Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 37

Chapter on Night Prayers in Ramadan

Section: (2)

22 narrations · In source reading order

Hadith 1695

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her), the wife of the Prophet (ﷺ) reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) encouraged people to perform night prayers in Ramadan without making it an obligatory command. He said: 'Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward, his previous sins will be forgiven.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٩٥ - عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ يُرَغَبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيْهِ، فَيَقَوْلُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1949
ام المومنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا تاکیدی حکم دیئے بغیر (کہ جس سے تراویح فرض ہو جائے) ایسی ترغیب دیتے کہ لے کر جس سے تراویح محض سنت (مؤکدہ) ثابت ہو) یہ ارشاد فرماتے تھے کہ جو مومن ثواب کی نیت سے بغیر کسی قسم کی ریاء کے رمضان میں نماز تراویح پڑھے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دے جاتے ہیں۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn. On that night is made distinct every precise matter." (Ad-Dukhan, 44:3-4)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2208 (unverified) 50% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Chapter-heading commentary

Section

(1) The statement "Section" refers to the fact that performing night prayers in Ramadan is a highly recommended Sunnah, as the Prophet (ﷺ) encouraged it. The hadiths in this section emphasize this.

Chapter-heading commentary

قوله

(۲) قوله: فصل: ههنا أمور الأول: أن نفس قيام رمضان سنة مؤكدة؛ لأنه رغب إليه، والأحاديث التي في هذا الفصل تدل عليه. منه.

Hadith 1696

Volume 1

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward, his previous sins will be forgiven.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٩٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1950
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی مسلمان ثواب کی نیت سے بغیر کسی قسم کی ریاء کے رمضان میں تراویح پڑھا کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 37 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1697

Volume 1

English

Abdur-Rahman (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah, the Blessed and Exalted, has made fasting in Ramadan obligatory upon you, and I have made its night prayers a Sunnah. Whoever fasts and stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward will emerge from his sins as pure as the day he was born.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٩٧ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1951
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم سب مسلمانوں پر (قرآن شریف) میں روزے فرض کئے ہیں اور میں (اس حدیث کے ذریعہ سے) تم سب مسلمانوں پر تراویح کو سنت (مؤکدہ) قرار دیتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی ثواب کی نیت سے بغیر کسی ریاء کے رمضان کے روزے رکھے اور تراویح پڑھے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا کہ جس طرح وہ اپنے پیدا ہونے کے دن گناہوں سے پاک تھا۔ (اس کی روایت نسائی، بیہقی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1328 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1698

Volume 1

English

Abdur-Rahman (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward will emerge from his sins as pure as the day he was born.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٩٨ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1952
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی مسلمان ثواب کی نیت سے بغیر کسی قسم کی ریاء کے رمضان میں تراویح پڑھے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے گا جیسا کہ وہ اپنے پیدا ہونے کے دن گناہوں سے پاک تھا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1301 (unverified) 70% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2210 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 1301

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1699

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) would not go to his bed until the month ended."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٩٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْتِ فراشَهَ حَتَّى يَنْسَلِخَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1953
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ (ہمیشہ کی طرح بستر پر اطمینان سے کبھی نہیں سوتے تھے بلکہ کچھ دیر لیٹے رہتے اور پھر رات کا اکثر حصہ عبادت الٰہی میں گزارتے تھے ختم رمضان تک یہی طریقہ رہتا تھا۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

فصل دوّم میں یہ مذکور ہے کہ پورے رمضان المبارک میں تراویح کا جماعت کے ساتھ اداء کرنا سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی چند راتوں میں تراویح کو جماعت کے ساتھ اداء فرمائے ہیں۔ تراویح کو ہمیشہ باجماعت پڑھنے سے حضور صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تراویح کے فرض ہونے کا خوف نہ ہوتا تو آپ پورا مہینہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھاتے۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر فرض ہونے کے خوف سے تراویح باجماعت پر مواظبت نہیں فرمائی ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا حضور کا چند روز تراویح کو باجماعت اداء کرنا تراویح پر مواظبت فرمانے یعنی تراویح کو ہمیشہ اداء کرنے کے حکم میں ہے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراویح کو رمضان بھر جماعت کے ساتھ اداء کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کے ہمیشہ تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے سے تراویح باجماعت کے امت پر فرض ہونے کا خوف باقی نہ رہا۔ اس لئے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر فاروقؓ نے پورے رمضان میں تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا بلکہ سب کو ایک امام کے پیچھے رمضان بھر باجماعت تراویح پڑھنے کا پابند فرما دیا۔ اس وقت صحابہ کرام کی پوری جماعت نے آپ کے فعل پر اعتراض نہیں کیا اور آپ کے بعد حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے دور میں بھی باجماعت تراویح پر عمل درآمد ہوتا رہا بلکہ آج تک پوری امت مسلمہ دنیا کے ہر شہر اور ملک میں تراویح باجماعت پڑھتی آ رہی ہے اس طرح خلفائے راشدین کا تراویح باجماعت کو پسند فرمانا اور اس کو باجماعت پڑھنے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ پورے رمضان میں تراویح باجماعت ان حضرات کے پاس بھی سنت مؤکدہ تھی۔ اس کی تائید میں ذیل کی حدیثیں آ رہی ہیں۔

Hadith 1700

Volume 1

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) came out and saw people praying in a corner of the mosque during Ramadan. He asked: 'Who are these?' It was said: 'These are people who do not have the Quran memorized, and Ubayy ibn Ka'b 1 is leading them in prayer.' The Prophet (ﷺ) said: 'They have done well, and what a good practice this is.'" [Narrated by Abu Dawud] It cannot be said that this hadith is weak due to Muslim ibn Khalid, as Abu Dawud explicitly stated his weakness. However, Muslim ibn Khalid is not unanimously rejected, and Ibn Ma'in and Ibn Hibban authenticated him in some narrations. Ibn Adi said: "I hope there is no harm in him, and his hadith is good."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۰ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّوْنَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟» فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ وَأَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ1 يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ : أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. لَا يُقَالُ: هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ بِمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ ؛ فَإِنَّهُ ضَعِيفٌ كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ أَبُو دَاوُدَ؛ لِأَنَا نَقُوْلُ: مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ لَيْسَ مُتَّفَقًا عَلَى تَرَكِهِ حَتَّى يُتْرَكَ رِوَايَتُهُ، وَثَقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَأَخْرَجَ لَهُ غَيْرَ حَدِيثٍ فِي صَحِيحِهِ»، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٌّ: أَرْجُو لَا بَأْسَ بِهِ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1955
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رمضان کی ایک شب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے ایک کونے میں تراویح پڑھ رہے ہیں۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ حاضرین نے عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، اس لئے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنائے ہیں اور وہ ان کو نماز میں قرآن سنا رہے ہیں (اور یہ لوگ ان کے مقتدی بن کر قرآن سن رہے ہیں) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کا نماز پڑھنا اور ان کا نماز پڑھانا نہایت مناسب ہے ماشاء اللہ! انہوں نے جو کچھ کیا ہے، بہت اچھا کیا ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1377 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

Section

(1) The statement "Section" refers to the fact that performing night prayers in Ramadan in congregation is a highly recommended Sunnah. The Prophet (ﷺ) prayed in congregation on some nights, and if he had not feared it would become obligatory, he would have continued it regularly. Thus, it became a consistent practice by implication. Additionally, the rightly guided caliphs ordered the performance of Taraweeh in congregation and appointed Imams for men and women, approving and praising it. These narrations support this practice. Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: "I fasted with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan, but he did not lead us in night prayers until seven nights remained in the month. On the seventh night, he came out and prayed with us until one-third of the night had passed. He did not pray with us on the sixth night until the fifth night, when he came out and prayed with us until half the night had passed. We said: 'O Messenger of Allah, if only you had prayed the rest of the night with us!' He said: 'When a man prays with the Imam until he leaves, it is recorded for him as if he prayed the entire night.' He did not pray with us on the fourth night until the third night, when he came out with his family and prayed with us until we feared we would miss Suhoor. I asked: 'What is Suhoor?' He said: 'The pre-dawn meal.'" [Narrated by Tahawi] Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa'i, and Ibn Majah narrated similar hadiths.

