اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1890
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وتر پڑھتے تو دو رکعت کے بعد قعدہ کر کے (تیسری رکعت کے لئے
کھڑے ہو جاتے تھے اور تیسری رکعت کے ختم پر (مثل مغرب کے فرض کے) آخر میں سلام
پھیرتے تھے۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری
اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Al-Mustadrak al-Hakim 1140 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "Among those who said that Witr is three rak'ahs without separation are Umar, Ali, Ibn Mas'ud, Hudhayfah, Ubayy ibn Ka'b, Ibn Abbas, Anas, Abu Umamah, Umar ibn Abdul-Aziz, and the seven jurists." Ali Al-Qari said: "It is surprising that Imam Nawawi considered praying Witr with one rak'ah as the view of the majority."
Note 2
(۲) قوله: يوتر بثلاث لا يسلم إلا في آخرهن: قال العلامة العيني: وممن قال: «يوتر بثلاث، لا يفصل بينهن عمر وعلي وابن مسعود وحذيفة وأبي بن كعب وابن عباس وأنس وأبو أمامة وعمر بن عبد العزيز والفقهاء السبعة. انتهى وقال علي القاري: فالعجب من جعل النووي الإيتار بواحدة مذهب الجمهور.
Note 1
ف: واضح ہو کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وتر کی تین رکعات ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہیں۔ مذہب حنفی بھی یہی ہے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس، حضرت انس، حضرت ابو امامہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور مشہور فقہاء سبعہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی قول ہے کہ وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہے، اور اسی پر ان حضرات کا عمل درآمد رہا ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے ایسا ہی لکھا ہے۔