Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 30

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

40 narrations · In source reading order

Hadith 1528

Volume 1

English

It is narrated from Sulaym, a man from Banu Salimah, that he came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Muadh ibn Jabal comes to us after we have slept and are engaged in our daytime work. He calls for prayer, so we come out to him, but he prolongs the prayer for us." The Prophet (peace be upon him) said to Muadh: "O Muadh, do not be a cause of Fitnah (trial). Either pray with me or lighten the prayer for your people." [Narrated by Ahmad and At-Tahawi] Imam Ibn al-Humam said: "The Prophet (peace be upon him) gave him two options: either pray with him and not lead his people, or lead his people with a shortened prayer and not pray with him. This is the literal meaning of the text, indicating that he was prohibited from leading the prayer if he prayed with the Prophet (peace be upon him). However, his leading the prayer is not prohibited by consensus. Thus, it is understood that he was prohibited from performing the obligatory prayer (with the Prophet) and then leading his people in the same prayer." Al-Allamah Al-Ayni said: "This is the opinion of Az-Zuhri, Al-Hasan Al-Basri, Sa'id ibn Al-Musayyib, An-Nakhai, Abu Qilabah, Yahya ibn Sa'id Al-Ansari, Mujahid, and Tawus." At-Tahawi responded to the hadith of Muadh, which indicates the permissibility of an obligated person following someone performing a voluntary prayer, by saying that it is abrogated. He argued that Muadh's Islam was earlier, and after years of Hijrah, the Prophet (peace be upon him) performed the prayer of fear multiple times, which involved actions contrary to the usual prayer. If it were permissible for an obligated person to follow someone performing a voluntary prayer, it would have been possible to perform the prayer twice without contradiction or corruption, but since this was not done, it indicates that it is not permissible.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٢٨ - عَنْ سُلَيْمٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ (رضي الله عنه) يَأْتِيْنَا بَعْدَ مَا نَنَامُ، وَنَكُوْنُ فِي أَعْمَالِنَا بِالنَّهَارِ، فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِ، فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ : يَا مُعَاذُ ، لَا تَكُنْ فَتَانًا، إِمَّا أَنْ تُصَلِّي مَعِي، وَإِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلَى قَوْمِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّحَاوِيُّ. وَقَالَ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ : فَشَرَعَ لَهُ أَحَدَ الْأَمْرَيْنِ: الصَّلَاةَ مَعَهُ وَلَا يُصَلِّي بِقَوْمِهِ، أَوِ الصَّلَاةَ بِقَوْمِهِ عَلَى وَجْهِ التَّخْفِيفِ وَلَا يُصَلِّي مَعَهُ. هَذَا حَقِيقَةُ اللَّفْظِ أَفَادَ مَنْعَهُ مِنَ الْإِمَامَةِ إِذَا صَلَّى مَعَهُ ، وَلَا تُمْنَعُ إِمَامَتُهُ بِالاتَّفَاقِ. فَعُلِمَ أَنَّهُ مَنَعَهُ مِنَ الْفَرْضِ انْتَهَى وَقَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: وَبِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَالنَّخَعِيُّ وَأَبُو قِلَابَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَمُجَاهِدُ وَطَاوُسٌ. وَأَجَابَ الطَّحَاوِيُّ عَنْ حَدِيْثِ مُعَادٍ الَّذِي يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ اقْتِدَاءِ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ بِأَنَّهُ مَنْسُوْخُ، وَيَسْتَدِلُّ عَلَى ذَلِكَ بِوَجْهِ حَسَنٍ، وَذَلِكَ أَنَّ إِسْلَامَ مُعَادٍ مُتَقَدِّمُ، وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ بَعْدَ سِنِينَ مِنَ الْهِجْرَةِ صَلَاةَ الْخَوْفِ غَيْرَ مَرَّةٍ مِنْ وَجْهِ وَقَعَ فِيْهِ مُخَالَفَةٌ ظَاهِرِةٌ بِالْأَفْعَالِ الْمُنَاقِضَةِ لِلصَّلَاةِ، فَيُقَالُ: لَوْ جَازَتْ صَلَاةُ الْمُفْتَرِضِ خَلْفَ الْمُتَتَّفِلِ لَأَمْكَنَ إِيْقَاعُ الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ عَلَى وَجْهِ لَا تَقَعُ فِيهَا الْمُنَافَاةُ وَالْمُفْسِدَاتُ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْحَالَةِ، وَحَيْثُ صُلِّيَتْ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ مَعَ إِمْكَانِ دَفْعِ الْمُفْسِدَاتِ عَلَى تَقْدِيرِ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوْزُ ذَلِكَ، كَذَا فِي عُمْدَةِ الْقَارِي».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1749
بنی سلمہ کے ایک صاحب جن کا نام سلیم تھا ان سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (آپ کے ساتھ مقتدی بن کر عشاء کی فرض پڑھ کر) ہمارے سو جانے کے بعد (ہم کو عشاء کی نماز پڑھانے کے لئے) آیا کرتے ہیں، اور ہم دن بھر کے کاروبار سے تھکے ہوئے رہتے ہیں، جب وہ اذان دیتے تو ہم نماز کے لئے (اپنے گھروں سے) نکل آتے ہیں (جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نفل کی نیت سے امامت کرتے تھے اور ساری جماعت فرض کی نیت سے اقتداء کرتی تھی اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دی گئی تھی، جب معاذ رضی اللہ عنہ کی یہ شکایت حضور سے پیش ہوئی کہ) معاذ رضی اللہ عنہ طویل قرأت سے نماز پڑھایا کرتے ہیں (اس وقت یہ بھی ظاہر ہوا کہ نفل کی نیت سے امام ہوا کرتے ہیں) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! تم طویل قرأت پڑھ کر لوگوں کو فتنہ میں مت ڈالو (اب تک تم نے نفل کی نیت سے جو امامت کی ہے آئندہ کے لئے اس کو منسوخ سمجھو، دو میں سے کوئی ایک کام کرو) میرے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھو تو قوم کو پھر دوبارہ نہ پڑھاؤ۔ اگر قوم کو نماز پڑھاتے ہو تو (اپنی نماز میرے ساتھ نہ پڑھو اور) قوم کو طویل قرأت سے نماز نہ پڑھاؤ۔ (اس کی روایت امام احمد اور امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا فرض کی نیت سے اقتداء کرنا ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار پایا۔ فرض پڑھنے والے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بننا جائز نہ ہونے پر ایک اور دلیل ”صلاۃ خوف“ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد کئی بار ادا فرمائی ہے۔ پہلے ”صلاۃ خوف“ کو سمجھئے صلاۃ خوف یہ ہے کہ جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سب لوگ مل کر جماعت سے بیک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہوں، مثلاً قصر نماز ہو رہی ہو تو مسلمانوں کے دو حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ نماز شروع کر دے، جب امام ایک رکعت ختم کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابل تھا وہاں سے آ کر امام کے ساتھ امام کی بقیہ نماز میں شریک ہو جائے اور جب امام ختم نماز پر سلام پھیر دے تو یہ دوسرا حصہ سلام پھیرے بغیر دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور پہلا حصہ جو دشمن کے مقابلہ کو گیا تھا پھر واپس ہو کر اپنی بقیہ نماز لاحق کی طرح بغیر قرأت کے تکمیل کر لے، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا حصہ واپس ہو کر اپنی نماز قرأت کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کر لے اور سلام پھیر دے۔ صلاۃ خوف کو سمجھنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جو صلاۃ خوف میں ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے کہ آپ نے اکثر غزوات میں جو ہجرت کے بعد ہوئے ہیں، مذکورہ صلاۃ خوف کے طریقہ پر نماز ادا فرمائی ہے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کر سکتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فوج کو فرض کی نیت سے پوری نماز پڑھا دیتے اور باقی نصف فوج کو دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑھاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقتداء کرتے، اس صورت میں نماز کے منافی کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض کی نیت سے آدھی فوج کو ایک رکعت اور بقیہ نصف کو جو ایک ایک رکعت پڑھائی، جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ امام نفل کی نیت سے فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ، حضرت یحییٰ بن سعید انصاری، حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ صلاۃ خوف کے واقعات جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، ہجرت کے بعد آخری زمانہ کے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول فرما لیا تھا اور ابتدا روزانہ میں ایک ہی نماز کو ایک مرتبہ فرض کی نیت سے ادا کر کے پھر دوبارہ اسی نماز کو نفل کی نیت سے پڑھاتے اور اقتدا کرنے والے فرض کی نیت سے اقتدا کرتے تھے، چونکہ صلاۃ خوف کے واقعات آخری زمانہ کے ہیں اور حضرت معاذ کا واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نفل کی نیت سے قوم کو فرض نماز پڑھانے کا منسوخ ہونا صلاۃ خوف سے بھی ثابت ہوتا ہے (طحاوی، عمدۃ القاری اور ابن ہمام)۔

