خالد بن ابی عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنی ہی تکلیف پہنچے آپ نے کسی کافر پر بددعا نہیں فرمائی۔ قبیلہ مضر کی طرف
سے مسلمانوں کو ناقابل برداشت تکالیف پہنچ رہی تھیں، یہ آپ سے نہیں دیکھا گیا، ایک وقت آپ
وتر پڑھ رہے تھے، مضر کے ناقابل برداشت تکالیف یاد آگئے) قبیلہ مضر کو بددعاء دینے لگے، ایسے
میں جبرئیل علیہ السلام آگئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ سے بددعاء دینے سے منع فرمائے
آپ رک گئے پھر جبرئیل علیہ السلام کہے: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرمائے ہیں کہ ہم آپ کو رحمتہ ا
للعالمین بنا کر بھیجے ہیں، (جو عالمین کے لئے رحمت ہو، ان کی شان کی خلاف ہے کہ وہ کسی کو بددعاء
دے، ہم کو معلوم ہے کہ قبیلہ مضر سے مسلمانوں کو کیا کیا تکلیف پہنچ رہی ہے اس کا بدلہ دینا ہمارا کام
ہے) آپ کا کام نہیں (ہم ان کو دیکھ لیں گے ہم پر چھوڑ دیجئے بجائے بددعاء کے (وتر میں) یہ قنوت
اے اللہ (آپ کو معلوم ہے کہ کفار ہم کو کیا کیا تکلیفیں دے رہے ہیں) ہم آپ ہی سے مدد
مانگتے ہیں (کہ ہم کو کفار کے شر سے بچایئے! ممکن ہے کہ گناہوں کی شامت سے یہ ہو رہا ہوگا) ہم
آپ سے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں، ہم آپ کے ہیں آپ پر ایمان رکھتے ہیں، ہم آپ کے
سامنے نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں (ہم کو ہر شر سے بچایئے) (ہم کو معلوم ہے کہ کفار آپ
کے دشمن ہیں اس لئے) جو آپ سے کفر کرتا ہے، ہم اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے
اور ترک کر دیتے ہیں (دلی دوستی ان سے نہیں رکھتے ہیں، دنیوی حیثیت سے ظاہری برتاؤ رکھے
ہیں) اے اللہ! (آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں) ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں (ہم آپ ہی کے
لئے ہیں) آپ ہی کے سامنے ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے رہ کر ہم آپ ہی سے دعاء کرتے ہیں اور
نماز ادا کرتے ہیں، جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر طاری ہوتا ہے تو ہم بے اختیار ہو کر
آپ کے سامنے سجدے میں گرتے ہیں (اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی شان عالی ہے اور
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہایت عاجزی سے زمین پر سر رکھے ہوئے ہیں)۔ ہماری ساری کوششیں
آپ ہی کے لئے ہیں، ہم آپ ہی کی طرف دل سے جھکتے ہیں (ہم کسی قابل نہیں) اے اللہ! ہم
آپ کی رحمت سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہیں۔ (اے اللہ! ہم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجا
کے درمیان ہے، جیسے ہم آپ کی رحمت کے امیدوار ہیں ایسے ہی) آپ کے عذاب سے ہمارے
دل پر دہشت بیٹھی ہوئی ہے، ہم آپ کے عذاب کے خیال سے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے ہیں۔
(ہم کو معلوم ہے کہ) آپ کا یقینی عذاب کفار کے لئے ہے (مگر ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان
بے نیازی سے ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے اپنے مراسیل میں کی ہے اور طبرانی نے بھی اس کی روایت کی
ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو موقوفاً
اے اللہ (آپ کو معلوم ہے کہ کفار، ہم کو کیا کیا تکلیفیں دے رہے ہیں) ہم آپ ہی سے مدد
مانگتے ہیں (کہ ہم کو کفار کے شر سے بچائیے! ممکن ہے کہ گناہوں کی شامت سے یہ ہو رہا ہوگا) ہم
آپ سے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ اور ہم آپ ہی کی تعریف کرتے ہیں (ہم کیا اور ہماری
تعریف کیا، آپ ویسے ہی ہیں جیسے آپ اپنی تعریف کئے ہیں) ہم آپ کی ناشکری نہیں کرتے ہیں
(آپ کی نعمتیں ہم کو گھیرے ہوئے ہیں، ہم ہمیشہ آپ کے شکرگزار ہیں۔ (ہم کو معلوم ہے کہ کفار
حقیقی فاجر و فاسق ہیں) ہم آپ کے دشمنوں کو آپ ہی کے لئے ترک کرتے ہیں، دلی دوستی ان سے
نہیں رکھتے ہیں، دنیوی حیثیت سے ظاہری برتاؤ رکھتے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں،
ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، ہم آپ ہی کے لئے ہیں، آپ ہی کے سامنے ہاتھ باندھے
ہوئے کھڑے ہو کر اپنے بندے پن کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر
طاری ہوتا ہے تو ہم بے اختیار ہو کر آپ کے سامنے سجدے میں گر کرتے ہیں (اس سے یہ بتانا چاہتے
ہیں کہ آپ کی شان عالی ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہایت عاجزی سے زمین پر سر رکھے
ہوئے ہیں، ہماری ساری کوششیں آپ ہی کے لئے ہیں، ہم آپ ہی کی طرف دل سے جھکتے ہیں،
(اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجاء کے درمیان ہے) آپ کے عذاب سے ہمارے دل
پر دہشت بیٹھی ہوئی ہے، ہم آپ کے یقینی عذاب کے خیال سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے ہیں۔
اے اللہ! ہم کسی قابل نہیں، ہم آپ کی رحمت سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہیں، ہم کو
معلوم ہے کہ آپ کا یقینی عذاب کفار ہی کو لاگو ہونے والا ہے (مگر ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان
بے نیازی سے ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں)۔
اور بیہقی نے سنن کبیر میں ابن ابی شیبہ کی اس روایت کو موقوفاً حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہ عنہ ان دونوں (منسوخ التلاوۃ) سورتوں کو (وتر میں) بطور دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے، ایک
عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ“ اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
we disassociate
(1) The phrase "we disassociate" (ونخلع) is mentioned with the conjunction "and" (واو) in Tahawi's narration, and its presence is evident, as stated in Al-Bahr Al-Ra'iq.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ونخلع وقد أسقط الواو في الحاوي القدسي من نخلع»، والظاهر ثبوتها، كما في رواية الطحاوي. قاله في البحر الرائق».
Note 1
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذیل کی حدیث کو سمجھنے کے لئے اس تمہید کو سن لیجئے: حنفی
دعائے قنوت کے دو حصے ہیں، ایک حصہ ”اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ“ سے شروع ہو کر ”مَنْ
يَفْجُرُكَ“ پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصہ ”اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ سے شروع ہو کر ”بِالْكُفَّارِ
مُلْحِقٌ“ پر ختم ہوتا ہے، یہ دو حصے قرآن مجید کی دو سورتیں ہیں، جیسے آیت رجم منسوخ التلاوہ ہے لیکن
عمل اس پر جاری ہے، ایسے ہی یہ دونوں سورتیں بھی منسوخ التلاوہ ہیں یعنی قرآن میں پڑھی نہیں
جاتی، مگر ان پر عمل جاری ہے اور وتر میں بطور قنوت پڑھی جاتی ہیں)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase "we disassociate" (ونخلع) is mentioned with the conjunction "and" (واو) in Tahawi's narration, and its presence is evident, as stated in Al-Bahr Al-Ra'iq.
Note 1
(۱) قوله: ونخلع وقد أسقط الواو في الحاوي القدسي من نخلع»، والظاهر ثبوتها، كما في رواية الطحاوي. قاله في البحر الرائق».
Note 1
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذیل کی حدیث کو سمجھنے کے لئے اس تمہید کو سن لیجئے: حنفی دعائے قنوت کے دو حصے ہیں، ایک حصہ ”اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ“ سے شروع ہو کر ”مَنْ يَفْجُرُكَ“ پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصہ ”اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ سے شروع ہو کر ”بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ“ پر ختم ہوتا ہے، یہ دو حصے قرآن مجید کی دو سورتیں ہیں، جیسے آیت رجم منسوخ التلاوہ ہے لیکن عمل اس پر جاری ہے، ایسے ہی یہ دونوں سورتیں بھی منسوخ التلاوہ ہیں یعنی قرآن میں پڑھی نہیں جاتی، مگر ان پر عمل جاری ہے اور وتر میں بطور قنوت پڑھی جاتی ہیں)۔