Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Convey from me, even if it is a single verse, and narrate from the Children of Israel without any harm. But whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری جانب سے ایک آیت بھی ہو تو پہنچا دو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان
کر سکتے ہو، اور اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے میری جانب عمداً جھوٹ کی نسبت کی (یعنی جو
بات میں نے نہیں کہی اس کو میری کہہ کر بیان کرے) تو وہ اپنا مقام جہنم میں بنا لے۔ (اس کی روایت
بخاری نے کی ہے)۔
Samura ibn Jundub and Al-Mughira ibn Shu’ba (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever narrates a hadith from me thinking it might be false, then he is one of the liars."
سَمُرَہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری جانب نسبت بیان کرتے ہوئے کوئی حدیث
بیان کی، اور وہ گمان رکھتا ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے)۔
Mu'awiya (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah intends good for someone, He grants him understanding of the religion. I am merely a distributor, but Allah is the One who grants."
معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے، میں ہی تقسیم کرنے والا
ہوں اور اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔ (حدیث تو میں بیان کرتا ہوں، اور اس پر عمل کی توفیق اور سمجھ جس
قدر چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ دیتے ہیں)۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People are like mines of gold and silver. The best of them in the pre-Islamic period are the best of them in Islam if they gain understanding (of the religion)."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: لوگ معدن (یعنی کان) ہیں (یعنی صفات و اخلاق کے اعتبار سے کمی و بیشی کا درجہ رکھتے ہیں)
جیسے سونے اور چاندی کے کان (معادن ہیں) جاہلیت میں جو نیک تھے وہ اسلام میں بھی نیک ہیں
جب کہ وہ دین کی سمجھ پیدا کرلیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Envy is not justified except in two cases: a man whom Allah has given wealth and he spends it in the way of truth, and a man whom Allah has given wisdom and he judges and teaches by it."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا دو شخصوں پر رشک کیا جاسکتا ہے: ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ نے مال عنایت کیا اور اس نے مال
کو حق میں (بموجب حکم شرع) خرچ کیا، اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے علم عطا فرمایا اور وہ علم کے
موافق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a person dies, his deeds come to an end except for three: ongoing charity, beneficial knowledge, or a righteous child who prays for him."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے ثواب کے سوا اس کے جملہ اعمال کا ثواب ختم ہو جاتا
ہے: (1) صدقہ جاریہ ہے (جیسے کوئی زمین وقف کر گیا یا کنواں یا باولی بنا گیا) (2) علم جس سے فائدہ
حاصل کیا جا رہا ہے (جیسے کوئی کتاب تصنیف کی یا علم پڑھایا) (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی
رہے (یہ تین کام ایسے ہیں جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی انسان کو ملتا رہتا ہے)۔ (اس کی روایت
مسلم نے کی ہے)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever relieves a believer of a worldly distress, Allah will relieve him of a distress on the Day of Resurrection. Whoever makes things easy for one in difficulty, Allah will make things easy for him in this world and the Hereafter. Whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal his faults in this world and the Hereafter. Allah is helping the servant as long as the servant is helping his brother. Whoever follows a path to seek knowledge, Allah will make the path to Paradise easy for him. No group gathers in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and studying it together, except that tranquility descends upon them, mercy envelops them, angels surround them, and Allah mentions them to those who are with Him. And whoever is slowed down by his deeds will not be hastened forward by his lineage."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:(1) جس نے کسی مومن کی کسی تکلیف کو دنیا میں دور کردیا تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی سختیوں
میں سے کسی سختی کو دور کر دے گا، اور (2) جس نے کسی تنگ حال پر آسانی کردی تو اللہ تعالیٰ اس کی
دینی اور دنیوی تنگیوں کو دور کر دے گا اور (3) جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ دنیا و
آخرت میں اس کی عیب پوشی کرے گا (4) اللہ اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے
بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔
(5) اور جو شخص کوئی راستہ علم (دین) کی طلب میں طے کرتا ہے تو طلب علم کی جزاء میں اللہ
تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے۔
اور جو قوم خدا کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور
باہم اس کا درس دیتے ہیں تو ان پر تسکین اور اطمینان کا نزول ہوتا ہے اور رحمت ان کو ڈھانک لیتی ہے
اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (فرشتوں) میں ان کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی بارگاہ میں
حاضر رہتے ہیں۔
اور جس کسی کا عمل اس کو پیچھے ڈال دے گا تو اس کا نسب اس کو تیزی سے آگے نہیں بڑھائے گا
(کیوں کہ) اللہ تعالیٰ کا تقرب اعمال صالح کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ نسب سے۔ (اس کی روایت
مسلم نے کی ہے)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
*"The first of the people against whom judgment will be pronounced on the Day of Resurrection will be a man who died as a martyr. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I fought for Your cause until I was martyred.' Allah will say, 'You have lied. You fought so that it might be said: He is courageous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You acquired knowledge so that it might be said: He is learned, and you recited the Qur’an so that it might be said: He is a reciter. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man whom Allah made wealthy and to whom He gave all kinds of wealth. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I did not leave any way You like wealth to be spent except that I spent in it for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You did so that it might be said: He is generous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire." .
