Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1489

Chapter on The Position in Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Position in Prayer

Zujajat al-Masabih 1489Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed in his chamber, and the people followed him from behind the chamber. [Narrated by Abu Dawud] In Al-Mirqah: The chamber referred to is, as they said, the place he took for himself in the mosque made of palm leaves when he intended to seclude himself, not Aisha's chamber, otherwise she would have said, "my chamber."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٨٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُوْنَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي الْمِرْقَاةِ»: الْمُرَادُ بِالْحُجْرَةِ كَمَا قَالُوْهُ: الْمَحَلُّ الَّذِي اتَّخَذَهُ لا فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ حِيْنَ أَرَادَ الاعْتِكَافَ، لَا حُجْرَةُ عَائِشَةَ، وَإِلَّا قَالَتْ: حُجْرَتِي.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1700
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ((ان دنوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے اور آپ کے لئے حصیر کا ایک حجرہ بنایا گیا تھا)) آپ نے اس حجرہ میں (تراویح کی نیت سے) نماز پڑھی تو صحابہ کرام نے اس حجرہ کے باہر آپ کی اقتداء (اس طرح) کی (کہ آپ کے جسم مبارک کا اکثر حصہ مقتدیوں کو نظر آ رہا تھا، جس سے آپ کے افعال نماز مقتدیوں پر مشتبہ نہیں ہوتے تھے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1126 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اقتداء صحیح ہے بشرطیکہ امام اور مقتدی ایک مکان میں ہوں اور امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ نہ ہو، یہ درمختار میں مذکور ہے۔ چونکہ اس حدیث شریف میں صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء ایک ہی مقام میں کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بھی صحابہ پر مشتبہ نہ تھا اس لئے صحابہ کی اقتداء صحیح تھی۔ خلاصہ اس مسئلہ کا یہ ہے کہ مکان مختلف ہو یعنی امام اور مقتدی ایک مکان میں نہ ہوں تو اقتداء درست نہیں ہے اگرچیکہ امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو یا نہ ہو، ایسا ہی اگر امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو تو بھی اقتداء ناجائز ہے اگرچیکہ امام اور مقتدی کا مکان مختلف ہو یا نہ ہو۔ (یہ خلاصہ ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)