Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1426

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

Zujajat al-Masabih 1426Volume 1

English

It is narrated from Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he said: "We used to think that only a known hypocrite or a sick person would miss the prayer. Even the sick person would walk supported by two men to attend the prayer." He also said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught us the ways of guidance, and among the ways of guidance is to pray in the mosque where the call to prayer is made." In another narration, he said: "Whoever would be pleased to meet Allah as a Muslim, let him take care of these five prayers when they are called, for Allah has prescribed for your Prophet the ways of guidance, and these prayers are among the ways of guidance. If you were to pray in your homes as this person who stays behind prays in his home, you would be abandoning the Sunnah of your Prophet. If you abandon the Sunnah of your Prophet, you will go astray. There is no man who purifies himself and performs his purification well, then heads to one of these mosques, except that Allah writes for him a good deed for every step he takes, raises him a degree, and removes a sin from him. We used to see that only a known hypocrite would miss the prayer, and a man would be brought supported by two men until he was placed in the row."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٢٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه)قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضُ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذِّنُ فِيهِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظُ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ؛ فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى. وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُؤْتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلَّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ. وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوْهَا حَسَنَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً. وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقُ مَعْلُوْمُ النَّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1634Noor 1635
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے کہ (مساجد میں) جماعت کی نماز سے سوائے کھلم کھلا منافق یا مریض کے اور کوئی غیر حاضر نہ ہوتا تھا اگر کوئی بیمار ایسا ہوتا کہ دو آدمیوں کے سہارے سے پاؤں چل کر نماز میں آکر شریک ہوسکتا تھا وہ بھی آتا تھا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو ہدایت کے تمام طریقے سکھا دیئے ہیں، ہدایت کے انہی طریقوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ جس مسجد میں اذان ہوتی ہو، اس میں نماز پڑھی جائے (گھر میں نہ پڑھی جائے)۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو یہ بات پسند ہو کہ کل (قیامت میں) اللہ تعالیٰ سے سچا مسلمان بن کر ملاقات کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان پانچوں نمازوں کو ان مساجد میں (جماعت سے) پابندی کے ساتھ ادا کرے، جہاں ان کے لئے اذان دی جاتی ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدایت کے تمام طریقے مقرر فرما دیئے ہیں اور مسجدوں میں ان نمازوں کو (جماعت سے) ادا کرنا بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ اگر تم اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو گے (خواہ جماعت سے ہی کیوں نہ ہو) جیسا کہ یہ منافق اپنے گھر میں نماز پڑھا کرتا ہے تو تم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلاف ورزی کرو گے اور سنت نبوی کو ترک کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، پس جو شخص (سنن و مستحبات کے ساتھ) اچھی طرح وضو کر کے مسجد کو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر قدم پر اس کے واسطے ایک نیکی لکھتے ہیں، اپنے قرب کے درجوں میں ایک درجہ بلند کرتے ہیں، اور اس کا ایک ایک گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے جب کہ مساجد میں جماعت کی نماز سے سوائے کھلم کھلا منافق کے اور کوئی نہ رہ جاتا تھا، بعض مریضوں کو دو آدمی سہارا دے کر لاتے تھے اور لا کر جماعت کے ساتھ کھڑا کر دیتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 654b (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 654a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نمازوں کو جماعت سے ادا کرنا اور جماعت کو مسجد میں قائم کرنا واجب ہے (مرقات، اعلاء السنن)۔