Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1532

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

Zujajat al-Masabih 1532Volume 1

English

It is narrated from Sulayman, the freed slave of Maymunah, that he said: "We came to Ibn Umar (may Allah be pleased with him) while he was on the pavement, and the people were praying. I said: 'Will you not pray with them?' He said: 'I have already prayed, and I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Do not pray the same prayer twice in one day."'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i] In "At-Ta'liq al-Mumajjad," it is explained: "This means: Do not pray the same prayer twice with the intention of obligation, making both obligatory. Rather, the first is obligatory, and the second is voluntary."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٢ - وَعَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُوْنَةَ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ. وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوْا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَفِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: مَعْنَاهُ: لَا تُصَلُّوا عَلَى وَجْهِ الافْتِرَاضِ بِأَنْ تَجْعَلُوْا كِلْتَيْهِمَا فَرِيضَةً، بَلِ الْأَوْلَى فَرِيضَةً وَالثَّانِيَةَ نَافِلَةً. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1756
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے باہر جو چبوترہ تھا جس کو بلاط کہتے تھے وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ادھر مسجد میں جماعت ہو رہی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ جماعت میں شریک نہ ہو کر یہاں کیوں بیٹھے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں ایک بار (جیسا کہ تعلیق ممجد میں مذکور ہے۔12) (فرض کی نیت سے جماعت سے) نماز پڑھ چکا ہوں، اس لئے پھر دوبارہ (فرض کی نیت سے) جماعت میں شریک نہیں ہوا۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ایک ہی دن میں ایک وقت کی نماز کو (فرض کی نیت سے) پڑھ کر دوبارہ فرض کی نیت سے نہ پڑھا کرو۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 579 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 860 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرض کی نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اس لئے دوبارہ فرض کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے تھے تو ان کو چاہئے تھا کہ نفل کی نیت سے شریک جماعت ہوجاتے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جماعت کے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کو وہی نماز پھر دوبارہ نفل کی نیت سے بھی جماعت میں شریک ہو کر نہ پڑھنا چاہئے۔ اس لئے آپ نفل کی نیت سے بھی شریک جماعت نہیں ہوئے۔ مرقات۔