And the saying of Allah, the Almighty: "And proclaim the greatness of Allah (2) for having guided you." (Qur’an 2:185)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 956 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
And proclaim the greatness of Allah...
(2) The statement: "And proclaim the greatness of Allah..." refers to the Eid prayer, and the command indicates obligation. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
So pray to your Lord and sacrifice.
(3) The statement: "So pray to your Lord and sacrifice." refers to the Eid al-Adha prayer, and it is obligatory due to the command. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
Note 4
He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha.
(4) The statement: "He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha." The prayer ground (Musalla) is a place in the desert where the Eid prayers are performed, and it is also called al-Jabanah. Going out from one’s house to the prayer is obligatory based on the principle that what completes an obligation is itself obligatory. However, going to the prayer ground is a strongly recommended Sunnah, even if the mosque is spacious enough. If they pray in the city mosques without a valid excuse, their prayer is valid, but they have abandoned the Sunnah. This is the correct view, as mentioned in Al-Zahiriyyah. This is stated in ‘Umdat al-Ri’ayah.
Chapter-heading commentary
قوله
(٢) قوله: ولتكبروا الله إلخ : المراد به صلاة العيد، والأمر للوجوب. كذا في «عمدة القاري».
قوله
(۳) قوله: فصل لربك وانحر: والمراد به صلاة عيد النحر، فتجب بالأمر. قاله في عمدة القاري».
Note 4
قوله
(٤) قوله: يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى: بصيغة المجهول هو موضع في الصحراء يصلى فيه صلاة العيدين، ويقال له : الجبانة. ومطلق الخروج من بيته إلى الصلاة وإن كان واجبا بناءً على أن ما يتم به الواجب واجب لكن الخروج إلى الجبانة سنة مؤكدة، وإن وسعهم المسجد الجامع. فإن صلوا في مساجد المصر من غير عذر جازت صلاتهم، وتركوا السنة، هذا هو الصحيح، كما في الظهيرية». قاله في «عمدة الرعاية».
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورتیں اپنے زیورات بغیر شوہر کی اجازت کے
خیرات کر رہی تھے۔ اس مسئلہ کے متعلق تحقیق یہ ہے، دیکھنا چاہئے کہ عورت اپنے مال میں سے خیرات
کر رہی ہے یا شوہر کے مال میں سے؟ اگر اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے جیسے اس حدیث میں
مذکور ہے کہ عورتیں اپنا مال خیرات کئے ہیں تو عورتوں کو شوہروں کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس
لئے اس حدیث شریف میں بغیر شوہروں کی اجازت کے عورتیں اپنا مال خیرات کر رہے ہیں ہاں اگر
عورتیں راشدہ نہیں ہیں بے سمجھ ہیں، مال کی ان کے پاس قدر نہیں ہے تو ایسی عورتوں کو اپنا مال بھی
خیرات کرنے کے لئے شوہروں کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر شوہر کا مال ہے اور رواج کے موافق
کچھ تھوڑی چیز مثلاً روٹی اور پیسہ دو پیسہ خیرات کر رہی ہے تو اس کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی
ضرورت نہیں، ایسا ہی اگر شوہر عورت کے ہم خیال ہے عورت کے کسی کام سے ناراض نہیں ہوتا ہے تو
ایسی عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال کو خیرات کر سکتی ہے، شوہر سے اجازت لینے کی
ضرورت نہیں، اگر شوہر ایسا ہے کہ وہ اپنے مال کی خیرات کرنے سے ناراض ہوتا ہے تو ایسی عورت کو
شوہر کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا جائز نہیں ہے (مرقات، ملتقی، درمختار)
ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں عورتیں خیرات دئے ہیں،
حالانکہ مسجد میں خیرات دینا جائز نہیں ہے مکروہ ہے۔ پھر عیدگاہ میں یہ خیرات دینا کیسے جائز ہوا؟! اس کا
جواب یہ ہے کہ عیدگاہ مثل مسجد کے ہے، صرف جماعت کا ثواب حاصل ہونے کے لحاظ سے باقی
دوسرے احکام میں عیدگاہ مثل مسجد کے نہیں ہے، اس لئے عیدگاہ میں خیرات دینا جائز ہے۔
(دیکھو ردالمحتار جلد اول باب اعادہ الصلوٰۃ و ما یکرہ فیہا کا آخری حصہ اور مرقاۃ۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1293 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(درمختار اور رد المحتار میں بھی ایسی ہی تفصیل مذکور ہے)۔
اسلام میں نہ کلب تھا نہ جمع ہونے کے لئے کوئی مقام۔ لے دے کر صرف مسجد ہی تھی۔ جس
