English
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not inform you about the prayer of the Messenger of Allah, peace be upon him?" He then stood and raised his hands only once at the beginning and did not raise them again. In another narration: "He did not raise them afterward." [Narrated by Al-Nasa’i]
The scholar Al-Hashim al-Madani said in Kashf ar-Rayn regarding the issue of raising hands: "The chain of Al-Nasa’i meets the conditions of Al-Bukhari and Muslim."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٠٦٧ - وَعَنْ عَبْدِ الله (رضي الله عنه) قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ. وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ الْهَاشِمُ الْمَدَنِيُّ فِي كَشْفِ الرَّيْنِ عَنْ مَسْأَلَةِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ : إِنَّ إِسْنَادَ النَّسَائِي عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.
اردو
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (نماز پڑھ کر) تم
لوگوں کو بتلائے دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھنا کیسا تھا یہ کہہ کر آپ (نماز کے
لئے) کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو صرف ایک ہی دفعہ (تکبیر تحریمہ کے لئے) اٹھایا پھر
آپ نے (پوری نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں فرمایا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے (تکبیر تحریمہ کے سوا) رفع یدین
نہیں کیا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1058 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور علامہ ہاشم مدنی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين“ میں لکھا ہے کہ نسائی کی مذکورہ حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اس لئے نسائی کی یہ حدیث بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح صحیح ہے۔