Note 1

Ubayy ibn Ka'b

(1) The statement "Ubayy ibn Ka'b" is mentioned in At-Ta'liq Al-Mumajjad: "A subtle principle has been derived from this, which is that Ubayy used to lead people in prayer during the time of the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) praised them. Thus, Umar loved to gather people behind him."

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: فصل: الأمر الثاني: قيام رمضان بالجماعة سنة مؤكدة؛ لأنه قام في بعض الليالي مع الجماعة، ولو لم يكن له خوف الافتراض لداوم عليه، فصار ذلك مما واظب عليه حكما، وما واظب عليه حكما سنة أيضًا. وأيضا الخلفاء الراشدون أمروا بقيام التراويح بالجماعة، وجعلوا للرجال والنساء إماما، ورضوا به وحسنوه، وقد وردت فيه هذه الأخبار. عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ رَمَضَانَ، وَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ مِنَ الشَّهْرِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّابِعَةُ خَرَجَ، فَصَلَّى بِنَا حَتَّى مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا السَّادِسَةَ حَتَّى خَرَجَ لَيْلَةَ الْخَامِسَةِ، فَصَلَّى بِنَا حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا، فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا الرَّابِعَةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ خَرَجَ وَخَرَجَ بِأَهْلِهِ، فَصَلَّى بِنَا حَتَّى خَشِيْنَا أَنْ يَفُوْتَنَا الْفَلَاحُ قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُوْرُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهُ.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وأبي بن كعب إلخ وفي التعليق الممجد»: قد استخرجت لذلك أصلا لطيفا، وهو أنه قد علم أن أبيا كان يصلي بالناس في عهد رسول الله ﷺ وأثنى عليهم رسول الله ، فأحب عمر أن يجمع الناس به.

Note 1

ف: اس حدیث کو اور اس کے پہلے کی حدیث کو غور سے پڑھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ تراویح کی بناء اس طرح پڑھی کہ کچھ راتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفس نفیس تراویح پڑھائے ہیں اور ایک مصلحت سے یعنی امت پر فرض ہو جانے کے خوف سے آپ نے اس پر مداومت نہیں فرمائی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ ہی میں صحابہ کرام تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنا شروع کر دئے تھے۔ حضور نے بھی ان کی تراویح باجماعت کو پسند فرما کر ان کی تعریف فرمائی مگر حضور کے زمانہ مبارک میں تراویح کا عام رواج نہیں ہوا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اسی مذکور الصدر واقعہ کو اصل بنا کر تراویح باجماعت کا عام طور پر حکم دے دیا اور حضرت ابی جو حضور کے عہد مبارک میں امام بن کر تراویح پڑھاتے تھے ان ہی کو امام بنائے تاکہ حضور کے زمانہ کی تراویح کی پوری پوری اتباع ہو۔ (تعلیق ممجد میں ایسا ہی لکھا ہے۔)

Hadith 1701

Volume 1

English

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "What the Muslims consider good is also good in the sight of Allah." 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَا رَآهُ2 الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِي وَالطَّيَالِسِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو نُعَيْمٍ مَوْقُوْفًا، وَذَكَرَهُ الرَّازِيُّ وَالْعَيْنِيُّ مَرْفُوعًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1956Noor 1957Noor 1958
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ کار خیر (جس کا عہد نبوت میں عام رواج نہ تھا اور اس کو قرن اول کے) مسلمان (یعنی صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین عظام) پسند فرمائیں (اور اس پر عمل بھی کریں) تو وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ اس کو امام احمد، طبرانی، طیالسی، بزار نے اور ابو نعیم نے موقوفاً روایت کی ہے۔ اور امام رازی اور علامہ تفتنی نے اس کا ذکر مرفوعاً کیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Musnad Ahmad 3600 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

What the Muslims consider good

(2) The statement "What the Muslims consider good" refers specifically to the companions or the scholars of ijtihad, who are the most complete in their practice of Islam. This is because, in the absence of any contextual indication, the general term "Muslims" refers to the most complete individuals, i.e., the scholars. Thus, the meaning is: "What the companions or the scholars consider good is good in the sight of Allah, and what they consider bad is bad in the sight of Allah."

Note 2

قوله

(۲) قوله: ما رأه المسلمون إلخ المراد بالمسلمين الصحابة فقط، أو أهل الاجتهاد الذين هم الكاملون في صفة الإسلام صرفا للمطلق إلى الكامل؛ لأن المطلق عند عدم القرينة ينصرف إلى الفرد الكامل، وهو المجتهد، فيكون المعنى: ما رآه الصحابة أو أهل الاجتهاد حَسَنًا فهو عند الله حسن، وما رآه الصحابة أو أهل الاجتهاد قبيحا فهو عند الله قبيح.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ تراویح جس کا عہد نبوت میں عام رواج نہ تھا صحابہ کرام اپنے زمانہ میں اس کو پسند فرما کر عام رواج دے رہے تھے، اسی لئے پورے رمضان میں تراویح کو باجماعت قائم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حدیث شریف کے لفظ ”مسلمون“ سے صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین مراد لئے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں لفظ ”مسلمون“ مطلقاً آیا ہے اور اس کو کسی قید سے مقید نہیں کیا گیا ہے اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر مطلق سے فرد کامل کے سوا کوئی اور مراد ہونے کا قرینہ نہ ہو تو مطلق سے فرد کامل ہی مراد ہوتا ہے چونکہ صحابہ اور ائمہ مجتہدین میں صفت اسلام کامل ہے اسی لئے حدیث شریف کے لفظ ”مسلمون“ سے صحابہ کرام اور مجتہدین ہی مراد ہوں گے۔

Hadith 1702

Volume 1

English

Al-Irbadh ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever among you lives after me will see much disagreement. You must adhere to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided caliphs. Hold firmly to it and bite onto it with your molars. Beware of newly invented matters, for every innovation is misguidance.'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Bayhaqi] Tirmidhi and Ibn Majah narrated similar hadiths. Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۲ - وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : «مَنْ يَعِشُ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالتَّوَاجِدِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهُ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1959
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا تو بہت سے اختلافات اور فتنے دیکھے گا (اگر اس وقت تم صراط مستقیم پر قائم رہنا چاہتے ہو) تو میرے طریقہ اور میرے خلفائے کے طریقہ کو جو سیدھے اور نیک راستہ پر چلنے والے ہیں اختیار کرو (پھر کہتا ہوں کہ) تم میرے خلفائے راشدین کے طریقہ کو مضبوط تھامے رہو اور جیسے کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنے کے لئے دانتوں سے دبائے رہتے ہیں، ایسا ہی میرے اور میرے خلفاء راشدین کے طریقہ کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ (اس سے تم ہدایت پر رہو گے، یاد رکھو اگر تم ایسا نہ کرو گے تو گمراہی میں جا پڑو گے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4607 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 165 (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.804

