English
It is narrated from Kathir ibn Qais (may Allah be pleased with him) who said:
I was sitting with Abu Darda (may Allah be pleased with him) in the mosque of Damascus, when a man came to him and said: "O Abu Darda, I have come to you from the city of the Messenger of Allah (ﷺ) with a matter that I heard you narrating from the Messenger of Allah (ﷺ), and I did not come for any other need." Abu Darda (may Allah be pleased with him) replied: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever follows a path in search of knowledge, Allah will make his path to Paradise easier. And the angels lower their wings in satisfaction for the seeker of knowledge. And the scholar is sought forgiveness by all those in the heavens and on the earth, even the fish in the water. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the full moon on the night of its fullest over all other stars. And indeed, the scholars are the inheritors of the Prophets. The Prophets did not leave behind dinars or dirhams, but they left knowledge. So whoever takes it, takes a great share.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٢ - وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَهُ رَجَلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ ال لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ مَا جِئْتُ لِحَاجَّةٍ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيْهِ عِلْمًا سَلَكَ اللهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ. وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ. وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيْتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ. وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ. وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظِّ وَافِرٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 217
کثیر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد دمشق
میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابودرداء (رضی
اللہ عنہ)! میں تمہاری خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث
کے لئے آیا ہوں، جس کی مجھے اطلاع ملی کہ آپ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں اور میں کسی اور کام کے لئے نہیں آیا ہوں۔
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
ہے کہ جو کسی راستہ پر علم (دین) کی طلب میں چلتا ہے تو اس کی وجہ سے خدائے تعالیٰ اس کو جنت کے
راستوں میں سے ایک راستہ پر چلائے گا اور فرشتے طالب علم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے
بازو بچھا دیتے ہیں، اور عالم (دین) کے لئے آسمان اور زمین کی پوری مخلوق، مغفرت طلب کرتی ہے
اور مچھلی پانی میں اس کے لئے مغفرت چاہتی ہے اور اس کے لئے دعاء کرتی ہے، اور عابد پر عالم کی
فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام تاروں پر ہوتی ہے اور علماء انبیاء علیہم
السلام کے وارث ہیں۔
انبیاء نے دینار درہم کا ترکہ نہیں چھوڑا؛ بلکہ انہوں نے علم کو ترکہ میں چھوڑا، پس جس نے علم کو
حاصل کیا اس نے بڑا نصیب پایا۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3641 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 223 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 212 (unverified) 96% confidence
Mishkat (candidate) 212
Confidence and text similarity are not editorial verification.