English
Abu Atiyyah Al-Uqayli reported that Malik ibn Al-Khuwayrith used to come to our prayer place and talk to us. One day, when the prayer time came, Abu Atiyyah said, "We said to him, 'Go forward and lead us in prayer.' He said to us, 'Let one of you lead the prayer, and I will tell you why I do not lead you: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Whoever visits a people should not lead them in prayer. Let one of them lead the prayer."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٩٣ - وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِي قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا. قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهِ، قَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَهُمْ، وَلْيَؤُمَهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ ﷺ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1704
ابو عطیہ عُقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مالک ابن الحویرث
رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بیان
فرمایا کرتے تھے اور بھی مسائل کا تذکرہ رہا کرتا تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ وہ تشریف فرما تھے اور نماز
کا وقت آ گیا، ہم نے ان سے عرض کیا: تشریف لائیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے فرمایا تم اپنے
لوگوں میں سے کسی کو امام بناؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ میں تمہیں کس
لئے نماز نہیں پڑھا رہا ہوں؟ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے
کہ جو شخص لوگوں کی ملاقات کو جائے تو ان کا امام نہ بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے۔ اس
کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور نسائی نے صرف متن حدیث کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 596 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 356 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 786 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جو شخص لوگوں کو ملاقات کو جائے تو ان لوگوں کا امام نہ بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے“ یہ حکم بظاہر مطلق معلوم ہوتا ہے یعنی خواہ مقامی لوگ اجازت دیں یا نہ دیں کسی حال میں بھی ملاقات کے لئے جانے والے کو امام نہ بننا چاہئے۔ مگر حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اسی قسم کی جو حدیثیں مروی ہیں ان میں ”إِلَّا بِإِذْنِهِ“ کا استثناء صاف موجود ہے یعنی ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان لوگوں کی امامت کر سکتا ہے، اس لئے صدر کی حدیث جو مالک ابن الحویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بھی ان حدیثوں میں جو اجازت مروی ہے اس سے مقید ہو جائے گی اس لئے ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان کی امامت کر سکتا ہے۔ اب رہا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے مقامی لوگوں کی اجازت کے باوجود جو امامت نہیں کی تو یہ ان کا اپنا احتیاط تھا کہ انہوں نے اس حدیث شریف کے مطلق حکم کو مطلق رکھا اور باوجود اجازت کے امامت نہیں فرمائی۔ (منتقی، اشعۃ اللمعات)۔