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: (1) پہلا شخص جس کا قیامت میں فیصلہ ہوگا وہ شہید ہوگا، اس کو دربار الٰہی میں حاضر کیا جائے گا
اور اس کو ان نعمتوں کی یاد دلائی جائے گی جو اس پر کی گئی تھیں تو وہ ان کا اقرار کرے گا، پس کہا جائے گا
کہ تو نے ان احسانات کے مقابلہ میں کیا عمل کیا، کہے گا: میں نے تیرے لئے جہاد کیا حتیٰ کہ میں شہید
ہوگیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے تو جہاد اس لئے کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے،
چنانچہ تجھ کو بہادر کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا تم اس کو لے جاؤ تو اس کو چہرے کے بل دوزخ میں
ڈال دیا جائے گا، اور (2) دوسرا وہ شخص جس نے علم سیکھا اور لوگوں کو سکھایا اور قرآن پڑھا وہ پیش کیا
جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے ان احسانات کو بتلائے گا جو اس پر کئے گئے ہیں، پس وہ ان کا اقرار کرے
گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ان احسانات کے مقابلے میں تو نے کیا عمل کیا؟ جواب دے گا کہ میں نے علم
سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور تیری خوشنودی کے لئے قرآن پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے جھوٹ
کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لئے پڑھا کہ لوگ تجھے
قاری کہیں، چنانچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا تو وہ چہرے کے بل گھسیٹا
جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اور (3) تیسرا وہ شخص (ہوگا) جس کو اللہ نے تونگر بنایا اور
ہر طرح کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان احسانات و عنایات کو یاد دلائے
گا جو اس پر کیا ہے، وہ ان کا اقرار کرے گا تو باری تعالیٰ سوال فرمائے گا کہ اس دولت سے کیا کام
انجام دیا؟ جواب دے گا: میں نے مال خرچ کیا ہر اس راستہ میں جس میں مال کا خرچ کیا جانا تجھے پسند
تھا، فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے مال و دولت اس لئے خرچ کیا تھا کہ تجھ کو سخی کہا جائے،
چنانچہ تجھے سخی کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا، پس وہ چہرے کے بل گھسیٹا جا کر جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah does not take away knowledge by snatching it away from the people, but He takes away knowledge by taking away the scholars, such that when no scholar remains, the people will take ignorant leaders. They will be asked, and they will issue verdicts without knowledge. They will go astray and lead others astray."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے دلوں سے علم چھین لے،
بلکہ علم کے اٹھا لینے کی یہ صورت ہوگی کہ علماء اٹھا لئے جائیں گے، تو جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو
لوگ جاہل سرداروں کو منتخب کر لیں گے اور مسائل دریافت کئے جائیں گے، تو وہ بے علمی سے فتویٰ
دیں گے، نتیجتاً خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی متفقہ طور
پر روایت کی ہے)۔
Shaqiq narrated: ‘Abdullah ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) used to give a reminder to the people every Thursday. A man said to him, "O Abu ‘Abdur-Rahman, I wish you would remind us every day." He replied, "The only thing that prevents me from doing so is that I dislike boring you. I take care to give you reminders at intervals, as the Prophet (ﷺ) used to do with us, out of fear of making us bored."
شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ ہر پنجشنبہ کو وعظ کیا کرتے تھے، ایک شخص نے کہا: ابوعبدالرحمن! میری آرزو ہے کہ آپ ہم کو ہر دن وعظ
فرمایا کریں، آپ نے فرمایا کہ میں ہر دن اس لئے وعظ کہنا پسند نہیں کرتا کہ تمہیں روزانہ وعظ سے تنگ
کروں، اور میں وعظ کے لئے تمہارا ایسا ہی خیال رکھتا ہوں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے
اکتانے کے اندیشہ سے ہمارا خیال فرماتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ), whenever he spoke a word, would repeat it three times so that it could be understood. And when he came to a group and greeted them, he would greet them three times.
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب کوئی بات (اہتمام سے) فرمانا چاہتے تو اس کو تین مرتبہ فرماتے تاکہ اچھی طرح سمجھ میں
آجائے اور جب کسی قوم کے پاس آتے تو تین دفعہ سلام فرماتے (پہلا سلام اجازت کا۔ دوسرا سلام
ملاقات کا تیسرا سلام رخصتی کا)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Abu Mas‘ud Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I am exhausted and unable to continue my journey; please help me with a mount." The Prophet (ﷺ) replied, "I do not have anything to carry you on." Then another man said, "O Messenger of Allah, I will guide him to someone who can help." The Prophet (ﷺ) said, "Whoever guides to good will have a reward similar to the doer of it."
ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری سواری چل نہیں سکتی ہے، لہذا
میرے لئے سواری کا انتظام فرما دیجئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس نہیں ہے،
ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے شخص کو بتا دوں جو ان کے لئے سواری کا انتظام
کر دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھلائی کی جانب رہبری کی تو اس کو اتنا ہی
ثواب ملے گا جتنا ثواب اس خیر کے کرنے والے کو ملے گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
It is narrated from Jareer (may Allah be pleased with him) that: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the early part of the day when a group of people arrived. They were in dire poverty, wearing torn woolen cloaks or garments, with their swords slung around their necks. Most of them, or rather all of them, were from the tribe of Mudhar. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw their poor condition, his face changed (out of concern). He went inside, then came out, and commanded Bilal (may Allah be pleased with him) to give the call to prayer (Adhan). He gave the Adhan and then the Iqamah, and the Prophet (ﷺ) led the prayer.
Afterward, he addressed the people, saying: "O people, fear your Lord who created you from a single soul..." (Surah An-Nisa: 1) and he recited the entire verse. He then recited the verse from Surah Al-Hashr: "Fear Allah, and let every soul look to what it has sent forth for tomorrow..." (Surah Al-Hashr: 18).
The Prophet (ﷺ) then said: "Let a man give in charity from his gold, silver, clothing, a measure of barley, a measure of dates, or even a piece of a date."
Then a man from the Ansar came forward with a bundle that was so heavy it nearly overwhelmed him. After this, the people followed suit, giving in charity, until I saw two heaps of food and clothes. The face of the Messenger of Allah (ﷺ) lit up as though it was a piece of gold (out of joy).
The Prophet (ﷺ) then said: "Whoever initiates a good practice in Islam will have its reward and the reward of those who act upon it after him, without their rewards diminishing in the least. And whoever initiates a bad practice in Islam will bear its burden and the burden of those who act upon it after him, without their burdens diminishing in the least."
جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ
میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ آپ کی خدمت میں چند اشخاص برہنہ بدن،
دھاری دار لباس کی لنگی باندھے، عبا پہنے ہوئے گلے میں تلواریں لٹکائے حاضر ہوئے، اکثر بلکہ کل قبیلہ
مُضر کے تھے، ان کی حالت زار کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غم کے آثار سے متغیر
ہو گیا، فوراً آپ مکان تشریف لے گئے پھر باہر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان
دی اور اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھائی اور خطبہ دیا: ۞ يٰٓأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِىْ
پ:4،ع:1،آیت نمبر:1) تلاوت فرمائی (اے لوگو! اس رب سے ڈرو جس نے تم سب کو نفس
واحدہ (یعنی آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا (یہاں تک کہ آیت کا آخری حصہ) کی تلاوت فرمائی (اللہ
تمہاری نگرانی کرنے والا ہے)۔
اور (سورہ حشر پ:28،ع:3،آیت نمبر:18) ۞ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ
وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ ” مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۞ تلاوت فرمائی (اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور ہر شخص
