English
Zaid ibn Arqam (may Allah be pleased with him) narrated: We used to speak during prayer, with a man talking to his companion next to him in prayer, until the verse was revealed: "And stand before Allah in devotion" (Al-Baqarah: 238). We were then commanded to remain silent and forbidden from speaking. [Narrated by Muslim]
In "Jami' Al-Athar": The generality of speech and its incompatibility with the seriousness of prayer includes all speech.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٤٤ - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ(البقرة: (۲۳۸) فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوْتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ»: إِطْلَاقُ الْكَلَامِ وَكَذَا كُوْنُهُ مُنَافِيًا لِشُغْلِ الصَّلَاةِ يَعُمُّ كُلَّ كَلَامِ انْتَهَى
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1529
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نماز میں بات
چیت کر لیا کرتے تھے ایک نمازی اپنے بازو والے نمازی سے نماز میں بات کیا کرتا تھا (اور کوئی
ممانعت نہ تھی) مگر آیت ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (اللہ کے سامنے خاموش کھڑے رہو) کے نزول
کے بعد ہم کو نماز میں خاموش رہنے کا حکم ہو گیا اور نماز میں بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی گئی
۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 539 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 980 (unverified) 75% confidence
Mishkat (candidate) 980
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: جامع الآثار میں کہا ہے کہ اس حدیث میں ”وَنُهِيْنَا عَنِ الْكَلَامِ“ یعنی ہم کو (نماز میں) بات چیت کرنے سے منع کیا گیا کا ارشاد مطلق ہے کہ اس میں عمداً سہواً واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے ہو اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض سے کسی قسم کی قید نہیں ہے اس لئے نماز میں بات کرنے کی ممانعت ہر قسم کے کلام سے متعلق ہوگی۔