English
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that he said: A man came after the Messenger of Allah (peace be upon him) had already prayed. The Prophet (peace be upon him) said: "Is there no one who will show kindness to this man and pray with him?" A man stood up and prayed with him. [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud]
Al-Tabarani also narrated it in "Al-Kabir" and "Al-Awsat."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٥٢٥ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلَّى مَعَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى الطَّبَرَانِي فِي الْكَبِيْرِ» وَالْأَوْسَطِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1745
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب
(مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے) ایسے وقت حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جماعت
سے) نماز پڑھ چکے تھے (جو لوگ جماعت کے پابند ہوتے ہیں ان کو جماعت نہ ملنے کا بہت رنج ہوتا
ہے، یہ محسوس فرما کر جماعت ہونے کے بعد آنے والے صحابی کی تسلی کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (چونکہ ان کو جماعت نہیں ملی ہے اس لئے) کوئی صاحب ان پر احسان
کر کے ان کے ساتھ صورۃً جماعت بنا کر نماز ادا کریں (اس سے جماعت نہ ملنے والے کو جماعت
کا جو ثواب ملے گا وہ پہلی جماعت کا ثواب نہ ہوگا مگر پھر بھی جو کچھ اجر ملے گا، جو شخص شریک ہو کر ان
کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے سمجھا جائے گا کہ یہ شخص اس پر ثواب خیرات کر رہا ہے) یہ سن کر ایک صحابی
کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت بنا کر نماز ادا کئے۔
(اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 220 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 574 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو، اس مسجد میں دوبارہ پھر جماعت کرنا حنفی، شافعی اور مالکی تینوں (عمدۃ القاری، اعلاء السنن بحوالہ رحمۃ الامۃ) مذاہب میں مکروہ تحریمی ہے، جماعت ثانیہ کا مکروہ تحریمی ہونا رد المحتار میں مذکور ہے۔ اب رہا اس حدیث سے بظاہر جماعت ثانیہ کا جائز ہونا جو معلوم ہو رہا ہے، اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ حقیقۃً جماعت نہیں ہے بلکہ صورۃً جماعت ہے۔ اور صورۃً جماعت یہ ہے کہ امام تو فرض نماز ادا کر رہا ہو، اور مقتدی نفل کی نیت سے اس کی اقتداء کر رہا ہے اور حقیقۃً جماعت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہاں صورۃً جماعت ہوئی ہے اور ایسی جماعت کے بارے میں ہمارے ائمہ میں سے کسی امام نے کراہت نہیں بتائی ہے، اس کے برخلاف حقیقۃً جماعت کی صورت میں جب کہ کوئی امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کرنے کے لئے جماعت ثانیہ قائم کریں تو ایسی جماعت کو اکثر ائمہ نے مکروہ قرار دیا ہے، جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے۔ (یہ بذل المجہود میں مذکور ہے۔)