میں ابتداء اسلام میں مرد اور عورتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جو ذیل میں اس حدیث کے بعد آ رہی ہے۔ اس حدیث میں
عورتوں کو مسجد میں آنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ عورتوں اور مردوں کا ایک جگہ جمع ہونا مصلحت کے
خلاف تھا اس لئے عورتوں کو مسجدوں سے اور عیدگاہ سے روک دیا گیا۔ جس پر آج تک عمل درآمد
ہے۔ اس لئے اس حدیث کا جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اسی طرح ترجمہ
کیا جاتا ہے:
(1) The statement: "prevent your women..." It is narrated from Ibn al-Mubarak that he said: "I dislike women going out for the two Eids nowadays. However, if a woman insists on going out, her husband should permit her to go out in her ordinary clothes without adornment. If she refuses to go out in such a manner, the husband has the right to prevent her from leaving." It is also narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: "If the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what the women have introduced, he would have prevented them from the mosque, just as the women of the Children of Israel were prevented." Furthermore, it is narrated from Sufyan al-Thawri that he disliked women going out for Eid. This was mentioned by al-Tirmidhi. In Mirqat, it is stated: "Abu Hanifa said: ‘Women should remain at home and not go out.’" Al-Tahawi explained that this ruling applied at the beginning of Islam when the number of Muslims was small, and their presence was required to instill fear in the enemy. His intention was that when the reason ceases, the ruling also ceases, similar to how those whose hearts were to be reconciled were removed from the category of zakat recipients. His intent was not that this ruling was abrogated.
Note 1
قوله
(۱) قوله: انهوا نسائكم وروي عن ابن المبارك أنه قال: أكره اليوم الخروج للنساء في العيدين، فإن أبت المرأة إلا أن تخرج، فليأذن لها زوجها أن تخرج في أطمارها، ولا تتزين، فإن أبت أن تخرج كذلك فللزوج أن يمنعها عن الخروج. ویيرى عن عائشة قالت: لو رأى رسول الله ﷺ ما أحدثت النساء لمنعهن المسجد، كما منعت نساء بني إسرائيل. ويروى عن سفيان الثوري أنه كره اليوم الخروج للنساء إلى العيد. قاله الترمذي. وقال في «المرقاة»: قال أبو حنيفة: ملازمات البيوت لا يخرجن. ووجهه الطحاوي بأن ذلك كان أول الإسلام والمسلمون قليلون، فأريد التكثير بهن ترهيبا للعدو. ومراده أن المسبب يزول بزوال السبب، و ، ولذا أخرجت المؤلفة قلوبهم . من مصرف الزكاة، وليس مراده إن هذا صار منسوخا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 952 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 987 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 892a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The Hanafis stated that the duff is also prohibited, which is the apparent narration. Whatever has been reported regarding beating the duff is abrogated. Its complete explanation is found in the chapter on announcing Nikah, so refer to it.
Note 1
ف: اس حدیث میں جَارِيَةٌ کا لفظ ہے، ”جاریہ“ کہتے ہیں چھوٹی لڑکی کو۔ اسی لئے مرقات
میں ”جَارِيَتَانِ“ کے ساتھ ”صَغِيرَتَانِ“، یعنی دو چھوٹی لڑکیاں مذکور ہے کہ وہ دف بجا کر عید کی خوشی کا
اظہار کر رہی تھیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان لڑکیوں کو منع کر رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ابوبکر صدیق کو ان لڑکیوں کے دف بجانے سے منع کرنے سے روک دئے، اس لئے کہ چھوٹی
لڑکیاں بلوغ کے پہلے جو کچھ کریں ان کا قول و فعل قابل استدلال نہیں ہوتا۔
اب رہا دف بجانا تو یہ اس زمانہ کی بات ہے جبکہ دف کا بجانا منسوخ نہیں ہوا تھا اس کے بعد
دف بجانا منسوخ ہو گیا۔ جس حدیث سے منسوخ ہوا ہے اس کو خطیب اس طرح روایت کئے ہیں
”عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ
ضَرْبِ الدُّفِّ وَلَعِبِ الصَّنْجِ وَضَرْبِ الزَّمَّارَةِ“ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ
فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے مزامیر کی طرح دف بجانے سے بھی منع فرمائے ہیں۔
اسی واسطے حضرت شہاب الدین سہروردی رضی اللہ عنہ نے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت
