Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with him), who saw some people praying Duha and said: "They surely know that prayer at another time is better. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun.'" 1
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ
چاشت کی نماز کو چاشت کے اوّل وقت میں پڑھ رہے تھے (حالانکہ یہ اشراق کی نماز کا وقت تھا،
چاشت کی نماز کا یہ مستحب وقت نہیں تھا) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا (کہ
چاشت کی نماز کا مستحب وقت یہ نہیں ہے) ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ چاشت کی نماز کا مستحب وقت
اس کے علاوہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ صلاة الاوابين یعنی
چاشت کی نماز اس وقت ہونی چاہئے جبکہ اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے ریت کی تپش سے
گرمانے لگے ہوں (اور اس وقت دن کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے اور اس وقت کے مستحب ہونے کی
وجہ یہ ہے کہ یہ راحت و آرام اور کاروبار کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت نماز کے لئے کھڑے ہونا نفس
پر شاق ہے، اس وقت چاشت کی نماز وہی پڑھے گا جو اوابین میں سے ہو، یعنی جو اپنی راحت و آرام
اور کاروبار کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع ہونے والوں میں ہو)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: ‘By the even and the odd.’ (Al-Fajr, 89:3)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 748b (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun
(1) The statement "The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun" is explained in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is recommended to pray four or more rak'ahs of Duha from after sunrise until midday. The preferred time is after a quarter of the day has passed." In Al-Munyah, it is stated: "The minimum is two rak'ahs, the maximum is twelve, and the middle is eight, which is the best, as established by the Prophet's (ﷺ) actions and words. The maximum is based solely on his words."
Note 1
قوله
(۱) قوله: صلاة الأوابين حين تَرْمَضُ الفِصَالُ، وقال في الدر المختار»: وندب أربع فصاعدًا في الضحى على الصحيح، من بعد الطلوع إلى الزوال. ووقتها المختار بعد ربع النهار. وفي المنية»: أقلها ركعتان، وأكثرها اثنا عشر، وأوسطها ثمان، وهو أفضلها، كما في الذخائر الأشرفية؛ لثبوته بفعله وقوله . وأما أكثرها فبقوله ﷺ فقط.
Note 1
ف: واضح باد کہ درمختار میں لکھا ہے کہ چاشت کی نماز بقول صحیح چار رکعت یا اس سے زائد ہے
اور اس کا وقت آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے شروع ہو کر زوال تک رہتا ہے اور نماز
چاشت کا مستحب وقت یہ ہے کہ اس کو دن کا چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ادا کیا جائے۔ المنیہ میں کہا
گیا ہے کہ نماز چاشت کی کم از کم مقدار دو رکعت ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں اور اوسط آٹھ
رکعت ہیں اور آٹھ رکعت ہی افضل ہے جیسا کہ ذخائر اشرفیہ میں مذکور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز
چاشت کے (8) رکعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہیں اور بارہ
رکعت کا ثبوت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول سے ملتا ہے عمل سے نہیں۔
Mu'adh ibn Anas Al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever sits in his prayer place after Fajr prayer until he prays two rak'ahs of Duha, speaking only good, will have his sins forgiven, even if they are as abundant as the foam of the sea.'"
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص فجر کی نماز پڑھ کر اشراق کی نماز پڑھنے تک اپنے مصلّٰی پر بیٹھا
رہے اور سوائے بھلائی کی بات یعنی تلاوت قرآن، ذکر و فکر اور تعلیم و تعلم کے کوئی دنیا کی بات نہ کرے،
اور اشراق کی دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے تو ایسے شخص کے تمام گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں، اگرچہ اس کے
گناہ کثرت میں سمندر کے کف (جھاگ) کے برابر ہوں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Every joint in a person's body must give charity every day. Every Tasbih (saying SubhanAllah) is charity, every Tahmid (saying Alhamdulillah) is charity, every Tahlil (saying La ilaha illallah) is charity, every Takbir (saying Allahu Akbar) is charity, enjoining good is charity, forbidding evil is charity, and two rak'ahs of Duha suffice for all of this.'"