Hadith 1529

Volume 1

English

It is narrated from Al-Aswad ibn Jabir, from his father, that two men prayed Dhuhr in their homes during the time of the Prophet (peace be upon him), thinking that the people had already prayed. Then they came to the mosque and found the Prophet (peace be upon him) leading the prayer. They sat in a corner of the mosque, thinking that the prayer was not valid for them. When the Prophet (peace be upon him) finished, he saw them and sent for them. They were brought to him, trembling with fear that something had gone wrong. He asked them, and they informed him of what had happened. He said: "If you do that, pray with the people, and consider the first prayer as the obligatory one." [Narrated by our Imam Abu Hanifah] In a narration by Muhammad: "Consider the first prayer as the obligatory one and the second as voluntary." In a narration by Al-Bayhaqi: "If you pray in your homes and then come to the imam, pray with him, and let that be voluntary, while the one in your homes is the obligatory prayer." In a narration by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i: The Prophet (peace be upon him) said: "What prevented you from praying with us?" They said: "O Messenger of Allah, we had already prayed in our homes." He said: "Do not do that. If you pray in your homes and then come to a mosque with a congregation, pray with them, for it will be voluntary for you."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٢٩ - وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا الظُّهْرَ فِي بُيُؤْتِهِمَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، ثُمَّ أَتَيَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي الصَّلَاةِ، فَقَعَدَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَحِلُّ لَهُمَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ رَآهُمَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجِيْءَ بِهِمَا وَفَرَائِصُهُمَا تُرْعَدُ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَكُوْنَ قَدْ حَدَثَ فِي أَمْرِهِمَا شَيْءٌ، فَسَأَلَهُمَا، فَأَخْبَرَاهُ الخَبَرَ ، فَقَالَ: إِذَا فَعَلْتُمَا ذَلِكَ فَصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، وَاجْعَلَا الْأَوْلَى هِيَ الْفَرِيضَةَ. رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ. وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدٍ: وَاجْعَلُوا الْأَوْلَى فَرِيضَةً، وَهَذِهِ نَافِلَةً». وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِي: «إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِجَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلِّيَا مَعَهُ، فَتَكُوْنَ لَكُمَا نَافِلَةً، وَالَّتِي فِي رِحَالِكُمَا فَرِيضَةً». وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِي وَأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِي: فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلَّيَا مَعَنَا؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلَّيَا مَعَهُمْ؛ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
5/1750-1753۔ اسود بن جابر رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ظہر کی نماز اپنے اپنے گھر میں اس خیال سے پڑھ لیتے تھے کہ (مسجد میں) لوگ (جماعت سے نماز) پڑھ چکے ہوں گے، پھر یہ دونوں جب مسجد کو آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں ان دونوں نے اپنے خیال میں سمجھا کہ (ایک دفعہ تنہا نماز پڑھ لینے کے بعد دوبارہ) اسی نماز کو جماعت سے پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی لئے یہ دونوں ایک طرف مسجد میں (نماز میں شریک ہوئے بغیر ہی) بیٹھ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ان دونوں کو دیکھا کہ (جماعت میں شریک ہوئے بغیر علیحدہ) بیٹھے ہوئے ہیں، اس لئے آپ نے کسی کو بھیجا کہ ان دونوں کو بلا لائے، وہ دونوں جب خدمت اقدس میں حاضر کئے گئے تو ان دونوں کی حالت یہ تھی کہ وہ خوف و ہیبت سے کانپ رہے تھے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی نیا حکم تو نہیں نازل ہوا ہے؟ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ جماعت میں شریک نہ ہو کر علیحدہ بیٹھنے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے اپنا سارا قصہ کہہ سنایا (اور ظاہر کیا کہ چونکہ ہم گھروں سے نماز پڑھ کر آئے تھے اس لئے پھر دوبارہ جماعت میں شریک ہو کر نماز پڑھنے کو ناجائز سمجھے تھے حضور! ہم اسی وجہ سے علیحدہ بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: سنو! جب تم نے (فرض کی نیت سے) تنہا نماز پڑھ لی ہو اور پھر جماعت میں شریک ہونے کا موقع آئے تو دوبارہ جماعت میں شریک ہوجایا کرو، اور پہلے جو نماز پڑھ چکے ہو اس کو ہی فرض سمجھو اور جماعت (جیسا کہ موطا امام محمد میں مذکور ہے۔12) سے جو نماز پڑھی جائے گی اس کو نفل خیال کرو۔ اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور بیہقی، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور شرح زرقانی میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ فجر، عصر اور مغرب اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، اس لئے ان نمازوں کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ جماعت سے نہیں پڑھنا چاہئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 219 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 575 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 858 (unverified) 55% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1152 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 1152