کی ہے کہ دف بجانا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ اور علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں دف بجانے کی اجازت تھی، بعد میں
اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا۔ اس لئے ظاہر الروایہ میں ہے کہ حنفی مذہب میں مثل
مزامیر کے دف بجانا بھی حرام ہے۔ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ”استماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك
حرام“ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ مزامیر اور دف بجا کر سننا بھی حرام ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 953 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں نماز سے پہلے کھجور کھانے کا جو ذکر ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ
کوئی گمان نہ کرے کہ اس دن بھی عید کی نماز تک سوا پہر کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ (فتح الباری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 542 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1756 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عیدالفطر میں فطرہ پہلے دیا جاتا ہے، نماز عید بعد میں ہوتی ہے، فطرہ کو کھا کر فقراء عیدگاہ جاتے تھے،
اس لئے حضور بھی کچھ کھا کر عیدگاہ جاتے۔ بخلاف عیدالفطر کے عیدالاضحٰی میں قربانی ہونے تک فقراء
کو کچھ کھانے کو نہیں ملتا تھا۔ نماز عید سے واپس آ کر قربانی ہونے کے بعد جب قربانی کا گوشت تقسیم
ہوتا تو اس وقت فقراء کو کچھ کھانے کو ملتا تھا، اس لئے فقراء کا ساتھ دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم بھی صبح سے بھوکے رہتے تھے، نماز عید کے بعد قربانی کر کے قربانی کے گوشت سے
کھانے کی ابتداء کرتے تھے۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
The first thing we begin with on this day of ours is that we perform the prayer, then we return and perform the sacrifice…
(1) His statement: “The first thing we begin with on this day of ours is that we perform the prayer, then we return and perform the sacrifice…”
This hadith includes an explanation of the time for offering the sacrifice. The scholars unanimously agree that it is not permissible to slaughter it before the break of dawn on the Day of Sacrifice. Then, a group of them stated that its time begins when the sun has risen to the height of a spear, and after the performance of two rakʿahs and two brief sermons. If one slaughters after this, it is valid, whether the imam has prayed or not. However, if one slaughters before this, it is not valid, whether in a city or outside of it. This is the view of al-Shafiʿi.
Abu Hanifah held that offering the sacrifice is obligatory, and its time for city dwellers is after the imam has prayed. The apparent meaning of the hadith serves as evidence against al-Shafiʿi and supports the view of Abu Hanifah, Malik, and Ahmad, who stipulated the condition for the validity of the sacrifice that the imam must pray and deliver the sermon. This is mentioned in al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فتنحر إلخ : هذا الحديث يشتمل على بيان وقت الأضحية، فأجمع العلماء على أنه لا يجوز ذبحها قبل طلوع الفجر من يوم النحر ثم ذهب جماعة إلى أن وقتها يدخل إذا ارتفعت الشمس قدر رمح، ومضى بعده ركعتين وخطبتين خفيفتين. فإن ذبح بعده جاز، سواء صلى الإمام أو لم يُصَلِّ. فإن ذبح قبله لم يجز، سواء كان في المصر أو لم يكن، وهو مذهب الشافعي. وذهب أبو حنيفة إلى أن الأضحية واجبة، ووقتها بعد صلاة الإمام في حق المصري. وظاهر الحديث حجة على الشافعي، ودليل لأبي حنيفة ومالك وأحمد في شرط صحة الأضحية أن يصلي الإمام ويخطب. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: حدیث شریف میں نماز عید کے بعد گھر جا کر قربانی دینے کا ذکر اس طرح ہے۔ ”ان
نصلي ثم نرجع فَنَنْحَر“ یعنی نماز پڑھی، گھر لوٹا اور قربانی کی“ حالانکہ نماز پڑھنے کے بعد خطبہ بھی ہونا
ضروری ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس جگہ نماز کے بعد خطبہ کا ذکر اس لئے
نہیں ہے کہ خطبہ نماز کے تابع ہے اور نماز کے ساتھ ہی پڑھا جاتا ہے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود
ہے کہ نماز اور قربانی میں سے نماز پہلے ہونا اور قربانی نماز کے بعد ہونا چاہئے۔ اسی لئے حدیث میں نماز
