English
Rifa'ah ibn Rafi' reported: The Prophet (ﷺ) said to a Bedouin, "When you sit (in prayer), sit on your left foot."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 860 (unverified) 55% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ذیل میں جو حدیثیں آ رہی ہیں ان کے مطالعہ سے پہلے ضروری ہے کہ چند امور کی وضاحت پیش نظر رہے تا کہ ان احادیث کا مفہوم سمجھ میں آسکے۔ نماز کے قعدہ اخیر میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے متعلق مذہب حنفی یہ ہے کہ مطلقاً درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے، چنانچہ سعایہ میں لکھا ہے کہ ”ان السنة المؤكدة هو مطلق الصلوة بعد التشهد لاخصوص بعض الفاظها واليه يشير كلام عامة فقهائنا“۔ (التحیات کے بعد نماز میں درود شریف پڑھنے کے بارے میں جو مختلف الفاظ آئے ہیں ان میں سے بلا قید الفاظ مطلقاً کسی ایک درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے اور عامۂ فقہاء کا قول یہی ہے۔) شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے مبسوط میں درود کے متعلق تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا شمار فرائض نماز سے نہیں ہے، درود کے فرض نہ ہونے پر فقہاء حنفیہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا ہم نے سیکھ لیا اب ارشاد فرمائیے کہ نماز میں ہم آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا اس طرح پڑھو! ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ“۔ (اے اللہ درود نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر۔) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو درود اس وقت سکھایا جبکہ آپ سے درود کے متعلق پوچھا گیا، اگر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہوتا تو آپ پوچھنے سے پہلے ہی سکھا دیئے، نماز میں درود کے فرض نہ ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض نماز سکھائے تو اس میں درود کا ذکر نہیں فرمایا۔ (یہاں مبسوط کی عبارت ختم ہوئی۔) علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ نماز میں تشہد اور درود کے بعد ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہہ کر نماز کو ختم کرنے کے بارے میں دو(2) روایتیں آئی ہیں، ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز ختم کرنا واجب ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ سنت ہے، علامہ عینی نے عطاء بن ابی رباح، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، قتادہ، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، ابن جریر طبری ان سب حضرات رحمۃ اللہ رضوان کا یہ متفقہ قول نقل کیا ہے کہ آخر نماز میں ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہنا فرض نہیں ہے اسی وجہ سے اگر نمازی نماز کے آخر میں سلام کو ترک کردے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد المحتار میں فتح کے حوالے سے سلام کے سنت ہونے پر دوسرا قول بھی نقل کیا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے اور یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نیز سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام اوزاعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے، اس وجہ سے سلام کہے بغیر نماز کو ختم کردیا جائے تو بھی نماز درست ہو جائے گی، امام ابن قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب امام آخر نماز میں سلام سے پہلے قصداً وضو توڑ دے تو بھی اس کی نماز درست ہوگی۔ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھائی تو ارشاد فرمایا کہ جب تم (قعدہ اخیرہ میں) تشہد پڑھ چکو تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اُس کے بعد اگر تم چاہو تو اُٹھ جاؤ یا چاہو تو بیٹھے رہو۔ سلام سے پہلے اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کے بعد بیٹھے رہنے یا اٹھ جانے میں اختیار دے دینے سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا نہ تو فرض ہے نہ واجب، البتہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے بالعموم آخر میں لفظ سلام کہنے کو جو واجب قرار دیا ہے وہ احتیاط کی بناء پر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لفظ سلام سے نماز ختم فرمایا کرتے تھے ورنہ حقیقت میں لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر حدیث اعرابی سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کو نماز سکھائی تو لفظ سلام کا ذکر نہیں فرمایا اگر لفظ ”سلام“ واجب یا فرض ہوتا کہ اس کے بغیر نماز کا ختم کرنا درست نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لفظ سلام کا ذکر فرماتے۔ السعایہ میں مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازی قعدہ اخیرہ میں تشہد اور درود کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کرے اور یہ سنت ہے۔ (یہ مضمون عینی شرح ہدایہ، العنایہ، فتح القدیر اور منیۃ المصلی سے ماخوذ ہے۔) (یعنی اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا) فرائض نماز میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ نمازی عمداً کسی ایسے فعل سے جو منافی نماز ہو، اپنی نماز کو ختم کرے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ردالمحتار“ میں ”بحر“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نمازی کے لئے یہ فرض ہے کہ جب نماز پوری ہوجائے تو وہ نماز سے باہر ہونے کے لئے اپنے اختیار سے ایسی حرکت کرے جو نماز کے منافی ہو، تاتارخانیہ نے اس کی صراحت اس طرح کی ہے کہ نماز پوری ہونے پر قہقہہ مار کر ہنس دے یا قصداً وضو توڑ دے، یا بات کرے، یا اٹھ کر چلا جائے یا سلام کرے، نمازی عمداً اپنے کسی فعل سے نماز کے منافی حرکت کرتے تو اس سے نماز تو پوری ہوجاتی ہے لیکن اگر سلام کے ذریعہ نماز ختم کرلے تو بیک وقت فرض اور سنت دونوں ادا ہوجاتے ہیں۔