English
Narrated by Mujahid: "I prayed behind Ibn Umar, and he did not raise his hands except during the first Takbir of the prayer." [Narrated by At-Tahawi]
At-Tahawi said: "Ibn Umar saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands, but he later stopped doing so. This indicates that he must have known that the practice had been abrogated, and the evidence for that became clear to him."
The scholar Al-Ayni said: "The evidence used by the opponents regarding raising the hands is interpreted as being from the early days of Islam, which was later abrogated. The proof for this is that Abdullah ibn Az-Zubayr saw a man raising his hands during prayer when bowing and rising, and he said to him, 'Do not do this, for the Messenger of Allah, peace be upon him, did it and then abandoned it.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۷۲ - وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأَوْلَى مِنَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ: فَهَذَا ابْنُ عُمَرَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَرْفَعُ، ثُمَّ قَدْ تَرَكَ هُوَ الرَّفْعَ بَعْدَ النَّبِيِّ ، فَلَا يَكُوْنُ ذَلِكَ إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدَهُ نَسْخُ مَا قَدْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ فَعَلَهُ، وَقَامَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ.
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: وَالَّذِي يَحْتَجُ بِهِ الْخَصْمُ مِنَ الرَّفْعِ مَحْمُوْلُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَأَى رَجُلًا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِهِ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَفْعَلْ؛ فَإِنَّ هَذَا شَيْءٌ فَعَلَهُ رَسُوْلُ اللهِ ، ثُمَّ تَرَكَهَ.
اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ
عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ابن عمر تکبیر اولیٰ یعنی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں کہیں بھی رفع یدین
نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے) اور طحاوی نے کہا ہے کہ یہی ابن عمر رضی اللہ عنہما
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع میں جاتے وقت
Commentary and footnotes (2)
Note 1
ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا پھر خود انہوں نے رفع یدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کردیا۔ پس ابن عمر کا رفع یدین کو ترک کرنا اس وجہ سے ہے کہ جس رفع یدین کو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا اس کا منسوخ ہونا ان کے پاس ثابت ہے اور رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ان کے پاس قائم ہوچکی ہے، (ورنہ وہ رفع یدین کو درمیان نماز میں کبھی ترک نہ کرتے۔) اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ جس رفع یدین کے متعلق رفع یدین کے قائلین دلیل لاتے ہیں وہ اس بات پر محمول ہے کہ رفع یدین پر عمل ابتدائی اسلام میں ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا اور رفع یدین منسوخ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ
Note 2
رفع یدین کر رہا ہے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کر رہا ہے تو اس سے عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین مت کیا کر، یہ ایسی چیز ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کیا کرتے تھے اور پھر اس کو ترک فرما دیئے ہیں۔