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فرض نماز کو تنہا پڑھ کر مسجد کو پہنچے اور دیکھے کہ بعد میں جماعت ہو رہی ہے تو وہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم اُس شخص سے متعلق ہے جو تنہا نماز پڑھ چکا ہو، اور اگر کوئی شخص کسی مسجد میں جماعت سے نماز ادا کر کے کسی دوسری مسجد میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں وہی نماز جماعت سے ہو رہی ہو تو ایسے شخص کو جماعت میں شریک نہ ہونا چاہئے، امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ تینوں اسی کے قائل ہیں۔ (یہ اعلاء السنن میں مذکور ہیں)

Hadith 1530

Volume 1

English

It is narrated from Busr ibn Mihjan, from his father, that he was in a gathering with the Messenger of Allah (peace be upon him) when the call to prayer was made. The Prophet (peace be upon him) stood, prayed, and returned, while Mihjan remained in his place. The Prophet (peace be upon him) said to him: "What prevented you from praying with the people? Are you not a Muslim?" He said: "Yes, O Messenger of Allah, but I had already prayed with my family." The Prophet (peace be upon him) said: "When you come to the mosque and have already prayed, and the prayer is established, pray with the people even if you have already prayed."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٠ - وَعَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنِ، عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَأُذْنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَصَلَّى وَرَجَعَ، وَمِحْجَنُ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ : «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّي مَعَ النَّاسِ ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟» فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَكُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّ مَعَ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ». رَوَاهُ مَالِكُ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1754
بسر بن محجن رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت محجن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت محجن (ایک دفعہ) مسجد کے کسی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے (اذان تو ہوچکی تھی اور جب) اقامت (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے، نماز ادا فرمائے اور (نماز سے پہلے) مسجد میں جس جگہ بیٹھے ہوئے تھے وہیں تشریف لائے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ محجن (جماعت) میں شریک ہوئے بغیر ہی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیوں محجن! مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کون سی چیز مانع ہوئی! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ محجن (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: حضور! میں مسلمان ہوں، نماز میں شریک نہ ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے جماعت میں شریک نہیں ہوا کہ میں اپنے اہل و عیال میں (تنہا) نماز پڑھ کر آیا تھا (پھر دوبارہ نماز میں شریک ہونے کو جائز نہیں سمجھا یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو! محجن جب تم تنہا نماز پڑھ کر مسجد میں آؤ اور دیکھو اقامت ہو رہی ہے تو مسلمانوں کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز میں شریک ہو جایا کرو اگرچہ تم وہی نماز فرض کی نیت سے پڑھ چکے ہو۔ (اس کی روایت امام مالک اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 857 (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ یہ حدیث اور اس کے بعد کی چند حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تنہا نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں جماعت مل جانے سے پانچوں نمازوں کو نفل کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ حکم صرف ظہر اور عشاء سے متعلق ہے، رہا فجر، عصر اور مغرب کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ نہ پڑھنے کی حدیثیں دارقطنی، امام مالک اور عبدالرزاق سے آگے آ رہی ہیں۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔

Hadith 1531

Volume 1

English

It is narrated from a man from Asad ibn Khuzaymah that he asked Abu Ayyub Al-Ansari (may Allah be pleased with him): "If one of us prays at home and then comes to the mosque and the prayer is established, should he pray with them? I feel uneasy about that." Abu Ayyub said: "We asked the Prophet (peace be upon him) about that, and he said: 'That will be a share of the congregation for him.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣١ - وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ: أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوْبَ الْأَنْصَارِيَّ (رضي الله عنه) قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ، فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «فَذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ». رَوَاهُ مَالِكُ وَأَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1755
قبیلہ اسد بن خزیمہ کے ایک صاحب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے مکان میں تنہا نماز پڑھ لے، پھر وہ مسجد آئے اور دیکھے کہ نماز کے لئے اقامت ہو رہی ہے تو کیا وہ ایسی صورت میں (نفل کی نیت سے) جماعت میں شریک ہو سکتا ہے؟ مجھے تو اس میں شک ہے (کیا جو صورت بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے؟) تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: (شک کی ضرورت نہیں) ہم نے اس مسئلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تحقیق کر لی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو بھی جماعت کا پورا ثواب ملتا ہے۔ (بشرطیکہ فجر، عصر اور مغرب نہ ہوں اس لئے کہ ان نمازوں کو تنہا پڑھ لینے کے بعد دوبارہ ان نمازوں کی جماعتوں میں شریک نہ ہونا چاہئے اس کی صراحت دارقطنی کی حدیث سے آگے آ رہی ہے)۔ (اس کی روایت امام مالک اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 578 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1532

Volume 1

English

It is narrated from Sulayman, the freed slave of Maymunah, that he said: "We came to Ibn Umar (may Allah be pleased with him) while he was on the pavement, and the people were praying. I said: 'Will you not pray with them?' He said: 'I have already prayed, and I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Do not pray the same prayer twice in one day."'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i] In "At-Ta'liq al-Mumajjad," it is explained: "This means: Do not pray the same prayer twice with the intention of obligation, making both obligatory. Rather, the first is obligatory, and the second is voluntary."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٢ - وَعَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُوْنَةَ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ. وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوْا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَفِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: مَعْنَاهُ: لَا تُصَلُّوا عَلَى وَجْهِ الافْتِرَاضِ بِأَنْ تَجْعَلُوْا كِلْتَيْهِمَا فَرِيضَةً، بَلِ الْأَوْلَى فَرِيضَةً وَالثَّانِيَةَ نَافِلَةً. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1756
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے باہر جو چبوترہ تھا جس کو بلاط کہتے تھے وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ادھر مسجد میں جماعت ہو رہی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ جماعت میں شریک نہ ہو کر یہاں کیوں بیٹھے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں ایک بار (جیسا کہ تعلیق ممجد میں مذکور ہے۔12) (فرض کی نیت سے جماعت سے) نماز پڑھ چکا ہوں، اس لئے پھر دوبارہ (فرض کی نیت سے) جماعت میں شریک نہیں ہوا۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ایک ہی دن میں ایک وقت کی نماز کو (فرض کی نیت سے) پڑھ کر دوبارہ فرض کی نیت سے نہ پڑھا کرو۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 579 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 860 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرض کی نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اس لئے دوبارہ فرض کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے تھے تو ان کو چاہئے تھا کہ نفل کی نیت سے شریک جماعت ہوجاتے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جماعت کے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھ چکے تھے اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کو وہی نماز پھر دوبارہ نفل کی نیت سے بھی جماعت میں شریک ہو کر نہ پڑھنا چاہئے۔ اس لئے آپ نفل کی نیت سے بھی شریک جماعت نہیں ہوئے۔ مرقات۔

