English
Alqamah and Al-Aswad reported: "Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) would say nine takbirs during the two Eids: four before the recitation, then a takbir to bow (ruku’). In the second rak’ah, he would recite, and after finishing, he would say four takbirs, then bow (ruku’)." [Narrated by Abd al-Razzaq with a authentic chain]
Tirmidhi narrated something similar from Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) and said: "This has been seen from more than one companion of the Prophet (ﷺ)." In a narration by Ibn Abi Shaybah, something similar is mentioned. In Fath al-Qadir, it is said:
"This is an authentic report, narrated in the presence of a group of companions. Such a report is considered elevated (marfu’), as it is like transmitting the number of rak’ahs."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۷۵ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ تِسْعًا، أَرْبَعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ، وَفِي الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ، فَإِذَا فَرَغَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ رَكَعَ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَاقِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ: وَقَدْ رُؤْيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ نَحْو هَذَا، وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَحْوُهُ. وَقَالَ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ: وَهَذَا أَثَرُ صَحِيحُ، قَالَهُ بِحَضْرَةِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَمِثْلُ هَذَا يُحْمَلُ عَلَى الرَّفْعِ؛ لِأَنَّهُ مِثْلُ نَقْلِ أَعْدَادِ الرَّكَعَاتِ.
اردو
علقمہ اور اسود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات کہتے ہیں کہ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز میں (9) نو تکبیر کہا کرتے تھے: چار تکبیرات (پہلی
رکعت میں) قرآت سے پہلے کہا کرتے تھے (جن میں سے ایک تکبیر تو تکبیر تحریمہ ہوتی۔ اس کے بعد
ثناء پڑھتے تھے، ثناء کے بعد تین تکبیر عید کے زائد تکبیر کہتے تھے، تین تکبیرات کے بعد قرآت یعنی سورۂ
فاتحہ اور ضم سورہ کرتے، پھر ضم سورہ کے بعد پانچویں مرتبہ) ”اللّٰه اكبر“ کہہ کر رکوع میں جاتے۔
پھر دوسری رکعت کو (حسب دستور) حضرت ابن مسعود قرآت یعنی سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ سے شروع
کرتے۔ جب ضم سورہ سے فارغ ہوتے تو (اس طرح) چار تکبیر کہتے (کہ تین تکبیر تو عید کے زائد
تکبیر ہوتے تھے اور چوتھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاتے تھے)۔
(اس حدیث کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)
اور ترمذی نے بھی حضرت ابن مسعود سے اسی طرح روایت کی ہے اور
ترمذی نے کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود کی روایت کی طرح متعدد صحابہ کرام سے بھی ایسی ہی
روایتیں آئی ہیں اور ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں بھی اسی طرح مروی ہے اور فتح القدیر میں کہا
ہے کہ حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث صحیح حدیث ہے اور حضرت ابن مسعود نے اس حدیث کو جس
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں عید کے زائد تکبیرات کا ذکر ہے۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سامنے بیان کیا اور کسی صحابی نے اس کی تردید نہیں کی۔ اور صحابہ کے سامنے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ اس کو رد نہ کریں تو ایسی حدیث مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتی ہے اور جب یہ حدیث بھی صحابہ کے سامنے بیان کی گئی اور کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا تو یہ حدیث بھی مرفوع حدیث کے حکم میں ہوئی۔