دیکھ لے کہ کل (قیامت) میں اس نے اپنے لئے کیا ذخیرہ بھیجا ہے) اور ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے
دینار، اپنے درہم، اپنے پارچہ (کپڑے) اور اپنے گیہوں اور کھجور کے باغ میں سے خیرات کرے،
یہاں تک کہ فرمایا: کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک انصاری نے
ایک تھیلی درہم یا دینار کی اٹھا لائی جس کو اٹھانا مشکل ہو رہا تھا بلکہ اس کا ہاتھ اس کے اٹھانے سے عاجز
ہو گیا تھا اس کے بعد لوگ فوراً ایک بعد دیگرے خیرات لانا شروع کئے، یہاں تک کہ میں (یعنی جریر
رضی اللہ عنہ) نے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک
خوشی سے سونے کی طرح چمکتا نظر آنے لگا۔
اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے اسلام میں اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کو اس کا
اجر اور ان لوگوں کا بھی اجر ملے گا جو آئندہ اس طریقہ پر عمل پیرا ہوں گے اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ
ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا تو اس پر اس کے رواج دینے کا عذاب ہوگا اور ان
لوگوں کا بھی گناہ ہوگا جو آئندہ اس طریقہ پر عمل کریں گے اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں
میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A soul will not be killed unjustly, except that the first son of Adam will have a share of its blood, for he was the first to commit murder."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خون ناحق اور ظلم کے طور پر جو بھی جان لی جاتی ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ
آدم علیہ السلام کے پہلے لڑکے (یعنی قابیل) کو پہنچتا ہے اس لئے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کا
طریقہ نکالا ہے (جو کوئی کسی کو ظلماً قتل کرتا ہے تو جتنا گناہ قاتل پر لکھا جاتا ہے اتنا ہی گناہ قابیل پر بھی
لکھا جاتا ہے، اس لئے کہ اس نے سب سے پہلے اپنے بھائی (ہابیل) کو قتل کیا تھا، اور دوسرے
قاتلوں کے گناہ میں کچھ کمی نہیں ہوتی)۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Kathir ibn Qais (may Allah be pleased with him) who said:
I was sitting with Abu Darda (may Allah be pleased with him) in the mosque of Damascus, when a man came to him and said: "O Abu Darda, I have come to you from the city of the Messenger of Allah (ﷺ) with a matter that I heard you narrating from the Messenger of Allah (ﷺ), and I did not come for any other need." Abu Darda (may Allah be pleased with him) replied: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever follows a path in search of knowledge, Allah will make his path to Paradise easier. And the angels lower their wings in satisfaction for the seeker of knowledge. And the scholar is sought forgiveness by all those in the heavens and on the earth, even the fish in the water. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the full moon on the night of its fullest over all other stars. And indeed, the scholars are the inheritors of the Prophets. The Prophets did not leave behind dinars or dirhams, but they left knowledge. So whoever takes it, takes a great share.'"
کثیر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد دمشق
میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابودرداء (رضی
اللہ عنہ)! میں تمہاری خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث
کے لئے آیا ہوں، جس کی مجھے اطلاع ملی کہ آپ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں اور میں کسی اور کام کے لئے نہیں آیا ہوں۔
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
ہے کہ جو کسی راستہ پر علم (دین) کی طلب میں چلتا ہے تو اس کی وجہ سے خدائے تعالیٰ اس کو جنت کے
راستوں میں سے ایک راستہ پر چلائے گا اور فرشتے طالب علم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے
بازو بچھا دیتے ہیں، اور عالم (دین) کے لئے آسمان اور زمین کی پوری مخلوق، مغفرت طلب کرتی ہے
اور مچھلی پانی میں اس کے لئے مغفرت چاہتی ہے اور اس کے لئے دعاء کرتی ہے، اور عابد پر عالم کی
فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام تاروں پر ہوتی ہے اور علماء انبیاء علیہم
السلام کے وارث ہیں۔
انبیاء نے دینار درہم کا ترکہ نہیں چھوڑا؛ بلکہ انہوں نے علم کو ترکہ میں چھوڑا، پس جس نے علم کو
حاصل کیا اس نے بڑا نصیب پایا۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Umamah Al-Bahili (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) was informed about two men: one was a worshipper, and the other was a scholar. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The superiority of the scholar over the worshipper is like my superiority over the least of you." Then the Messenger of Allah (ﷺ) added: "Indeed, Allah, His angels, the inhabitants of the heavens and the earth, even the ant in its hole, and the fish in the sea, pray for the one who teaches people good." This was narrated by Tirmidhi.