Mishkat (candidate) 165

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ سنت ہے ایسا ہی خلفائے راشدین نے جو فرمایا یا عمل کیا ہو وہ بھی سنت ہے۔ مثال کے طور پر اس کی نظیر تراویح ہے۔ گو تراویح کی بناء عہد نبوت میں ہو چکی تھی، چند راتیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بنفس نفیس تراویح پڑھائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تراویح پڑھنا شروع کر دئے تھے مگر تراویح کا عام رواج نہیں ہوا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تراویح کا عام رواج ہو گیا اور سب صحابہ تراویح پڑھا کرتے تھے اس لئے تراویح بھی اور سنتوں کی طرح سنت مؤکدہ ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ تم کو چاہئے کہ نئی باتوں سے بچتے رہو، کیونکہ ہر نئی بات (جو میرے اور میرے صحابہ کے دور میں نہیں ہوئی وہ) بدعت ہے اور ہر (ایسی) بدعت (جو سیئہ ہو وہ) گمراہی ہے۔ اس حدیث شریف میں ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ جو ارشاد ہوا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے اس لئے کہ اس سے یہ سمجھا جائے کہ ہر بدعت گمراہی ہے تو پھر مسلم نے جریرہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت کی ہے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ مسلم کی روایت یہ ہے: ”قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَنَّ فِى الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ . وَمَنْ سَنَّ فِى الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کہ اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کرے تو اس شخص کو اس اچھے طریقہ کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس شخص کو ان لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کئے ہوئے نیک طریقہ پر عمل کر رہے ہوں اور بغیر اس کے کہ اس شخص کے ایجاد کئے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ اور جو شخص کہ اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کرے تو اس شخص کو اس برے طریقہ کے ایجاد کرنے کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس شخص کے سر رہے گا جنہوں نے اس کے بعد اس کے ایجاد کئے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ہو، اور اس شخص کے ایجاد کئے ہوئے برے طریقہ پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدعت دو طرح پر ہے: ایک بدعت حسنہ، جس پر ثواب کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور دوسرے بدعت سیئہ، جس پر عذاب کا خوف دلایا گیا ہے۔ اب یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ صدر کی حدیث میں جو ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (ہر بدعت گمراہی ہے) ارشاد ہے کیا اس سے مراد ہر بدعت، خواہ حسنہ ہو یا سیئہ ہو، گمراہی ہوگی حالانکہ مسلم کی مذکورہ حدیث سے تو صرف بدعت سیئہ ہی کے گمراہی ہونے کا ثبوت ملتا ہے نہ کہ بدعت حسنہ کے گمراہی ہونے کا۔ اسی وجہ سے علماء نے صراحت کی ہے کہ مسلم کی اس حدیث اور اس طرح کی اور احادیث کی بناء پر ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (اپنے عموم پر باقی نہ رہی بلکہ اس سے خاص بدعت سیئہ ہی مراد ہوگی اور بدعت سیئہ ہی گمراہی ہوگی۔ یہاں اس حدیث کے عام کو خاص کرنا ایسا ہی ہے جیسے ”تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍ“ کی آیت میں ”كُلِّ شَيْءٍ“ کے عام سے خاص مراد لیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ہود-علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام - کی قوم پر نافرمانی کی وجہ سے ہوا کا عذاب نازل کیا گیا۔ اس عذاب کا ذکر سورۂ احقاف پ26 ع3 آیت نمبر:25 میں اس طرح مذکور ہے ”تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا“ یعنی وہ ہوا اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کررہی تھی حالانکہ ہوا صرف انسانوں اور ان کے مویشیوں ہی کو ہلاک کررہی تھی، جیسا کہ مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے تو یہاں جیسے ”كُلِّ شَيْءٍ“ کے عام سے ہر چیز کی ہلاکت مراد نہیں ہے بلکہ خاص انسانوں اور مویشیوں کی ہی ہلاکت مراد ہے، اسی طرح ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ میں ”كُلُّ بِدْعَةٍ“ جو بظاہر عام ہے، اپنے عموم پر باقی نہیں رہی۔ جیسا مسلم کی مذکورہ حدیث سے ثابت ہوچکا ہے، بلکہ اس سے مراد ”كُلُّ بِدْعَةٍ سَيِّئَةٍ ضَلَالَةٌ“ ہے صرف وہی بدعت گمراہی ہے جو سیئہ ہو۔12 عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد و بیہقی نے کی ہے اور ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Hadith 1703

Volume 1

English

Hudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said: 'Follow those who come after me: Abu Bakr and Umar.'" [Narrated by Tirmidhi, Ahmad, and Ibn Majah] Tirmidhi graded it as Hasan, while Ibn Hibban and Hakim authenticated it.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۳ - وَعَنْ حُذَيْفَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه، وَحَسَّنَهُ التَّرْمِذِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1960
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد (اگر تم ہدایت پر رہنا چاہتے ہو تو) ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رضی اللہ عنہما جو کہیں اور کریں) اس کی پیروی کرتے رہو (تاکہ تم ہدایت پر رہو، اور کبھی گمراہ نہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3662 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 97 (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.516
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 6052 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 6052

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہوسکو، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کو جو رائج فرما دیا اس پر عمل کرنا عین ہدایت ہے اور مثل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے عین سنت مؤکدہ ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی، امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے، ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے، اور ابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔)

Hadith 1704

Volume 1

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) encouraged people to perform night prayers in Ramadan without making it an obligatory command. He said: 'Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward, his previous sins will be forgiven.' The matter remained like this until the Prophet (ﷺ) passed away, and it continued during the caliphate of Abu Bakr and the early part of Umar's caliphate."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٠٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُرَغَبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيْهِ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقَوْلُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»، فَتُوْفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1961
ابوہریرہ (اس حدیث شریف کا ترجمہ بخاری کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔12) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایسا) تاکیدی حکم دیئے بغیر (کہ جس سے تراویح فرض ہو جائے (ایسی)) ترغیب دینے کے لئے (کہ جس سے تراویح سنت مؤکدہ ثابت ہو) یہ ارشاد فرماتے تھے کہ جو مومن ثواب کی نیت سے بغیر کسی قسم کی ریاء کے رمضان میں نماز تراویح پڑھے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد اور ترغیب سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر تنہا یا دو دو چار چار مل کر کسی کو امام بنا لیتے اور گھروں میں ہوں یا مسجد میں تراویح پڑھا کرتے تھے) زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک صحابہ کرام اسی طرح عمل کرتے رہے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی مسلمانوں کا یہی عمل رہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں بھی تراویح اسی طرح پڑھی جاتی تھی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 759a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1705