اور قربانی ان دونوں ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 982 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں قربانی کرنے کے لئے دو الفاظ لائے گئے ہیں: ایک
يَذْبَحُ، دوسرا ”يُنْحَرُ“ ان کا ترجمہ قربانی کرنا کیا گیا ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اونٹ کی قربانی
کرنے کو نحر کہتے ہیں اور اونٹ کے سوا بکرے اور گائے کی قربانی کرنے کو ذبح کہتے ہیں۔ کیونکہ ذبح
حلق پر ہوتا ہے اور نحر اونٹ کے سینے پر ہوتا ہے، اونٹ کے ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اونٹ کو قبلہ رو
کھڑا کر کے اس کے اگلے دونوں پاؤں کے بیچ میں سینہ پر برچھے سے زخم لگاتے ہیں جس سے خون نکل
کر اونٹ زمین پر گر جاتا ہے اور اس طریقہ سے دم سیال نکل جاتا ہے اور ذبح کرنے کی غرض حاصل
ہو جاتی ہے (عمدة القاری اور مرقات)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1153 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے اور ابوداؤد نے سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد
کا سکوت حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور منذری نے بھی اپنی مختصر میں اس کی روایت کی ہے۔
(1) The statement: "They agreed..." Al-Tahawi said: "Then we examined the number of takbirs in the two Eids. We found that all other prayers are devoid of these additional takbirs, while the Eid prayers have unanimously been agreed upon to include additional takbirs beyond other prayers. Therefore, it is reasonable not to increase the takbirs in the Eid prayers beyond what is agreed upon. Everyone agreed on the addition of nine takbirs, as held by Ibn Mas’ud, Hudhayfah, Ibn Abbas, Abu Musa, and others we have mentioned. They differed regarding increasing beyond that, so we added to this prayer what was agreed upon and excluded what was not agreed upon."
Note 1
قوله
(۱) قوله: اجتمع إلخ قال الطحاوي: ثم نظرنا في عدد التكبير فيهما، فرأينا سائر الصلوات خالية من هذه التكبير، ورأينا صلاة العيدين قد أجمع أن فيهما تكبيرات زائدة على غيرها من الصلوات، فكان النظر أن لا يزاد في الصلاة للعيدين على ما في سائر الصلوات غيرهما، إلا ما اتفق على زيادته، فكل قد أجمع على زيادة تسع تكبيرات، على ما ذهب إليه بن مسعود وحذيفة وابن عباد وأبو موسى، ومن سمينا معهم . واختلفوا في الزيادة على ذلك، فزدنا في هذه الصلاة ما اتفق على زيادته فيها، ونفينا عنها ما لم يتفق على زيادته فيها.
میں عید کے زائد تکبیرات کا ذکر ہے۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سامنے بیان کیا اور کسی صحابی
نے اس کی تردید نہیں کی۔ اور صحابہ کے سامنے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ اس کو رد نہ کریں تو
ایسی حدیث مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتی ہے اور جب یہ حدیث بھی صحابہ کے سامنے بیان کی
گئی اور کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا تو یہ حدیث بھی مرفوع حدیث کے حکم میں ہوئی۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ان احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے وقت کبھی کمان پر
ٹیکا دئے ہیں اور کبھی عصا (جیسا کہ ابوداؤد کی ایک روایت میں مذکور ہے۔12) پر اور کبھی چھوٹی برچھی
پر اور کبھی ان میں سے کسی چیز پر ٹیکا نہ دے کر کسی انسان پر ٹیک دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ
کے وقت عصاء وغیرہ پر ٹیکا دینا سنت غیر مؤکدہ ہے۔ اگر عصاء وغیرہ پر ٹیکا دئے بغیر خطبہ دیا جائے تو بھی
جائز ہے۔ (اعلاء السنن)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1160 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
They were caught in rain...
(1) The statement: "They were caught in rain..." The original practice of the Prophet (ﷺ) was to go out to the prayer ground (Musalla). He did not pray the Eid prayer in his mosque, despite its honor, except once due to the excuse of rain. This is elaborated upon by Ibn al-Qayyim in Zad al-Ma’ad and Al-Qastallani in Mawahib al-Laduniyyah, among others. This is mentioned in ‘Umdat al-Ri’ayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله : أصابهم مطر إلخ والأصل فيه أن النبي ﷺ كان يخرج إلى المصلى ولم يُصل صلاة العيد في مسجده مع شرفه إلا مرة بعذر المطر، كما بسطه ابن القيم في زاد المعاد والقسطلاني في مواهب اللدنية وغيرهما. كذا في عمدة الرعاية».