It was also narrated by Al-Darimi from Makhul in an abbreviated form, where he did not mention the two men, and said: "The superiority of the scholar over the worshipper is like my superiority over the least of you," and then recited the following verse: "Indeed, those who fear Allah among His servants are the scholars..." (35:28), and continued the narration.
ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ایک عابد اور دوسرا عالم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے سب سے معمولی شخص پر ہے۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین والے
حتی کہ چیونٹی اپنے بل میں اور یہاں تک کہ مچھلی سب کے سب اس شخص کے لئے دعاء کرتے ہیں جو
لوگوں کو خیر (یعنی علم دین) کی تعلیم دینے والا ہے (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے) اور دارمی نے
مکحول سے مرسلاً روایت کی ہے (اور دو آدمیوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ یہ بیان کیا ہے کہ ”فَضْلُ الْعَالِمِ
عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ“ (عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے
معمولی شخص پر ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ فاطر، پ:22، ع:4، آیت نمبر:28 کی) اس
آیت کی تلاوت فرمائی ﴿ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ﴾ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں علماء
ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اخیر تک باقی حدیث کو بیان فرمایا۔
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People are followers of you, and some men will come to you from the farthest parts of the earth to learn about religion. When they come to you, advise them to be treated well."
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ تمہارے تابع ہیں اور اطراف زمین سے لوگ
تمہارے پاس آئیں گے کہ دین میں سمجھ حاصل کریں، جب وہ تمہارے پاس آئیں تو میں
تم کو وصیت کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ اور انہیں علم دین کی تعلیم دیا کرو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Wisdom is the lost property of the wise one. Wherever he finds it, he is the most entitled to it." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
Tirmidhi commented: "This is a Gharib hadith, and the narrator Ibrahim bin Al-Fadl is weak in hadith."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: وہ بات جو (سراپا) حکمت (اور عقلمندی) ہو حکیم (یعنی مومن کی) گم شدہ چیز ہے، اس لئے
اس کو جہاں پائے وہی سب سے زیادہ اس کا حقدار ہے (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A single scholar is more harmful to Satan than a thousand worshippers."
This was narrated by Tirmidhi and Ibn Majah.
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ گراں ہے۔ (اس کی روایت ترمذی اور
ابن ماجہ نے کی ہے)۔
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Seeking knowledge is obligatory upon every Muslim. And placing knowledge in the hands of those who are not qualified to receive it is like placing pearls, jewels, and gold in the hands of pigs." This was narrated by Ibn Majah. Al-Bayhaqi also narrated it in "Shu’ab al-Iman," stating: "The text of this hadith is well known, but its chain of narration is weak. It has been narrated from various sources, all of which are weak."
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: علم دین کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے اور نا اہل کو علم سکھانے والے کی مثال خنزیر کے گلے میں
جواہر موتیوں اور سونے کا مالا ڈالنے والے کی ہے (مثلاً عوام کے آگے تصوف وغیرہ کی باریکیاں بیان
کرنا، کیونکہ اس سے ان کے گمراہ ہوجانے کا اندیشہ ہے اور ایسا بے محل علم ان کے لئے سراسر ظلم
ہے) اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور بیہقی نے شعب الایمان میں صرف ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ“ تک
روایت کی ہے)۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Two qualities do not combine in a hypocrite: good appearance and understanding of the religion."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں منافق میں جمع نہیں ہوتیں: خوش اخلاقی اور دین کی سمجھ۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever goes out seeking knowledge, he is in the path of Allah until he returns."
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جو شخص علم دین کی طلب میں نکلے وہ واپس ہونے تک راہ خدا (یعنی جہاد) میں ہے۔ (اس کی
روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the Day of Judgment, it will be said: 'I did not place My wisdom in your hearts except because I wanted good for you. Go to Paradise, for I have forgiven you for what you did.'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام علماء کو جمع فرمائے گا اور ارشاد فرمائے گا کہ میں
نے تمہارے دلوں میں حکمت محض اس لئے ڈال دی تھی کہ تم سے میرا ارادہ بھلائی کا تھا، تم سب جنت
میں داخل ہو جاؤ، پس میں نے تم سب کو بخش دیا خواہ تم سے کچھ بھی ہوا ہو۔ (ہمارے امام ابو حنیفہ رحمة
اللہ علیہ نے اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A believer will never be satisfied with the good he hears until the ultimate reward is Paradise."