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انسان تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے جسم میں (360) جوڑ
بنائے ہیں اور ان کو صحیح سالم رکھے ہیں جن سے تو نفع اٹھا رہا ہے کیا خدا کے اس احسان کا تجھ پر
کچھ شکریہ نہیں ہے؟ تجھ کو چاہئے کہ تو اپنے ہر ہر جوڑ کا شکریہ ادا کرے) جب تو صحیح و سالم صبح کیا
ہے تو تجھ کو چاہئے کہ ہر جوڑ کے بدلہ صدقہ یعنی خیرات دے (پورا شکریہ تو کیا ادا کر سکتا ہے، ہر
جوڑ کے بدلہ کچھ تو صدقہ دے کر شکریہ ادا کر! مالی صدقہ تجھ پر مقرر کرتے تو تجھ کو بہت بار ہوتا، یہ
بھی ہمارا احسان ہے کہ) ہر ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ‘‘ کہنے کو، ہم صدقہ یعنی خیرات کے قائم مقام بنائے
ہیں اور ہر ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ کہنے کو بھی، ہم خیرات کے قائم مقام بنائے ہیں، اور تیرا ہر بار ’’لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللّٰهُ‘‘ کہنا بھی خیرات کے قائم مقام ہے، اور تیرا ہر بار ’’اَللّٰهُ أَكْبَرُ‘‘ کہنا بھی خیرات کے
قائم مقام ہے، اور نیک کام کا حکم دینا بھی خیرات کے قائم مقام ہے اور بُری بات سے منع کرنا
بھی خیرات کے قائم مقام ہے (اگر تو مالی خیرات نہ دے سکے اور اسی طرح قولی خیرات بھی نہ
کر سکے تو) اشراق کے کم از کم دو رکعت تو پڑھ لیا کر کہ یہ دو رکعت تیرے ہر جوڑ کی نعمت کے
بدلے میں شکریہ کے قائم مقام بن جائیں گے (اس سے زیادہ اور ہم کیا آسانی کریں اگر تجھے
کچھ قدر ہو تو ہمارے ہر احسان کا شکریہ ادا کرتا)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'A person has 360 joints, and each joint must give charity.' They asked: 'Who can afford that, O Prophet of Allah?' He replied: 'Covering phlegm in the mosque, removing something harmful from the road, or if you cannot do that, then two rak'ahs of Duha will suffice for you.'"
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ انسان کے جسم میں (360) جوڑ ہیں ((ان سے ہر کام میں مدد
ملتی ہے اور ان سے ہر کام سہولت سے کیا جاتا ہے اگر یہ (360) جوڑ نہ ہوتے تو انسان مثل ایک تختہ
کے ہوتا اور کوئی کام نہیں کر سکتا۔ یہ ایسی بڑی نعمت ہے کہ ہر جوڑ کے بدلہ میں شکریہ ادا کرنا چاہئے
اس کا شکریہ اس طرح ادا ہوگا کہ) ہر ایک جوڑ کے بدلہ خیرات دی جائے، صحابہ (خیال فرمائے کہ
اس سے حضور کا منشاء مالی خیرات کرنا ہے اس لئے) عرض کے: یا نبی اللہ! ہم محتاج ہیں، اس لئے ہر
جوڑ کے بدلہ ہم کیسے خیرات دے سکتے ہیں: تو حضور ارشاد فرمائے: (مالی خیرات نہ ہو سکے) اگر تم
دیکھو کہ مسجد میں رینٹ یا بلغم پڑا ہوا ہو تو اس کو دور کر کے جگہ پاک کر دو (یہ بھی خیرات ہے) یا راستہ
میں (دیکھو کہ) کانٹے یا پتھر پڑے ہوئے ہیں (جس سے آنے جانے والوں کو ایذا ہو رہی ہو تو)
اس کو راستہ سے ہٹا کر راستہ صاف کر دینا بھی خیرات ہے (اسی قسم کے تمام کام جن سے لوگوں کو
آرام ملے سب خیرات ہیں) اگر کسی سے یہ نہ ہو سکے تو اشراق کے دو رکعت پڑھ لیا کرے، تو یہ دو
رکعت ہر جوڑ کی نعمت کے شکریہ میں خیرات کرنے کے قائم مقام ہوں گے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever consistently prays two rak'ahs of Duha will have his sins forgiven, even if they are as abundant as the foam of the sea.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اشراق کے دو رکعت کو روزانہ پابندی کے ساتھ پڑھا کرے تو
ایسے شخص کے تمام گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں، اگرچہ اس کے گناہ کثرت میں سمندر کے (کف)
جھاگ کے برابر ہوں۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu Ad-Darda and Abu Dharr (may Allah be pleased with them) reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, narrating from Allah, the Blessed and Exalted: 'O son of Adam, pray four rak'ahs for Me at the beginning of the day, and I will suffice you for the rest of it.'" [Narrated by Tirmidhi]
Abu Dawud and Al-Darimi narrated it from Nu'aym ibn Himar Al-Ghatafani, and Ahmad narrated it from them.
ابودرداء اور ابوزر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث قدسی میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
کہ اے آدم کی اولاد! اے انسان! تو شروع دن میں خاص میری خوشنودی کے لئے بغیر ریاء اور
دکھاوے کے اشراق کے چار رکعت پڑھ لیا کر تو دیکھے گا کہ میں تیری ساری ضرورتوں کو آخر دن تک
پورا کرتا رہوں گا اور تیری ساری پریشانیوں کو دور کر دوں گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد اور دارمی نے اس کی روایت نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ سے کی
ہے۔
اور امام احمد نے تینوں صحابہ، ابودرداء، ابوذر اور نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہم سے
اس حدیث کی روایت کی ہے۔
Mu'adhah (may Allah be pleased with her) narrated: "I asked Aisha (may Allah be pleased with her): 'How many rak'ahs did the Messenger of Allah (ﷺ) pray for Duha?' She replied: 'Four rak'ahs, and he would increase as Allah willed.'"