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ نماز عید کے لئے
عیدگاہ کو تشریف لے جایا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی میں جس کی بڑی
فضیلت ہے صرف ایک مرتبہ عذر کی وجہ سے نماز عید ادا فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو
حضرات بلا عذر نماز عید کے لئے عیدگاہ نہیں جاتے اور اپنے محلوں میں الگ الگ مسجدوں میں عید کی نماز
پڑھ لیتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔ اگرچہ محلہ کی مسجد میں نماز عید ادا ہو جاتی ہے مگر ایسا کرنے والے
تارک سنت مؤکدہ ہیں۔ (عمدة الرعایہ)۔
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
(2) The statement: "And proclaim the greatness of Allah..." refers to the Eid prayer, and the command indicates obligation. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(3) The statement: "So pray to your Lord and sacrifice." refers to the Eid al-Adha prayer, and it is obligatory due to the command. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
Note 4
(4) The statement: "He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha." The prayer ground (Musalla) is a place in the desert where the Eid prayers are performed, and it is also called al-Jabanah. Going out from one’s house to the prayer is obligatory based on the principle that what completes an obligation is itself obligatory. However, going to the prayer ground is a strongly recommended Sunnah, even if the mosque is spacious enough. If they pray in the city mosques without a valid excuse, their prayer is valid, but they have abandoned the Sunnah. This is the correct view, as mentioned in Al-Zahiriyyah. This is stated in ‘Umdat al-Ri’ayah.
Chapter-heading commentary
(٢) قوله: ولتكبروا الله إلخ : المراد به صلاة العيد، والأمر للوجوب. كذا في «عمدة القاري».
(۳) قوله: فصل لربك وانحر: والمراد به صلاة عيد النحر، فتجب بالأمر. قاله في عمدة القاري».
Note 4
(٤) قوله: يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى: بصيغة المجهول هو موضع في الصحراء يصلى فيه صلاة العيدين، ويقال له : الجبانة. ومطلق الخروج من بيته إلى الصلاة وإن كان واجبا بناءً على أن ما يتم به الواجب واجب لكن الخروج إلى الجبانة سنة مؤكدة، وإن وسعهم المسجد الجامع. فإن صلوا في مساجد المصر من غير عذر جازت صلاتهم، وتركوا السنة، هذا هو الصحيح، كما في الظهيرية». قاله في «عمدة الرعاية».
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورتیں اپنے زیورات بغیر شوہر کی اجازت کے خیرات کر رہی تھے۔ اس مسئلہ کے متعلق تحقیق یہ ہے، دیکھنا چاہئے کہ عورت اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے یا شوہر کے مال میں سے؟ اگر اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہے کہ عورتیں اپنا مال خیرات کئے ہیں تو عورتوں کو شوہروں کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس حدیث شریف میں بغیر شوہروں کی اجازت کے عورتیں اپنا مال خیرات کر رہے ہیں ہاں اگر عورتیں راشدہ نہیں ہیں بے سمجھ ہیں، مال کی ان کے پاس قدر نہیں ہے تو ایسی عورتوں کو اپنا مال بھی خیرات کرنے کے لئے شوہروں کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر شوہر کا مال ہے اور رواج کے موافق کچھ تھوڑی چیز مثلاً روٹی اور پیسہ دو پیسہ خیرات کر رہی ہے تو اس کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، ایسا ہی اگر شوہر عورت کے ہم خیال ہے عورت کے کسی کام سے ناراض نہیں ہوتا ہے تو ایسی عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال کو خیرات کر سکتی ہے، شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اگر شوہر ایسا ہے کہ وہ اپنے مال کی خیرات کرنے سے ناراض ہوتا ہے تو ایسی عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا جائز نہیں ہے (مرقات، ملتقی، درمختار) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں عورتیں خیرات دئے ہیں، حالانکہ مسجد میں خیرات دینا جائز نہیں ہے مکروہ ہے۔ پھر عیدگاہ میں یہ خیرات دینا کیسے جائز ہوا؟! اس کا جواب یہ ہے کہ عیدگاہ مثل مسجد کے ہے، صرف جماعت کا ثواب حاصل ہونے کے لحاظ سے باقی دوسرے احکام میں عیدگاہ مثل مسجد کے نہیں ہے، اس لئے عیدگاہ میں خیرات دینا جائز ہے۔ (دیکھو ردالمحتار جلد اول باب اعادہ الصلوٰۃ و ما یکرہ فیہا کا آخری حصہ اور مرقاۃ۔)