English
From Jabir who said: The Messenger of Allah ﷺ went out to his companions and recited Surah Ar-Rahman to them from beginning to end, but they remained silent. So he said: I recited it to the Jinn on the night of the Jinn, and they responded better than you. Every time I reached فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ, they said: “None of Your blessings, our Lord, do we deny, so for You is all praise.”
العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٢٣ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجَ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوْا، فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَكَانُوْا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ، كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَى قَوْلِهِ: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ) قَالُوا: لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعْمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ، فَلَكَ الْحَمْدُ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ غَرِيبٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1397
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم (ایک روز) اپنے اصحاب کے پاس تشریف فرما ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر سورہ
رحمن کی تلاوت شروع سے آخر تک فرمائی، صحابہ قرأت کو خاموشی سے سنتے رہے تو حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میں نے لیلۃ الجن میں جس رات جنوں سے ملاقات ہوئی اور وہ ایمان سے مشرف
ہوئے) اسی سورہ رحمن کو جنوں کے سامنے پڑھا تو وہ جواب دینے میں تم سے اچھے رہے، جب بھی
میں اللہ تعالیٰ کے اس قول پر آیا ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ (اے جن و انس! تم اپنے پروردگار
کی کون کونسی نعمتوں سے مکرتے جاؤ گے؟) تو جنات نے کہا ”لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ
فَلَكَ الْحَمْدُ“ (اے پروردگار! ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت سے مکرتے نہیں بلکہ آپ کی
سب نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہیں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3291 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سورہ رحمن کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ جب بھی ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ پر پہنچے تو جواب میں لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ فوراً پڑھتا جائے۔ ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات نے جب سورہ رحمن سنا تو آیت ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ سننے کے بعد جواب میں انہوں نے لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ پڑھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایا اور اس کے بعد والی حدیث میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آیت ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ تلاوت فرمائی تو جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھے، اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو حدیث آگے آ رہی ہے اس میں بھی مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض آیتوں کی تلاوت کے بعد ان کا جواب دینے ارشاد فرمائے ہیں۔ ہمارے علماء احناف نے اس قسم کی تمام حدیثوں کا حکم خارج نماز تلاوت قرآن کرنے والے اور تنہا نفل نماز پڑھنے والے سے متعلق کیا ہے کہ یہ دونوں جب ایسی آیتوں پر پہنچیں تو وہ ان آیتوں کے پڑھنے کے بعد احادیث میں جو جوابات مذکور ہیں ان کو پڑھا کریں اس کے برخلاف فرض نمازوں میں امام ہو یا مقتدی دونوں کے لئے امام کے ان آیتوں کی قرأت کے وقت مذکورہ جوابات دینا جائز نہیں ہے، اور تنہا فرض نماز پڑھنے والے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی مذکورہ جوابات نہ دے اور ایسے ہی تراویح اور دوسرے نوافل جو جماعت سے پڑھے جاتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے کہ ان میں بھی مذکورہ جوابات کا دینا جائز نہیں۔ اسی طرح مقتدی اور امام اس قسم کی چیزوں میں بالکل برابر ہیں دونوں کا حکم ایک ہی ہے کہ امام یا مقتدی دونوں کے لئے ترغیب کی آیتوں کے پڑھتے وقت جنت کا سوال کرنا اور ترہیب (ڈرانے والی) آیتوں کے پڑھتے وقت دوزخ سے پناہ مانگنا اور تسبیح کی آیتوں (جن میں اللہ کی پاکی بیان کرنے کا حکم ہے) کے جواب میں سبحان اللہ کہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے پر درود پڑھنا یہ سب چیزیں نماز میں جائز نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کے بارے میں جو آیات اور حدیثیں آئی ہیں سب مطلق ہیں اس لئے اگر مقتدی ان آیات کو سننے کے بعد مذکورہ جوابات دے تو امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کا جو حکم ہے اس کے خلاف ہوگا اور اسی طرح امام کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ نماز میں قرأت کے سوا غیر قرآن پڑھے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جماعت والی فرض اور نفل نمازوں میں ایسے جوابات کا دینا ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء احناف نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ ان دلائل کے قطع نظر نماز میں امام کا قرآن کے سوا غیر قرآن پڑھنا مقتدیوں پر دشواری کا باعث ہوگا حالانکہ امام کو مقتدیوں کے لحاظ سے ہلکی نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ (یہ پورا مضمون فتح القدیر، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے۔)