Volume 1

English

Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari 1 (may Allah be pleased with him) narrated: "I went out with Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) one night to the mosque, and we found the people praying in separate groups. A man would pray alone, and another would pray with a small group following him. Umar said: 'If I gather these people behind one Imam, it would be better.' He then resolved to gather them behind Ubayy ibn Ka'b. Later, I went out with him another night, and the people were praying behind their Imam. Umar said: 'What an excellent innovation this is! 2 But the part of the night you sleep through is better than the part you pray in.' He was referring to the last part of the night, as the people used to pray in the early part of the night."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٠٥ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ1 قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) لَيْلَةٌ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعُ مُتَفَرَّقُوْنَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ، فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهَطُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِي وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيُّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ2 هَذِهِ، وَالَّتِي تَنَامُوْنَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُوْمُوْنَ، يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1962
عبدالرحمٰن بن عبد قاری فرماتے ہیں کہ رمضان کی ایک شب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد نبوی کو گیا، ہم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ جدا جدا اور متفرق ہیں کوئی تنہا تراویح پڑھ رہا ہے اور کوئی جماعت کے ساتھ۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت عمر نے فرمایا: میرا یہ خیال ہوتا ہے کہ میں ان سب کے لئے ایک امام مقرر کر دوں جس کے پیچھے سب مل کر تراویح پڑھا کریں تو بہت اچھا ہوگا (کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسا ہوا ہے کہ صحابہ کرام نے سب کے سب جمع ہو کر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تراویح پڑھی ہے) مزید غور کے بعد حضرت عمر کا یہ خیال پختہ ہو گیا اور آپ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنا کر سب کو ان کی اقتداء کرنے کا حکم دیا۔ عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت عمر کے ساتھ پھر مسجد نبوی کو گیا تو دیکھا کہ لوگ سب کے سب جمع ہو کر ایک امام کے پیچھے تراویح پڑھ رہے ہیں، حضرت عمر نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ سب مسلمانوں کا ایک امام کے پیچھے جمع ہو کر تراویح ادا کرنا کیا ہی اچھی بدعت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2010 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari

(1) The statement "Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari" is mentioned by At-Tibi. The name "Al-Qari" refers to the tribe of Qarah, a branch of the tribe of Adhal. The author stated that Abdur-Rahman was a prominent Tabi'i (follower) from Madinah. It is said that he was born during the time of the Prophet (ﷺ), but he did not hear or see him. Al-Waqidi listed him among the companions born during the Prophet's lifetime. This is mentioned in Al-Maraqat.

Note 2

What an excellent innovation this is

(2) The statement "What an excellent innovation this is" was commented on by Ibn Taymiyyah: "As for Taraweeh, it is not an innovation in Shariah but a Sunnah based on the words and actions of the Prophet (ﷺ). He said: 'Allah has made fasting in Ramadan obligatory upon you, and I have made its night prayers a Sunnah.' Praying it in congregation is not an innovation but a Sunnah in Shariah. The Prophet (ﷺ) even prayed it in congregation for two or three nights and said: 'When a man prays with the Imam until he leaves, it is recorded for him as if he prayed the entire night.' This encourages praying Taraweeh behind the Imam. This is stronger than it being merely a Sunnah. People used to pray it in congregation in the mosque during his time, and he approved of it, and his approval is a Sunnah. As for Umar's statement, 'What an excellent innovation this is,' the term 'innovation' here is linguistic, as an action supported by the Quran or Sunnah is not an innovation in Shariah, even if it is called an innovation linguistically. The Prophet's (ﷺ) statement, 'Every innovation is misguidance,' does not refer to every new action but to actions introduced that are not part of his Shariah. During his time, people prayed Taraweeh in congregation and individually. On the third or fourth night, when they gathered, he said: 'What prevented me from coming out to you was the fear that it would be made obligatory upon you, so pray in your homes.' This indicates that the reason for not continuing was the fear of it becoming obligatory. Thus, during Umar's time, when he gathered them behind one Imam and lit the mosque, this new arrangement was called an innovation linguistically, not in Shariah, as the Sunnah already supported it, and the fear of obligation had ceased with the Prophet's (ﷺ) death. This is similar to the compilation of the Quran and other matters."

Note 1

قوله

(۱) قوله: وعن عبد الرحمن بن عبدٍ : بالتنوين قاله الطيبي. وقوله: «القاري بالياء المشددة نسبة إلى قبيلة قارة، وهم عضل، والديش قال المؤلف والمشهور أن عبد الرحمن تابعي من أجلة تابعي المدينة. يقال: ولد على عهد رسول الله ، وليس له منه سماع ولا رؤية، وعده الواقدي من الصحابة فيمن ولد على عهد رسول الله ﷺ. كذا في المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: نعمت البدعة هذه: قال ابن تيمية: أما التراويح فليست ببدعة في الشريعة، بل سنة بقول رسول الله ﷺ وفعله؛ فإنه قال: الله فرض عليكم صيام رمضان وسننت لكم قيامه ولا صلاتها جماعة بدعة بل سنة في الشريعة، بل قد صلاها رسول الله ﷺ في الجماعة ليلتين بل ثلاثا، وقال: إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة لما قام بهم حتى حسبوا أن يفوتهم الفلاح رواه أهل السنن. وفي هذا ترغيب لقيام رمضان خلف الإمام. وذلك أوكد من أن تكون سنة، وكان الناس يصلونها جماعات في المسجد على عهده ، ويقرهم، وإقراره سُنّة منه . وأما قول عمر الله: «نعمت البدعة هذه» فالتسمية لغوية؛ لأن العمل الذي دل عليه الكتاب أو السنة ليس ببدعة في الشريعة، وإن سمي بدعة في اللغة. وقد علم أن قول النبي ﷺ : كل بدعة ضلالة، لم يرد به كل عمل مبتدأ، وإنما أراد ما ابتدأ من الأعمال التي لم يشرعها هو . وإذا كان كذلك فقد كانوا يصلون قيام رمضان على عهده جماعةً وفرادى، وقد قال لهم في الليلة الثالثة أو الرابعة لما اجتمعوا : إنه لم يمنعني من الخروج إليكم إلا كراهة أن يفرض عليكم فصلوا في بيوتكم فعلل عدم الخروج خشية الافتراض. فعلم بذلك أن المقتضي قائم، وأنه لولا خوف الافتراض الخرج إليهم، فلما كان في عهد عمر جمعهم على قارئ واحد، وأسرج في المسجد، فصارت هذه الهيئة - وهي اجتماعهم في المسجد على إمام واحد مع الاسراج - عملا لم يعملوا به من قبل، فسمى بدعة؛ لأنه في اللغة سمي بذلك. ولم يكن بدعة شرعية؛ لأن السنة اقتضت أنه عمل صالح لولا خوف الافتراض، وقد زال بموته ، فانتفى المعارض. فصار هذا كجمع المصحف وغيره.

