Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1488

Chapter on The Position in Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Position in Prayer

Zujajat al-Masabih 1488Volume 1

English

Sahl ibn Sa'd Al-Sa'idi (may Allah be pleased with him) narrated that he was asked about what the pulpit was made of. He said, "It was made from the wood of the forest, crafted by so-and-so, the freed slave of so-and-so, for the Messenger of Allah (ﷺ). When it was made and placed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on it, faced the Qiblah, and said Takbir. The people stood behind him, and he recited, bowed, and the people bowed behind him. Then he raised his head, stepped back, and prostrated on the ground. Then he returned to the pulpit, recited, bowed, raised his head, stepped back, and prostrated on the ground. This is the wording of Bukhari. In the agreed-upon version, it is similar, and at the end, it says: When he finished, he turned to the people and said, 'O people, I only did this so that you may follow me and learn my prayer.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٨٨ - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ (رضي الله عنه): أَنَّهُ سُئِلَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ ؟ فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ لِرَسُوْلِ اللهِ ، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ حِيْنَ عُمِلَ وَوُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ، وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ نَحْوُهُ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُوْا بِي وَلِتَعْلَمُوْا صَلَاتِي».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1699
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر شریف کس چیز سے بنا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ مدینہ منورہ سے (9) میل کے فاصلہ پر غابہ نامی ایک جنگل ہے اس جنگل کے جھاؤ (جھاؤ ایک درخت ہوتا ہے، جس کی لکڑی ساگوان کی طرح عمدہ اور مضبوط ہوتی ہے۔12) نامی درخت کی لکڑی سے منبر شریف بنایا گیا تھا۔ اس منبر شریف کو عائشہ انصاریہ کے آزاد کردہ غلام باقوم رومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تیار کیا (جس کی تین سیڑھیاں تھیں ہر سیڑھی کی اونچائی ایک بالشت اور اس کا طول ایک ذراع یعنی ایک ہاتھ تھا) جب منبر شریف تیار ہوا اور (حسب ہدایت مسجد میں) رکھ دیا گیا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (صحابہ کو نماز سکھانے کے لئے منبر شریف کی سب سے نچلی سیڑھی پر) کھڑے ہوئے، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ ادا فرمائے اور صحابہ بھی (آپ کے اقتداء کر کے) آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ نے قرأت کی، رکوع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھائے اور قبلہ سے منہ پلٹائے بغیر منبر شریف سے نیچے اترے اور منبر کے بازو زمین پر سجدہ ادا فرمائے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل دو قدم میں ہوا اور یہ عمل قلیل ہے اور عمل قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی) (پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور قبلہ سے پلٹے بغیر) منبر شریف پر تشریف لائے، پھر قرأت کی، رکوع فرمایا اور رکوع سے سر اٹھائے اور قبلہ سے منہ پلٹائے بغیر پچھلے پیر منبر شریف سے نیچے اترے اور منبر شریف کے بازو زمین پر سجدہ فرمائے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے: میں نے یہ جو کچھ کیا ہے صرف اس لئے کہ تم میری نماز دیکھ لو) میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھ لو (اور لوگوں کو سکھاؤ)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 377 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 544a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز سکھانے کے لئے منبر شریف پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ اس بارے میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ضرورۃً امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہونا جائز ہے، ورنہ بلا ضرورت امام مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہو تو یہ مکروہ ہے، اس کی تائید حضرت عمار کی امامت والی مذکورہ حدیث اور اسی قسم کی دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