English
Abdullah ibn Umm Maktoum (may Allah be pleased with him) said: "O Messenger of Allah, Madinah is full of harmful creatures and wild animals, and I am blind. Do you find any concession for me?" The Prophet (peace be upon him) said: "Do you hear the call 'Hayya 'ala as-Salah, Hayya 'ala al-Falah' (Come to prayer, come to success)?" He replied: "Yes." The Prophet said: "Then respond to it." And he did not grant him any concession.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٣١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُمَّ مَكْتُوْمٍ (رضي الله عنه) قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسَّبَاعِ، وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَحَيَّ هَلَّا) وَلَمْ يُرَخَّصْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1640
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں موذی جانور اور درندے، بہت ہیں اور میں ہوں نابینا، تو کیا مجھے
(جماعت میں نہ آ کر) گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کیا تم ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ۔ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کی آواز سنتے ہو تو عبداللہ نے عرض
کیا: جی ہاں سنتا ہوں! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو عبداللہ! حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ سے تم کو جماعت میں حاضر ہونے کی ندا دی جا رہی ہے اور حاضر ہونے پر خوشخبری
سنائی جا رہی ہے، اس لئے تم کو اس ارشاد کی تعمیل کرنا ضروری ہے (تمہارے لئے عزیمت یہی ہے
کہ تم مسجد آ کر جماعت میں شریک ہوا کرو) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ان کو اجازت نہیں
دی (اس حدیث سے بھی نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 553 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.