Hadith 1533

Volume 1

English

It is narrated from Nafi' that Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say: "Whoever prays Maghrib or Fajr and then catches them again with the imam should not repeat them."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٣ - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ (رضي الله عنهما) كَانَ يَقُوْلُ: مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يُعِدْ لَهُمَا. رَوَاهُ مَالِكُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1757
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مغرب یا صبح کی فرض نماز کو (تنہا) پڑھے (یا جماعت سے) پھر یہ نمازیں کہیں جماعت سے پڑھی جا رہی ہوں اور اس کو جماعت میں شریک ہونے کا موقع آئے تو ایسے شخص کو (نفل کی نیت سے بھی) دوبارہ ان نمازوں کی جماعت میں شریک نہ ہونا چاہئے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 297 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ فجر اور مغرب کے فرض ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد پھر دوبارہ ان نمازوں کو پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اب رہی عصر کی نماز تو اس کا بھی یہی حکم ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی روایت جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں صبح کے فرض کے بعد جیسے نفل کا جائز نہ ہونا مذکور ہے ایسے ہی عصر کے فرض کے بعد بھی نفل کے جائز نہ ہونے کا ذکر ہے۔ اسی طرح بخاری اور مسلم کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں صبح کی نماز کے بعد جماعت میں شریک نہ ہونے کی جیسے ممانعت ہے ویسے ہی عصر کے فرض کے بعد جماعت میں شریک ہونے کی ممانعت ہے، اب رہی یہ بات کہ صدر کی حدیث میں جو نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں عصر کی نماز کا کیوں ذکر نہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے فجر اور مغرب کا ذکر آیا تھا اس لئے آپ نے صرف ان دونوں ہی کا حکم بتلایا اور اگر حضرت ابن عمر کے سامنے عصر کا بھی ذکر آتا تو اس کا بھی یہی جواب ارشاد فرماتے۔ اب رہا یہ کہ جب مغرب کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے تو پھر ایسے شخص کو جس نے مغرب کے فرض پڑھ لئے ہوں اس کو دوبارہ جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہونے سے کیوں منع کیا جا رہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تین رکعت کا نفل کی نیت سے ادا کرنا بتیر (نفل میں تین رکعت ہیں) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اگرچہ کہ ایسا شخص امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کا اضافہ کرکے نماز کو جفت ہی کیوں نہ کرلے، اس لئے کہ مقتدی پر امام کی متابعت ضروری ہے اور اس صورت میں مقتدی کا امام کی نماز پر زیادتی کرنا لازم آتا ہے اسی وجہ سے نفل کی نیت سے بھی مغرب کی نماز میں دوبارہ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔

Hadith 1534

Volume 1

English

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "If you pray at home and then catch the prayer (in congregation), pray it except for Fajr and Maghrib." [Narrated by Al-Daraqutni] Sheikh Ibn al-Humam said: "Abdul Haq said: Sahl ibn Salih Al-Antaki alone narrated it as a marfu' hadith, and he was trustworthy. If that is the case, then the fact that others narrated it as a mawquf (stopped at a companion) narration does not harm it, because the addition of a trustworthy narrator is acceptable."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِذَا صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ ثُمَّ أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلَّهَا إِلَّا الْفَجْرَ وَالْمَغْرِبَ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ. وَقَالَ الشَّيْخُ ابْنُ الْهُمَامِ: قَالَ عَبْدُ الْحَقِّ: تَفَرَّدَ بِرَفْعِهِ سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَكَانَ ثِقَةٌ. وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ وَقْفُ مَنْ وَقفَهُ ؛ لِأَنَّ زِيَادَةَ الثَّقَةِ مَقْبُوْلَةٌ. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1758
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر میں کوئی فرض نماز پڑھ لی (اس کے بعد مسجد آئے اور جماعت ہو رہی ہو تو) (نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوکر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو۔ مگر فجر اور مغرب میں ایسا موقع آئے تو نفل کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہئے۔ (ایسا ہی عصر کی جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہونے کا موقع آئے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ ہونا چاہئے جیسا کہ اس کی تحقیق ابھی اوپر گزر چکی ہے)۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 1535

Volume 1

English

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: "If you have prayed at home and then catch the prayer in the mosque with the imam, pray with him except for Fajr and Maghrib, for they are not prayed twice."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٥ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ، ثُمَّ أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْإِمَامِ، فَصَلِّ مَعَهُ غَيْرَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ؛ فَإِنَّهُمَا لَا يُصَلِّيَانِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1759
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب تم نے اپنے گھر میں کوئی فرض نماز پڑھ لی اور اس کے بعد مسجد میں آئے اور جماعت ہورہی ہو تو نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوکر) اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیا کرو، مگر فجر اور مغرب میں ایسا موقع آئے تو نفل کی نیت سے بھی اس میں شریک نہ ہونا چاہئے (ایسا ہی عصر کی جماعت میں بھی دوبارہ شریک ہونے کا موقع آئے تو فجر اور مغرب کی طرح عصر میں بھی شریک نہ ہونا چاہئے جیسا کہ اس کی تحقیق ابھی اوپر گزر چکی ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ (اگر کوئی نفل کی نیت کی بجائے فرض کی نیت سے شریک ہونا چاہے تو بھی وہ شریک جماعت نہیں ہوسکتا اس لئے کہ) فجر ہو یا مغرب (یا ان کی سوا کوئی اور فرض نماز) دن میں دوبار (فرض کی نیت سے) نہیں پڑھی جاتی۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)

Hadith 1536

Volume 1

English

It is narrated from Na'im ibn Ajil, the freed slave of Umm Salamah (may Allah be pleased with her), that he said: "I used to enter the mosque for Maghrib prayer and see some of the companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) sitting at the back of the mosque while the people were praying inside. They had already prayed in their homes." [Narrated by At-Tahawi] At-Tahawi said: "These companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) did not pray Maghrib in the mosque because they had already prayed it in their homes, and none of the other companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) disapproved of this. This, in our view, is evidence that the earlier statement of the Messenger of Allah (peace be upon him) had been abrogated. It is not permissible to assume that such a statement of the Messenger of Allah (peace be upon him) was unknown to all of them, leading them to act contrary to it. Rather, they acted in this manner because they were certain that the earlier statement had been abrogated." Chapter on The Sunnahs and Their Virtues And His saying: "So exalt Him when the stars set." (Quran 52:49)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٦ - وَعَنْ نَاعِمِ بْنِ أَجِيْلٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَ: كُنْتُ أَدْخُلُ الْمَسْجِدَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَأَرَى رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ جُلُوسًا فِي آخِرِ الْمَسْجِدِ - وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ فِيْهِ - قَدْ صَلَّوْا فِي بُيُؤْتِهِمْ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَقَالَ: فَهَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ كَانُوا لَا يُصَلُّوْنَ الْمَغْرِبَ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِمَا كَانُوا قَدْ صَلَّوْهَا فِي بُيُوتِهِمْ، وَلَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ غَيْرُهُمْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَيْضًا، فَذَلِكَ دَلِيلٌ - عِنْدَنَا - عَلَى نَسْخِ مَا قَدْ كَانَ تَقَدَّمَهُ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَدْ ذَهَبَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا حَتَّى يَكُونُوا عَلَى خِلَافِهِ، وَلَكِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْهُمْ؛ لِمَا قَدْ ثَبَتَ عِنْدَهُمْ فِيْهِ مِنْ نَسْخِ ذَلِكَ الْقَوْلِ. انْتَهَى .

