Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1429

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

Zujajat al-Masabih 1429Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "If it were not for the women and children in the houses, I would have established the Isha prayer and ordered my young men to burn the houses with fire."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٢٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوْتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ، أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُوْنَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1638
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء کی جماعت قائم کرنے کا ارادہ کرتا اور اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے (بے عقلوں) کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1078 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1078

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ ”اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دینے کا حکم دیتا“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا جماعت سے ادا کرنا عورتوں اور بچوں پر واجب نہیں ہے، اگر عورتوں اور بچوں کے گھروں میں ہوتے ہوئے نماز میں نہ آنے والوں کی وجہ سے گھر جلا دئیے جاتے تو ان کے ساتھ یہ بے قصور بھی جن پر جماعت واجب نہ تھی جل جاتے، اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں کے جلانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔ ف(2): اس حدیث شریف میں نماز باجماعت میں شرکت کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد ہے ”أَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ“ (میں اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے بے عقلوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں) یہاں ان لوگوں کے لئے حرف ”من“ کی بجائے ”ما“ کا استعمال فرمایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ حرف ”ما“ کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے ہوتا ہے اور ”من“ کا استعمال ذوی العقول کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذوی العقول کے لئے حرف ”ما“ کا استعمال فرمانا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسجد کی نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والے واقعۃً بے عقل ہیں۔ (مرقات)