Note 1

(یہاں حضرت عمر نے نفس تراویح کو بدعت نہیں فرمایا، اور نہ تراویح کی جماعت کو، کیونکہ تراویح اور تراویح باجماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قولاً اور فعلاً ثابت ہے تو حضرت عمر نے مسلمانوں کو مسجد نبوی میں ایک ہی امام کے پیچھے مہینہ بھر تراویح پڑھنے کا جو حکم دیا اور اس کو ہمیشہ کے لئے جاری فرمایا، اسی کو آپ نے ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ بِدْعَةٌ حَسَنَةٌ“ فرمایا، واضح ہو کہ حضرت عمر کے تراویح باجماعت کو ایک ہی امام کے پیچھے جاری کر دینے سے حقیقت میں مسلم کی اس حدیث کی تعمیل ہوئی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے میرے بعد کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس اچھے طریقہ کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جو اس طریقہ پر عمل کرتے رہیں گے۔ ان سب کا بھی ثواب ملتا رہے گا۔ اسی لئے صاحب مرقات نے فرمایا ہے: چونکہ حضرت عمر نے ایک امام کے پیچھے تراویح باجماعت کو قائم کیا اور اس کو عام رواج دے دیا تو حضرت عمر کو اس کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور قیامت تک جو لوگ تراویح پڑھتے رہیں گے۔ ان سب کا ثواب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملتا رہے گا اور اس سے تراویح پڑھنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ (تراویح جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے سب مسلمانوں کو جمع فرمایا تھا اس کے پڑھنے کے دو وقت ہیں: ایک سونے کے بعد اٹھ کر آخر رات میں تراویح ادا کرنا، دوسرے سونے سے پہلے اوّل رات تراویح ادا کر کے سو رہنا۔ ان دو وقتوں میں سے سونے کے بعد اٹھ کر تراویح پڑھنا افضل ہے) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ تم اوّل شب تراویح پڑھ کر سو رہتے ہو، حالانکہ اوّل شب سو کر آخر شب تراویح پڑھنا اوّل شب میں تراویح پڑھنے سے افضل ہے (مگر آخر شب میں اٹھ کر تراویح پڑھنے کا بھروسہ نہ ہونے سے اوّل شب تراویح پڑھنے پر عمل درآمد ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔) ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے تراویح باجماعت کو ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهِ“ فرمایا۔ اس بارے میں علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ تراویح شریعت میں بدعت نہیں ہے بلکہ تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور عمل کی وجہ سے سنت ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر رمضان کے روزے فرض قرار دئے ہیں اور میں تم لوگوں پر تراویح کو سنت قرار دیتا ہوں۔ اور اسی طرح تراویح باجماعت بھی بدعت نہیں ہے بلکہ تراویح باجماعت بھی شریعت میں سنت ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھے تو ایسے شخص کے لئے تمام رات نماز پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات اتنی دیر تک تراویح پڑھائے کہ صحابہ کرام کو سحری کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوگیا تھا۔ اس حدیث کی روایت اصحاب سنن نے کی ہے، اور اس حدیث میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح باجماعت سنت مؤکدہ ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام مسجد نبوی میں مختلف جماعتوں کے ساتھ تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صحابہ کے اس عمل کو برقرار رکھتے اور ممانعت نہیں فرماتے تھے اور حضور کا صحابہ کے عمل کو برقرار رکھنا باجماعت تراویح کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کو ”نعمت البدعة“، یعنی بدعت حسنہ فرمایا تو یہ لغت اور محاورہ کے اعتبار سے ہے نہ کہ حقیقی طور پر، اس لئے کہ ہر ایسا عمل جس کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں ہو، اس کو شریعت میں بدعت نہیں کہا جاتا۔ اگرچہ کہ اس کو عام محاورہ یا لغت کے اعتبار سے بدعت کہہ دیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (ہر بدعت گمراہی ہے) سے مراد ہر وہ عمل بدعت نہیں جو نیا ہو، بلکہ اس ارشاد سے صرف ایسا نیا کام بدعت ہے جو احکام شرعیہ کے خلاف ہو (جیسے معتزلہ اور قدریہ وغیرہ کے عقائد) تو جب ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ سے حضور کا منشا معلوم ہوگیا اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اور آخری دہے میں تیسری شب یا چوتھی شب صحابہ کرام تراویح پڑھنے کے لئے جمع ہوگئے تو حضور علیہ الصلوة والسلام باہر تشریف نہیں لائے۔ اور تشریف نہ لانے کی وجہ یہ فرمائی کہ میں آج محض اس وجہ سے باہر نہیں نکلا کہ کہیں تراویح بھی تم پر فرض نہ ہوجائے، اس لئے تم تراویح کو اپنے اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو۔ یہاں حضور کے اس ارشاد سے صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ حضور کا تیسری یا چوتھی شب تراویح کے لئے باہر تشریف نہ لانا تراویح کے فرض ہوجانے کے خوف سے تھا تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فرضیت کا خطرہ باقی تھا اور اگر فرضیت کا خوف نہ ہوتا تو حضور ﷺ باہر تشریف لاتے اور تراویح پڑھاتے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو آپ نے ایک ہی امام کے پیچھے سب کو تراویح باجماعت کے لئے جمع کردیا اور مسجد میں روشنی کروائی تو تراویح کی یہ مخصوص صورت یعنی مسجد میں ایک امام کے پیچھے سب کا جمع ہونا اور روشنی کروانا ایسا عمل ہوا جس کو صحابہ کرام نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا اسی لئے حضرت عمر نے اس عمل کا نام بدعت رکھا، اس لئے کہ یہ لغت اور محاورہ کے لحاظ سے تو بدعت ہے لیکن شریعت میں بدعت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ از روئے سنت یہ عمل صالح ہے کیونکہ اب فرضیت کا اندیشہ دور ہوگیا اور فرضیت کا یہ اندیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات مبارک سے باقی نہ رہا۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراویح باجماعت کے سنت ہونے کے معارض اور مانع کوئی چیز نہ رہی تو تراویح باجماعت قرآن مجید کے جمع کرنے کی طرح بدعت حسنہ قرار پائی۔

Hadith 1706

Volume 1

English

Abdullah ibn Abi Bakr (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard Ubayy ibn Ka'b say: 'We used to finish the night prayers in Ramadan and hurry the servants to bring food, fearing we would miss Suhoor.' In another narration: 'Fearing the dawn.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٠٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيًّا يَقُوْلُ: كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْقِيَامِ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ فَوْتِ السُّحُوْرِ. وَفِي أُخْرَى مَخَافَةَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ مَالِكُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1963Noor 1964
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ ہم تراویح اوّل شب میں شروع کر کے اتنی دیر تک پڑھتے رہتے تھے کہ جب تراویح پڑھ کر واپس ہوتے تو ہم کو سحری کے فوت ہوجانے کا خوف ہوتا تھا اس لئے ہم گھر آکر خادموں سے سحری کا کھانا جلد دینے کا تقاضہ کرتے تھے، تاکہ سحری کا وقت نہ گزر جائے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔ 16-1964- امام مالک رحمة اللہ علیہ کی دوسری روایت میں ہے: ہم سحری کا کھانا جلد دینے کا تقاضہ کرتے تھے؛ تاکہ فجر کا وقت نہ گزر جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 253 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1303 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 1303

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

فصل سوم میں یہ مذکور ہے کہ (20) رکعت تراویح کا ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ خلفائے راشدین نے (20) رکعت تراویح پر پابندی فرمائی ہے اور اس کو ہمیشہ ادا کیا ہے اور اس سے پہلے حدیث گزر چکی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع بھی لازمی ہے اور خلفاء راشدین کی سنت کا تارک گنہگار ہوگا۔ چونکہ خلفائے راشدین سے (20) رکعت تراویح ثابت ہے اس لئے (20) رکعت تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اسی پر ہر زمانہ میں عمل درآمد رہا ہے۔