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1760
ناعم بن اجتل جو امّ المؤمنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ہیں ان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نماز مغرب کے لئے مسجد میں جایا کرتا تھا تو بعض وقت کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ (کچھ مجبوریوں کی وجہ ضرورت کی حالت میں) گھروں میں مغرب کی فرض پڑھ کر مسجد کے آخری حصے میں بیٹھے ہیں اور مسجد میں مغرب کی فرض ہورہی ہے (اس میں یہ اصحاب فرض یا نفل کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہوئے، اس سے معلوم

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "So exalt Him, and when the stars disappear." (Quran 50:40)

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہوا کہ مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد نفل کی نیت سے شریک جماعت نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا ہی فرض کی نیت سے بھی جماعت میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ ایک فرض نماز دن میں دو بار نہیں پڑھی جاتی)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1537

Volume 1

English

Umm Habibah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays twelve rak'ahs in a day and night, a house will be built for him in Paradise: four before Dhuhr, two after it, two after Maghrib, two after Isha, and two before Fajr." [Narrated by Tirmidhi] In a narration by Muslim, she said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There is no Muslim slave who prays to Allah twelve rak'ahs voluntarily every day, apart from the obligatory prayers, except that Allah will build for him a house in Paradise, or a house will be built for him in Paradise.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٧ - عَنْ أُمَّ حَبِيبَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِي لَهُ بَيْتُ فِي الْجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتُ فِي الْجَنَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1761Noor 1762
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن رات میں (فرائض) کے ساتھ 12 رکعت سنت بھی ادا کرے گا تو اس کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا وہ بارہ رکعتیں یہ ہیں: چار رکعتیں ظہر کے فرض سے پہلے اور (2) اس کے بعد، اور دو رکعتیں مغرب کے فرض کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے فرض کے بعد اور دو رکعتیں فجر کے فرض سے پہلے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے کہ جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے (فرائض کے ساتھ) بارہ رکعتیں سنت پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اس کے لئے جنت میں) مکان بناتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 728a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 415 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یہ اور اسی قسم کی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دن رات میں یہ بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر مداومت فرمائی ہے اور کبھی ترک نہیں کیا۔ (مرقات 12)

Hadith 1538

Volume 1

English

Abdullah ibn Shaqiq said: "I asked Aisha about the voluntary prayers of the Messenger of Allah (peace be upon him). She said: 'He would pray four rak'ahs in my house 1 before Dhuhr, then go out and lead the people in prayer. Then he would return and pray two rak'ahs. He would lead the people in Maghrib prayer, then return and pray two rak'ahs. He would lead the people in Isha prayer, then enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs at night, including Witr. He would pray for a long time standing and for a long time sitting. When he recited while standing, he would bow and prostrate while standing. When he recited while sitting, he would bow and prostrate while sitting. When dawn approached, he would pray two rak'ahs.'" [Narrated by Muslim] Abu Dawud added: "Then he would go out and lead the people in Fajr prayer." In a narration by Tirmidhi from Aisha: "The Prophet (peace be upon him) would pray sitting and recite while sitting. When about thirty or forty verses remained of his recitation, he would stand and recite while standing, then bow and prostrate. He would do the same in the second rak'ah."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٨ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) عَنْ صَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي1 قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكْعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمُ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ. وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِنِيَّ عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُوْنُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1763Noor 1764
عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دن رات میں فرض نمازوں کے علاوہ) کتنی سنتیں ادا فرمایا کرتے تھے؟ ام المؤمنین فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے تھے، پھر باہر تشریف لے جا کر لوگوں کو ظہر کی فرض نماز پڑھاتے، پھر گھر میں تشریف لا کر دو رکعت سنت ادا فرماتے تھے، اور مغرب کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، پھر عشاء کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، اور ان کے علاوہ رات میں نو (9) رکعت نماز ادا، فرماتے تھے جن میں (6 رکعات تہجد کے ہوتے اور 3 رکعت) وتر (کے) ہوتے (تہجد کی یہ تعداد رکعات اس روایت کے الفاظ سے ہے اور روایاتوں میں جو مختلف تعداد رکعات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی) اور کبھی کسی رات میں (طویل قرأت کے ساتھ) تہجد کھڑے ہوئے دیر تک ادا فرماتے اور کبھی کسی رات میں دیر تک بیٹھے ہوئے بھی تہجد ادا فرماتے تھے اور جب قیام کی حالت میں قرأت فرماتے تو قیام ہی سے جا کر رکوع اور سجدہ ادا فرماتے تھے اور جب بیٹھے ہوئے قرأت فرماتے تو بیٹھنے ہی کی حالت سے رکوع اور سجدہ میں جاتے تھے اور جب صبح کی نماز کا وقت ہوتا تو (گھر میں) دو رکعت سنت پڑھتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) اور ابوداؤد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر گھر سے نکلتے تھے اور لوگوں کو فجر کے فرض پڑھاتے۔ اور ترمذی کی روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیٹھ کر تہجد پڑھتے تو بیٹھ کر ہی قرأت فرماتے تھے اور جب سورہ کی تقریباً (30یا40) آیتوں کی قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور کھڑے کھڑے بقیہ آیات پڑھ کر (قیام سے ہی) رکوع کو جاتے اور سجدہ فرماتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 730a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He would pray in my house

(1) His statement: "He would pray in my house" – It is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The preferred place for voluntary prayers (other than Taraweeh) is one's home, unless there is a fear of being preoccupied and missing them. The most correct opinion is that what is most humble and sincere is superior."

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان يصلي في بيتي: قال في الدر المختار»، والأفضل في النفل غير التراويح المنزل إلا لخوف شغل عنها، والأصح أفضلية ما كان أخشع وأخلص.

Note 1

ف(1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر سے پہلے اور عشاء سے پہلے کی سنتیں سنت مؤکدہ نہیں ہیں لیکن ان کے پڑھنے میں بڑا ثواب ہے، چنانچہ عصر کے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے پڑھنے والے کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ ان کو پابندی سے پڑھنے والے کا خاتمہ بالخیر ہوگا ان کی اور فضیلتیں آگے آرہی ہیں۔ ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتیں گھر میں ادا فرمایا کرتے تھے، درمختار میں لکھا ہے کہ تراویح تو مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے اور اسی طرح معتکف کو بھی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے۔ البتہ تراویح کے سوا جملہ سنتوں کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں، ہاں (اگر گھر میں مشغولیت کی وجہ سنتوں کا ادا کرنا دشوار ہے تو سنتوں کو مسجد میں ادا کرنا چاہئے، اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں جہاں کہیں زیادہ خشوع اور زیادہ اخلاص پیدا ہو وہیں سنتوں کو ادا کرنا چاہئے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقات میں فرماتے ہیں کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ اس حدیث سے سنتوں کا گھر میں ادا کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے لیکن علماء سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے زمانہ میں سنن مؤکدہ کی ادائی مسجدوں میں ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو، اور انہیں عمل کرنے کی ترغیب ہوسکے۔

