English
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: the forehead, the two hands, the two knees, and the toes of the two feet. And we are not to gather our clothes or hair [during prostration]."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٤٥ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا نَكُفَّ الثَّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1421
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں نماز میں ان سات ہڈیوں کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کیا
کروں، (1) پیشانی، (2/3) دونوں ہاتھوں کے پنجے، (4/5) دونوں گھٹنے اور (6/7) دونوں پیروں
کی انگلیاں۔
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And they fall down upon their faces weeping, and it increases them in humility." (Quran 17:109) And His saying: "Prostrate and draw near [to Allah]." (Quran 96:19)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 490b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اگر دونوں پیر زمین سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ایک پیر اٹھ جائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات) یہ مردوں کا سجدہ ہے۔) عورتوں کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ پاؤں کو داہنی طرف نکال دیں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو رکھیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ دونوں رانوں سے اور بانہیں یعنی دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھا کر پہلو سے ملا دویں۔ (درمختار) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد اور عورتیں دونوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے کپڑوں کو ادھر سے ادھر نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کہنیوں تک چڑھائے ہوئے ہوں یا دامن سمیٹے ہوئے نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چڑھائے یا دامن سمیٹ لے تو نماز ٹوٹ جائے گی اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے۔ (ردالمحتار۔) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد جن کے سر کے بال دراز ہوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالوں کو نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر مرد عورتوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھیں تو نماز مکروہ ہوگی اس لئے مرد جوڑا کھول کر نماز پڑھیں اور اگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا ہی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوڑا باندھیں تو عورتوں کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز شروع کرے تو عورت کی نماز مکروہ نہ ہوگی جیسا کہ مرد کی نماز جوڑا باندھ کر پڑھنے سے مکروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، بحوالہ نیل الاوطار۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)