Hadith 1707

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) used to pray twenty rak'ahs in Ramadan individually, excluding Witr."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۷ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً فِي غَيْرِ جَمَاعَةٍ وَالْوِتْرِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَغَوِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَفِيهِ ضُعْفٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1965
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں بغیر جماعت کے تنہا (20) رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے اور نماز وتر ان (20) رکعت کے سوا ہوتی تھی۔ (اس کی روایت بیہقی، طبرانی، ابن ابی شیبہ، بغوی اور عبد بن حمید نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Chapter-heading commentary

Section

(1) The statement "Section" refers to the fact that performing twenty rak'ahs in Taraweeh is a highly recommended Sunnah, as it was consistently practiced by the rightly guided caliphs. It has been established that following the Sunnah of the caliphs is obligatory, and abandoning it is sinful. The narrations in this section support this.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: فصل: الأمر الثالث: أن مجموع عشرين ركعة في التراويح سنة مؤكدة؛ لأنه مما واظب عليه الخلفاء، وقد سبق أن سنة الخلفاء أيضًا لازم الاتباع، وتاركها آثم. والروايات التي في هذا الفصل دالة عليه.

Hadith 1708

Volume 1

English

Yazid ibn Ruman reported: "During the time of Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him), people used to pray twenty-three rak'ahs (including Witr)." [Narrated by Malik] In Athar As-Sunan, it is said: "Its chain is mursal but strong."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۸ - وَعَنْ يَزِيدُ بْنُ رُوْمَانَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُقِيمُوْنَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَة. رَوَاهُ مَالِكُ، وَقَالَ فِي آثَارِ السُّنَنِ»: إِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ قَوِيٌّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1966
یزید بن رومان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں لوگ رمضان میں 23 رکعت پڑھا کرتے تھے: جس میں 20 رکعت تراویح کے ہوتے اور 3 وتر کے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1302 (unverified) 70% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 251 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 1302

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1709

Volume 1

English

Umar (may Allah be pleased with him), who gathered the people behind Ubayy ibn Ka'b, and he would lead them in twenty rak'ahs.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۰۹ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيُّ بْن كَعْبٍ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1967
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنا کر سب لوگوں کو ان کے مقتدی کر کے تراویح کے 20 رکعت پڑھانے کا حکم دے گئے تھے۔ (اس کی روایت بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Hadith 1710

Volume 1

English

As-Sa'ib ibn Yazid reported: "We used to pray 1 twenty rak'ahs (excluding Witr) during the time of Umar (may Allah be pleased with him)." [Narrated by Bayhaqi in Al-Ma'rifah with a Sahih chain] Imam Nawawi said in Al-Khulasa: "Its chain is authentic." In another narration by Bayhaqi: "And during the time of Uthman and Ali (may Allah be pleased with them), it was the same."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۱۰ - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا1 نَقُوْمُ فِي عَهْدِ عُمَرَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الْمَعْرَفَةِ بِالْإِسْنَادِ الصَّحِيحِ. قَالَ النَّوَوِيُّ فِي الْخُلَاصَةِ»: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِيُّ: وَعَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ وَعَلِيَّ مِثْلَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1968Noor 1969
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں 20 رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے اور وتر کی نماز 20 رکعت کے سوا ہوتی تھی۔ (اس کی روایت بیہقی نے معرفت میں سند صحیح کے ساتھ کی ہے اور امام نووی نے خلاصہ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے) اور بیہقی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں بھی وتر کے سوا تراویح کے 20 رکعت پڑھے جاتے تھے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

We used to pray

(1) The statement "We used to pray" is understood to mean that the companions' actions and commands were based on the teachings of Allah and His Messenger (ﷺ). This is because the companions only narrated such practices to establish a ruling, permissibility, prohibition, or a legal judgment, indicating its legitimacy. Scholars have differed on the implications of such phrases, but the stronger view is that they are considered marfu' (attributed to the Prophet) due to the reasons mentioned. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كنا نقوم إلخ : وقد علم أن قول الصحابي: كنا نفعل وأمرنا ونهينا محمول على أنه أمر الله ولرسوله، ونهي من الله ورسوله؛ لأن الصحابي إنما يقصد الاحتجاج به لإثبات شرع، وتحليل وتحريم، وحكم يوجب كونه مشروعا، وقد اختلفوا في هذه الصيغ. والراجح أن حكمها الرفع لما ذكرنا. قاله العلامة العيني.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تراویح کے 20 رکعت پڑھا کرتے تھے۔ اس بارے میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی معاملہ میں یوں فرمائیں کہ ”ہم ایسا کرتے تھے“ یا ”ہم کو ایسا حکم دیا گیا ہے“ یا ”ہم کو فلاں کام سے منع کیا گیا ہے تو واضح رہے کہ صحابہ کرام کا اس طرح فرمانا حقیقت میں وہ حکم یا ممانعت اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سمجھی جائے گی اور صحابہ کرام کے اس طرح بیان کرنے سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس چیز کے جواز یا اس کی حلت اور حرمت کو ثابت کیا جائے نہ اس کام کی شرعی حیثیت بیان کی جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کے ایسے اقوال مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم دینے یا منع فرمانے کے قائم مقام سمجھے جائیں گے۔ اس اصول سے ثابت ہوا کہ صحابہ کا یہ فرمانا کہ ”ہم تراویح کے 20 رکعت پڑھا کرتے تھے‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے کے قائم مقام ہے اس لئے تراویح کے 20 رکعت سنت مؤکدہ ہیں۔12

Hadith 1711

Volume 1

English

Shubrumah, who was among the companions of Ali (may Allah be pleased with him). He used to lead them in Ramadan, praying five Tarwihahs (sets of prayers).

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۱۱ - وَعَنْ شُبْرُمَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فِي رَمَضَانَ، فَيُصَلِّي خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1970
شبرمہ رضی اللہ عنہ سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے روایت ہے کہ شبرمہ رمضان میں امامت کرتے تو تراویح کے (20) رکعت پانچ ترویحات کر کے پڑھاتے تھے (اور ہر ترویحہ چار رکعت کا ہوتا تھا)۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں تراویح کے 20 رکعت پانچ ترویحات کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے ردالمحتار میں قہستانی کے حوالے سے مذکور ہے کہ ہر ترویحہ یعنی ہر چار رکعت کے بعد یہ تسبیح پڑھنا چاہئے: ’’سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ‘‘ اے اللہ! ہر عیب سے آپ پاک ہیں، حقیقی بادشاہت آپ ہی کی ہے اور ساری مخلوق پر آپ ہی کو کامل اختیار ہے۔ ’’سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوْتِ‘‘۔ پھر عرض کرتا ہوں کہ سارے مخلوقات کے صفات سے آپ پاک ہیں، اور ساری عزت آپ ہی کی ہے، آپ ہی بڑے عظمت والے ہیں، ہر چیز پر آپ کو قدرت حاصل ہے، آپ جو چاہیں کرتے ہیں، کوئی آپ کو روکنے والا نہیں، ہر طرح کی بڑائی کے آپ ہی سزاوار ہیں، عظمت وجلال کے آپ ہی لائق ہیں۔ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ اے اللہ! آپ ہر نقص سے پاک ہیں اور ایسے بادشاہ ہیں کہ آپ کی بادشاہت کے سامنے سب کی بادشاہت ہیچ ہے۔ (ہر زندہ کو موت آنے والی ہے)، اور آپ ایسے زندہ ہیں کہ کبھی آپ کو موت نہیں آئے گی۔ (انسان بھی پاک ہے مگر عارضی) آپ پاک ہیں دائمی، انسانی صفات سے اور انسانی احتیاج سے آپ بالکل پاک ہیں، آپ کی شان کا کیا کہنا فرشتوں اور جبرئیل علیہ السلام کے آپ رب ہیں۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ ہی معبود ہیں، یکتا ہیں، کوئی آپ کا شریک نہیں۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ آپ کے ان عالی صفات کو سن کر اپنی عاجزی اور مجبوری یاد آگئی۔ اس لئے عرض کرتے ہیں کہ ہم سراپا قصور ہیں، آپ ہی سے ہم تمام گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ آپ کے صفات عالیہ کا صدقہ ہمارے اعمال کو مت دیکھئے اپنے فضل و کرم سے ہم کو جنت عطا فرمائیے۔ وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے ہیں آپ کے رحم و کرم کا صدقہ دوزخ کی آگ سے ہم کو بچائیے۔ ردالمحتار میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس تسبیح کو ہر ترویحہ کے بعد تین بار پڑھنا چاہیے۔12