Hadith 1539

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The two rak'ahs before Fajr are at the disappearance of the stars, and the two rak'ahs after Maghrib are at the end of prostration."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٩ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ لِلَّهِ : وَإِدْبَرَ النُّجُومِ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَدْبَرَ السُّجُودِ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1765
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”اِدْبَارَ النُّجُومِ“ سے مراد یہ ہے کہ فجر کے فرض سے پہلے دو رکعت سنت پڑھا کرو، اور ”اَدْبَارَ السُّجُودِ“ سے مراد یہ ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3275 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1540

Volume 1

English

Umm Habibah (may Allah be pleased with her) narrated that she heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever consistently prays four rak'ahs before Dhuhr and four after it, Allah will forbid the Fire from touching him." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasai, and Ibn Majah)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٠ - وَعَنْ أُمَّ حَبِيبَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكْعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعِ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1766
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنی ہوں کہ جو شخص ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعتوں کو (جو سنت مؤکدہ ہیں ایک سلام سے) پڑھے اور فرض کے بعد چار رکعتوں کو (دو سلام سے) پڑھے (جن میں سے دو سنت مؤکدہ ہیں اور دو سنت غیر مؤکدہ یعنی مستحب ہیں) ان آٹھوں رکعتوں کو جو پابندی سے پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ اس پر حرام کر دیں گے۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1269 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1160 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 429 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1817 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1541

Volume 1

English

Umar (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Four rak'ahs before Dhuhr after the sun has passed its zenith are equivalent to their like in the night prayer (Tahajjud). There is nothing that does not glorify Allah at that time." Then he recited: "Their shadows shift from the right and the left, prostrating to Allah while they are humble." (Quran 16:48)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤١ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ اللهَ تِلْكَ السَّاعَةَ، ثُمَّ قَرَأَ : يَتَفَيَّؤُا ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَابِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ (النحل: (٤٨). رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1767
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ آفتاب ڈھل جانے کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے جو چار رکعتیں سنت پڑھی جاتی ہیں ان کا ثواب نماز تہجد کے ثواب کے برابر ہے اور اس وقت یعنی زوال کے بعد ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے، پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (سورہ نحل پ14ع5 کی) یہ آیت (نمبر:48) تلاوت فرمائی ”يَتَفَيَّؤُا ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلّٰهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ” (ہر چیز کے سائے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو جھکتے جاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (یہ عاجزی کے ساتھ) خدا کے آگے سر بسجود ہیں)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3128 (unverified) 55% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1174 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 1174

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1542

Volume 1

English

Abdullah ibn As-Sa’ib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray four rak'ahs after the sun had passed its zenith before Dhuhr. He said: "This is an hour when the gates of heaven are opened, and I love for a good deed of mine to ascend during it."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٢ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظَّهْرِ، وَقَالَ: إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَأَحَبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلُ صَالِحٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1768
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال آفتاب کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے اور یہ ارشاد فرماتے تھے کہ یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت کوئی نہ کوئی نیک عمل کروں (چونکہ نماز افضل اعمال صالحہ ہے، اس لئے یہ چار رکعت سنت پڑھتا ہوں) تاکہ یہ آسمان کے دروازوں سے گزر کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 478 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1543

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) never neglected four rak'ahs before Dhuhr and two rak'ahs before Fajr.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1769
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فرض فجر سے پہلے دو رکعتیں (ہمیشہ پڑھتے تھے اور) انہیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1182 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1544

Volume 1

English

Abu Ayyub Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Four rak'ahs before Dhuhr without separation (i.e., praying them continuously) open the gates of heaven for them."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٤ - وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «أَرْبَعُ قَبْلَ الظَّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1770
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظہر کے فرض سے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے لئے جن کے درمیان میں سلام نہیں ہے، آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ (اس کی روایت ابو داؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1270 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1157 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1545

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to pray four rak'ahs before Jumu’ah without separating them.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٥ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا، لَا يَفْصِلُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهِ وَالطَّبَرَانِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1771
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ کے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے تھے اور ان چار رکعتوں کے درمیان سلام نہیں پھیرتے تھے (بلکہ ان چاروں رکعتوں کو ایک ہی سلام سے ادا فرما لیا کرتے تھے)۔ (اس کی روایت ابن ماجہ اور طبرانی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1129 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1546

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you pray after Jumu’ah, pray four rak'ahs." [Narrated by Muslim] In another narration by Muslim, he said: "When one of you prays Jumu’ah, let him pray four rak'ahs after it." A similar narration was narrated by Ibn Majah and Tirmidhi.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي أُخْرَى لَهُ: قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا». وَرَوَى ابْنُ مَاجَهِ وَالتَّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1772Noor 1773
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جمعہ کے فرض کے بعد سنت پڑھو گے تو چار رکعت (سنت مؤکدہ ایک سلام سے) پڑھو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور مسلم کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جمعہ کے فرض پڑھ لو تو اس کے بعد چار رکعت (سنت ایک سلام سے) پڑھ لیا کرو (اور یہ سنت مؤکدہ ہیں)۔ (اس کی روایت ابن ماجہ اور ترمذی نے اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 881a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 881b (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 523 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1132 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ ان حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں کہ جمعہ کے فرض کے بعد صرف چار رکعت سنت مؤکدہ ایک سلام سے ہیں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ آگے آنے والی حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں کہ جمعہ کے فرض کے بعد (6) رکعت سنت مؤکدہ اس طرح ہیں کہ پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ ایک سلام سے پڑھے پھر دو رکعت سنت مؤکدہ ایک سلام سے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل درآمد ہے۔ (ملتقیٰ۔ مرقات)

Hadith 1547

Volume 1

English

Abu Abdur-Rahman reported that Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) taught people to pray four rak'ahs after Jumu’ah. When Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) came, he taught them to pray six rak'ahs.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٧ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: عَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوْا بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا، فَلَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَّمَهُمْ أَنْ يُصَلُّوْا سِدًّا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1774
ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو تعلیم دی تھی کہ وہ جمعہ کے فرض کے بعد چار رکعت سنت (مؤکدہ ایک سلام سے) پڑھا کریں، اور جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو تعلیم دی کہ جمعہ کے فرض کے بعد 6 رکعت سنت (مؤکدہ) پڑھا کریں (ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد ہم کو بہت اچھا معلوم ہوا اور ہم اسی پر عمل کرنا شروع کر دیئے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی اور سعید بن منصور نے کی ہے۔)

