اردو
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق طلوع ہونے تک
کی درمیانی رات میں گیارہ رکعت نماز ادا فرماتے تھے (ان گیارہ رکعت کی تفصیل یہ ہے کہ عشاء
کے بعد آپ آرام فرماتے تھے، پھر تہجد کے لئے بیدار ہو کر پہلے) چار رکعت ادا فرماتے تھے تم ان کی
خوبی اور درازی تو دریافت ہی نہ کرو (کہ وہ کیسی عمدہ اور کس قدر طویل قرأت سے پڑھی جاتی تھیں)
پھر اس کے بعد اور چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی خوبی اور ان کا طول بھی کچھ نہ پوچھو، (کہ وہ کیسی
عمدہ اور کس قدر طویل قرأت سے ادا کی جاتی تھیں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر
کے ادا فرماتے تھے۔ (ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تہجد کی ان آٹھ رکعتوں کو
جس خوبی سے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے اس کو تو تم نے سن لیا، اب ذرا ان رکعتوں میں
جو سجدے ادا کئے جاتے تھے ان کی کیفیت بھی سن لو) حضور کو سجدہ میں جا کر سر اٹھانے تک اتنی دیر
ہوتی تھی جتنی دیر تم کو پچاس آیتیں ترتیل کے ساتھ پڑھنے میں ہوا کرتی ہیں، پھر جب صبح صادق
طلوع کرتی تو (اول وقت) مؤذن اذان دے کر اذان سے فارغ ہو جاتا اور حضور دیکھ لیتے کہ (افق
میں) صبح کی روشنی پھیل گئی ہے تو آپ ہلکی قرأت سے دو رکعت سنت فجر ادا فرماتے اگر میں بیدار
رہتی تو مجھ سے (دینی) گفتگو فرماتے اور اگر بیدار نہ رہتی تو حضور سیدھی کروٹ لیٹ جاتے، جب
مؤذن اقامت کی اطلاع دینے آتا تو آپ فجر کی فرض پڑھانے کے لئے باہر تشریف لے جاتے
تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام (تہجد کی نماز سے
فارغ ہو کر) وتر ادا فرمائے اور کروٹ لیٹے رہے جب مؤذن نے آ کر اطلاع دی (کہ جماعت
تیار ہے تو) آپ اٹھے اور دو رکعت سنت فجر ادا فرمائے (پھر صبح کی سنت کے بعد دوبارہ لیٹے بغیر)
گھر سے نکلے اور فجر کی فرض پڑھائے۔
اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ (کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ) پھر حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام (تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر وتر ادا فرماتے) اور کروٹ لئے رہتے، جب مؤذن آ کر
اطلاع دیتا (کہ جماعت تیار ہے تو) آپ مختصر قرأت سے دو رکعت سنت فجر ادا فرماتے (پھر صبح کی
سنت کے بعد دوبارہ لیٹے بغیر) فجر کی فرض پڑھانے کے لئے نکلتے۔
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And from [part of] the night, pray with it as additional [worship] for you." (Quran 17:79)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1123 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1147 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 738a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 736a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement: "He would prostrate" – Ali Al-Qari said: "The apparent meaning is that the letter 'fa' (then) is used to elaborate on the general statement, meaning he would prostrate in each of those prostrations for a long time."
Note 2
(2) His statement: "Agreed upon" – This refers to the collective agreement on the Hadith, even if it is not in this exact wording in a single narration, as mentioned in Mishkat Al-Masabih.
Chapter-heading commentary
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
(۱) قوله: فيسجد قال علي القاري والظاهر أن الفاء لتفصيل المجمل، يعني فيسجد كل واحدة من سجدات تلك الركعات طويلة.
Note 2
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ رات میں تہجد کی آٹھ رکعتوں کو چار چار رکعت کر کے ادا کرنا چاہئے اگر ایسا نہ ہوتا تو ام المؤمنین یہ ارشاد فرماتیں کہ حضور تہجد کے آٹھ رکعات پڑھتے تھے، ایسا نہ کہہ کر ام المؤمنین نے یہ ارشاد فرمایا کہ چار رکعت پڑھتے پھر چار رکعت پڑھتے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر چار رکعت کو ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ادا فرماتے تھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ شرح القدیر میں مذکور ہے، رد المحتار میں لکھا ہے کہ دوسری احادیث کی بنا پر صاحبین کے پاس تہجد کے 8 رکعت دو دو کر کے چار سلام سے ادا کرنا چاہئے۔ اور عمل درآمد بھی اسی پر ہے۔