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز کے
کتنے رکعت پڑھا کرتے تھے؟ ام المؤمنین ارشاد فرمائیں کہ آپ چاشت (جیسا کہ بخاری اور مسلم کی
دوسری روایت میں مذکور ہیں۔12) کے چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی اس سے زیادہ بھی
پڑھتے تھے جس قدر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا (مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بارہ رکعت سے زیادہ
چاشت کی نماز پڑھنا کہیں ثابت نہیں ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Umm Hani (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) entered her house on the day of the conquest of Makkah, performed Ghusl, and prayed eight rak'ahs. I have never seen a prayer lighter than that, except that he completed the bowing and prostration." In another narration, she said: "That was during Duha."
11/1987-1988۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے، غسل فرمائے اور چاشت کی
آٹھ رکعتیں ادا فرمائے مگر آپ نے یہ نماز اس قدر مختصر ادا فرمائی کہ کبھی میں نے آپ کو اتنی مختصر اور
ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر اس کے رکوع اور سجدے کامل طور پر اطمینان کے ساتھ ادا فرما رہے تھے
اور آپ صرف قرأت کو مختصر فرمائے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Aisha (may Allah be pleased with her), who used to pray eight rak'ahs of Duha and then say: "Even if my parents were resurrected, I would not abandon it."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ کی عادت
مبارکہ تھی کہ آپ چاشت کے آٹھ رکعت پڑھا کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے چاشت کی
نماز میں ایسی لذت ملتی ہے کہ ماں باپ کے زندہ ہونے میں وہ لذت نہیں (اگر میرے ماں باپ
زندہ ہوں تو اس خوشی اور لذت میں اس چاشت کی نماز کی لذت کو نہیں بھولوں گی، چاشت کی نماز
کبھی ناغہ نہیں کروں گی یہ فرما کر ام المؤمنین مسلمانوں کو رغبت دلاتی ہیں کہ کچھ ہو جائے، کیسا ہی اہم
کام آ جائے تم چاشت کی نماز کو ہرگز نہ چھوڑنا)۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever prays twelve rak'ahs of Duha, Allah will build for him a palace of gold in Paradise.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو چاشت کے بارہ رکعت پڑھا کرے تو اس کے لئے جنت میں
سونے کا محل بنایا جاتا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray Duha so consistently that we thought he would never abandon it, and he would abandon it so much that we thought he would never pray it."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز اس اہتمام سے پڑھتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے اب آپ نماز چاشت کو
کبھی نہیں چھوڑیں گے اور پھر چھوڑتے بھی تو اتنے دن چھوڑتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ آپ چاشت
کی نماز کبھی نہیں پڑھیں گے (حضور اس طرح اس وجہ سے کرتے تھے تاکہ یہ نماز امت پر فرض یا
واجب نہ ہو جائے۔ اب یہ خطرہ نہیں رہا اس لئے اس نماز چاشت کو پابندی سے پڑھا کرنا امت پر
مستحب ہے)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun" is explained in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is recommended to pray four or more rak'ahs of Duha from after sunrise until midday. The preferred time is after a quarter of the day has passed." In Al-Munyah, it is stated: "The minimum is two rak'ahs, the maximum is twelve, and the middle is eight, which is the best, as established by the Prophet's (ﷺ) actions and words. The maximum is based solely on his words."
Note 1
(۱) قوله: صلاة الأوابين حين تَرْمَضُ الفِصَالُ، وقال في الدر المختار»: وندب أربع فصاعدًا في الضحى على الصحيح، من بعد الطلوع إلى الزوال. ووقتها المختار بعد ربع النهار. وفي المنية»: أقلها ركعتان، وأكثرها اثنا عشر، وأوسطها ثمان، وهو أفضلها، كما في الذخائر الأشرفية؛ لثبوته بفعله وقوله . وأما أكثرها فبقوله ﷺ فقط.
Note 1
ف: واضح باد کہ درمختار میں لکھا ہے کہ چاشت کی نماز بقول صحیح چار رکعت یا اس سے زائد ہے اور اس کا وقت آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے شروع ہو کر زوال تک رہتا ہے اور نماز چاشت کا مستحب وقت یہ ہے کہ اس کو دن کا چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ادا کیا جائے۔ المنیہ میں کہا گیا ہے کہ نماز چاشت کی کم از کم مقدار دو رکعت ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں اور اوسط آٹھ رکعت ہیں اور آٹھ رکعت ہی افضل ہے جیسا کہ ذخائر اشرفیہ میں مذکور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز چاشت کے (8) رکعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہیں اور بارہ رکعت کا ثبوت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول سے ملتا ہے عمل سے نہیں۔