Hadith 1548

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) said: "Whoever prays after Jumu’ah, let him pray six rak'ahs." [Narrated by At-Tahawi] Abu Dawud reported a similar narration from Ibn Umar (may Allah be pleased with him). In a narration by Tirmidhi: "I saw Ibn Umar pray two rak'ahs after Jumu’ah, then pray four rak'ahs after that." At-Tahawi said: "Abu Yusuf said: 'I prefer that one begins with four rak'ahs, then follows them with two rak'ahs, as this is further from resembling the prayer that has been prohibited after Jumu’ah. Indeed, Umar (may Allah be pleased with him) disliked praying the same number of rak'ahs after Jumu’ah as the Jumu’ah prayer itself.'" Ali Al-Qari said: "Preceding with the four rak'ahs is more appropriate, as the four rak'ahs are a confirmed Sunnah without disagreement in the school of thought."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٨ - وَعَنْ عَلَيَّ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: مَنْ كَانَ مُصَلَّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ سِدًّا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ما نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِيِّ: قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ (رضي الله عنهما) صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا. قَالَ الطَّحَاوِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ : أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَبْدَأَ بِالْأَرْبَعِ، ثُمَّ يُثَنِّي بِالرَّكْعَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ هُوَ أَبْعَدُ مِنْ أَنْ يَكُوْنَ قَدْ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ مِثْلَهَا عَلَى مَا قَدْ نُهِيَ عَنْهُ؛ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ مِثْلَهَا انْتَهَى وَقَالَ عَلِيُّ الْقَارِي: أَنَّ تَقْدِيمَ الْأَرْبَعِ أَوْلَى؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَرْبَعَ سُنَّةٌ بِلَا خِلَافٍ فِي الْمَذْهَبِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1775Noor 1776Noor 1777
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جمعہ کے فرض کے بعد 6 رکعت سنت مؤکدہ اس طرح پڑھا کرو (کہ 4 رکعت ایک سلام سے، پھر دو رکعت ایک سلام سے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔) اور ابوداؤد نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے ترمذی کی ایک اور روایت میں بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے فرض کے بعد دو رکعت پڑھ کر پھر چار رکعت سنتیں ادا فرمائیں۔ مرقات میں لکھا ہے کہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 523 (unverified) 75% confidence · Validation similarity: 0.544

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

یہ دو رکعتیں جمعہ کی سنتیں نہیں تھیں بلکہ جمعہ کے فرض اور اس کی سنتوں کے درمیان بجائے کلام کرنے کے بطور نفل یہ دو رکعت آپ نے ادا فرمائے ہیں، یہ عمل حضرت ابن عمر سے خاص ہے۔ جس پر عمل درآمد نہیں، اس کے بعد حضرت ابن عمر سے چار رکعت سنت کا پڑھنا مروی ہے، مرقات میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ چار رکعت سنت کے بعد حضرت ابن عمر نے اور دو رکعت سنت بھی پڑھے ہوں مگر راوی نے اس کا اس لئے ذکر نہیں کیا کہ حضرت ابن عمر سے جو ایک نئی کیفیت یعنی چار رکعت سنتوں سے پہلے دو رکعت کا پڑھنا منقول ہے اس کو بتانا چاہئے اور چار رکعت سنت کے بعد پھر دو رکعت سنت کا ادا کرنا چونکہ مشہور تھا اس لئے راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔

Hadith 1549

Volume 1

English

Amr ibn Ata’ reported that Nafi’ ibn Jubayr sent him to As-Sa’ib to ask him about something Mu’awiyah had seen him do during prayer. He said: "Yes, I prayed Jumu’ah with him in a secluded area. When the Imam concluded the prayer, I stood in my place and prayed. When he entered, he sent for me and said: 'Do not repeat what you did. When you pray Jumu’ah, do not connect it with another prayer until you speak or leave, for the Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us not to connect prayers until we speak or leave.'" [Narrated by Muslim] In a narration by Abu Dawud from Ata’: "Ibn Umar, when he prayed Jumu’ah in Makkah, would first pray two rak'ahs, then move forward and pray four rak'ahs."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٤٩ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: إِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي مَقْصُورَةٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تُكَلِّمَ أَوْ تَخْرُجَ؛ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا نُوْصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ عَطَاءٍ: قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1778Noor 1779
سائب بن یزید بن اخت نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز ان کے مقام حفاظت میں پڑھی اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد (فرض اور سنت کے درمیان فصل کے بغیر) اسی جگہ کھڑے ہو کر سنتیں پڑھیں جہاں میں نے جمعہ کی فرض نماز ادا کی تھی، تو حضرت معاویہ نے مجھے اندر بلا کر فرمایا کہ دوبارہ ایسا نہ کرنا، جب جمعہ کی نماز پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملانا (فرض و سنت کے درمیان فصل کرنا چاہئے) یہ فصل کلام کر کے ہی کیوں نہ ہو (اگرچہ کہ فرض و سنت کے درمیان کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے) فرض و سنت کے درمیان بہتر فصل یہ ہے کہ جگہ بدل دی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عطا و رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ مکرمہ میں جمعہ ادا فرماتے تو آگے بڑھ کر دو رکعت پڑھتے اور پھر آگے بڑھ کر چار رکعات پڑھتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 883a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1130 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1550

Volume 1

English

Ka’b ibn Ujrah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) came to the mosque of Banu Abdul-Ashhal and prayed Maghrib there. When they finished their prayer, he saw them praying voluntary prayers afterward. He said: 'This is the prayer of the homes.'" [Narrated by Abu Dawud] In a narration by Tirmidhi and Nasai: "The people stood to pray voluntary prayers, so the Prophet (peace be upon him) said: 'You should offer such prayers in your homes.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٠ - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيْهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُوْنَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: «هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِي وَالنَّسَائِي: قَامَ النَّاسُ يَتَنَفَّلُوْنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1780Noor 1781
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دفعہ) بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف فرما ہوئے (ایسے میں مغرب کا وقت ہو گیا تو) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے (سب کو) اسی مسجد میں نماز مغرب پڑھائی، جب لوگ مغرب کے فرض سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ مسجد ہی میں سنتیں ادا کر رہے ہیں (اس پر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ سنتیں ایسی نمازیں ہیں کہ ان کو گھروں میں پڑھنا چاہئے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔) اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1300 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف۔ ان حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ بجز تراویح کے اور معتکف کی سنتوں کے تمام سنن اور نوافل کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں اور بعض آیتوں اور حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع و خضوع ہونا چاہئے اگر گھر میں خشوع و خضوع نہ ہوتا ہو جیسے اس زمانہ میں مشاہدہ ہے تو خشوع کی آیتوں اور حدیثوں پر عمل کرتے ہوئے مسجدوں ہی میں سنتوں کا ادا کرنا افضل ہے۔

Hadith 1551

Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "May Allah have mercy on a person who prays four rak'ahs before Asr."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥١ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «رَحِمَ اللهُ امْرَأَ صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1782
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں جو عصر کے فرض سے پہلے چار رکعت پڑھا کرتا ہے (یہ چار رکعت اگرچہ سنت غیر مؤکدہ ہیں مگر یہ بڑی فضیلت کی نماز ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1271 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 430 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1170 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 1170

