العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٠٢ - وَعَنْ عَلِيٌّ وَابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه)ما أَنَّهُمَا قَالَا: اقْرَأْ فِي الْأَوْلَيَيْنِ، وَسَبِّحْ فِي الْأُخْرَبَيْنِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
وَفِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: بِهِ أَخَذَ أَصْحَابُنَا، فَقَالُوا: لَا تَجِبُ قِرَاءَةٌ فِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي الْفَرَائِضِ، فَإِنْ سَبَّحَ فِيْهِمَا أَوْ قَامَ سَاكِنًا أَجْزَأَهُ، وَبِهِ قَالَ الثَّوْرِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَسَلَفُ أَهْلِ الْعِرَاقِ. انتهى
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: احادیث مذکورہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام اور تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور تین رکعت والی فرض کی نماز میں تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کی قرآت واجب نہیں ہے، ان رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بجائے سبحان اللہ پڑھے یا کچھ پڑھے بغیر خاموش رہے تو یہ کافی ہے مگر افضل یہ ہے کہ ان میں سورہ فاتحہ پڑھے اور یہ کافی ہونا اور افضل ہونا مذہب حنفی ہے، امام ثوری، امام اوزاعی اور حضرت ابراہیم نخعی اور عراق کے علماء سلف کا بھی یہی قول ہے۔ (یہ ” التعلیق الممجد“ اور ”عمدۃ الرعایۃ“ سے ماخوذ ہے۔)