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کی بات سننے سے مومن کا پیٹ نہیں بھرتا (یعنی ہمیشہ سنتا رہتا ہے) یہاں
تک کہ اس کی انتہاء، بہشت ہوتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever is asked about knowledge that he knows, but he conceals it, on the Day of Judgment he will be bridled with a bridle of fire."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے علم کی بات پوچھی جائے جس کو وہ جانتا ہو، پھر وہ اس کو چھپا دے تو
قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور
ترمذی نے کی ہے)۔
اور ابن ماجہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
It is narrated from Ka'b bin Malik (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks knowledge to compete with the scholars, or to argue with the foolish, or to attract people's attention to himself, Allah will enter him into the Fire."
کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم اس غرض سے سیکھا کہ علماء سے مقابلہ کرے یا بے وقوفوں سے
بحث اور جھگڑا کرے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تو اللہ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔)
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever learns knowledge for which the face of Allah is sought, but does not learn it except to obtain a worldly gain, he will not find the fragrance of Paradise on the Day of Judgment."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جس نے وہ علم سیکھا جس سے خدا کی خوشنودی مطلوب ہوتی ہے مگر اس کا مقصد دنیا کا فائدہ
حاصل کرنا تھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد
اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah brighten the face of a servant who hears my words, memorizes them, and conveys them. Perhaps a person who carries knowledge is not a scholar, and perhaps a person who carries knowledge to one who is more learned than him. There are three things upon which the heart of a Muslim does not harbor malice: sincerity of action for Allah, giving sincere advice to the Muslims, and adhering to their community, for their call surrounds them."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس بندے کو خوشحال رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اس کو یاد رکھا اور یاد
رکھ کر لوگوں تک اس کو پہنچایا۔ کیونکہ بہت سے فقہ کا سرمایہ رکھنے والے فقیہ (یعنی سمجھ دار) نہیں
ہوتے اور بہت سے لوگ فقہ کا علم ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔
تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں مسلمانوں کا دل خیانت نہیں کرتا (یعنی یہ باتیں مومن میں ضرور
پائی جاتی ہیں اور جب وہ ان پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس کے دل میں کینہ نہیں پیدا ہوتا کہ اس کو حق سے
پھیر دے)۔
اور امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے
روایت کی ہے البتہ ترمذی اور ابوداؤد سے (وَثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ) سے آخر تک مروی نہیں
ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) ایک یہ کہ عمل میں اخلاص اور رضائے الٰہی مقصود ہو، (2) دوسرے مسلمانوں کی خیرخواہی
کیا کرے (3) تیسرے لازمی طور پر مسلمانوں کی جماعت کا (عقائد اور عمل) میں ساتھ دے، اس
لئے کہ مسلمانوں کی دعا کی برکت سب کو گھیرے رہتی ہے (یعنی دعا، ان کو شیطان کے مکر اور گمراہی
سے بچائے رکھتی ہے، اس میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کی جماعت سے نکل جاتا ہے
اس کو مسلمانوں کی دعا، اور دعا کی برکت نہیں پہنچتی)۔ (امام شافعی نے اور بیہقی نے ’’مدخل‘‘ میں اس
کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "May Allah brighten the face of a person who hears something from us, then conveys it as he heard it. Perhaps a person who conveys it is more retentive than the one who heard it."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ اس آدمی کو خوش و خرم رکھے جس نے ہماری حدیث سن کر یاد رکھ لی، پھر
جس طرح اس نے سنا اسی طرح دوسرے تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جن کے پاس پہنچایا
جاتا ہے وہ سننے والے ہی پہنچانے والے سے، بہتر سمجھ والے ہوتے ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی اور
ابن ماجہ نے کی ہے)۔
اور دارمی نے اس کو ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Beware of narrating Hadith from me except what you know. Whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے حدیث بیان کرنے میں احتیاط کرو (اور اسی حدیث کو بیان کرو) جس کی
تحقیق تم کو ہو (کہ وہ حدیث میری ہی ہے پس جس نے قصداً مجھ پر جھوٹ کہا وہ اپنے لئے دوزخ کا
ٹھکانا بنا لے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے اس کو ابن مسعود، اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے
جس میں ( اِتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ ) کے الفاظ نہیں ہیں۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ فاطر، پ:22، ع:4، آیت نمبر:28 کی) اس آیت کی تلاوت فرمائی ﴿ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ﴾ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں علماء ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اخیر تک باقی حدیث کو بیان فرمایا۔