English
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated:
"What the Muslims consider good is also good in the sight of Allah." 2
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۷۰۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَا رَآهُ2 الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِي وَالطَّيَالِسِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو نُعَيْمٍ مَوْقُوْفًا، وَذَكَرَهُ الرَّازِيُّ وَالْعَيْنِيُّ مَرْفُوعًا.
اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ کار خیر (جس
کا عہد نبوت میں عام رواج نہ تھا اور اس کو قرن اول کے) مسلمان (یعنی صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین
عظام) پسند فرمائیں (اور اس پر عمل بھی کریں) تو وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ اس کو امام
احمد، طبرانی، طیالسی، بزار نے
اور ابو نعیم نے موقوفاً روایت کی ہے۔
اور امام رازی اور علامہ تفتنی نے اس کا ذکر مرفوعاً کیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Musnad Ahmad 3600 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement "What the Muslims consider good" refers specifically to the companions or the scholars of ijtihad, who are the most complete in their practice of Islam. This is because, in the absence of any contextual indication, the general term "Muslims" refers to the most complete individuals, i.e., the scholars. Thus, the meaning is: "What the companions or the scholars consider good is good in the sight of Allah, and what they consider bad is bad in the sight of Allah."
Note 2
(۲) قوله: ما رأه المسلمون إلخ المراد بالمسلمين الصحابة فقط، أو أهل الاجتهاد الذين هم الكاملون في صفة الإسلام صرفا للمطلق إلى الكامل؛ لأن المطلق عند عدم القرينة ينصرف إلى الفرد الكامل، وهو المجتهد، فيكون المعنى: ما رآه الصحابة أو أهل الاجتهاد حَسَنًا فهو عند الله حسن، وما رآه الصحابة أو أهل الاجتهاد قبيحا فهو عند الله قبيح.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ تراویح جس کا عہد نبوت میں عام رواج نہ تھا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں اس کو پسند فرما کر عام رواج دے رہے تھے، اسی لئے پورے رمضان میں تراویح کو باجماعت قائم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حدیث شریف کے لفظ ”مسلمون“ سے صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین مراد لئے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں لفظ ”مسلمون“ مطلقاً آیا ہے اور اس کو کسی قید سے مقید نہیں کیا گیا ہے اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر مطلق سے فرد کامل کے سوا کوئی اور مراد ہونے کا قرینہ نہ ہو تو مطلق سے فرد کامل ہی مراد ہوتا ہے چونکہ صحابہ اور ائمہ مجتہدین میں صفت اسلام کامل ہے اسی لئے حدیث شریف کے لفظ ”مسلمون“ سے صحابہ کرام اور مجتہدین ہی مراد ہوں گے۔