English
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) fell ill, and his illness became severe. He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." Aisha said, "He is a soft-hearted man. If he stands in your place, he will not be able to lead the people in prayer." He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." She repeated her objection, and he said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer, for you are like the companions of Yusuf (Joseph)." The messenger went to Abu Bakr, and he led the people in prayer during the lifetime of the Prophet (ﷺ). [Narrated by Bukhari and Muslim]
I say: Bukhari's chapter heading indicates that the most deserving of leading the prayer is the most knowledgeable, as he said, "Chapter on The people of knowledge and virtue are the most deserving of leading the prayer." Our scholars said: This Hadith is evidence that the most knowledgeable takes precedence over the one who is more proficient in recitation, because Abu Bakr was the most knowledgeable among them and was given precedence over Ubayy, who was the most proficient in recitation. The evidence for the first is the statement of Abu Sa'id: "Abu Bakr was the most knowledgeable among us." The evidence for the second is the Prophet's (ﷺ) statement: "The most proficient among you in recitation is Ubayy." This is the later of the two statements of the Messenger of Allah (ﷺ), so it is the one to be relied upon. This is mentioned in Fath Al-Qadir and Jami' Al-Athar.
In a narration by Al-Hakim and Al-Daraqutni: "The most knowledgeable among them in religion. If they are equal in knowledge, then the most proficient in Quranic recitation." In a narration by Muslim: "The earliest among them in migration. If they are equal in migration, then the eldest among them in age. Let no man lead another in his authority, nor sit in his house on his honor except with his permission." In another narration by Muslim: "Let no man lead another in his family."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٩٢ - عَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ ﷺ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ (رضي الله عنه): إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَعَادَتْ، فَقَالَ مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلَّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ، فَأَتَاهُ الرَّسُوْلُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ﷺ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ.
قُلْتُ: تَبْوِيبُ الْبُخَارِيِّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْأَحَقَّ بِالْإِمَامَةِ هُوَ الْأَعْلَمُ، حَيْثُ قَالَ: «بَابُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ». وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: يُسْتَدَلُّ بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَلَى تَقَدُّمِ الْأَعْلَمِ عَلَى الْأَقْرَأ ؛ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ أَعْلَمَهُمْ وَقَدَّمَ عَلَى أُبَيَّ كَانَ أَقْرَأَهُمْ دَلِيلُ الْأَوَّلِ قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ:
كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. وَدَلِيْلُ الثَّانِي قَوْلُهُ : أَقْرَؤُكُمْ أُبَيُّ. وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ اللهِ فَيَكُوْنُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ، كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَجَامِعِ الْآثَارِ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْحَاكِمِ وَالدَّارَقُطْنِي: فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّيْنِ، فَإِن كَانُوا فِي الْفِقْهِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ». وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةٌ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًا، وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَهُ: «وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1703
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جب اس مرض سے بیمار ہوئے (جس کے بعد آپ دنیا سے تشریف لے گئے) اور یہ بیماری
بہت بڑھ گئی (اور ناتوانی بیحد ہوگئی جس کی وجہ سے آپ باہر نہیں تشریف لاسکتے تھے، اس حالت میں
مؤذن نے حاضر ہوکر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی) تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد
فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ (امام ہوکر) وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (اس پر) ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: حضور! وہ بہت نرم دل (آدمی) ہیں (جب آپ کی جگہ خالی دیکھیں
گے تو ان پر ایسی رقت غالب ہوگی کہ) وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوکر (گریہ و بکا کی وجہ سے) لوگوں کو
نماز نہیں پڑھا سکیں گے (یہ سن کر) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نہیں جی! ابوبکر ہی سے
کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وہی عرض کیا جو پہلے عرض
کیا تھا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے (پھر) ارشاد فرمایا: نہیں! ابوبکر ہی سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں، عائشہ! تم تو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو
کہ جیسے وہ اپنی بات منوانے اڑی ہوئی تھیں تم بھی اپنی بات منوانے اڑی ہوئی ہو (یہ سن کر ام
المؤمنین خاموش ہوگئیں) اور حضور کی طرف سے پیام پہونچانے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیام پہنچایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ (حکم کی تعمیل کر کے) حضور علیہ
الصلوٰۃ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 678 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 420 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری، فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