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1552

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray four rak'ahs before Asr, separating them with Tasleem (greetings) upon the close angels and those who followed them among the Muslims and believers. [Narrated by Tirmidhi] Tirmidhi said: "Ishaq ibn Ibrahim preferred not to separate the four rak'ahs before Asr and used this Hadith as evidence. He said: 'The meaning of his statement, "He separates them with Tasleem," refers to the Tashahhud (sitting for testimony).'" Al-Baghawi said: "The meaning of Tasleem here is the Tashahhud without the final Salam (salutation). It is called Tasleem upon those mentioned because it is a form of supplication for them." At-Tayyibi said: "This is supported by the Hadith of Abdullah ibn Mas’ud: 'When we prayed, we would say: Peace be upon Allah before His servants, peace be upon Jibreel,' and this was during the Tashahhud."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٢ - وَعَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: وَاخْتَارَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يَفْصِلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الحَدِيثِ، وَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِهِ: أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُدَ. انْتَهَى وَقَالَ الْبَغَوِيُّ: الْمُرَادُ بِـ التَّسْلِيمِ التَّشَهُدُ دُوْنَ السَّلَامِ، أَيْ وَسُمِّيَ تَسْلِيمًا عَلَى مَنْ ذُكِرَ؛ لِاسْتِمَالِهِ عَلَيْهِ، وَكَذَا قَالَهُ ابْنُ الْمَلِكِ. قَالَ الطَّيْبِيُّ: وَيُؤَيِّدُهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه): «كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي التَّشَهُدِ، كَذَا فِي الْمِرْقَاةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1783
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے فرض سے پہلے چار رکعتیں۔ (ایک سلام سے) پڑھا کرتے تھے اور ان کے درمیان دو رکعت کے بعد قعدہ کرتے تھے اور قعدہ میں التحیات (یہ ترجمہ مرقات کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔12) پڑھتے تھے جس میں مقربین فرشتوں اور ان کے تبع صالح مسلمین اور مومنین پر سلام مذکور ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 429 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1171 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1171

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1553

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray two rak'ahs before Asr.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٣ - وَعَنْ عَلِىّ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1784
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے فرض سے پہلے (کبھی کبھی) دو رکعتیں بھی پڑھی ہیں (مگر عام طور پر چار رکعت ہی ایک سلام سے پڑھا کرتے تھے، اس لئے عصر کے فرض سے پہلے چار رکعت پڑھنا مستحب ہے)۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1272 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1554

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) only prayed the two rak'ahs after Asr because some wealth came to him, which preoccupied him from praying the two rak'ahs after Dhuhr. So he prayed them after Asr and did not repeat it." [Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Hadith."] In a narration by Al-Daraqutni: "I did not see him repeat it."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: إِنَّمَا صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؛ لِأَنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ فَشَغَلَهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلدَّارَقُعْنِي: وَلَمْ أَرَهُ عَادَ لَهُمَا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1785Noor 1786
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے فرض کے بعد دو رکعت اداء فرمائے، ان دو رکعتوں کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ (اس روز) کچھ مال آ گیا تھا (اور اس کو تقسیم کرنا ضروری تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے فرض کے بعد تقسیم شروع فرمائی تقسیم میں اتنی دیر ہوگئی کہ) ظہر کے بعد کی دو سنتیں آپ اداء نہ کر سکے (یہاں تک کہ عصر کا وقت آ گیا، عصر کی جماعت تیار تھی اس لئے آپ عصر کے فرض پڑھا دئے) اور ظہر کے بعد کی جو دو سنتیں رہ گئیں تھیں ان کو آپ نے عصر کے فرض کے بعد اداء فرمائے (پھر اس دن کے سوا عصر کے فرض کے بعد نہ تو یہ سنت اداء فرمائی اور نہ کوئی اور سنت، اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے سنت کی کبھی قضاء نہیں فرمائی ہے اور نہ عصر کے بعد کوئی نفل نماز پڑھی ہے اور یہ جو دو رکعت سنت عصر کے فرض کے بعد آپ نے اداء فرمائے ہیں یہ آپ کا خاصہ تھا اس لئے کوئی اور عصر کے بعد سنت یا نفل نماز نہیں ادا کر سکتا) اسی واسطے دارقطنی نے روایت کی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ پھر کبھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو رکعت عصر کے فرض کے بعد ادا فرماتے نہیں دیکھا۔ (صدر کی اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 184 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1555

Volume 1

English

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) ordered him to strike with a whip anyone who prayed two rak'ahs after Asr.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٥ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ أَنْ أَضْرِبَ مَنْ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ بِالدُّرَّةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى مُسْلِمٌ وَمَالِكُ نَحْوَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1787
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی عصر کے فرض کے بعد دو رکعت نفل پڑھا کرے اس کو دُرّے مارا کروں (اس سے معلوم ہوا کہ نماز عصر کے بعد اگر نفل کا پڑھنا جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کا سخت حکم نہیں فرماتے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور امام مسلم اور امام مالک نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 836 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 520 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1556

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "We asked the wives of the Messenger of Allah (peace be upon him): 'Did you see the Messenger of Allah (peace be upon him) pray two rak'ahs before Maghrib?' They said: 'No,' except Umm Salamah, who said: 'He prayed them once in my presence. I asked him: "What is this prayer?" He replied: "I forgot to pray the two rak'ahs before Asr, so I prayed them now."'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٦ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: سَأَلْنَا نِسَاءَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ: هَلْ رَأَيْتُنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ؟ فَقُلْنَ: لَا ، غَيْرُ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: صَلَّاهَا عِنْدِي مَرَّةً فَسَأَلْتُهُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ : نَسِيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1788
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے دریافت کیا کہ کیا آپ میں سے کسی نے (مغرب کی اذان کے بعد اس کے) فرض سے پہلے (کبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو رکعت نماز ادا فرماتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب امہات المؤمنین نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا ہے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک دفعہ میرے پاس (مغرب کے فرض سے پہلے) دو رکعتیں پڑھی ہیں، میں اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کی کہ یہ کونسی نماز ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج میں عصر کے فرض سے پہلے کی دو رکعتوں کو پڑھنا بھول گیا تھا، انہیں دو رکعتوں کو میں نے اس وقت ادا کیا ہے۔ (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔)

Hadith 1557

Volume 1

English

Hayyan ibn Ubaidullah ibn Buraidah reported from his father that the Prophet (peace be upon him) said: "Between every two Adhans (call to prayer), there is a prayer, except for Maghrib."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٥٧ - وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْن بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «بَيْنَ كُلَّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، إِلَّا الْمَغْرِبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1789
حیان بن عبیداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ إِلَّا الْمَغْرِبُ“، یعنی ہر نماز کی اذان اور اس کی اقامت کے درمیان نماز ہے مگر مغرب کی اذان اور اس کی اقامت کے درمیان کوئی نماز نہیں۔ اس کی روایت بزار نے کی ہے اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