Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1851

بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ

Zujajat al-Masabih 1851Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥١ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه)، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخْرُجُ4 يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ يَنْصَرِفُ فَيَقُوْمُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوْصِيْهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُر بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ اللهِ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ، خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوْقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And proclaim the greatness of Allah (2) for having guided you." (Qur’an 2:185)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 956 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Chapter-heading commentary

And proclaim the greatness of Allah...

(2) The statement: "And proclaim the greatness of Allah..." refers to the Eid prayer, and the command indicates obligation. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

So pray to your Lord and sacrifice.

(3) The statement: "So pray to your Lord and sacrifice." refers to the Eid al-Adha prayer, and it is obligatory due to the command. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

Note 4

He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha.

(4) The statement: "He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha." The prayer ground (Musalla) is a place in the desert where the Eid prayers are performed, and it is also called al-Jabanah. Going out from one’s house to the prayer is obligatory based on the principle that what completes an obligation is itself obligatory. However, going to the prayer ground is a strongly recommended Sunnah, even if the mosque is spacious enough. If they pray in the city mosques without a valid excuse, their prayer is valid, but they have abandoned the Sunnah. This is the correct view, as mentioned in Al-Zahiriyyah. This is stated in ‘Umdat al-Ri’ayah.

Chapter-heading commentary

قوله

(٢) قوله: ولتكبروا الله إلخ : المراد به صلاة العيد، والأمر للوجوب. كذا في «عمدة القاري».

قوله

(۳) قوله: فصل لربك وانحر: والمراد به صلاة عيد النحر، فتجب بالأمر. قاله في عمدة القاري».

Note 4

قوله

(٤) قوله: يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى: بصيغة المجهول هو موضع في الصحراء يصلى فيه صلاة العيدين، ويقال له : الجبانة. ومطلق الخروج من بيته إلى الصلاة وإن كان واجبا بناءً على أن ما يتم به الواجب واجب لكن الخروج إلى الجبانة سنة مؤكدة، وإن وسعهم المسجد الجامع. فإن صلوا في مساجد المصر من غير عذر جازت صلاتهم، وتركوا السنة، هذا هو الصحيح، كما في الظهيرية». قاله في «عمدة الرعاية».

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورتیں اپنے زیورات بغیر شوہر کی اجازت کے خیرات کر رہی تھے۔ اس مسئلہ کے متعلق تحقیق یہ ہے، دیکھنا چاہئے کہ عورت اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے یا شوہر کے مال میں سے؟ اگر اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہے کہ عورتیں اپنا مال خیرات کئے ہیں تو عورتوں کو شوہروں کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس حدیث شریف میں بغیر شوہروں کی اجازت کے عورتیں اپنا مال خیرات کر رہے ہیں ہاں اگر عورتیں راشدہ نہیں ہیں بے سمجھ ہیں، مال کی ان کے پاس قدر نہیں ہے تو ایسی عورتوں کو اپنا مال بھی خیرات کرنے کے لئے شوہروں کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر شوہر کا مال ہے اور رواج کے موافق کچھ تھوڑی چیز مثلاً روٹی اور پیسہ دو پیسہ خیرات کر رہی ہے تو اس کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، ایسا ہی اگر شوہر عورت کے ہم خیال ہے عورت کے کسی کام سے ناراض نہیں ہوتا ہے تو ایسی عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال کو خیرات کر سکتی ہے، شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اگر شوہر ایسا ہے کہ وہ اپنے مال کی خیرات کرنے سے ناراض ہوتا ہے تو ایسی عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا جائز نہیں ہے (مرقات، ملتقی، درمختار) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں عورتیں خیرات دئے ہیں، حالانکہ مسجد میں خیرات دینا جائز نہیں ہے مکروہ ہے۔ پھر عیدگاہ میں یہ خیرات دینا کیسے جائز ہوا؟! اس کا جواب یہ ہے کہ عیدگاہ مثل مسجد کے ہے، صرف جماعت کا ثواب حاصل ہونے کے لحاظ سے باقی دوسرے احکام میں عیدگاہ مثل مسجد کے نہیں ہے، اس لئے عیدگاہ میں خیرات دینا جائز ہے۔ (دیکھو ردالمحتار جلد اول باب اعادہ الصلوٰۃ و ما یکرہ فیہا کا آخری حصہ اور مرقاۃ۔)