سن کر) ابراہیم نخعی نے جواب دیا کہ (وائل حضرمی جو کہہ رہے ہیں) میں اس کو نہیں جانتا، معلوم ہوتا ہے کہ وائل حضرمی نے صرف اسی ایک دن کی نمازوں میں (جبکہ وہ خدمت اقدس میں وفد بن کر حضر موت سے حاضر ہوئے تھے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (درمیان نماز میں) رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا اور اسی کو انہوں نے یاد رکھ لیا لیکن ابن مسعود اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم (جو ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر رہ کر) شریک نماز ہوتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا ہمیشہ کا واقعہ نہ ہونے کی وجہ سے اس (ایک دن کی نمازوں کے رفع یدین) کو یاد رکھا (ابراہیم نخعی کہتے ہیں) اسی لئے میں نے ان حضرات میں سے کسی ایک سے بھی یہ نہیں سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (درمیان نماز میں) رفع یدین کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان سب حضرات کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ شروع نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے (اس کے سوا باقی نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)

Hadith 1079

Volume 1

English

Narrated by Amr ibn Murrah: "I entered the mosque of Hadramawt, and Alqamah ibn Wa'il was narrating from his father that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to raise his hands before and after bowing. I mentioned this to Ibrahim, and he became angry, saying, 'He saw it, but Ibn Mas'ud and his companions did not.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷۹ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حَضْرَمَوْتَ، فَإِذَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ فَغَضِبَ، وَقَالَ: رَآهُ هُوَ وَلَمْ يَرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَلَا أَصْحَابُهُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1216
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرموت کی مسجد میں داخل ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہما اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حدیث بیان کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے قبل رفع یدین کیا کرتے تھے اور رکوع کے بعد بھی رفع یدین کیا کرتے تھے میں نے اس واقعہ کا تذکرہ ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا تو انہوں نے غصہ میں آکر فرمایا کیا وائل رضی اللہ عنہ نے ہی رفع یدین کرتے دیکھا ہے اور اس کو ابن مسعود اور ان کے ساتھی دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہیں دیکھا (کیا یہ قرین قیاس ہے؟)۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1080

Volume 1

English

Narrated by Al-Mughirah: "I said to Ibrahim, 'What about the hadith of Wa'il that he saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands when starting the prayer, when bowing, and when rising from bowing?' Ibrahim replied, 'If Wa'il saw him do it once, Abdullah (Ibn Mas'ud) saw him fifty times not doing it.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۸۰ - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ حَدِيثُ وَائِلٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: إِنْ كَانَ وَائِلُ رَآهُ مَرَّةً يَفْعَلُ ذَلِكَ فَقَدْ رَآهُ عَبْدُ اللهِ خَمْسِينَ مَرَّةً لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَقَالَ: وَأَمَّا حَدِيْثُ وَائِلٍ فَقَدْ ضَادَّهُ إِبْرَاهِيمُ بِمَا ذَكَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ: أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ فَعَلَ مَا ذُكِرَ، فَعَبْدُ اللهِ أَقْدَمُ صُحْبَةٌ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَأَفْهَمُ بِأَفْعَالِهِ مِنْ وَائِلٍ، قَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُوْنَ؛ لِيَحْفَظُوْا عَنْهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1217
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ وائل رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرماتے ہوئے دیکھا ہے (یہ سن کر) ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ اگر وائل رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ (قبل رکوع اور بعد رکوع) رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پچاسوں مرتبہ دیکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (قبل رکوع اور بعد رکوع) رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ یہاں رفع یدین سے متعلق دو طرح کی حدیثیں آتی ہیں، ایک وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع اور بعد رکوع رفع یدین فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ اس طرح رفع یدین سے متعلق احادیث میں تعارض پایا جاتا ہے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رفع یدین کے بارے میں اُن احادیث کو ترجیح حاصل ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں جن میں قبل رکوع اور بعد رکوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین ثابت نہیں ہے۔ وائل حضرمی رضی اللہ عنہ وفد بن کر حضرموت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تھے اور آپ کو صرف چند دن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ملا، اس کے برخلاف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیشہ صحبت بابرکت میں اس طرح حاضر رہتے تھے کہ اجنبی حضرات آپ کی اس حاضر باشی کی وجہ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کرنے لگے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قدیم ہیں، اس لئے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے احادیث کو وائل رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثیں اس لئے بھی قابل ترجیح ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار جیسا کہ ابھی ذکر کیا جا چکا ہے ان جلیل القدر مہاجرین صحابہ میں ہے جو سفر و حضر میں ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فیض درجت میں حاضر رہتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس تقرب کے سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، جس کو خود صاحب مشکوٰۃ نے اپنے رسالہ ”الاكمال في اسماء الرجال“ میں ذکر کیا ”رضيت لامتى مارضى بها ابن ام عبد“ (میری امت کے لئے ابن ام عبد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پسند کریں مجھے بھی وہ باتیں پسند ہیں) یہی وہ امتیاز ہے جس کی بناء پر امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو زیادہ سمجھنے والے ہیں اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کو وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔ (شرح معانی الآثار)۔

Hadith 1081

Volume 1

English

And from Alqamah ibn Wa’il, from his father, who said: I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he stood in prayer, grasp his left hand with his right hand.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۸۱ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ إِذَا كَانَ قَائِمًا فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1218
علقمہ بن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 888 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1082

Volume 1

English

And from Qabisa ibn Hulb, from his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer and would take his left hand with his right hand.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۸۲ - وَعَنْ قَبِيْصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1219
قبیصہ بن ہلب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد ہلب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 252 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 809 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.