اردو
سلامۃ بنت الحر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ (جہالت اور
مسائل سے ناواقفیت ایسی عام ہو جائے گی کہ) مسجد میں لوگ نماز کے لئے جمع ہوں گے، اور ہر ایک
خود نماز نہ پڑھا کر دوسرے کو نماز پڑھانے کہے گا (اور نااہل ہونے کی وجہ سے) کوئی ان کو نماز
پڑھانے والا نہیں ملے گا (اس سے معلوم ہوا کہ امامت کی اہلیت رکھنے کے باوجود امامت سے گریز
کرنا اور امامت نہ کرنا مکروہ ہے) اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے کہ تین شخص بھی ہوں تو ان میں کوئی ایک
امام بنے (اور ایک دوسرے پر نہ ڈھکیلیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 581 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 672 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 982 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement "Salamah bint Al-Hurr" in the original text of the author is "Salamah bint Al-Harith."
Note 2
(2) The statement "They will not find an imam to lead them in prayer": Ali Al-Qari said that this is why later scholars from our companions permitted taking wages for imamate, adhan, and similar acts like teaching the Quran, unlike the earlier scholars who prohibited taking wages for acts of worship.
Note 1
(۱) قوله: سلامة بنت الحر وفي أصل المؤلف: «سلامة بنت الحارث».
Note 2
(٢) قوله: لا يجدون إماما يصلي بهم : قال علي القاري ولذا أجاز المتأخرون من أصحابنا أخذ الأجرة على الإمامة، والأذان ونحوهما من تعليم القرآن، بخلاف المتقدمين؛ فإنهم كانوا يحرمون الأجرة على العبادة.