Hadith 1712

Volume 1

English

Abu Abdur-Rahman As-Sulami reported: "Ali (may Allah be pleased with him) called the reciters during Ramadan and ordered a man to lead the people in twenty rak'ahs. Ali would lead them in Witr."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۱۲ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِي أَنَّ عَلِيًّا (رضي الله عنه) دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَ رَجُلًا بِأَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَكَانَ عَلِيٌّ يُؤْتِرُ بِهِمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1971
ابوعبدالرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں حفاظ کو بلاتے اور ان میں سے ایک حافظ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں کو 20 رکعت تراویح پڑھائے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خود نماز وتر پڑھاتے تھے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: تراویح جیسے مردوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے ایسے ہی عورتوں کے لئے بھی 20 رکعت سنت مؤکدہ ہے اس لئے ان کو بھی چاہیے کہ فرض نمازوں کی طرح اپنے اپنے گھروں میں رمضان میں عشاء کے فرض و سنت اور نفل کے بعد دو دو رکعت کی نیت باندھ کر 20 رکعت تراویح پڑھا کریں، اور جب تراویح کے 20 رکعت ادا کر چکیں تو نماز وتر پڑھیں۔ (طحطاوی)

Hadith 1713

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I missed the Messenger of Allah (ﷺ) one night, so I went out to look for him and found him in Al-Baqi'. He said: 'Were you afraid that Allah and His Messenger would wrong you?' I replied: 'O Messenger of Allah, I thought you had gone to one of your wives.' He said: 'On the night of the 15th of Sha'ban, Allah descends to the lowest heaven and forgives more people than the number of hairs on the sheep of the tribe of Kalb.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah] Razin added: "From those who deserve the Fire."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۱۳ - عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ لَيْلَةً، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكَ وَرَسُولُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ. فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَزَادَ رَزِينُ : مِمَّنْ اسْتَحَقَّ النَّارَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1972
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ شعبان کی پندرھویں شب جس کو شب براءت کہتے ہیں میری باری کی رات تھی) اس رات میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر پر نہ پائی (حضرت کی محبت کی وجہ سے مجھے طرح طرح کے خیالات آنے لگے، غالب گمان میرا یہ ہوا کہ شاید اپنی کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں تو میں آپ کو ڈھونڈتے ہوئے نکلی، مدینہ شریف کے بقیع نامی قبرستان پر میری نظر پڑی) کیا دیکھتی ہوں کہ حضور قبرستان میں کھڑے ہوئے ہیں (اور اموات کے لئے دعائے مغفرت فرما رہے ہیں، مجھ کو حضور دیکھے اور میرا جو خیال تھا کہ آپ شاید کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، اس کا حضور پر کشف ہو گیا) حضور نے فرمایا، عائشہ! (تمہارا کیا خیال ہے) اللہ تعالیٰ اور میں اس کا رسول ہونے کی وجہ سے کسی پر ظلم نہیں کرتے ہیں (تو تمہاری باری کی رات تم پر ظلم کر کے دوسری بیوی کے پاس کیسے جا سکتا تھا؟ مگر تمہارا جو خیال تھا یہ اللہ کے رسول کی محبت کی وجہ سے تھا اس لئے تم پر کوئی الزام نہیں بلکہ تم اس خیال کی وجہ سے ثواب کی مستحق ہو، میں جو گھر سے نکل کر قبرستان میں آ گیا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عائشہ تم کو خبر نہیں کہ آج کی کیسی مبارک رات ہے؟ اس رات میں کیا ہو رہا ہے؟ سنو عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری حصہ میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں مگر) آج کی رات مغرب ہی سے صبح صادق طلوع ہونے تک آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں (کیا کیا سرفرازیاں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اس کو کیا کہوں؟ ایک رحمت اور عنایت تو یہ ہے کہ) قبیلہ بنی کلب (جو بہ نسبت اور قبائل عرب کے کثرت سے بکریاں رکھنے میں مشہور تھا) اس قبیلہ کے بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے تو یہ روایت کی ہے اور رزین کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جو مسلمان اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق ہو گئے ہیں ان کو بھی اس رات بخش دیا جاتا ہے (یہ ہے اس رات کی خصوصیت! اور یہ ہے اس رات کی عام رحمت! اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکل کر بقیع کے اموات کے لئے دعائے مغفرت فرما رہے تھے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 739 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1389 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1299 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1299

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Chapter-heading commentary

Section

(2) The statement "Section" refers to the night prayer on the 15th of Sha'ban.

Chapter-heading commentary

قوله

(۲) قوله: فصل: فيه قيام ليلة النصف من شعبان.

Hadith 1714

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Do you know what happens on this night?"—referring to the night of the 15th of Sha'ban. She replied: "What happens, O Messenger of Allah?" He said: "On this night, every person to be born in the coming year is recorded, and every person to die in the coming year is recorded. On this night, their deeds are raised, and their provisions are sent down." She said: "O Messenger of Allah, does anyone enter Paradise except by the mercy of Allah?" He replied: "No one enters Paradise except by the mercy of Allah," repeating it three times. I asked: "Not even you, O Messenger of Allah?" He placed his hand on his head and said: "Not even me, unless Allah covers me with His mercy," repeating it three times.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧١٤ - وَعَنْهَا (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «هَلْ تَدْرِيْنَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟» - يَعْنِي لَيْلَةَ النَّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ - قَالَتْ: مَا فِيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: «فِيْهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ مَوْلُودِ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكِ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ، وَفِيْهَا تُنْزَلُ أَرْزَاقُهُمْ» . فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى، فَقَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى ثَلَاثًا، قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى هَامَّتِهِ، فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ يَقُوْلُهَا ثَلَاثَ مِرَّاتٍ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1973
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ! تم کچھ جانتی ہو کہ آج پندرھویں شعبان کی رات (جو شب براءت ہے) کیا ہو رہا ہے؟ ام المومنین عرض کیں: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں فرمائیے یا رسول اللہﷺ آج کی رات کیا ہو رہا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قیامت تک جو جو ہونا ہے وہ تو سب لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے لیکن اس سال جو ہونا ہے وہ آج کی رات لوح محفوظ سے نقل کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ) اس سال بنی آدم جو پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھے جا رہے ہیں اور اس سال جو بنی آدم مرنے والے ہیں ان کے بھی نام لکھے جا رہے ہیں (روزانہ کے نیک اعمالوں کو جیسے آسمان پر اٹھا لیا جاتا ہے ایسے ہی وہ اعمال صالحہ جو ابھی نہیں ہوئے ہیں اور اس سال ہونے والے ہیں) ان کو بھی آج کی رات لکھ لیا جاتا ہے اور لوح محفوظ سے مقابلہ کے لئے آسمانوں پر اٹھا لیا جاتا ہے) اور اس رات بنی آدم کے سال بھر کا رزق اتارا جاتا ہے (کہ کس کو کیا ملے گا اور کس قدر ملے گا)(ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب سنیں کہ سال بھر ہونے والے اعمال صالحہ جو ابھی واقع نہیں ہوئے ہیں لکھ کر آسمانوں پر اٹھا لئے جاتے ہیں تو) ام المؤمنین (کو شبہ ہوا اس لئے) دریافت فرمائیں کہ یا رسول اللہ (اعمال صالحہ جو دخول جنت کے موجب ہیں اپنے وقوع سے پہلے ہی لکھ لئے جاتے ہیں اور آسمانوں پر اٹھا لئے جاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جنت اعمال صالحہ کے بدلہ میں نہیں بلکہ جس کو اللہ کی رحمت شامل ہو جائے وہی جنت میں جائے گا؟ یہ سن کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا عائشہ! (اعمال صالحہ جنت میں جانے کے لئے ظاہری سبب ہیں مگر حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جس کو جنت میں داخل کرنا چاہتے ہیں اس کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرماتے ہیں اس لئے) رحمت الٰہی ہی جنت میں جانے کا سبب حقیقی ہے، تین بار اس طرح ارشاد ہوا۔ یہ سن کر میں عرض کی: یا رسول اللہ! (آپ علم و عمل میں کمال رکھتے ہیں کہ کوئی آپ کا ثانی نہیں) کیا آپ بھی بجز رحمت الٰہی کے جنت میں نہیں جائیں گے؟ تو حضور اپنے سر مبارک پر ہاتھ رکھ کر (اپنی احتیاج کو ظاہر کر کے) فرمائے کہ میں بھی نہیں جاؤں گا مگر یہ کہ رحمت الٰہی مجھے گھیر لے تو میں بھی جنت میں جاؤں گا، اس کو بھی آپ تین مرتبہ فرمائے (چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور ہمیشہ مجھ کو رحمت الٰہی گھیرے رہتی ہے، اسی لئے میں اعمال صالحہ میں بیحد کوشش کرتا ہوں کہ اعمال ظاہری جو رحمت الٰہی کے سبب ہیں جنت میں لے جانے کے باعث بنیں)۔ (اس حدیث کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1305 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1305

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1715

Volume 1

English

Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the night of the 15th of Sha'ban, Allah looks down and forgives all of His creation except for a polytheist or one who harbors hatred." [Narrated by Ibn Majah] Ahmad narrated it from Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him). In another narration: "Except for two: one who harbors hatred and a murderer."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧١٥ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه) عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النَّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «إِلَّا اثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1974Noor 1975Noor 1976
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں رات جس کو شب براءت کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نزول رحمت فرما کر تمام گنہگاروں کی مغفرت فرماتے ہیں مگر مشرک کو نہیں بخشتے اور اس مسلمان کو بھی نہیں بخشتے جو کسی مسلمان سے (بغیر کسی شرعی وجہ کے) کینہ رکھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔) اور اسی حدیث کی روایت امام احمد نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کی ہے۔ اور امام احمد کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ شب برات میں تمام گنہگاروں کو بخش دیتے ہیں مگر دو آدمیوں کو نہیں بخشتے۔ ایک وہ مسلمان جو کسی مسلمان سے (بغیر کسی شرعی وجہ کے) کینہ رکھے اور دوسرے اس مسلمان کو بھی نہیں بخشتے جو کسی کو عمداً (بغیر قصاص کے) ناحق قتل کردے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1390 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1706 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1706

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ شب براءت میں ایسے مسلمان کی بخشش نہیں ہوتی جو کسی مسلمان سے کینہ رکھے یا کسی کو ناحق قتل کردے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات: بجز کفر کے تمام حقوق اللہ معاف فرما دیتے ہیں البتہ حقوق العباد کو معاف نہیں فرماتے یہاں تک وہ توبہ کرلے۔

Hadith 1716

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the night of the 15th of Sha'ban arrives, stand in prayer during its night and fast during its day. For Allah descends to the lowest heaven at sunset and says: "Is there anyone seeking forgiveness so that I may forgive them? Is there anyone seeking provision so that I may provide for them? Is there anyone afflicted so that I may heal them? Is there anyone...?" until dawn breaks.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧١٦ - وَعَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوا لَيْلَهَا وَصُوْمُوا يَوْمَهَا؛ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقَوْلُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ ، أَلَا مُسْتَرْزِقُ فَأَرْزُقَهُ، أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1977
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں رات آئے (جس کو شب براءت کہتے ہیں) تو اس رات نماز پڑھو اور اسے عبادت میں گزارو اور اس رات کے بعد جو دن آ رہا ہے یعنی پندرھویں شعبان کو روزہ رکھو (رات کے جاگنے اور دن کے روزہ رکھنے سے اپنے کو ان رحمتوں کے قابل بناؤ جو اس رات نازل ہوتی ہیں، تم کو معلوم ہے کہ اس رات کیا ہوتا ہے؟) اس رات اللہ تعالیٰ مغرب ہی سے آسمانی دنیا پر نزول فرماتے ہیں (کیا کہوں کہ کس کس طرح سے اپنی رحمت کو ظاہر فرماتے ہیں نہایت مہربانی سے) فرماتے رہتے ہیں: اے گنہگار! کہاں ہے؟ آ اپنی مغفرت مانگ! اس رات جو مغفرت مانگے، میں اس کی مغفرت کرتا ہوں! کہاں ہے رزق مانگنے والا؟ آئے مجھ سے رزق مانگے میں اس کو رزق دیتا ہوں! کہاں ہے ایسا شخص جو طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار ہے! آ میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں کو دور کرتا ہوں! کہاں ہے ایسا شخص جو مجھ سے یہ مانگے اور میں اس کو یہ دوں! کہاں ہے ایسا شخص جو مجھ سے یہ مصیبت دفع کرنا چاہے اور میں اس کو دفع کر دوں۔ ایسے ہی طرح طرح کی حاجتیں مانگنے والا مجھ سے اپنی حاجتیں مانگے، میں اس کی تمام حاجتیں پوری کرتا ہوں! (مگر اے مانگنے والے! اپنے ایسے دل سے مانگ جو میرے دینے پر یقین رکھتا ہو، اگر تجھ کو میرے دینے یا نہ دینے پر شک ہو تو پھر تُو محروم رہے گا) اس طرح کی ندائیں صبح صادق طلوع ہونے تک ہوتی رہتی ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1388 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1308 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 1308

Confidence and text similarity are not editorial verification.